مندرجات کا رخ کریں

معاویہ بن ابی سفیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امیر معاویہ سے رجوع مکرر)
امیر معاویہ
معاوية
The obverse of a silver-colored coin inscribed in Middle Persian with the name of a sovereign Muslim ruler and Muslim religious formulas on either side of a figural depiction of an ancient Iranian ruler
مُعاویہ کے نام سے ڈھالا گیا ساسانی طرز کا چاندی کا درہم (تقریباً 674ء)
اس سکے کے سامنے والے رخ پر ساسانی شاہ خسرو دوم (حکومت: 590ء–628ء) کی تصویر اور ان کا نام پہلوی رسم الخط میں درج ہے۔
خلافت امویہ کے پہلے خلیفہ
جنوری 661ء – اپریل 680ء
جانشینیزید بن معاویہ
گورنرِ شام
قلمدان سنبھالا
639ء – 661ء
پیشرویزید بن ابی سفیان
جانشینمنصب ختم ہوا
شریک حیات
نسل
مکمل نام
معاویہ بن ابی سفیان
(معاوية ابن أبي سفيان)
خاندانآل سفیان
شاہی خاندانآل امیہ
والدابو سفیان
والدہہند بنت عتبہ
پیدائشت 597ء–605ء
مکہ، حجاز، جزیرہ نما عرب
وفاتاپریل 680ء (عمر تقريباً 75 سے 83 برس)
دمشق، خلافت امویہ
تدفینباب الصغیر، دمشق
مذہباسلام

معاویہ بن ابی سفیان[a] (ت 597ء، 603ء یا 605ء – اپریل 680ء) اموی خلافت کے بانی اور پہلے خلیفہ تھے۔ انھوں نے 661ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً تیس برس بعد اور چار خلفائے راشدین کے فوراً بعد خلیفہ بنے۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس (جو ابتدائی اور قریبی صحابہ میں شمار ہوتے تھے) معاویہ نسبتاً بعد میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔

معاویہ اور ان کے والد ابو سفیان نے ابتدا میں پیغمبر اسلام محمد کی مخالفت کی یہاں تک کہ 630ء میں مکہ فتح ہوگیا۔ اس کے بعد معاویہ اسلام میں داخل ہوئے اور پیغمبر اسلام کے کاتبوں میں شامل ہو گئے۔ خلیفہ ابو بکر کے دور میں انھیں شام کی فتح میں نائب کمانڈر مقرر کیا گیا۔ خلیفہ عمر کے عہد میں وہ بتدریج ترقی پاتے رہے یہاں تک کہ اپنے اموی رشتہ دار خلیفہ عثمان کے زمانے میں صوبہ شام کے گورنر بنائے گئے۔ انھوں نے صوبہ شام کے طاقتور قبیلہ بنو کلب سے اتحاد کیا، ساحلی شہروں کے دفاع کو مضبوط بنایا اور بازنطینی سلطنت کے خلاف جنگی مہمات کی قیادت کی، جن میں پہلی مسلم بحری مہمات بھی شامل تھیں۔ سنہ 656ء میں عثمان کے قتل ہونے کے بعد معاویہ نے ان کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا اور علی کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ پہلی مسلم خانہ جنگی (فتنۂ اوّل) کے دوران 657ء میں جنگِ صفین میں دونوں کی افواج آمنے سامنے آئیں، جو بے نتیجہ رہی اور ثالثی کی کوششیں بھی ناکام ہو گئیں۔ اس کے بعد شام میں معاویہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا گیا اور ان کے اتحادی عمرو بن عاص نے 658ء میں مصر پر قبضہ کر لیا۔ 661ء میں علی کے قتل ہونے کے بعد معاویہ نے حسن بن علی کو خلافت سے دستبردار ہونے پر آمادہ کیا اور یوں پوری خلافت میں ان کی بالا دستی قائم ہو گئی۔

داخلی طور پر معاویہ نے شام کے وفادار عرب قبائل اور بڑی حد تک مسیحی بیوروکریسی پر انحصار کیا۔ انھیں ڈاک، سرکاری مراسلت اور دفتری نظام قائم کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ وہ پہلے خلیفہ تھے جن کا نام سکّوں، کتبوں اور سرکاری دستاویزات پر آیا۔ بیرونی محاذ پر انھوں نے تقریباً ہر سال بازنطینیوں کے خلاف بری اور بحری حملے کیے، جن میں قسطنطنیہ کا ایک ناکام محاصرہ بھی شامل تھا۔ عراق اور مشرقی علاقوں میں انھوں نے مغیرہ بن شعبہ اور زیاد بن ابیہ جیسے طاقتور گورنروں کے ذریعے حکومت چلائی اور زیاد کو متنازع طور پر اپنا بھائی بھی قرار دیا۔ ان کے دور میں عقبہ بن نافع کی سربراہی میں افریقیہ (وسطی شمالی افریقا) کی فتوحات کا آغاز ہوا اور خراسان و سجستان میں فتوحات دوبارہ شروع ہوئیں۔

اگرچہ معاویہ نے بنو امیہ کے اثر و رسوخ کو مدینہ کی گورنری تک محدود رکھا لیکن انھوں نے اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کیا، جو اسلامی سیاست میں ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ اس فیصلے کی مخالفت خصوصاً حسن بن علی اور عبد اللہ بن زبیر کی جانب سے معاویہ کی وفات کے بعد بھی جاری رہی اور بالآخر دوسرے فتنہ کا سبب بنی۔ قدیم مصادر میں معاویہ کی شخصیت کے بارے میں رائے منقسم ہے: کچھ انھیں ایک مضبوط منتظم مانتے ہیں جبکہ ناقدین ان پر خلافت کو ملوکیت میں بدلنے اور خلفائے راشدین جیسا عدل و تقویٰ نہ رکھنے کا الزام لگاتے ہیں۔ سنی روایت میں انھیں صحابی اور کاتبِ وحی کے طور پر احترام حاصل ہے جبکہ شیعہ روایت میں وہ علی کی مخالفت، حسن کو زہر دلوانے اور اخلاص کے بغیر اسلام قبول کرنے کے الزامات کی بنا پر سخت تنقید کا نشانہ ہیں۔

ابتدائی زندگی اور پس منظر

خلافت کی توسیع:- سنہ 632ء میں پیغمبر اسلام کی وفات کے وقت پہلی اسلامی ریاست کی زیادہ سے زیادہ علاقائی حدود، جو سبز رنگ میں دکھائی گئی ہیں۔ - خلیفہ عثمان کے عہد میں خلافتِ راشدہ کی زیادہ سے زیادہ علاقائی وسعت، جو بھورے رنگ میں ظاہر کی گئی ہے۔ - خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے دور میں خلافتِ امویہ کی زیادہ سے زیادہ علاقائی حدود، جو زرد رنگ میں نمایاں ہیں۔

معاویہ کی پیدائش کا سال یقینی طور پر معلوم نہیں۔ ابتدائی اسلامی مصادر میں 597ء، 603ء یا 605ء کے سال ذکر کیے گئے ہیں۔ [1] ان کے والد ابو سفیان بن حرب مکہ کے نمایاں تاجر تھے جو شام کی طرف تجارتی قافلوں کی قیادت کرتے تھے، اس وقت شام بازنطینی سلطنت کا حصہ تھا۔ [2] قریش اور پیغمبرِ اسلام محمد کے درمیان ابتدائی کشمکش کے دوران ابو سفیان بت پرست قریش کے کنبے بنو عبد شمس کے سردار بن کر ابھرے جو مکہ کا غالب قبیلہ تھا۔ [1] پیغمبر اسلام بھی قریش ہی سے تعلق رکھتے تھے اور عبد مناف بن قصی کے ذریعے معاویہ سے دور کی رشتہ داری رکھتے تھے۔ [3] معاویہ کی والدہ ہند بنت عتبہ بھی بنو عبد شمس سے تھیں۔ [1]

624ء میں محمد اور ان کے ساتھیوں نے شام سے واپس آنے والے ایک مکہ کے قافلے کو روکنے کی کوشش کی، جس کی قیادت ابو سفیان کر رہے تھے۔ اس پر ابو سفیان نے کمک طلب کی۔ [4] اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بدر میں قریش کی فوج کو شکست ہوئی اور اس لڑائی میں معاویہ کے بڑے بھائی حنظلہ اور نانا عتبہ بن ربیعہ مارے گئے۔ [2] بعد ازاں ابو سفیان نے مکی فوج کے مقتول قائد ابو جہل کی جگہ سنبھالی اور 625ء میں جنگ احد میں مسلمانوں کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ تاہم 627ء میں جنگ خندق کے موقع پر مدینہ کے محاصرے کی ناکامی کے بعد ابو سفیان قریش میں اپنی قیادت کی حیثیت کھو بیٹھے۔ [1]

628ء میں حدیبیہ کے مقام پر قریش اور محمد کے درمیان ہونے والے معاہدے کی مذاکرات میں ابو سفیان شریک نہیں تھے۔ اگلے سال پیغمبر اسلام نے معاویہ کی بیوہ بہن ام حبیبہ سے نکاح کیا، جو معاویہ سے پندرہ برس پہلے اسلام قبول کر چکی تھیں۔ اس نکاح سے ابو سفیان کی محمد کے خلاف دشمنی میں کمی آئی۔ 630ء میں جب قریش کے حلیفوں نے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کی تو ابو سفیان نے مدینہ جا کر پیغمبر اسلام سے بات چیت کی۔ [2] جب 630ء میں مکہ فتح ہوا تو معاویہ ان کے والد ابو سفیان اور ان کے بڑے بھائی یزید بن ابی سفیان نے اسلام قبول کر لیا۔ بعض ابتدائی مسلم مؤرخین جیسے بلاذری اور ابن حجر کے مطابق معاویہ حدیبیہ کے وقت ہی خفیہ طور پر مسلمان ہو چکے تھے۔ [1] 632ء تک پورے جزیرہ نما عرب میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور مدینہ اس کا مرکز تھا۔ [5] قریش کو ساتھ ملانے کی کوشش کے تحت پیغمبر اسلام محمد نے معاویہ کو اپنے کاتبوں میں شامل کیا۔ اس وقت معاویہ سمیت قریش کے صرف سترہ افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ [1] ابو سفیان بھی امت میں اپنی نئی حیثیت اور اثر برقرار رکھنے کے لیے مدینہ منتقل ہو گئے۔ [6]

شام کی گورنری

ابتدائی عسکری زندگی اور انتظامی ترقیاں

جدید ممالک کی سرحدوں پر منطبق پس منظر کے ساتھ سایہ دار حصوں میں اسلامی سلطنت کی توسیع دکھانے والا نقشہ
اسلامی اقتدار کے ابتدائی عشروں میں شام کے خطے کا نقشہ۔

632ء میں پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ابو بکر خلیفہ بنے۔ [7] ابو بکر اور ان کے جانشین عمر، عثمان اور علی کو عموماً خلفائے راشدین کہا جاتا ہے تاکہ انھیں معاویہ اور ان کے بعد آنے والے اموی حکمرانوں سے ممتاز کیا جا سکے۔ [8] ابو بکر کو اپنی قیادت کے آغاز میں مدینہ کے انصار کی جانب سے دباؤ اور متعدد عرب قبائل کی بغاوتوں کا سامنا تھا، اس لیے انھوں نے قریش خصوصاً اس کے طاقتور قبائل بنو مخزوم اور بنو عبد شمس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ [9] انہی حالات میں انھوں نے فتنۂ ارتداد کی جنگوں (632ء تا 633ء) کے دوران باغی قبائل کے خلاف کارروائی کے لیے معاویہ کے بھائی یزید بن ابی سفیان کو مقرر کیا۔ اس جنگ کے بعد یزید کو تقریباً 634ء میں بازنطینی شام کی فتح کے لیے چار کمانڈروں میں شامل کیا گیا[10] جبکہ ابو بکر نے معاویہ کو یزید کے لشکر کے ہراول دستے کا سالار بنایا۔ [1] ان تقرریوں کے ذریعے ابو بکر نے ابو سفیان کے خاندان کو شام کی فتوحات میں براہ راست حصہ دار بنایا خصوصاً اس لیے بھی کہ ابو سفیان دمشق کے گرد و نواح میں جائداد رکھتے تھے۔ [10][b]

ابو بکر کے جانشین عمر (د. 634ء–644ء) نے 636ء میں یرموک کی جنگ کے بعد پیغمبر اسلام کے جلیل القدر صحابی ابو عبیدہ بن جراح کو شام میں مسلم افواج کا سپہ سالار مقرر کیا، [12] جس کے نتیجے میں پورے شام کی فتح کی راہ ہموار ہوئی۔ [13] 637ء میں معاویہ بھی ان عرب لشکروں میں شامل تھے جو خلیفہ عمر کے ساتھ یروشلم میں داخل ہوئے۔ [1][c] اس کے بعد ابو عبیدہ نے معاویہ اور یزید کو صیدا، بیروت اور بیبلوس جیسے ساحلی شہروں کی فتح کے لیے روانہ کیا۔ [15] 639ء میں طاعونِ عمواس کے باعث ابو عبیدہ کی وفات کے بعد عمر نے شام کی کمان تقسیم کر دی۔ یزید کو دمشق، اردن اور فلسطین کے عسکری اضلاع کا گورنر مقرر کیا گیا جبکہ حمص اور جزیرہ (بالائی بین النہرین کا علاقہ) عیاض بن غنم کے سپرد ہوا۔ [1][16] اسی سال یزید بھی طاعون کا شکار ہو گئے تو عمر نے معاویہ کو دمشق کا فوجی اور مالی گورنر اور غالباً اردن کا بھی ذمہ دار بنا دیا۔ [1][17] 640ء یا 641ء میں معاویہ نے قیصریہ فتح کیا جو بازنطینی فلسطین کا ضلعی مرکز تھا، اس کے بعد عسقلان پر قبضہ کر کے فلسطین کی مسلم فتح مکمل کی۔ [1][18][19] اسی عرصے میں انھوں نے قلیقیہ کے خلاف مہم چلائی اور اناطولیہ کے اندر اوخاییطا تک پیش قدمی کی۔ [20] 644ء میں انھوں نے اناطولی شہر عموریہ پر بھی حملہ کیا۔ [21]

