سلیمان بن عبدالملک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750


پیدائش: 674ء

انتقال: 717

دور حکومت: 97 تا 99ھ ، 717 تا 719ء


تخت نشینی[ترمیم]

ولید بن عبدالملک کی وفات کے بعد سلیمان تخت نشین ہوا۔ اگرچہ ولید نے سلیمان کو ولی عہدی سے خارج کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اچانک موت کی بناء پر وہ اپنے ارادوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا۔ حجاج بن یوسف اور قیتبہ بن مسلم اس معاملہ میں ولید کے ہمنوا تھے۔ سلیمان تخت نشین ہونے کے بعد انتقامی جذبہ سے کام لیتےہوئے اسلام کے ان نامور افراد کو اپنے عہدوں سے برخاست کردیا۔ محمد بن قاسم کو بڑے ظالمانہ طریقے سے قتل کروا دیا گیا۔ قیتبہ بن مسلم بھی اسی انجام سے دوچار ہوا۔ موسی بن نصیر کے آخری ایام تنگ دستی اور پریشان حالی میں گزرے ۔ علاوہ ازیں حجاج کے زمانہ میں مقرر کیے گئے عاملوں کو ہٹا کر ان کی جگہ دوسرے حاکم مقرر کیے گئے۔یہ غلط اقدامات مجموعی حیثیت سے سلطنت کے وقار میں کمی کا باعث ہوئے۔ شخصی زندگی کے اس انتقامی پہلو کے علاوہ سلیمان کی شخصیت کے اچھے پہلو دن بدن نکھرتے چلے گئے۔ وہ کئی لحاظ سے اپنے پیشرو حکمرانوں کے مقابلہ میں بہتر تھا۔ ولید کے زمانہ کے تمام قیدیوں کو جنہیں بغیر کسی جرم کے یا محض شک و شبہ کی بناء پر قید خانہ میں ڈال دیاگیا تھا رہائی ملی اور جیل خانے خالی ہوگئے۔

محمد بن قاسم کا قتل[ترمیم]

محمد بن قاسم حجاج کا رستہ دار تھا اور سلیمان کو حجاج سے نفرت تھی اس لیے تخت نشین ہوتے ہی سلیمان نے محمد بن قاسم کو معزول کرکے دار الحکومت واپس پلٹنے کے احکامات صادر کر دیے۔ 17 سال کا یہ نوجوان جس کی ہمت و شجاعت کی بدولت سندھ فتح ہوا اور برصغیر ہندو پاک میں پہلی بار کلمہ توحید کی منظم طور پر آبیاری ہوئی ، اپنوں ہی کے ہاتھوں افسوس ناک انجام سے دوچار ہوا۔ اس کے حسن انتظام اور رعایا پروری کا یہ عالم تھا کہ اس کی واپسی اور موت کی خبر سن کر سندھ کے لوگوں نے اس کی مورتیوں کو دیوتا کے روپ میں پوجنا شروع کر دیا۔ سلیمان نے اسے گرفتار کرکے عراق کے گورنر صالح بن عبدالرحمن کے ہاں روانہ کیا۔ حجاج نے اپنے زمانہ اقتدار میں صالح کے بھائی کو قتل کروایا تھا۔ چنانچہ صالح نے اب اپنے بھائی کے قتل کے بدلہ میں محمد بن قاسم کو جیل میں اذیتیں دے دے کر قتل کروایا اور اس طرح دنیائے اسلام اپنے نامور فرزند اور بہترین جرنیل سے محروم ہوگئی۔


قیتبہ بن مسلم کا قتل[ترمیم]