ابو سفیان کے بیٹوں کی مسلسل ترقی بظاہر عمر کی اس پالیسی سے متصادم تھی جس کے تحت وہ قریش کے اشرافیہ کے اثر کو کم کر کے ابتدائی مسلمانوں (یعنی مہاجرین اور انصار) کو ترجیح دینا چاہتے تھے۔ [16] مؤرخ لیون کایتانی کے مطابق یہ استثنا عمر کے اموی خاندان کے لیے ذاتی احترام کا نتیجہ تھا تاہم ویلفرڈ میڈلنگ اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شام میں معاویہ کے سوا کوئی موزوں متبادل موجود نہ تھا اور علاقے میں طاعون کے باعث مدینہ سے دوسرے کمانڈروں کی تعیناتی ممکن نہیں تھی۔ [17]

عثمان (د. 644ء–656ء) کے خلیفہ بننے پر معاویہ کی گورنری میں توسیع ہوئی اور فلسطین بھی ان کے زیرِ انتظام آ گیا جبکہ حمص اور جزیرہ کا علاقہ عمیر بن سعد انصاری کے پاس رہا۔ 646ء کے آخر یا 647ء کے آغاز میں عثمان نے حمص اور جزیرہ کو بھی معاویہ کی گورنریٔ شام میں شامل کر دیا[1] جس سے ان کے زیرِ اختیار فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ [22]

مقامی اقتدار کا استحکام

عثمان کے دورِ خلافت میں معاویہ نے بنو کلب سے اتحاد قائم کیا، [23] جو صحرائے شام میں غالب قبیلہ تھا اور جنوب میں دومۃ الجندل کے نخلستان سے لے کر شمال میں تدمر کے اطراف تک پھیلا ہوا تھا۔ بنو کلب قضاعہ اتحاد کا بھی سب سے اہم جز تھے، جس کی موجودگی پورے شام میں تھی۔ [24][25][26] مدینہ کی مرکزی حکومت مسلسل بنو کلب کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی رہی کیونکہ یہ قبیلہ عرب بازنطینی جنگوں کے دوران زیادہ تر غیر جانب دار رہا تھا، خاص طور پر اس وقت کے بعد جب حکومتِ مرکز نے بازنطینیوں کے اہم عرب حلیفوں یعنی مسیحی غسانیوں سے روابط کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہی۔ [27][d] اسلام کے شام میں آنے سے قبل بنو کلب اور قضاعہ طویل عرصے تک یونانی آرامی ثقافت اور توحید فطرت مسیح کا اعتقاد رکھنے والی کلیسیا کے اثر میں رہے تھے[30][31] اور انھوں نے بازنطینی سلطنت کے لیے اس کے غسانی تابع بادشاہوں کے ماتحت خدمات انجام دیں تاکہ ساسانی فارسیوں اور ان کے عرب حلیفوں لخمیوں کے حملوں سے شامی سرحد کی حفاظت کی جا سکے۔ [30] جب مسلمان شام میں داخل ہوئے تو بنو کلب اور قضاعہ خاصا عسکری تجربہ رکھتے تھے اور نظم و ضبط اور فوجی اطاعت کے عادی تھے۔ [31] ان کی قوت سے فائدہ اٹھانے اور شام میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے معاویہ نے بنو کلب کے حکمران گھرانے یعنی بحدل بن انیف کے خاندان سے رشتہ قائم کیا اور تقریباً 650ء میں ان کی بیٹی میسون سے شادی کی۔ [23][26][32] اس کے علاوہ انھوں نے میسون کی چچا زاد بہن نائلہ بنت عُمارہ سے بھی مختصر مدت کے لیے نکاح کیا۔ [33][e]

معاویہ کا مقامی شامی عرب قبائل پر انحصار اس لیے بھی بڑھ گیا کہ طاعونِ عمواس نے شام میں موجود مسلم افواج کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس وبا کے باعث فوجیوں کی تعداد 637ء میں 24 ہزار سے گھٹ کر 639ء میں صرف 4 ہزار رہ گئی۔ [35] اس کے ساتھ ساتھ عرب قبائل کی ہجرت کا رُخ زیادہ تر عراق میں ساسانی محاذ کی طرف تھا۔ [36] معاویہ نے بھرتی کی ایک لبرل پالیسی اپنائی جس کے نتیجے میں مسیحی قبائل کے افراد اور سرحدی علاقوں کے کسان بڑی تعداد میں ان کی مستقل اور معاون افواج میں شامل ہوئے۔ [37] درحقیقت شمالی شام میں معاویہ کی فوج کا حصہ بننے والوں میں مسیحی بنو تنوخ اور مخلوط مسلم مسیحی بنو طے بھی شامل تھے۔ [38][39] اپنی افواج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے معاویہ نے عثمان سے درخواست کی اور انھیں شام کی وہ زرخیز اور آمدنی پیدا کرنے والی بازنطینی شاہی زمینیں دے دی گئیں جنھیں اس سے قبل عمر نے مسلم فوج کی اجتماعی ملکیت قرار دیا تھا۔ [40]

اگرچہ شام کے دیہی علاقوں میں آباد آرامی زبان بولنے والی مسیحی آبادی بڑی حد تک برقرار رہی[41] لیکن مسلم فتوحات کے نتیجے میں دمشق، حلب، لاذقیہ اور طرابلس جیسے شہروں سے یونانی مسیحی شہریوں کی بڑی تعداد بازنطینی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئی[35] جبکہ جو باقی رہے وہ عموماً بازنطینی حمایتی ہمدردیاں رکھتے تھے۔ [36] خلافت کے دیگر مفتوحہ علاقوں کے برعکس (جہاں مسلم فوج اور انتظامیہ کے لیے نئے چھاؤنی شہر بسائے گئے) شام میں فوجیوں نے پہلے سے آباد شہروں ہی میں سکونت اختیار کی جن میں دمشق، حمص، یروشلم، طبریہ، [35] حلب اور قنسرین شامل تھے۔ [29] معاویہ نے ساحلی شہروں انطاکیہ، بُلدہ، طرطوس، مرقیہ اور بانیاس کو دوبارہ آباد کیا، ان کی مرمت کروائی اور وہاں فوجیں تعینات کیں۔ [36] طرابلس میں انھوں نے بڑی تعداد میں یہودی آباد کیے[36] جبکہ حمص، انطاکیہ اور بعلبک میں ساسانی دور کے وہ فارسی باشندے بسائے جو ساتویں صدی عیسوی کے اوائل میں بازنطینی شام پر ساسانی قبضے کے زمانے سے وہاں موجود تھے۔ [42] عثمان کی ہدایت پر معاویہ نے خانہ بدوش تمیم، اسد اور قیس قبائل کے گروہوں کو فرات کے شمال میں رقہ کے اطراف کے علاقوں میں آباد کیا۔ [36][43]

بازنطینی سلطنت کے خلاف بحری مہمات اور آرمینیا کی فتح

معاویہ نے مشرقی بحیرۂ روم میں بازنطینیوں کے خلاف عرب بحری مہمات کا آغاز کیا۔ [1] انھوں نے طرابلس، بیروت، صور، عکّا اور یافا کی بندرگاہیں استعمال میں لائیں۔ [37][44] عمر نے اس سے پہلے قبرص پر بحری حملے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ انھیں سمندر میں مسلم افواج کی سلامتی کا اندیشہ تھا تاہم عثمان نے 647ء میں معاویہ کو اس مہم کی اجازت دے دی حالانکہ اس سے پہلے کی ایک درخواست رد کی جا چکی تھی۔ [45] معاویہ کا مؤقف تھا کہ بازنطینیوں کے زیرِ قبضہ یہ جزیرہ شامی ساحل کے ساتھ عرب ٹھکانوں کے لیے خطرہ ہے اور اسے بآسانی غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ [45] حملے کا درست سال واضح نہیں، ابتدائی عربی مصادر میں 647ء سے 650ء تک کی مختلف تاریخیں ملتی ہیں جبکہ قبرص کے گاؤں سولوئیس میں موجود دو یونانی زبان کے کتبوں میں 648ء سے 650ء کے درمیان دو حملوں کا ذکر کرتے ہیں۔ [45]

نویں صدی عیسوی کے مؤرخین بلاذری اور خلیفہ بن خیاط کے مطابق معاویہ نے یہ مہم خود قیادت میں انجام دی ان کے ساتھ ان کی اہلیہ کَتوہ بنت قرظہ بن عبد عمرو قرشی نوفلی اور کمانڈر عبادہ بن صامت بھی تھے۔ [34][45] کتوہ کا انتقال اسی جزیرے میں ہوا اور بعد میں معاویہ نے ان کی بہن فاخِتہ سے نکاح کیا۔ [34] ابتدائی مسلم مصادر میں ایک دوسرا بیان بھی ملتا ہے جس کے مطابق یہ مہم معاویہ کے امیر البحر عبد اللہ بن قیس نے سر انجام دی جو سالامیس پر اترے اور پھر جزیرے پر قبضہ کیا۔ [44] دونوں صورتوں میں قبرصیوں کو وہی خراج ادا کرنے پر مجبور کیا گیا جو وہ پہلے بازنطینیوں کو دیتے تھے۔ [44][46] معاویہ نے جزیرے میں ایک امصار اور مسجد قائم کی تاکہ خلافت کا اثر قائم رہے۔ قبرص بعد ازاں عربوں اور بازنطینیوں دونوں کے لیے ایک دوسرے کے علاقوں پر حملوں کا اڈا بن گیا۔ [46] قبرص کے باشندوں کو بڑی حد تک اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا اور آثارِ قدیمہ کے شواہد اس دور میں مسلسل خوش حالی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ [47]

مشرقی بحیرۂ روم پر بحری برتری نے معاویہ کی افواج کو 653ء میں کریت اور رودس پر حملے کی صلاحیت دی۔ رودس کی مہم سے حاصل ہونے والا قابلِ ذکر مالِ غنیمت معاویہ نے عثمان کو بھیجا۔ [48] 654ء یا 655ء میں مصر کے اسکندریہ اور شام کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والی مشترکہ بحری مہم نے لیکیائی ساحل کے قریب معرکۂ ذات الصواری میں بازنطینی بیڑے کو شکست دی جس کی قیادت خود بازنطینی شہنشاہ قسطنطین ثانی (د. 641ء–668ء) کر رہے تھے۔ اس شکست کے بعد قسطنطین ثانی کو صقلیہ جانا پڑا جس سے قسطنطنیہ پر عربوں کے ایک بحری حملے کی راہ ہموار ہوئی اگرچہ یہ حملہ بالآخر ناکام رہا۔ [49] عرب افواج کی قیادت یا تو مصر کے گورنر عبد اللہ بن ابی سرح نے کی یا معاویہ کے لفٹننٹ ابو اعور نے۔ [49]

اسی دوران آرمینیا کی فتح کی کوششوں میں عربوں کی دو سابقہ ناکام مہمات کے بعد تیسری کوشش 650ء میں معاویہ اور بازنطینی ایلچی پروکوپیوس کے درمیان دمشق میں طے پانے والی تین سالہ صلح پر ختم ہوئی۔ [50] 653ء میں معاویہ کو آرمینیائی سردار تیودور رشتونی کی اطاعت حاصل ہوئی اور بازنطینی شہنشاہ نے اسی سال آرمینیا سے دستبردار ہو کر ان کو عملی طور پر تسلیم کر لیا۔ [51] 655ء میں معاویہ کے لفٹننٹ کمانڈر حبیب بن مسلمہ فہری نے تیودوسیوپولس فتح کیا اور رشتونی کو شام بدر کر دیا گیا یوں آرمینیا پر عرب اقتدار مستحکم ہو گیا۔ [51]

پہلا فتنہ

معاویہ کا علاقہ عام طور پر مدینہ، مصر اور کوفہ میں عثمان کی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی ناپسندیدگی (جو 650ء کی دہائی میں پھیل رہی تھی) سے محفوظ تھے۔ سوائے ابو ذر غفاری کے، [1] جنھیں عثمان کے رشتہ داروں کو مال و دولت فراہم کرنے کی کھلی مذمت کرنے پر دمشق بھیجا گیا۔ [52] ابو زر غفاری نے معاویہ کے دمشق میں اپنے خضراء محل کی تعمیر پر بے حد خرچ کرنے پر تنقید کی، جس پر معاویہ نے انھیں دمشق سے نکال دیا۔ [52] عثمان کی طرف سے عراق میں سرکاری اراضیاں ضبط کرنا اور مبینہ اقربا پروری[f] نے قریش اور کوفہ و مصر کے محروم اشراف کو خلیفہ کے خلاف کر دیا۔

جون 656ء میں مصر کے باغیوں نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا تو عثمان نے معاویہ سے مدد طلب کی۔ معاویہ نے مدینہ کی جانب امدادی فوج بھیجی لیکن وادی القریٰ میں عثمان کے قتل کی خبر ملنے کے بعد وہ واپس پلٹ گئے۔ [56] مدینہ میں پیغمبر اسلام کے چچا زاد اور داماد علی کو خلیفہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ [57] معاویہ نے علی کی بیعت دینے سے گریز کیا[58] اور بعض روایات کے مطابق علی نے انھیں ہٹانے کے لیے اپنا گورنر شام بھیجا جسے معاویہ نے داخلے سے روک دیا۔ [57] تاہم میڈلنگ کے مطابق علی کے انتخاب کے سات ماہ تک خلیفہ اور شام کے گورنر کے درمیان کوئی رسمی تعلقات قائم نہیں تھے۔ [59]

خلیفہ بننے کے فوراً بعد علی کو قریش کے بیشتر افراد کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جن کی قیادت زبیر اور طلحہ کر رہے تھے جو پیغمبر کے معروف صحابہ تھے نیز پیغمبرِ اسلام کی زوجہ عائشہ بھی، جنھیں علی کے تحت اپنے اثر و رسوخ کے ختم ہونے کا خدشہ تھا۔ [60] اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خانہ جنگی کو پہلا فتنہ کہا گیا۔ [g] علی نے بصرہ کے قریب جنگ جمل میں اس اتحادِ ثلاثہ کو شکست دی جس کے نتیجے میں خلافت کے امکانی مد مقابل زبیر اور طلحہ قتل ہوئے جبکہ عائشہ مدینہ واپس چلی گئیں۔ [60] عراق، مصر اور جزیرہ نما عرب میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد علی نے اپنا دھیان معاویہ کی طرف موڑا۔ دیگر صوبائی گورنروں کے بر خلاف معاویہ کو مضبوط اور وفادار تائید تھی، وہ اپنے اموی رشتہ دار عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے تھے اور انھیں آسانی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ [62][63] اس وقت معاویہ نے ابھی خلیفہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور ان کا بنیادی مقصد شام میں اپنی طاقت برقرار رکھنا تھا۔ [64][65]

جنگ کی تیاریاں

بصرہ میں علی کی فتح نے معاویہ کو کمزور حالت میں ڈال دیا کیونکہ ان کا علاقہ ایک طرف عراق اور مصر میں علی کی افواج اور دوسری طرف شمال میں بازنطینیوں کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان گھرا ہوا تھا۔ [66] 657ء یا 658ء میں معاویہ نے شہنشاہ کے ساتھ صلح کر کے بازنطینیوں کے ساتھ اپنی شمالی سرحد کو محفوظ بنا لیا جس سے وہ اپنی زیادہ تر فوج خلیفہ کے ساتھ متوقع جنگ پر مرکوز کرنے کے قابل ہو گئے۔ [67] مصر کے گورنر قیس بن سعد کو اپنی طرف مائل کرنے میں ناکامی کے بعد معاویہ نے عمرو بن عاص کے ساتھ بنو امیہ کی دشمنی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جو مصر کے فاتح اور سابق گورنر تھے اور جن پر وہ عثمان کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ [68] عمرو (جو مصر کے عرب فوجیوں میں مقبول تھے) اور معاویہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت عمرو علی کے خلاف اتحاد میں شامل ہو گئے اور معاویہ نے علانیہ اس بات پر رضا مندی ظاہر کی کہ اگر وہ علی کے مقرر کردہ گورنر کو معزول کر دیں تو عمرو کو عمر بھر کے لیے مصر کا گورنر مقرر کیا جائے گا۔ [69]

اگرچہ معاویہ کو قبیلہ کلب کی مضبوط حمایت حاصل تھی، تاہم شام میں اپنی باقی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے ان کے رشتہ دار ولید بن عقبہ نے انھیں مشورہ دیا کہ حمیر کے یمنی قبائل کندہ اور ہمدان کے ساتھ اتحاد قائم کیا جائے، جو مجموعی طور پر حمص کی فوجی چھاؤنی پر حاوی تھے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے تجربہ کار سپہ سالار اور کندی قبیلے کے معزز امیر شرحبیل بن سِمط کو استعمال کیا جو شام میں انتہائی محترم تھے، تاکہ یمنی قبائل کو اپنی حمایت پر آمادہ کریں۔ [70] اس کے بعد انھوں نے فلسطین کے طاقتور قبائلی سردار قبیلہ جذام کے رئیس ناتِل بن قیس کی حمایت حاصل کی، اس طرح کہ انھوں نے ضلع کے خزانے کی ضبطی کو بغیر سزا کے نظر انداز کر دیا۔ [71] ان کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور معاویہ کے زیرِ اقتدار علاقوں میں علی کے خلاف جنگ کے مطالبات بڑھنے لگے۔ [72] جب علی نے اپنے ایلچی تجربہ کار سپہ سالار اور قبیلہ بجیلہ کے سردار جریر بن عبد اللہ کو معاویہ کے پاس بھیجا تو مُعاویہ نے ایک خط کے ذریعے جواب دیا جو عملاً خلیفہ کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف تھا کیونکہ وہ علی کی خلافت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ [73]

جنگ صفین اور تحکیم

جون 657ء کے پہلے ہفتے میں معاویہ اور علی کی افواج رَقّہ کے قریب صفین میں آمنے سامنے ہوئیں اور چند دنوں تک جھڑپیں ہوتی رہیں، جن کے بعد 19 جون کو ایک ماہ کی جنگ بندی طے پائی۔ [74] اس جنگ بندی کے دوران معاویہ نے حبیب بن مسلمہ کی قیادت میں ایک سفارتی وفد بھیجا، جس نے علی کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ وہ عثمان کے مبینہ قاتلوں کو ان کے حوالے کریں، خلافت سے دستبردار ہوں اور خلافت کے فیصلے کے لیے شوریٰ قائم کی جائے۔ علی نے معاویہ کے ایلچیوں کو مسترد کر دیا اور 18 جولائی کو اعلان کیا کہ شامی اب بھی ان کی اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ اگلے دن علی اور معاویہ کے نمایاں سپہ سالاروں کے درمیان ایک ہفتے تک انفرادی مقابلے ہوتے رہے [75] دونوں افواج کے درمیان بھرپور جنگ 26 جولائی کو شروع ہوئی۔ [76] جب علی کی فوجیں معاویہ کے خیمے کی طرف بڑھیں تو معاویہ نے اپنی منتخب فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دیا، جنھوں نے عراقیوں کو پیچھے دھکیل دیا لیکن اگلے دن حالات شامیوں کے خلاف ہو گئے جب معاویہ کے دو بڑے سپہ سالار مارے گئے، جن میں خلیفہ عمر کے بیٹے عبید اللہ اور برائے نام ’خمیر کے بادشاہ‘ کہلائے جانے والے ذو الکلاع سمیفع شامل تھے۔ [77]

سرخ اور زرد رنگ کے جھنڈوں پر مشتمل علم کی تصویر
جنگ صفین میں معاویہ کا عَلم (لواء)

معاویہ نے اپنے مشیروں کی اس تجویز کو رد کر دیا کہ علی کے ساتھ آمنے سامنے کا مقابلہ کر کے جنگ کو فیصلہ کن طور پر ختم کر دیا جائے۔ [78] 28 جولائی کو جنگ اپنے عروج پر پہنچی، جسے ’لیلۃ الہرير‘ (فریاد کی رات) کہا جاتا ہے، جب دونوں طرف بھاری جانی نقصان کے ساتھ ایک شدید ہاتھا پائی میں علی کی افواج کو برتری حاصل ہوئی۔ [79][h] امام زہری (متوفی 742ء) کے مطابق اس صورتِ حال کے بعد عمرو بن عاص نے اگلی صبح معاویہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے چند آدمیوں کو حکم دیں کہ وہ قرآن کے اوراق نیزوں پر باندھ لیں تاکہ عراقیوں کو مشاورت کے ذریعے تنازع حل کرنے کی دعوت دی جا سکے۔ امام شعبی (متوفی 723ء) کے مطابق علی کی فوج میں شامل اشعث بن قیس نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر مسلمان اس خانہ جنگی میں کمزور ہو گئے تو بازنطینی اور فارسی حملے کر سکتے ہیں۔ اس اطلاع کے ملنے پر معاویہ نے قرآن کے اوراق بلند کرنے کا حکم دیا۔ [81] اگرچہ یہ اقدام ایک طرح کی پسپائی تھا کیونکہ اس میں معاویہ نے کم از کم عارضی طور پر علی کے ساتھ فوجی تصفیے اور عثمان کے قاتلوں کا پیچھا کرنے کے اپنے سابقہ مؤقف کو ترک کر دیا لیکن اس کے نتیجے میں علی کی صفوں میں اختلاف اور بے یقینی پھیل گئی۔ [82]

خلیفہ نے اپنی فوج کی اکثریت کی رائے کو قبول کرتے ہوئے تحکیم کی تجویز مان لی۔ [83] مزید یہ کہ علی نے عمرو یا معاویہ کے اس مطالبے پر بھی رضا مندی ظاہر کی کہ ابتدائی تحکیمی دستاویز سے ان کا رسمی لقب امیر المؤمنین حذف کر دیا جائے۔ [84] مؤرخ ہیو این کینیڈی کے مطابق اس معاہدے نے علی کو ”معاویہ کے ساتھ برابری کی سطح پر معاملہ کرنے اور امت کی قیادت کے اپنے غیر متنازع حق سے دستبردار ہونے“ پر مجبور کر دیا۔ [85] میڈلنگ کے مطابق اس نے معاویہ کو ”اخلاقی فتح“ دی اور اس کے بعد علی کی افواج میں ”تباہ کن پھوٹ“ پڑ گئی۔ [86] چنانچہ ستمبر 658ء میں جب علی اپنے دار الخلافہ کوفہ واپس آئے تو ان کی فوج کا ایک بڑا حصہ (جو تحکیم کا مخالف تھا) الگ ہو گیا اور اسی سے خوارج کی تحریک کا آغاز ہوا۔ [87]

ابتدائی معاہدے کے تحت تحکیم کو بعد کی تاریخ تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔ [79][88] ابتدائی مسلم مصادر میں تحکیم کے وقت، مقام اور نتیجے کے بارے میں متضاد معلومات ملتی ہیں لیکن غالب امکان ہے کہ معاویہ اور علی کے نمائندوں عمرو اور ابو موسیٰ اشعری کے درمیان دو نشستیں ہوئیں پہلی دومۃ الجندل میں اور آخری اذرح میں [89] علی نے پہلی نشست کے بعد تحکیم ترک کر دی، جس میں ابو موسیٰ نے (جو عمرو کے برخلاف اپنے فریق کے ساتھ مضبوط وابستگی نہیں رکھتے تھے[90]) شامی فریق کے اس دعوے کو قبول کر لیا کہ عثمان ناحق قتل کیے گئے تھے، ایک ایسے فیصلے کو جس کی علی نے مخالفت کی۔ [91] اذرح میں ہونے والی آخری نشست جو معاویہ کی درخواست پر بلائی گئی تھی، ناکام ہو گئی لیکن اس وقت تک معاویہ خلافت کے ایک بڑے مدعی کے طور پر ابھر چکے تھے۔ [92]

خلافت کا دعویٰ اور دوبارہ جنگ کا آغاز

گلابی اور سبز رنگ میں نمایاں نقشہ جس میں دو متحارب فریقوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں، مہمات اور معرکوں کو ان کے وقوع کے سال کے ساتھ دکھایا گیا ہے
پہلے فتنہ کا نقشہ۔ سبز رنگ میں دکھائے گئے علاقے یعنی عراق، جزیرہ عرب، فارس اور قفقاز اور گلابی رنگ میں دکھائے گئے علاقے یعنی شام اور مصر، بالترتیب 658ء میں خلیفہ علی اور معاویہ کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تحکیم کے مذاکرات کے ٹوٹنے کے بعد عمرو اور شامی نمائندے دمشق واپس آئے، جہاں انھوں نے معاویہ کا استقبال ”امیر المؤمنین“ کے لقب سے کیا جو انھیں خلیفہ تسلیم کرنے کی علامت تھا۔ [93] اپریل یا مئی 658ء میں معاویہ نے شامیوں سے عمومی بیعت حاصل کر لی۔ [56] اس کے جواب میں علی نے معاویہ سے رابطہ منقطع کر دیا، جنگ کی تیاری شروع کی اور صبح کی نمازوں میں بطور ایک رسمی عمل معاویہ اور ان کے قریبی ساتھیوں پر لعنت کی۔ [93] معاویہ نے بھی اپنے زیرِ اقتدار علاقوں میں علی اور ان کے قریبی حامیوں کے خلاف اسی طرح کا عمل اختیار کیا۔ [94]

جب ولایت مصر میں موجود عثمان نواز باغیوں نے مداخلت کی درخواست کی تو جولائی میں معاویہ نے عمرو کی قیادت میں ایک لشکر مصر روانہ کیا، جن کی بغاوت کو وہاں کے گورنر خلیفہ ابو بکر کے بیٹے اور علی کے سوتیلے بیٹے محمد بن ابی بکر دبا رہے تھے۔ [95] عمرو کی افواج نے محمد کی فوج کو شکست دی، صوبائی دار الحکومت فسطاط پر قبضہ کر لیا گیا اور محمد کو عثمان نواز باغیوں کے سردار معاویہ بن حدیج کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔ [95] مصر کا ہاتھ سے نکل جانا علی کی اتھارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ وہ عراق میں منحرف خوارج سے لڑائی میں الجھے ہوئے تھے اور بصرہ کے ساتھ ساتھ عراق کے مشرقی اور جنوبی علاقوں پر ان کی گرفت کمزور پڑ رہی تھی۔ [56][96] اگرچہ اس سے معاویہ کی پوزیشن مضبوط ہو گئی لیکن انھوں نے علی کے خلاف براہِ راست حملہ کرنے سے گریز کیا۔ [96] اس کی بجائے ان کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ علی کی فوج کے قبائلی سرداروں کو اپنے ساتھ ملا لیا جائے اور عراق کی مغربی سرحد کے ساتھ آباد آبادیوں کو مسلسل دباؤ میں رکھا جائے۔ [96] پہلی یلغار ضحاک بن قیس فہری نے کوفہ کے مغرب میں صحرائی علاقوں میں بدوؤں اور مسلمان حاجیوں کے خلاف کی۔ [97] اس کے بعد نعمان بن بشیر انصاری کا عین التمر پر ناکام حملہ ہوا اور پھر 660ء کے موسمِ گرما میں سفیان بن عوف نے ہیت اور انبار پر کامیاب چھاپے مارے۔ [98]

659ء یا 660ء میں معاویہ نے کارروائیاں حجاز تک بڑھا دیں (جو مغربی جزیرہ نما عرب کا وہ علاقہ ہے جہاں مکہ اور مدینہ واقع ہیں) اور عبد اللہ بن مسعدہ فزاری کو صدقات اور اہلِ تیما سے معاویہ کے لیے بیعت لینے کے لیے بھیجا۔ اس ابتدائی مہم کو کوفہ والوں نے ناکام بنا دیا۔ [99] جبکہ اپریل 660ء میں مکہ کے قریش سے بیعت لینے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ [100]

اسی موسمِ گرما میں معاویہ نے بسر بن ابی ارطاہ کی قیادت میں ایک بڑا لشکر حجاز اور یمن فتح کرنے کے لیے روانہ کیا۔ انھوں نے بسر کو ہدایت دی کہ وہ مدینہ کے باشندوں کو خوف زدہ کریں مگر نقصان نہ پہنچائیں، مکہ والوں کو امان دیں اور یمن میں ہر اس شخص کو قتل کریں جو بیعت سے انکار کرے۔ [101] بسر کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر مدینہ، مکہ اور طائف سے گذرے اور ان شہروں سے معاویہ کی حکمرانی کو تسلیم کرا لیا۔ [102] یمن میں بسر نے نجران اور اس کے نواح میں کئی معززین کو عثمان پر ان کی سابقہ تنقید یا علی سے تعلقات کی بنا پر قتل کر دیا، قبیلہ ہمدان کے متعدد افراد اور صنعا اور مآرب کے شہریوں کا قتلِ عام کیا۔ حضرموت میں اپنی مہم جاری رکھنے سے پہلے ہی کوفہ سے آنے والی امدادی فوج کی پیش قدمی پر وہ واپس پلٹ گئے۔ [103] عرب میں بسر کی کارروائیوں کی خبریں سن کر علی کی افواج معاویہ کے خلاف مجوزہ مہم کے لیے دوبارہ متحد ہو گئیں[104] لیکن جنوری 661ء میں ایک خارجی کے ہاتھوں علی کے قتل کے باعث یہ مہم منسوخ ہو گئی۔ [105]