قیتبہ بن مسلم بھی حجاج کا وفادار ساتھی تھا ۔ اور سلیمان کی خلافت سے علیحدگی کے معاملہ میں ہمنوا تھا۔ لٰہذا سلیمان کی تخت نشینی کے بعد اسے یہ خطرہ لاحق تھا کہ ذاتی عناد یا گروہی تعصب کی بناء پر سلیمان اس کو اپنے انتقام کا نشانہ نہ بنائے ۔ چنانچہ اس نے خلیفہ کو اپنی اطاعت اور وفاداری کے اظہار اور یقین دہانی کے لیے خطوط لکھے۔ سلیمان نے بھی اس کے خلاف ابھی تک کوئی عملی قدم نہ اٹھایا تھا۔ لیکن قیتبہ نے حفظ ماتقدم کے طور پر سلیمان کا خطرہ آنے سے پیشتر ہی بغاوت کر دی۔ خلاف توقع فوج نے ساتھ نہ دیا۔ قبیلہ بنو تمیم کے افراد میں سے ایک نے اسے قتل کرکے اس کا سر سلیمان کے پاس روانہ کر دیا۔ قتیبہ کے بعد یزید بن مہلب کو خراسان کا والی مقرر کیا گیا۔


موسیٰ بن نصیر کی تذلیل[ترمیم]

فاتح سپین موسیٰ بن نصیر بھی سلیمان کی آتش انتقام سے بچ نہ سکا۔ ولید نے موت سے قبل موسی کو دمشق واپس پہنچنے کے احکامات دئیے تھے۔ موسیٰ بن نصیر غنیمت اور زر و جواہر کے ساتھ پایہ تخت واپسی کے لیے روانہ ہو چکا تھا۔ ولید کے مرض الموت میں مبتلا ہونے کے بعد سلیمان کی خواہش تھی کہ موسی کا درود دمشق میں ولید کی موت کے بعد اور اس کی اپنی تخت نشینی کے وقت ہو لیکن موسیٰ بن نصیر اپنے محسن اور مربی کی خدمت میں جلد از جلد حاضر ہو کر تحفے اور تحائف اور مال غنیمت پیش کرنا چاہتا تھا۔ لہذا سلیمان کی خواہش کے خلاف نہایت سرعت سے پایہ تخت پہنچا ۔ ولید کی طرف سے موسیٰ کے بے حد عزت افزائی ہوئی۔ انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سلیمان نے تخت نشین ہونے کے بعد موسیٰ کے تمام اعزازات اور مناصب سے یکسر محروم کردیا اور اس کی تمام جائداد ضبط کر لی۔ یہی نہیں بلکہ جب کسی صاحب اثر شخصیت کے ایماء پر موسی کو قید سے نکالا گیا تو سلیمان نے اس پر کئی لاکھ کا جرمانہ نافذ کر دیا۔ موسی اس قدر کثیر رقم بطور جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہ تھا۔ کہاں فاتح سپین کی حیثیت سے شاہانہ تزک و احتشام اور کہاں اب ایک تنگ دست انسان جو دو لقموں کا بھی محتاج ہو۔ اسی کسمپرسی اور تباہ حالی میں اس کا انتقال ہو گیا۔ سلیمان نے اپنے کینہ کی مزید تسکین کی خاطر موسی بن نصیر کے بیٹے عبدالعزیز کو قتل کرا دیا۔ یہ تمام واقعات سلیمان کے کردار پر بدنما داغ ہیں۔

فتوحات[ترمیم]

فتوحات کا سلسلہ جو ولید کے زمانہ سے شروع ہوا تھا اس دور میں بھی جاری رہا۔ چنانچہ یزید بن مہلب نے جو خراسان کا والی تھا، 98ھ میں ایک لاکھ فوج سے جرجان پر فوج کشی کی۔ کہستان ، جرجان ، طبرستان وغیرہ فتح کیے۔ بعض مواقع پر اسلامی افواج کو خاصہ نقصان اٹھانا پڑا لیکن بحیثیت مجموعی یہ مہمات کامیاب رہیں اور مخالفین کی طاقت کو کچل دیا گیا۔

قسطنطنیہ پر حملہ اور ناکامی[ترمیم]