خلافت

خلافت کا حصول

علی کے قتل کے بعد معاویہ نے ضحاک بن قیس کو شام کی نگرانی سونپی اور اپنی فوج کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں علی کے بیٹے حسن بن علی کو ان کا جانشین نامزد کیا جا چکا تھا۔ [106][107] انھوں نے حسن کے لشکر کے ہراول دستے کے سالار عبید اللہ بن عباس کو مالی لالچ دے کر اپنے منصب سے الگ ہونے پر آمادہ کیا اور حسن کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایلچی روانہ کیے۔ [108] مالی تصفیے کے بدلے حسن نے خلافت سے دستبرداری اختیار کی اور معاویہ جولائی یا ستمبر 661ء میں کوفہ میں داخل ہوئے، جہاں انھیں خلیفہ تسلیم کر لیا گیا۔ یہ سال ابتدائی مسلم مصادر میں ”عامُ الجماعۃ“ یعنی اتحاد کا سال کہلاتا ہے اور عموماً اسے معاویہ کی خلافت کے آغاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ [56][109]

علی کی وفات سے قبل اور یا بعد معاویہ نے یروشلم میں ایک یا دو رسمی تقاریب کے دوران بیعت حاصل کی، جن میں پہلی غالباً 660ء کے اواخر یا 661ء کے اوائل میں اور دوسری جولائی 661ء میں منعقد ہوئی۔ [110] دسویں صدی عیسوی کے بیت المقدس کے جغرافیہ دان مقدسی کے مطابق معاویہ نے اس مسجد کو مزید ترقی دی جو خلیفہ عمر نے حرم شریف میں تعمیر کروائی تھی، جو بعد میں جامع الاقصیٰ کہلائی اور وہیں ان سے باقاعدہ بیعت لی گئی۔ [111] بیت المقدس (یروشلم) میں معاویہ کی خلافت کے آغاز سے متعلق قدیم ترین محفوظ اور قریب العہد ماخذ ”الحوليات المارونية“ / مارونی تواریخ (جو ایک نا معلوم سریانی مصنف کی تصنیف ہیں) کے مطابق معاویہ نے قبائلی سرداروں سے بیعت لی اور اس کے بعد گلگتا اور مقبرہ مریم میں (جو دونوں حرم شریف کے قریب گتسمنی میں واقع ہیں) نماز ادا کی۔ [112] مارونی تواریخ / کرانیکل کے مطابق معاویہ ”دنیا کے دوسرے بادشاہوں کی طرح تاج نہیں پہنتے تھے۔“[113]

داخلی حکمرانی اور نظمِ حکومت

ساتویں صدی عیسوی کی ایک سنگی تختی کی سیاہ و سفید تصویر، جس پر یونانی زبان میں ایک مقتدر حکمراں کی جانب سے حمام کی مرمت کا ذکر ہے
663ء میں حمۃ جادر میں رومی عہد کے حماموں کی بحالی سے متعلق معاویہ کے نام کی ایک یونانی تحریر جو شام میں ان کے دورِ حکومت کی واحد کتبہ جاتی شہادت ہے، جو ان کی خلافت کا مرکز تھا

ابتدائی مسلم مصادر میں شام میں معاویہ کی حکمرانی کے بارے میں معلومات بہت کم ملتی ہیں حالانکہ یہی علاقہ ان کی خلافت کا مرکز تھا۔ [114][115] انھوں نے اپنا دربار دمشق میں قائم کیا اور خلافت کا خزانہ کوفہ سے وہاں منتقل کر دیا۔ [116] وہ شامی قبائلی فوج پر انحصار کرتے تھے، [114] جس کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی[117] اور انھوں نے عراقی لشکروں کی تنخواہوں میں کمی کر کے شامی فوج کی اجرت میں اضافہ کیا[114] جب کہ دونوں عراقی چھاؤنیوں کے فوجی مجموعی طور پر بھی تقریباً ایک لاکھ تھے۔ [117] سب سے زیادہ وظیفے قضاعہ اور کندہ قبائل کے دو ہزار اشراف کو موروثی بنیادوں پر دیے گئے، جو ان کی اقتدار کی بنیاد تھے اور انھیں اہم فیصلوں میں مشاورت، اقدامات کی منظوری یا مخالفت اور تجاویز پیش کرنے کا حق بھی حاصل تھا۔ [30][118] قضاعہ اور کندہ کے سردار (کلبی سردار ابن بحدل اور حمص میں مقیم شرحبیل) ان کے شامی داخلی حلقے کا حصہ تھے، جن کے ساتھ قریشی عبد الرحمن بن خالد (جو مشہور سپہ سالار خالد بن ولید کے بیٹے تھے) اور ضحاک بن قیس فہری بھی شامل تھے۔ [119]

ابتدائی مسلم مصادر کے مطابق معاویہ نے سرکاری محکمے (دیوانات) قائم کیے جن میں خط کتابت کے لیے دیوان رسائل، نقول تیار کرنے نیز انھیں سنبھال کر رکھنے کے لیے دیوان خاتم اور ڈاک کے نظام کے لیے دیوان برید شامل تھے۔ [30] طبری کے مطابق 661ء میں دمشق کی مسجد میں خارجی بُرَک بن عبد اللہ کی جانب سے قاتلانہ حملے کے بعد معاویہ نے ذاتی محافظ دستہ حرس، منتخب فوج شرطہ اور مساجد میں مخصوص محفوظ جگہ مقصورہ قائم کی۔ [120][121] خلافت کا خزانہ بنیادی طور پر شام کے ٹیکسوں اور عراق و عرب میں ضبط کی گئی سرکاری اراضیوں کی آمدن پر منحصر تھا۔ [30] اس کے علاوہ عسکری مہمات میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کا خمس بھی خلیفہ کو ملتا تھا۔ [30] جزیرہ میں قبائلی ہجرت کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے (جس میں قدیم قبائل جیسے بنو سلیم اور نئے آنے والے مضر اور ربیعہ شامل تھے) معاویہ نے فوجی ضلع قنسرین و جزیرہ کو حمص سے الگ کر دیا جیسا کہ مؤرخ سیف بن عمر بیان کرتے ہیں۔ [122][123] تاہم بلاذری اس اقدام کو ان کے جانشین یزید بن معاویہ (د. 680ء–683ء) سے منسوب کرتے ہیں۔ [122]

شام میں بازنطینی دور کا دفتری نظام برقرار رہا، جس میں مسیحی اہلکار شامل تھے، جن میں محکمۂ خراج کے سربراہ سرجون بن منصور بھی تھے۔ [124] سرجون اسی حیثیت میں معاویہ کی خلافت سے پہلے بھی ان کی خدمت کر چکے تھے[125] اور غالب امکان ہے کہ ان کے والد شہنشاہ ہرقل (د. 610–641) کے دور میں بھی اسی منصب پر فائز تھے۔ [124] معاویہ شام کی مقامی مسیحی اکثریت کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کرتے تھے۔ [126] اس کے بدلے میں یہ برادری عمومی طور پر ان کی حکومت سے مطمئن تھی جس کے تحت ان کے حالات کم از کم بازنطینی دور جیسے ہی سازگار تھے۔ [127] معاویہ نے اپنے سکے ڈھالنے کی کوشش بھی کی لیکن نئی کرنسی کو شامیوں نے قبول نہ کیا کیونکہ اس میں صلیب کی علامت شامل نہیں تھی۔ [128] شام میں معاویہ کے دورِ حکومت کی واحد کتبہ جاتی شہادت 663ء کی ایک یونانی تحریر ہے، جو بحیرۂ طبریہ کے قریب گرم چشموں حمۃ جادر میں دریافت ہوئی[129] جس میں خلیفہ کو ”عبد اللہ معاویہ، امیر المؤمنین“ (اللہ کا بندہ اور مومنوں کا سردار اور رہنما معاویہ) کہا گیا ہے جبکہ نام سے پہلے صلیب کا نشان درج ہے اور اس میں بیماروں کی فلاح کے لیے رومی عہد کے حماموں کی بحالی کا سہرا انھیں دیا گیا ہے۔ مؤرخ یزہار ہیرشفیلد کے مطابق ”اس عمل کے ذریعے نئے خلیفہ نے اپنے مسیحی رعایا کو خوش کرنے کی کوشش کی“۔ [130] خلیفہ اکثر اپنے سرمائی ایام صنابرہ کے محل میں گزارتے تھے، جو بحیرۂ طبریہ کے قریب واقع تھا۔ [131] معاویہ کو 679ء میں زلزلے سے تباہ ہونے کے بعد رُہا (ادسا) کے گرجا گھر کی مرمت کا حکم دینے کا سہرا بھی دیا جاتا ہے۔ [132] انھوں نے بیت المقدس میں بھی گہری دل چسپی ظاہر کی۔ [133] اگرچہ آثارِ قدیمہ کی شہادت موجود نہیں تاہم قرونِ وسطیٰ کے ادبی ماخذوں میں ایسے اشارے ملتے ہیں کہ حرم شریف میں ایک ابتدائی مسجد یا تو معاویہ کے زمانے میں موجود تھی یا انہی نے تعمیر کروائی تھی۔ [134][i]

صوبوں میں حکمرانی

معاویہ کے لیے بنیادی داخلی چیلنج یہ تھا کہ وہ شام میں ایک ایسی قائم حکومت کی نگرانی کرے جو سیاسی اور سماجی طور پر منتشر خلافت کو متحد کر سکے اور ان قبائل پر اقتدار قائم کر سکے جو اس کی فوجیں تشکیل دیتے تھے۔ [122] انھوں نے خلافت کی ولایات (صوبہ جات) پر بالواسطہ حکمرانی اختیار کی، والیوں (گورنروں) کو مکمل سول اور عسکری اختیارات کے ساتھ مقرر کیا۔ [136] اصولی طور پر گورنروں کو زیادہ ٹیکس آمدنی خلیفہ کے حوالے کرنے کی ضرورت تھی[122] مگر عملی طور پر زیادہ تر اضافی آمدنی صوبائی چھاؤنیوں میں تقسیم کی جاتی تھی اور دمشق کو معمولی حصہ ملتا تھا۔ [30][137] معاویہ کے دورِ خلافت میں گورنر اشراف (قبائلی سرداروں) پر انحصار کرتے تھے، جو اختیارات اور چھاؤنی کے قبائلیوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے تھے۔ [122] معاویہ کی حکمت عملی غالباً ان کے والد سے متاثر تھی، جنھوں نے اپنے دولت کو سیاسی اتحاد قائم کرنے میں استعمال کیا۔ [137] خلیفہ عام طور پر براہِ راست مقابلے کی بجائے مخالفین کو رشوت دینے کو ترجیح دیتے تھے۔ کینیڈی کے خلاصے کے مطابق معاویہ نے ”صوبوں میں اقتدار رکھنے والوں کے ساتھ معاہدے کیے، ان کی طاقت کو مضبوط کیا جو تعاون کے لیے تیار تھے اور زیادہ سے زیادہ اہم اور با اثر افراد کو اپنے ساتھ منسلک کیا“۔ [137]

عراق اور مشرق

عراق میں مرکزی حکومت کے لیے اور خاص طور پر معاویہ کے اقتدار کے لیے چیلنج سب سے زیادہ شدید تھے، جہاں اشراف کے نو دولتیوں اور ابھرتی ہوئی مسلم اشرافیہ کے درمیان شدید کشمکش پائی جاتی تھی اور یہ اشرافیہ علی کے حامیوں اور خوارج میں بھی تقسیم تھی۔ [138] معاویہ کے اقتدار میں آنے سے کوفہ کے اشراف کی طاقت ابھری، جس کی قیادت علی کے سابق حامی اشعث بن قیس اور جریر بن عبد اللہ کر رہے تھے جبکہ علی کے پرانے محافظ حجر بن عدی اور ابراہیم (مالک اشتر کے بیٹے) کا اثر و رسوخ کمزور ہوا۔ 661ء میں معاویہ نے کوفہ کا گورنر مغیرہ بن شعبہ کو مقرر کیا، جو عراق میں کافی انتظامی اور عسکری تجربہ رکھتے تھے اور علاقے کے باشندوں اور مسائل سے بخوبی واقف تھے۔ تقریباً دس سالہ انتظام کے دوران مغیرہ نے شہر میں امن قائم رکھا، ایسی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ نہیں تھیں، کوفہ کے باشندوں کو جبال میں نفع آور ساسانی اراضی کے قبضے برقرار رکھنے کی اجازت دی اور ماضی کے انتظامات کے برخلاف چھاؤنیوں کی تنخواہیں باقاعدگی اور بر وقت ادا کیں۔ [139]

بصرہ میں معاویہ نے اپنے عبد شمس قبیلے کے رشتہ دار عبد اللہ بن عامر کو دوبارہ مقرر کیا، جو عثمان کے دور میں بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔ [140] معاویہ کے دور میں ابن عامر نے سیستان تک مہمات دوبارہ شروع کیں اور کابل تک پہنچے۔ وہ بصرہ میں نظم قائم رکھنے میں ناکام رہے، جہاں دور دراز کی مہمات کے سبب ناراضی بڑھ رہی تھی۔ نتیجتاً معاویہ نے 664 یا 665ء میں ابن عامر کی جگہ زیاد بن ابیہ کو مقرر کیا۔ [141] زیاد طویل عرصے تک علی کے وفادار رہے، جنھوں نے معاویہ کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور فارس کے قلعہ اصطخر میں محصور ہو گئے تھے۔ [142] بسر نے زیاد کے بصرہ میں تین کمسن بیٹوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تاکہ وہ ہتھیار ڈال دیں، لیکن بالآخر ان کے سرپرست مغیرہ نے انھیں 663ء میں معاویہ کے اقتدار کو قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ [143] معاویہ نے ایک متنازع اقدام کرتے ہوئے بے والد زیاد کی وفاداری حاصل کی، جنھیں وہ بصرہ کا سب سے اہل حکمران سمجھتے تھے۔ [141] اس مقصد کے لیے انھیں اپنا نصف برادر قرار دے کر اپنایا، جس پر ان کے بیٹے یزید، ابن عامر اور حجاز میں ان کے قریبی رشتہ داروں نے اعتراض کیا۔ [143][144]

670ء میں مغیرہ کی وفات کے بعد معاویہ نے کوفہ اور ان کے زیر انتظام علاقوں کو زیاد کی بصرہ کی گورنری کے تحت شامل کر دیا، جس سے وہ خلافت کے مشرقی نصف پر معاویہ کے عملی نائب بن گئے۔ [141] زیاد نے عراق کے بنیادی اقتصادی مسئلے یعنی چھاؤنیوں کے شہروں میں آبادی کے زیادہ ہونے اور وسائل کی کمی کو اس طرح حل کیا کہ اہلِ لشکر کی تعداد کم کی اور 50،000 عراقی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو خراسان میں آباد کر دیا۔ اس سے خلافت کے مشرقی صوبے میں عربوں کی کمزور اور غیر مستحکم پوزیشن مستحکم ہوئی اور ما ورا النہر کی طرف فتوحات ممکن ہو سکیں۔ [122] کوفہ میں اپنی تنظیم نو کے سلسلے میں زیاد نے چھاؤنی کے اراضی کے قبضے ضبط کر کے انھیں خلافت کی ملکیت میں دے دیا۔ [136] اس ضبطی کے خلاف علی کے حامی حجر بن عدی کی مزاحمت، [122] جن کی علی کی حمایت مغیرہ کے دور میں برداشت کی جاتی تھی، [145] شدید طریقے سے کچل دی گئی۔ [122] حجر اور ان کے ساتھی معاویہ کے پاس سزا کے لیے بھیجے گئے اور خلیفہ کے حکم پر سزائے موت دی گئی، جو اسلامی تاریخ میں پہلا سیاسی قتل تھا اور کوفہ میں مستقبل کے علی حمایتی بغاوتوں کی نوید تھا۔ [144][146] زیاد 673ء میں وفات پا گئے اور ان کے بیٹے عبید اللہ کو آہستہ آہستہ معاویہ نے اپنے والد کے تمام سابقہ عہدوں پر مقرر کیا۔ اس طرح معاویہ نے مغیرہ، زیاد اور ان کے بیٹوں پر انحصار کر کے عراق اور مشرقی خلافت کی انتظامیہ کو ثقیف قبیلے کے اہلکاروں کے حوالے کر دیا، جن کے قریش کے ساتھ طویل تعلقات تھے اور عراق کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ [115]

مصر

مصر میں عمرو معاویہ کے تابع سے بڑھ کر ایک معاون ساتھی کے طور پر تاوقتِ وفات (664ء) حکومت کرتے رہے۔ [124] انھیں صوبے کے اضافی محصولات برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی۔ [95] خلیفہ نے مدینہ کو مصر کے اناج اور تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا، جس سے پہلے فتنے کے سبب پیدا ہونے والی خلل ختم ہوئی۔ [147] عمرو کی وفات کے بعد معاویہ کے بھائی عتبہ (د. 664ء–665ء) اور پیغمبر صاحب کے ابتدائی صحابی عقبہ بن عامر (د. 665ء–667ء) متواتر گورنر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے قبل اس کے کہ معاویہ 667ء میں مَسْلَمہ بن مَخْلَد کو مقرر کیا۔ [95][124] مسلمہ معاویہ کے دورِ خلافت تک گورنر رہے، [124] فسطاط اور اس کی مسجد کو نمایاں طور پر وسعت دی اور 674ء میں مصر کے اہم جہاز سازی کے کارخانہ کو بازنطینی بحری حملوں کے خطرے کے سبب اسکندریہ سے قریب واقع جزیرہ روضہ منتقل کیا گیا۔ [148]

مصر میں عرب موجودگی زیادہ تر فسطاط کی مرکزی فوجی چھاؤنی اور اسکندریہ کی چھوٹی چھاؤنی تک محدود تھی۔ [147] عمرو کے ذریعے 658ء میں لائی گئی شامی فوج اور 673ء میں زیاد کے ذریعے بھیجی گئی بصرہ کی فوج نے فسطاط کی 15،000 افراد پر مشتمل چھاؤنی کو معاویہ کے دور میں 40،000 تک بڑھا دیا۔ [147] عتبہ نے اسکندریہ کی چھاؤنی میں 12،000 فوجیوں کا اضافہ کیا اور شہر میں گورنر کا رہائشی محل تعمیر کیا، جہاں کے یونانی مسیحی باشندے عام طور پر عرب حکمرانی کے مخالف تھے۔ جب اسکندریہ میں عتبہ کے نائب نے شکایت کی کہ اس کی فوج شہر پر قابو پانے سے قاصر ہے، تو معاویہ نے شام اور مدینہ کے مزید 15،000 فوجی بھیج دیے۔ [149] مصر میں فوجی عراق کے مقابلے میں کہیں کم بغاوت پسند تھے، اگرچہ فسطاط کی چھاؤنی کے کچھ عناصر کبھی کبھار معاویہ کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کرتے، جو مسلمہ کے دور میں اس وقت عروج پر پہنچی جب معاویہ نے فیوم میں سرکاری اراضی اپنے بیٹے یزید کو تفویض کر دی، جس کے سبب خلیفہ کو اپنے حکم کو واپس لینا پڑا۔ [150]

جزیرۂ عرب

اگرچہ عثمان کے قتل کا بدلہ وہ بنیاد تھا جس پر معاویہ نے خلافت پر اپنے حق کا دعویٰ کیا، لیکن انھوں نے نہ تو بنی امیہ کو با اختیار بنانے میں عثمان کی پیروی کی اور نہ اپنی طاقت مستحکم کرنے کے لیے ان پر انحصار کیا۔ [137][151] چند معمولی استثنات کے سوا بنی امیہ کے افراد کو نہ تو مال دار صوبوں کی گورنری دی گئی اور نہ خلافت کے مرکزی دربار میں نمایاں مقام ملا بلکہ معاویہ نے ان کے اثر و رسوخ کو زیادہ تر مدینہ تک محدود رکھا جو خلافت کا قدیم دار الخلافہ تھا اور جہاں بنی امیہ اور قریش کی وسیع تر سابق اشرافیہ کی اکثریت مقیم تھی۔ [137][152] سیاسی اقتدار سے محرومی کے باعث مدینہ کے بنی امیہ معاویہ کے خلاف دل میں رنجش رکھنے لگے اور ممکن ہے کہ معاویہ عثمان کے قبیلے کی بڑی شاخ بنی ابو العاص کی سیاسی اُمنگوں سے محتاط ہو گئے ہوں، جس کی قیادت مروان بن حکم کر رہے تھے۔ [153] خلیفہ نے ابو العاص قبیلے کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ [154] ان اقدامات میں 668ء میں مروان کو مدینہ کی گورنری سے ہٹا کر ایک اور نمایاں اموی سعید بن عاص کو مقرر کرنا شامل تھا۔ سعید کو مروان کا گھر گرانے کا حکم دیا گیا مگر انھوں نے انکار کر دیا اور جب 674ء میں مروان کو دوبارہ بحال کیا گیا تو انھوں نے بھی سعید کے گھر کو گرانے کے معاویہ کے حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا۔ [155] بالآخر معاویہ نے 678ء میں مروان کو ایک بار پھر معزول کر دیا اور ان کی جگہ اپنے بھتیجے ولید بن عتبہ کو مقرر کیا۔ [156] اپنی ہی شاخ کے علاوہ بنی ہاشم (پیغمبرِ اسلام اسلام اور خلیفہ علی کا قبیلہ)، رسول کے قریبی صحابہ کے خانوادوں، کبھی با اثر بنی مخزوم اور انصار کے ساتھ بھی معاویہ کے تعلقات عموماً بد گمانی یا کھلی مخالفت پر مبنی تھے۔ [157]

اگرچہ معاویہ نے اپنا مرکز دمشق منتقل کر لیا تھا لیکن وہ اپنی اصل سر زمین سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ”بہار جدہ میں، گرمی طائف میں اور سردی مکہ میں“ گزاریں۔ [158] انھوں نے جزیرہ نما عرب میں مختلف مقامات پر زمین کے بڑے قطعات خریدے اور زرعی استعمال کے لیے ان کی ترقی پر خطیر سرمایہ لگایا۔ مسلم ادبی روایت کے مطابق میدانِ عرفات اور مکہ کی بنجر وادی میں انھوں نے متعدد کنویں اور نہریں کھدوائیں، موسمی سیلاب سے زمین کو بچانے کے لیے بند اور پشتے تعمیر کروائے اور چشمے اور ذخائر بنوائے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں مکہ کے نواحی علاقوں میں غلے کے وسیع کھیت اور کھجور کے باغات وجود میں آئے، جو 750ء میں شروع ہونے والے عباسی دور تک برقرار رہے، اس کے بعد ان میں زوال آنا شروع ہوا۔ [158] وسطی جزیرۂ عرب کے یمامہ کے علاقے میں معاویہ نے بنو حنیفہ سے حضارم کی زمینیں ضبط کر لیں، جہاں انھوں نے غالباً کھیتی باڑی کے لیے 4،000 غلاموں کو کام پر لگایا۔ [159] خلیفہ نے طائف اور اس کے نواح میں بھی جاگیریں حاصل کیں، جو ان کے بھائیوں عنبسہ اور عتبہ کی زمینوں کے ساتھ مل کر ایک نمایاں مجموعہ بن گئیں۔ [160]

معاویہ کے دورِ حکومت کے قدیم ترین معروف عربی کتبوں میں سے ایک طائف کے مشرق میں واقع مٹی کے تحفظ کے ایک بند سَیْسَد [ar] پر ملا ہے، جس میں 677ء یا 678ء میں اس بند کی تعمیر کا سہرا معاویہ کے سر باندھا گیا ہے اور خدا سے ان کے لیے فتح اور قوت کی دعا کی گئی ہے۔ [161] ایک اور بند خنق جو مدینہ کے مشرق میں واقع ہے، بھی ایک کتبے کے مطابق معاویہ کی سرپرستی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ [162] ممکن ہے کہ یہی وہ بند ہو جو مدینہ اور بنی سلیم قبیلے کی سونے کی کانوں کے درمیان واقع تھا، جسے مؤرخ حربی (متوفی 898ء) اور سمہودی (متوفی 1533ء) نے معاویہ سے منسوب کیا ہے۔ [163]

بازنطینی سلطنت کے ساتھ جنگ

نقشہ جس میں معاویہ کی شام کی گورنری (640ء–661ء) اور ان کے دورِ خلافت (661ء–680ء) کے دوران عرب خلافت اور بازنطینی سلطنت کے درمیان ہونے والے حملے، معرکے اور بحری جھڑپیں دکھائی گئی ہیں۔

معاویہ کو بازنطینیوں کے خلاف جنگ کا ذاتی تجربہ کسی بھی دوسرے خلیفہ سے زیادہ حاصل تھا[164] نیز بازنطینی خلافت کے لیے سب سے بڑا بیرونی خطرہ تھے[56] اور انھوں نے اس سلطنت کے خلاف جنگ کو اپنے جانشینوں کے مقابلے میں زیادہ سرگرمی اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھا۔ [165] پہلے فتنے (پہلی مسلم خانہ جنگی) کے دوران عربوں نے آرمینیا پر اپنا کنٹرول مقامی بازنطینی حامی شہزادوں کے ہاتھوں کھو دیا تھا لیکن 661ء میں حبیب بن مسلمہ نے دوبارہ اس خطے پر حملہ کیا۔ [51] اگلے سال آرمینیا خلافت کا باج گزار بن گیا اور معاویہ نے آرمینیائی شہزادے مامیکونیان کو اس کا کمانڈر تسلیم کیا۔ [51] خانہ جنگی کے کچھ ہی عرصے بعد معاویہ نے بازنطینیوں کے ساتھ صلح توڑ دی[166] اور تقریباً ہر سال یا ہر دوسرے سال شام کی فوج کو اناطولیہ کے پہاڑی سرحدی علاقے میں چھاپہ مار کارروائیوں کے لیے روانہ کیا، [124] جو سلطنت اور خلافت کے درمیان ایک حائل خطہ تھا۔ [167] کم از کم 666ء میں عبد الرحمٰن بن خالد کی وفات تک حمص ان حملوں کا مرکزی تجمعی مرکز رہا، جس کے بعد انطاکیہ نے بھی یہی کردار ادا کیا۔ [168] اناطولیہ اور آرمینیا کے محاذوں پر لڑنے والی زیادہ تر فوجیں ان قبائلی گروہوں سے تعلق رکھتی تھیں جو فتح کے دوران اور اس کے بعد عرب سے آ کر آباد ہوئے تھے۔ [32] اپنے دورِ خلافت میں معاویہ نے شام کے ساحلی شہروں کو دوبارہ آباد اور مستحکم کرنے کی اپنی سابقہ کوششیں جاری رکھیں۔ [56] چونکہ عرب قبائل ساحلی علاقوں میں آباد ہونے سے ہچکچاتے تھے، اس لیے 663ء میں معاویہ نے ان فارسی شہریوں اور اہلکاروں کو (جنھیں وہ پہلے شام کے اندرونی علاقوں میں بسا چکے تھے) عکہ اور صور منتقل کیا اور کوفہ اور بصرہ سے منتخب فارسی فوجیوں اساورہ کو انطاکیہ کی چھاؤنی میں تعینات کیا۔ [36][42] چند سال بعد معاویہ نے اپامیہ میں 5،000 سلاو آباد کیے جو ان کی اناطولیہ کی ایک مہم کے دوران بازنطینیوں سے منحرف ہو گئے تھے۔ [36]