سلیمان بن عبدالملک کے زمانہ میں سلطنت روم اندرونی خلفشار سے دوچار تھی۔ سلیمان نے اس موقع کو غنیمت جان کر رومی سلطنت کے دار الحکومت قسطنطنیہ پر حملہ کا منصوبہ بنایا ۔ اس دوران لیو ایسوریائی نے جو ایشیائے کوچک میں رومی افواج کا ایک سپہ سالار تھا، سلیمان کو اپنے تعاون کی پیش کش کی ۔ چنانچہ 98 ھ میں بڑے زبردست پیمانہ پر جنگی تیاریوں کا آغاز کیا گیا۔ بیش از بیش افواج اس مہم میں شمولیت کے لیے منظم کی گئیں ۔ سامان جنگ ، اسلحہ ، قلعہ شکن آلات اور سامان رسد کے ذخیرے جمع کیے گئے۔ یہ لشکر جرار مسلمہ بن عبدالملک کی ماتحتی میں روانہ ہوا۔ بری اور بحری دونوں اطراف سے قسطنطنیہ پر حملہ کیا گیا۔ خود مسلمہ خشکی کے راستہ ایشیائے کوچک سے ہوتا ہوا بڑھا۔ مسلمہ قسطنطنیہ پہنچا اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ کئی ماہ جاری رہا۔ ناکہ بندی سے تنگ آکر لوگوں نے صلح کی درخواست کی جسے مسلمہ نے رد کر دیا۔ لیو ایسوریائی چونکہ مسلمانوں کی تمام کمزوریوں اور منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ ہو چکا تھا اس لیے اس نے بڑی پامردی سے مدافعت کی۔ موسم سرما کی شدت برفباری اور اشیائے ضرورت کی کمی کی بدولت مسلمان بھوکوں مرنے لگے ۔ دوسری طرف اگرچہ سلیمان سرحد روم پر خیمہ زن تھا لیکن بروقت امدادی فوج اور سامان رسد نہ بھیج سکا۔ وہ اس قدر تباہی کے باوجود فوج کی واپسی کے احکامات صادر کرنے پر رضا مند نہ تھا مگر صفر 99ھ دسمبر 719ء میں سلیمان نے وابق کے مقام پر وفات پائی تو آپ کے جانشین حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مسلمہ کو فوری واپسی کے احکامات صادر کیے اور اس طرح یہ مہم ناکام ہوئی ۔

سیرت[ترمیم]

سلیمان کا کردار مجموعہ اضداد تھا۔ خدا ترسی ، نیک نفسی اور رعایا پروری کی بے شمار مثالیں ایسی موجود ہیں جس کی وجہ سے اسے بالعموم ایک اصلاح پسند شخصیت مانا جاتا ہے۔ اس نے حجاج کے مقرر کردہ ظالم عاملوں سے عوام کو نجات دلائی ، پینے کے لیے میٹھے پانی کا بندوبست کیا، ولید کے زمانہ کے قیدی رہا کر دئیے گئے اور جیل خانوں کے دروازے کھول دئیے گئے لیکن ان کارہائے خیر کے باوجود وہ بے حد کینہ پرور تھا۔ اس نے محض انتقامی جذبہ سے سرشار ہو کر دنیائے اسلام کے نامور سپہ سالاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اور کچھ کو ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا۔ بہرحال اس کے دور کا سب سے اہم اور قابل قدر کارنامہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا بطور خلیفہ تقرر ہے اور اسی بنا پر مورخین اسے مفتاح الخیر کا لقب دیتے ہیں۔


وفات[ترمیم]

719ء بمقام وابق (سرحد روم پر واقع فوجی مرکز) اچانک خلیفہ سلیمان وفات پاگیا۔ وفات کے وقت اس کی عمر 45 سال اور مدت خلافت دو سال آٹھ ماہ تھی۔ اپنی زندگی ہی میں ایک وصیت کے ذریعہ عمر بن عبدالعزیز اور یزید بن عبدالملک کو علی الترتیب اپنا جانشین نامزد کرکے بیعت حاصل کر لی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]