طبری (م 923ء) اور محبوب بن قسطنطین (م 941ء) کی تواریخ کے مطابق معاویہ کے دورِ خلافت کا پہلا حملہ 662ء یا 663ء میں ہوا، جس میں ان کی فوج نے ایک بازنطینی لشکر کو شدید شکست دی اور متعدد بطارقہ مارے گئے۔ اگلے سال بسر کی قیادت میں ایک مہم قسطنطنیہ تک جا پہنچی اور 664ء یا 665ء میں عبد الرحمن بن خالد نے شمال مشرقی اناطولیہ کے قولونیہ پر حملہ کیا۔ 660ء کی دہائی کے اواخر میں معاویہ کی افواج نے انطاکیہ پیسیدیا یا انطاکیہ ایساوریا (انطاکیہ صغریٰ) پر بھی یلغار کی۔ [166] جولائی 668ء میں قیصر قسطنطین ثانی کی وفات کے بعد معاویہ نے بازنطینیوں کے خلاف بحری جنگ کو مزید شدت سے جاری رکھا۔ [56] ابتدائی مسلم مصادر کے مطابق 668ء اور 669ء کے درمیان بازنطینیوں کے خلاف حملے اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ [166] ان دونوں برسوں میں ہر سال چھ زمینی مہمات اور ایک بڑی بحری مہم ہوئی، جن میں پہلی مصر اور مدینہ کے بیڑوں نے اور دوسری مصر اور شام کے بیڑوں نے انجام دی۔ [169] ان مہمات کا نقطۂ عروج قسطنطنیہ پر حملہ تھا، تاہم عربی، سریانی اور بازنطینی مصادر کی زمانی ترتیب ایک دوسرے سے متصادم ہے۔ جدید مؤرخین میں روایتی رائے یہ ہے کہ 674ء سے 678ء کے درمیان قسطنطنیہ کے خلاف بحری حملوں کا ایک بڑا سلسلہ جاری رہا جس کی بنیاد بازنطینی مؤرخ معترف تیوفانس (م 818ء) کی تاریخ پر ہے۔ [170]

تاہم اس رائے کی تاریخ اور حتیٰ کہ اصل وقوع پذیری پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ اوکسفرڈ کے محقق جیمز ہاورڈ جانسٹن کے نزدیک قسطنطنیہ کا کوئی محاصرہ نہیں ہوا بلکہ یہ روایت ایک نسل بعد ہونے والے حقیقی محاصرے سے متاثر ہو کر گھڑی گئی۔ [171] اس کے برخلاف، مؤرخ ماریک جانکووِیاک عربی اور سریانی مصادر کی بنیاد پر ایک نظرِ ثانی شدہ تعبیر پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق حملہ تیوفانس کے بیان سے پہلے ہوا اور 668ء تا 669ء کی مہمات دراصل معاویہ کی جانب سے بازنطینی دار الحکومت فتح کرنے کی مربوط کوششیں تھیں۔ [172] طبری کے مطابق معاویہ کے بیٹے یزید نے 669ء میں قسطنطنیہ کے خلاف مہم کی قیادت کی جبکہ ابن عبد الحکم کے مطابق مصر اور شام کے بحری بیڑے بالترتیب عقبہ بن عامر اور فضالہ بن عبید کی قیادت میں حملے میں شامل تھے۔ [173] جانکوویاک کے مطابق معاویہ نے ممکنہ طور پر اس حملہ کا اس وقت حکم دیا جب بازنطینی آرمینیائی جرنیل سابوریوس کی بغاوت نے موقع فراہم کیا، جس نے خلیفہ سے معاہدہ کر لیا تھا اور یہ واقعہ 667ء کے موسمِ بہار میں پیش آیا۔ خلیفہ نے فضالہ کی قیادت میں ایک فوج روانہ کی لیکن آرمینیوں سے ملاپ سے قبل سابوریوس وفات پا گیا۔ اس کے بعد معاویہ نے یزید کی قیادت میں کمک بھیجی جس نے گرمیوں میں عرب فوج کی یلغار کی قیادت کی۔ [170] خزاں تک عرب بحری بیڑا بحیرہ مرمرہ تک پہنچ گیا جبکہ یزید اور فضالہ نے خَلْقَدون کو لوٹنے کے بعد سردیوں میں قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا لیکن قحط اور بیماری کے باعث جون کے اواخر میں محاصرہ اٹھا لیا گیا۔ عرب افواج نے 669ء کے اواخر تک شہر کے نواح میں کارروائیاں جاری رکھیں اور پھر غالباً شام واپس لوٹ گئیں۔ [174]

669ء میں معاویہ کے بحری بیڑے نے صقلیہ تک حملہ کیا۔ اگلے سال اسکندریہ کی وسیع پیمانے پر فصیل بندی مکمل کی گئی۔ [56] اگرچہ طبری اور بلاذری کے مطابق معاویہ کی افواج نے 672ء تا 674ء کے درمیان روڈس پر قبضہ کر کے سات برس تک اسے آباد رکھا، جدید مؤرخ کلفرڈ ایڈمنڈ بوسورتھ ان واقعات پر شبہ ظاہر کرتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ جزیرہ صرف 679ء یا 680ء میں معاویہ کے نائب جنادہ بن ابی امیہ ازدِی کی جانب سے لوٹا گیا تھا۔ [175] قیصر قسطنطین چہارم (د. 668ء–685ء) کے دور میں بازنطینیوں نے خلافت کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کیں، جن میں 672ء یا 673ء میں مصر پر حملہ شامل تھا[176] جبکہ 673ء کی سردیوں میں معاویہ کے امیر البحر عبد اللہ بن قیس نے ایک بڑے بحری بیڑے کے ساتھ سمرنہ (موجودہ ازمیر) اور قلیقیہ اور لوقیہ (لیکیا) کے ساحلوں پر یُورِش کی۔ [177] بازنطینیوں نے 673ء یا 674ء میں سفیان بن عوف کی قیادت میں ایک عرب فوج اور بیڑے کو ممکنہ طور پر سیلیون کے مقام پر زبردست شکست دی۔ [178] اگلے سال عبد اللہ بن قیس اور فضالہ کریت پہنچے اور 675 یا 676ء میں ایک بازنطینی بیڑے نے مرقیہ پر حملہ کر کے حمص کے گورنر کو قتل کر دیا۔ [176]

تیوفانس کے مطابق 677ء، 678ء یا 679ء میں معاویہ نے غالباً اپنے بحری بیڑے کی تباہی یا شام کے ساحل پر جراجمہ کی تعیناتی کے نتیجے میں قسطنطین چہارم سے صلح کی درخواست کی۔ [179] ایک تیس سالہ معاہدہ طے پایا، جس کے تحت خلافت کو سالانہ 3،000 سونے کے سکے، 50 گھوڑے اور 30 غلام خراج کے طور پر ادا کرنا تھے اور بازنطینی ساحل پر قائم اپنی اگلی چوکیوں سے فوج واپس بلانی تھی۔ [180] تاہم دیگر بازنطینی اور اسلامی مصادر میں اس معاہدے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ [181] اگرچہ معاویہ کے دور میں اناطولیہ میں کوئی مستقل علاقائی فتوحات حاصل نہ ہو سکیں، مسلسل چھاپوں نے شامی فوج کو مالِ غنیمت اور خراج فراہم کیا، جس سے ان کی وفاداری برقرار رہی اور ان کی جنگی مہارت میں اضافہ ہوا۔ [182] اس کے ساتھ ہی معاویہ کا وقار بلند ہوا اور بازنطینیوں کو شام کے خلاف کسی منظم مہم سے باز رکھا گیا۔ [183]

وسطی شمالی افریقا کی فتح

شمالی افریقا، جنوبی یورپ اور مغربی و وسطی ایشیا کا نقشہ جس میں خلافت کی توسیع کے مراحل مختلف رنگوں میں دکھائے گئے ہیں
خلافت کی توسیع کو ظاہر کرنے والا نقشہ۔ معاویہ کے دورِ حکومت میں مسلمانوں نے افریقیہ (وسطی شمالی افریقہ؛ جامنی رنگ میں نمایاں) فتح کیا

اگرچہ 640ء کی دہائی کے بعد عرب افواج برقہ سے آگے مستقل طور پر پیش قدمی نہ کر سکیں اور صرف وقفے وقفے سے چھاپہ مار کارروائیاں ہوتی رہیں تاہم معاویہ کے عہد میں بازنطینی شمالی افریقا کے خلاف مہمات دوبارہ شروع ہوئیں۔ [184] 665ء یا 666ء میں ابن حدیج نے ایک لشکر کی قیادت کرتے ہوئے بیزاسینا (بازنطینی افریقا کا جنوبی علاقہ) اور قابس پر حملہ کیا اور عارضی طور پر بنزرت پر قبضہ کر لیا، اس کے بعد وہ مصر واپس لوٹ گئے۔ اگلے برس معاویہ نے فضالہ اور رویفع بن ثابت کو تجارتی لحاظ سے اہم جزیرے جربہ پر چھاپہ مارنے کے لیے روانہ کیا۔ [185] اسی دوران 662ء یا 667ء میں عقبہ بن نافع (جو قریشی کمانڈر تھے اور 641ء میں برقہ کی فتح میں اہم کردار ادا کر چکے تھے) نے فزان کے علاقے میں مسلم اثر و رسوخ دوبارہ قائم کیا، زویلہ کے نخلستان اور جرمنتیوں کے دار الحکومت جرما پر قبضہ کیا۔ [186] ممکن ہے کہ انھوں نے جدید نائیجر کے علاقے کاوار تک بھی پیش قدمی کی ہو۔ [186]

ساتویں صدی عیسوی کے ایک عرب جرنیل کا دھاتی مجسمہ، سر پر عمامہ اور ہاتھ میں ننگی تلوار
عقبہ بن نافع کا مجسمہ، وہ عرب کمانڈر جنھوں نے افریقیہ فتح کی اور 670ء میں قیروان کی بنیاد رکھی، یہ سب معاویہ کے دور میں ہوا۔ عقبہ 673ء میں معزول کیے جانے تک شمالی افریقا میں معاویہ کے لفٹننٹ گورنر رہے۔

قسطنطین چہارم کی جانشینی پر ہونے والی کشمکش نے بازنطینی توجہ کو افریقی محاذ سے ہٹا دیا۔ [187] 670ء میں معاویہ نے عقبہ کو مصر کے مغرب میں عربوں کے زیر کنٹرول شمالی افریقی سرزمین پر مصر کا نائب گورنر مقرر کیا۔ دس ہزار سپاہیوں پر مشتمل لشکر کے ساتھ عقبہ نے برقہ کے مغرب میں علاقوں کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کیا۔ [188] پیش قدمی کے دوران ان کی فوج میں مسلمان ہو جانے والے لواتہ بربر شامل ہو گئے اور مشترکہ افواج نے غدامس، قفصہ اور جرید فتح کیے۔ [186][188] آخری علاقے میں انھوں نے ایک مستقل عرب فوجی چھاؤنی کا شہر قیروان قائم کیا، جو قرطاجنہ اور ساحلی علاقوں سے نسبتاً محفوظ فاصلے پر تھا، یہ علاقے بدستور بازنطینی قبضے میں تھے۔ یہ شہر آئندہ مہمات کے لیے اڈا بنا اور اس نے اردگرد کے دیہی علاقوں پر حاوی بربر قبائل میں اسلام کی اشاعت میں بھی مدد دی۔ [189]

معاویہ نے 673ء میں عقبہ کو معزول کر دیا، غالباً اس خدشے کے تحت کہ وہ فتح شدہ اور معاشی لحاظ سے اہم علاقوں میں ایک خود مختار طاقت کی بنیاد نہ رکھ لیں۔ نئے عرب صوبہ افریقیہ (جدید تیونس) بدستور مصر کے گورنر کے ماتحت رہا، جنھوں نے اپنے مولیٰ (غیر عرب، مسلم آزاد کردہ غلام) ابو مہاجر دینار کو عقبہ کی جگہ بھیجا۔ عقبہ کو گرفتار کر کے دمشق میں معاویہ کی تحویل میں منتقل کر دیا گیا۔ ابو مہاجر نے مغرب کی سمت مہمات جاری رکھیں اور تلمسان تک پیش قدمی کی، نیز اوربہ بربر سردار کسیلہ کو شکست دی، جس کے بعد وہ مسلمان ہو گئے اور ان کی افواج میں شامل ہو گئے۔ [189] 678ء میں عربوں اور بازنطینیوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت بیزاسینا خلافت کے حوالے کر دیا گیا جبکہ عربوں کو صوبے کے شمالی حصوں سے انخلا کرنا پڑا۔ [187] معاویہ کی وفات کے بعد ان کے جانشین یزید نے عقبہ کو دوبارہ مقرر کیا، کسیلہ منحرف ہو گئے اور بازنطینی و بربر گٹھ جوڑ نے افریقیہ میں عرب اقتدار کا خاتمہ کر دیا، [189] جو بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان (د. 685ء–705ء) کے دور میں ہی دوبارہ قائم ہو سکا۔ [190]

یزید کی بطور جانشین نامزدگی

اسلامی سیاست میں ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین نامزد کیا۔ [191] غالب امکان ہے کہ خلیفہ طویل عرصے سے اپنے بیٹے کی جانشینی کے عزائم رکھتے تھے۔ [192] 666ء میں یہ روایت ملتی ہے کہ انھوں نے حمص میں اپنے گورنر عبد الرحمٰن بن خالد کو (جو یزید کے ممکنہ حریف سمجھے جاتے تھے) زہر دلوایا۔ [193] شامی عربوں میں عبد الرحمٰن بن خالد خاصے مقبول تھے اور اپنی عسکری خدمات اور خالد بن ولید سے نسبت کے باعث انھیں خلیفہ کا موزوں ترین جانشین سمجھا جاتا تھا۔ [194][j]

معاویہ نے اپنے عہد کے آخری حصے تک یزید کو علانیہ ولی عہد قرار نہیں دیا تاہم ابتدائی مسلم مصادر اس فیصلے کے وقت اور مقام کے بارے میں مختلف تفصیلات پیش کرتے ہیں۔ [200] مدائنی (752ء–843ء) اور ابن اثیر (1160ء–1232ء) دونوں کے مطابق سب سے پہلے مغیرہ نے یزید کی جانشینی کی تجویز پیش کی اور زیاد نے اس شرط کے ساتھ اس کی تائید کی کہ یزید ایسے غیر شرعی افعال ترک کرے جو مسلم جماعت میں مخالفت کو جنم دے سکتے تھے۔ [201] طبری کے مطابق معاویہ نے 675ء یا 676ء میں اپنے فیصلے کا علانیہ اعلان کیا اور یزید کے لیے بیعت کا مطالبہ کیا۔ [202] ابن اثیر تنہا یہ بیان کرتے ہیں کہ تمام صوبوں سے وفود کو دمشق بلایا گیا جہاں معاویہ نے اپنی حکمرانی کے حقوق، رعایا کے فرائض اور یزید کی خوبیوں پر خطبہ دیا۔ اس کے بعد ضحاک بن قیس اور دیگر درباریوں نے یزید کو جانشین تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وفود نے اس کی تائید کی سوائے بصرہ کے معمر رئیس احنف بن قیس کے، جنھیں بالآخر رشوت دے کر راضی کیا گیا۔ [203] مسعودی (896ء–956ء) اور طبری صوبائی وفود کا ذکر نہیں کرتے البتہ بصرہ کے ایک سفارتی وفد کا حوالہ دیتے ہیں جس کی قیادت عبید اللہ بن زیاد نے 678ء–679ء یا 679ء–680ء میں کی اور جس نے یزید کو تسلیم کیا۔ [204]

ہائنڈز کے مطابق یزید کی اشرافیت، عمر اور سمجھ بوجھ کے علاوہ ”سب سے اہم“ ان کا قبیلہ کلب سے تعلق تھا۔ بنو کلب کی قیادت میں قضاعہ اتحاد سفیانی اقتدار کی بنیاد تھا اور یزید کی جانشینی اس اتحاد کے تسلسل کی علامت تھی۔ [30] کلبی خاتون میسون کے بیٹے یزید کو نامزد کر کے معاویہ نے اپنی قریشی بیوی فاختہ سے ہونے والے بڑے بیٹے عبد اللہ کو نظر انداز کیا۔ [205] اگرچہ کلب اور قضاعہ کی حمایت یقینی تھی، معاویہ نے یزید کو شام میں اپنی قبائلی تائید کو وسیع کرنے کی تلقین کی۔ چونکہ شمالی سرحدی افواج میں قیسی قبائل غالب تھے، اس لیے بازنطینیوں کے خلاف جنگی مہمات کی قیادت یزید کے سپرد کرنا ممکنہ طور پر قیسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش تھی۔ [206] تاہم یہ کوشش پوری طرح کامیاب نہ ہو سکی جیسا کہ ایک قیسی شاعر کے شعر سے ظاہر ہوتا ہے: ”ہم کبھی کلبی عورت کے بیٹے (یعنی یزید) کی بیعت نہیں کریں گے۔“[207][208]

مدینہ میں معاویہ کے دور کے رشتہ دار مروان بن حکم، سعید بن عاص اور ابن عامر نے ناپسندیدگی کے باوجود جانشینی کے حکم کو قبول کر لیا۔ [209] عراق میں اور حجاز کے امویوں اور قریشیوں میں موجود بیشتر مخالفین کو بالآخر دھمکی یا رشوت کے ذریعے راضی کر لیا گیا۔ [182] باقی ماندہ بنیادی مخالفت حسین بن علی، عبد اللہ بن زبیر، عبد اللہ بن عمر اور عبد الرحمٰن بن ابی بکر کی جانب سے سامنے آئی، جو سب مدینہ میں مقیم سابق خلفا یا پیغمبرِ اسلام کے قریبی صحابہ کے ممتاز فرزند تھے۔ [210] چونکہ خلافت کے سب سے قوی دعوے انہی کے پاس تھے، اس لیے معاویہ ان سے بیعت لینے کے لیے پُر عزم تھے۔ [211][212] مؤرخ عوانہ بن حکم (م 764ء) کے مطابق اپنی وفات سے قبل معاویہ نے ان کے خلاف بعض اقدامات کا حکم دیا اور یہ ذمہ داریاں اپنے وفاداروں ضحاک بن قیس اور مسلم بن عقبہ کے سپرد کیں۔ [213]

وفات

دمشق کے مقبرہ باب الصغیر میں معاویہ کی قبر۔

مُعاویہ کا انتقال دمشق میں رجب 60ھ (اپریل یا مئی 680ء) میں بیماری کے باعث ہوا، اس وقت ان کی عمر لگ بھگ 80 برس تھی۔ [1][214] قرونِ وسطیٰ کے مصادر ان کی وفات کی درست تاریخ کے بارے میں مختلف آرا پیش کرتے ہیں؛ ہشام بن کلبی (م 819ء) کے مطابق یہ 7 اپریل کو ہوئی، واقدی اسے 21 اپریل بتاتے ہیں جبکہ مدائنی کے نزدیک تاریخ 29 اپریل ہے۔ [215] یزید (جو اپنے والد کی وفات کے وقت دمشق میں موجود نہیں تھے)[216] ابو مخنف (م 774ء) کے مطابق 7 اپریل کو جانشین بنے جبکہ نسطوری مؤرخ الیاس نُصیبی (م 1046ء) کے نزدیک یہ 21 اپریل کو ہوا۔ [217] اپنی آخری وصیت میں معاویہ نے اپنے اہلِ خانہ سے کہا: ”اللہ سے ڈرو، جو بلند و برتر ہے، کیونکہ اللہ -اس کی حمد ہو- اسی کی حفاظت کرتا ہے جو اس سے ڈرتا ہے اور جو اللہ سے نہیں ڈرتا اس کا کوئی محافظ نہیں ہوتا۔“[218]

انھیں شہر کے باب الصغیر کے قریب دفن کیا گیا۔ نمازِ جنازہ ضحاک بن قیس نے پڑھائی جنھوں نے معاویہ پر یہ کہہ کر نوحہ کیا کہ وہ ”عربوں کی لاٹھی اور عربوں کی تلوار تھے، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے فتنہ کا خاتمہ کیا، انھیں انسانوں پر اقتدار دیا، ان کے ہاتھوں ممالک فتح کرائے اور اب وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔“[219] معاویہ کی قبر کم از کم دسویں صدی عیسوی تک زیارت گاہ بنی رہی۔ مسعودی کے مطابق قبر پر ایک مقبرہ تعمیر کیا گیا تھا جو پیر اور جمعرات کو زائرین کے لیے کھلا رہتا تھا۔ ابن تغری بردی کا بیان ہے کہ مصر اور شام کے نویں صدی عیسوی کے خود مختار حکمراں احمد بن طولون نے 883ءیا 884ء میں قبر پر ایک عمارت تعمیر کرائی اور عوام میں سے افراد کو مقرر کیا کہ وہ باقاعدگی سے قرآن کی تلاوت کریں اور مزار کے گرد چراغ روشن رکھیں۔ [220]

جائزہ اور ادبی میراث

عثمان کی طرح معاویہ نے بھی خلیفۃ اللہ (یعنی ”اللہ کا نائب“) کا لقب اختیار کیا جب کہ ان سے پہلے آنے والے خلفا خلیفۃ رسول اللہ (یعنی ”رسولِ خدا کے نائب“) کا لقب استعمال کرتے تھے۔ [221] یہ لقب سیاسی کے ساتھ ساتھ مذہبی اختیار اور خدائی تائید کا مفہوم بھی رکھتا تھا۔ [30] بلاذری کے مطابق معاویہ نے کہا: ”زمین اللہ کی ہے اور میں اللہ کا نائب ہوں“۔ [222] اس کے باوجود اس لقب سے وابستہ ممکنہ مطلق العنان مفہوم کے باوجود معاویہ نے عملاً ایسا مذہبی اختیار نافذ نہیں کیا۔ اس کی بجائے وہ ایک فوق القبائلی سردار کی طرح بالواسطہ حکومت کرتے تھے جو صوبائی اشراف سے اتحاد، اپنی ذاتی صلاحیتوں، قائل کرنے کی قوت اور ذہانت کے ذریعے اقتدار چلاتا تھا۔ [30][223]

علی کے ساتھ جنگ کے سوا انھوں نے شامی فوج کو اندرونی معاملات میں استعمال نہیں کیا اور اکثر تنازعات سے بچنے کے لیے مالی عطیات کو ذریعہ بنایا۔ [137] جولیس ول ہاؤزن کے مطابق معاویہ ایک ماہر سفارت کار تھے جو ”معاملات کو خود پختہ ہونے دیتے تھے اور کبھی کبھار ہی ان کی پیش رفت میں مدد دیتے تھے“۔ [224] وہ مزید لکھتے ہیں کہ معاویہ میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ با صلاحیت افراد کو پہچان کر اپنی خدمت میں لاتے حتیٰ کہ ان لوگوں سے بھی کام لے لیتے تھے جن پر وہ خود اعتماد نہیں کرتے تھے۔ [224]

مورخہ پیٹریشیا کرون کے نزدیک معاویہ کی کامیاب حکومت کی ایک بڑی وجہ شام کی قبائلی ساخت تھی۔ وہاں عرب آبادی (جو ان کی حمایت کی بنیاد تھی) دیہی علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی اور ایک ہی بڑے اتحاد قضاعہ کے زیرِ اثر تھی۔ اس کے برعکس عراق اور مصر میں لشکری شہروں کی متنوع قبائلی ساخت کے باعث حکومت کو کوئی مضبوط اور متحد حمایتی بنیاد حاصل نہ تھی اور اسے مخالف قبائل کے درمیان نازک توازن قائم رکھنا پڑتا تھا۔ علی کے عراقی اتحاد کے بکھرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا توازن برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔ کرون کے مطابق شام کے قبائلی حالات سے فائدہ اٹھا کر معاویہ نے خانہ جنگی کے دوران خلافت کے انتشار کو روکے رکھا۔ [225] مستشرق مارٹن ہائنڈز کے الفاظ میں معاویہ کے طرزِ حکومت کی کامیابی اس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ ”وہ اپنی شامی فوج استعمال کیے بغیر ہی اپنی سلطنت کو متحد رکھنے میں کامیاب رہے“۔ [30]

طویل مدت میں معاویہ کا یہ نظام ناپائیدار اور ناقابلِ عمل ثابت ہوا۔ [30] ذاتی تعلقات پر انحصار کے باعث حکومت احکام چلانے کی بجائے اپنے کارندوں کو خوش رکھنے اور رقوم دینے پر منحصر ہو گئی۔ کرون کے مطابق اس سے ”آمرزش و نرمی پر مبنی نظام“ وجود میں آیا۔ [226] گورنر بتدریج جواب دہی سے آزاد ہوتے گئے اور ذاتی دولت جمع کرنے لگے۔ جس قبائلی توازن پر یہ نظام کھڑا تھا وہ کمزور تھا اور معمولی تبدیلی بھی دھڑے بندی اور خانہ جنگی کو جنم دے سکتی تھی۔ [226] جب یزید خلیفہ بنے تو انھوں نے اپنے والد کے طرز عمل کو جاری رکھا۔ نامزدگی کے تنازع کے باوجود انھیں حسین اور ابنِ زبیر کی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ وہ اپنے گورنروں اور شامی فوج کی مدد سے ان پر قابو پا گئے مگر نومبر 683ء میں ان کی وفات کے ساتھ ہی یہ نظام ٹوٹ گیا۔ صوبائی اشراف اور قیسی قبائل (جو معاویہ کے دور میں شام آئے تھے اور قضاعہ کے مخالف تھے) ابن زبیر سے جا ملے۔ چند ہی مہینوں میں یزید کے جانشین معاویہ بن یزید کی عمل داری دمشق اور اس کے نواح تک محدود ہو گئی۔ اگرچہ اموی (قضاعہ کی پشت پناہی سے) دوسری خانہ جنگی کے بعد خلافت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مگر یہ مروانی خاندان کے بانی مروان اور ان کے بیٹے عبد الملک کی قیادت میں ہوا۔ [227] معاویہ کے طرز عمل کو کمزوری کو سمجھتے ہوئے اور ان جیسی سیاسی مہارت نہ رکھنے کے باعث مراونیوں نے اس نظام کو ترک کر کے زیادہ روایتی طرزِ حکومت اختیار کیا جس میں خلیفہ مرکزی مقتدر حیثیت رکھتا تھا۔ [228] تاہم معاویہ کے متعارف کردہ موروثی جانشینی کا اصول بعد کے بہت سے مسلم نظام ہائے حکومت میں مستقل خصوصیت بن گیا۔ [229]

کینیڈی کے نزدیک خلافت کے اتحاد کو برقرار رکھنا معاویہ کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ [230] اسی رائے کا اظہار کرتے ہوئے معاویہ کے سوانح نگار آر اسٹیفن ہمفریز لکھتے ہیں کہ خلافت کی سالمیت کو برقرار رکھنا بذاتِ خود ایک بڑا کارنامہ تھا تاہم معاویہ ابو بکر اور عمر کی شروع کردہ فتوحات کو بھرپور انداز میں جاری رکھنے کے خواہاں تھے۔ مضبوط بحریہ قائم کر کے انھوں نے خلافت کو مشرقی بحیرۂ روم اور ایجہ (ایجیئن) میں غالب قوت بنا دیا۔ شمال مشرقی ایران پر کنٹرول مستحکم ہوا اور شمالی افریقا میں سرحدوں میں توسیعات ہوئیں۔ [231] اس کے برعکس میڈلنگ معاویہ کو خلافت کے ادارے کو بگاڑنے والا قرار دیتے ہیں، جن کے دور میں اسلام میں (سابِقہ) حیثیت جو پہلے خلفا کے انتخاب کی بنیاد تھی، تلوار کی قوت سے بدل گئی، لوگ ان کے رعایا بن گئے اور وہ ان کی زندگی اور موت پر مطلق اختیار رکھنے والے حاکم بن گئے۔ [232] ان کے مطابق انھوں نے اسلام کی اجتماعی روح کو دبا دیا اور مذہب کو سماجی کنٹرول، استحصال اور عسکری دہشت کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ [232]

معاویہ پہلے خلیفہ تھے جن کا نام ابتدائی اسلامی سلطنت کے سکوں، کتبوں اور دستاویزات پر ظاہر ہوا۔ [233] ان کے عہد کے کتبوں میں اسلام یا محمد کا کوئی واضح حوالہ نہیں ملتا اور صرف ”عبد اللہ“ اور ”امیر المؤمنین“ جیسے القاب ملتے ہیں۔ اس بنا پر بعض جدید مورخین نے معاویہ کی اسلامی وابستگی پر سوال اٹھایا ہے۔ [k] ان کا خیال ہے کہ وہ کسی غیر متعین یا غیر فرقہ وارانہ توحید کے پیرو تھے یا ممکن ہے مسیحی ہوں۔ دوسری طرف مورخ رابرٹ ہوئلینڈ اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ معاویہ نے بازنطینی شہنشاہ قسطنطینس کو نہایت اسلامی انداز میں للکارا کہ ”عیسیٰ کی الوہیت سے انکار کرو اور اس عظیم خدا کی طرف لوٹو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، جو ہمارے باپ ابراہیم کا خدا ہے“۔ وہ یہ بھی قیاس کرتے ہیں کہ یروشلم میں مسیحی مقدس مقامات کا معاویہ کا دورہ اس بات کا اظہار تھا کہ اب وہ زمین پر خدا کے نمائندے ہیں، نہ کہ بازنطینی شہنشاہ۔ [235]

ابتدائی تاریخی روایت

جو مسلم تاریخی تصانیف آج تک محفوظ رہ گئی ہیں ان کی تدوین عباسی عہد کے عراق میں ہوئی۔ [236] ان تصانیف کے مرتبین وہ راوی جن سے روایات اخذ کی گئیں اور مجموعی طور پر عراق کی رائے عامہ شام میں قائم اموی اقتدار کے خلاف تھی[237] کیونکہ اموی دور میں شام ایک مراعات یافتہ صوبہ تھا اور عراق کو مقامی طور پر ایک شامی نو آبادی سمجھا جاتا تھا۔ [229] مزید یہ کہ عباسیوں نے 750ء میں امویوں کا تختہ الٹنے کے بعد انھیں نا جائز حکمران قرار دیا اور اپنی سیاسی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے ان کی یادداشت کو مزید مسخ کیا۔ عباسی خلفا جیسے سفاح، مامون اور معتضد نے علانیہ طور پر معاویہ اور دیگر اموی خلفا کی مذمت کی۔ [238] اس بنا پر مسلم تاریخی روایت مجموعی طور پر اموی مخالف ہے۔ [236] تاہم معاویہ کے معاملے میں یہی روایت نسبتاً متوازن تصویر پیش کرتی ہے۔ [239]

ایک طرف یہ روایت معاویہ کو ایک کامیاب حکمران کے طور پر پیش کرتی ہے جو جبر کی بجائے قائل کرنے کے ذریعے اپنی بات منواتے تھے۔ [239] اس میں ان کی صفتِ حِلم پر زور دیا گیا ہے جس سے مراد نرمی، غصہ دیر سے آنا، نکتہ رسی اور لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو سمجھ کر ان سے معاملہ کرنا ہے۔ [30][240] تاریخی روایت ان کی سیاسی ذہانت اور ضبطِ نفس سے متعلق حکایات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک مشہور واقعے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ایک درباری کو گستاخانہ انداز میں گفتگو کی اجازت کیوں دیتے ہیں، تو انھوں نے کہا:[241]

میں لوگوں اور ان کی زبان کے درمیان اس وقت تک حائل نہیں ہوتا جب تک وہ ہمارے اقتدار اور حکومت میں مداخلت نہ کریں۔[241]

یہ روایت انھیں ایک روایتی قبائلی سردار کے انداز میں کام کرتے ہوئے دکھاتی ہے، جس کے پاس مطلق اختیار نہیں ہوتا۔ وہ قبائلی سرداروں کے (وفود) کو طلب کرتے اور انھیں خوشامد، دلائل اور تحائف کے ذریعے قائل کرتے تھے۔ اس طرزِ عمل کی عکاسی ان کے ایک قول سے ہوتی ہے: ”جب تک میں پیسے سے کام لے سکتا ہوں، زبان استعمال نہیں کرتا، جب تک زبان سے کام چل سکتا ہو، کوڑا استعمال نہیں کرتا اور جب تک کوڑے سے کام ہو جائے، تلوار استعمال نہیں کرتا؛ لیکن جب تلوار استعمال کرنا پڑے تو پھر ضرور کرتا ہوں۔“[239]

دوسری طرف یہی روایت انھیں ایک جابر حکمران کے طور پر بھی پیش کرتی ہے جس نے خلافت کو بادشاہت میں بدل دیا۔ یعقوبی (متوفی 898ء) کے الفاظ میں:[239]

[معاویہ] وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے محافظ دستہ، پولیس اور درباری خدام رکھے ... ان کے آگے نیزہ بردار چلتا تھا، وہ وظیفوں میں سے زکوٰۃ کاٹتے تھے اور تخت پر بیٹھتے جبکہ لوگ ان کے نیچے ہوتے ... انھو نے اپنی تعمیراتی سرگرمیوں میں جبری مشقت سے کام لیا ... اور انھوں نے ہی اس معاملے یعنی خلافت کو محض بادشاہت میں بدل دیا۔[242]

بلاذری نے انھیں ”عربوں کا کسریٰ“ (كسرى العرب) کہا ہے۔ [243] عربوں کے ہاں ”کسریٰ“ عام طور پر ساسانی فارسی بادشاہوں کے لیے بولا جاتا تھا، جنھیں وہ دنیوی شان و شوکت اور جابرانہ اقتدار کی علامت سمجھتے تھے، جو پیغمبر اسلام کی سادگی کے برعکس تھا۔ [244] معاویہ کو ان بادشاہوں سے اس لیے تشبیہ دی گئی کہ انھوں نے اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کیا، جسے اسلامی اصولِ شوریٰ کی خلاف ورزی اور بازنطینی و ساسانی طرز کی موروثی حکمرانی کا آغاز سمجھا گیا۔ [239][243] معاویہ کی وفات کے بعد جو خانہ جنگی پھوٹی اسے براہِ راست یزید کی نامزدگی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ [239] اسلامی روایت میں معاویہ اور امویوں کو ملک (بادشاہ) کہا جاتا ہے نہ کہ خلیفہ جبکہ ان کے بعد آنے والے عباسیوں کو خلفا تسلیم کیا جاتا ہے۔ [245]

معاصر غیر مسلم مصادر عمومی طور پر معاویہ کی نسبتاً مثبت تصویر پیش کرتے ہیں۔ [126][239] یونانی مورخ تیوفانس انھیں πρωτοσύμβουλος یعنی ”برابر حیثیت رکھنے والوں میں پہلا“ قرار دیتے ہیں۔ [239] کینیڈی کے مطابق 690ء کی دہائی میں لکھنے والے نسطوری مسیحی مؤرخ یوحنا بن فنکی نے پہلے اموی خلیفہ کے بارے میں صرف تعریف ہی کی ہے اور لکھا ہے کہ ”ان کے عہد میں دنیا بھر میں ایسا امن تھا کہ نہ ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی سنا اور نہ اپنی آنکھوں سے ایسا زمانہ دیکھا۔“[246]

اسلامی نقطۂ نظر

چار ابتدائی خلفا (جنھیں تقویٰ کی مثال اور عدل کے ساتھ حکومت کرنے والا سمجھا جاتا ہے) کے برعکس معاویہ کو اہل سنت کی نظر میں (خلیفۂ راشد) تسلیم نہیں کیا جاتا۔ [242] ان کے نزدیک معاویہ نے خلافت کو دنیاوی اور جابرانہ ملوکیت میں بدل دیا۔ خانہ جنگی کے ذریعے خلافت حاصل کرنا اور اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کر کے موروثی جانشینی کا آغاز کرنا وہ بنیادی الزامات ہیں جو ان پر عائد کیے جاتے ہیں۔ [247] اگرچہ ابتدائی دور میں عثمان اور علی دونوں شدید اختلاف کا مرکز رہے تاہم آٹھویں اور نویں صدی عیسوی میں مذہبی علما نے مصالحت کی راہ اختیار کی تاکہ عثمان نواز اور علی نواز گروہوں کو مطمئن اور شامل کیا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں عثمان اور علی کو پہلے دو خلفا کے ساتھ الہامی رہنمائی یافتہ مانا گیا جب کہ معاویہ اور ان کے بعد آنے والوں کو جابر حکمرانوں کے طور پر دیکھا گیا۔ [242] اس کے باوجود اہل سنت انھیں صحابیِ رسول کا درجہ دیتے ہیں اور قرآن کی وحی کے کاتب (کاتب الوحی) شمار کرتے ہیں، اسی بنیاد پر ان کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ [248][249] بعض اہل سنت علی کے خلاف ان کی جنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ خطا پر تھے مگر انھوں نے اپنے فہم کے مطابق فیصلہ کیا اور ان کے ارادے بدنیتی پر مبنی نہ تھے۔ [250]

علی (جنھیں شیعہ محمد کا حقیقی جانشین مانتے ہیں) کے ساتھ معاویہ کی جنگ کے باعث شیعہ اسلام میں معاویہ نہایت ناپسندیدہ شخصیت بن گئے۔ شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق صرف اسی بنیاد پر معاویہ کفر کے مرتکب ٹھہرتے ہیں اگرچہ ابتدا میں وہ مومن تھے بھی۔ [249] اس کے علاوہ انھیں صفین میں پیغمبر اسلام کے متعدد صحابہ کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، منبروں سے علی پر لعنت کا حکم دینے، یزید (جنھوں نے بعد ازاں کربلا میں حسین کو قتل کیا) کو جانشین مقرر کرنے، علی کے حامی کوفی سردار حجر بن عدی کو قتل کرانے[251] اور حسن کو زہر دے کر شہید کرانے کا الزام بھی ان پر عائد کیا جاتا ہے۔ [252] اسی بنا پر شیعہ روایات میں معاویہ کو خاص طور پر ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔ بعض روایات کے مطابق ان کی پیدائش ابو سفیان کی اہلیہ ہند اور محمد کے چچا عباس بن عبد المطلب کے مابین ایک ناجائز تعلق سے ہوئی۔ [253] ان کے اسلام قبول کرنے کو بھی محض وقتی مصلحت پر مبنی قرار دیا جاتا ہے، جو مکہ کی فتح کے بعد پیش آیا اور اسی بنا پر انھیں طلقاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ متعدد احادیث پیغمبر اسلام سے منسوب کی جاتی ہیں جن میں معاویہ اور ان کے والد ابو سفیان پر لعنت کی گئی ہے اور انھیں ”ملعون کا بیٹا ملعون“ قرار دے کر ان کے کفر پر مرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ [254] اہل سنت کے برعکس شیعہ انھیں صحابی کا درجہ نہیں دیتے[254] اور قرآن کی وحی کے کاتب ہونے کے دعوے کو بھی رد کرتے ہیں۔ [249] علی کے دیگر مخالفین کی طرح معاویہ پر بھی ایک رسمی عمل تبرّا کے ذریعے لعنت کی جاتی ہے، جسے بہت سے شیعہ واجب سمجھتے ہیں۔ [255]

دسویں صدی عیسوی میں جب عباسی خلافت پر اثنا عشری شیعہ امرا کی آلِ بویہ کی بالادستی تھی تو مسلمانوں کے مابین مذہبی فرقہ وارانہ کشیدگی کے بڑھنے کے ساتھ معاویہ کی شخصیت شیعہ اور ان کے مخالف اہل سنت دونوں کے لیے ایک پروپیگنڈا کی علامت بن گئی۔ بغداد، واسط، رقہ اور اصفہان سمیت متعدد عباسی شہروں میں اہل سنت کی جانب سے معاویہ کی شدید حمایت سامنے آئی۔ اسی دور میں بویہی حکمرانوں اور سنی عباسی خلفا کی اجازت سے مساجد میں معاویہ پر لعنت کا عمل بھی انجام دیا جانے لگا۔ [256] دسویں اور گیارھویں صدی عیسوی کے مصر میں بھی معاویہ کی شخصیت کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا گیا، جہاں اسماعیلی فاطمی شیعہ خلفا نے ان کی یاد میں مخالف اقدامات کیے اور فاطمی حکومت کے مخالفین نے انھیں شیعہ پر تنقید کا ذریعہ بنایا۔ [257]

اباضی اسلام (جو خوارج کے فکری پس منظر سے وابستہ ہے) معاویہ کے بارے میں خوارج کے اس نظریے کو اختیار کرتا ہے کہ وہ اسلام سے پھر گئے تھے۔[258]

حواشی

  1. عربی: مُعاويَة بنُ أبي سُفيانَ
  2. بلاذری کے مطابق ابو سفیان بلقاء کے علاقے میں ایک گاؤں کے مالک تھے جو جند دمشق کا حصہ تھا۔ تیرھویں صدی عیسوی کے شامی جغرافیہ دان یاقوت حموی نے اس کی نشاندہی ایک گاؤں کے طور پر کی ہے جسے بِقِنِّس کہا جاتا تھا۔[11]
  3. غالب امکان ہے کہ معاویہ وہی ’معاویہ‘ ہوں جن کا ذکر ایک عربی کتبے میں بطور ’کاتب‘ ملتا ہے، جو بظاہر سنہ 652ء کا معلوم ہوتا ہے اور 1968ء میں اقصیٰ کے جنوب مغربی حصے میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔ یہ کتبہ نو سطروں پر مشتمل ہے جن میں سے صرف چند ہی قابلِ قراءت ہیں۔ مؤرخ موشہ شارون کے مطابق غالب گمان ہے کہ اس کا تعلق مسلمانوں کے ہاتھوں بیت المقدس کی تسلیمِ اطاعت سے ہے، جو تقریباً 637ء میں پیش آئی۔ اس کتبے میں ابو عبیدہ بن جراح اور عبد الرحمٰن بن عوف کا بطور گواہ ذکر موجود ہے، جو دونوں ابتدائی اسلامی مصادر میں شہر کی فتح سے وابستہ صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ کتبے کی تاریخ ابو عبیدہ کی وفات کے چند برس بعد اور عبد الرحمٰن بن عوف کی وفات کے لگ بھگ بنتی ہے تاہم یہ معاویہ کی گورنری کے زمانے سے مطابقت رکھتی ہے، جو کاتب بھی تھے۔ چنانچہ شارون کا خیال ہے کہ یہ کتبہ ایک قانونی دستاویز تھی جسے معاویہ نے شہر کی تسلیمِ اطاعت کی یادگار کے طور پر تحریر کیا۔ [14]
  4. مورخ خلیل عثامنہ کے مطابق خلیفہ عمر کی یہ کوشش کہ مقامی شامی عرب قبائل کو شام کے دفاع کی بنیاد بنایا جائے تاکہ بازنطینی سلطنت کے ممکنہ جوابی حملے کا مقابلہ کیا جا سکے، 636ء میں خالد بن ولید کو شام میں سپہ سالار کے منصب سے معزول کرنے اور ان کی فوج میں شامل متعدد قبائلی افراد کو عراق واپس بلانے کی اصل وجہ تھی۔ ان قبائلی جنگجوؤں کو غالباً بنو کلب اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک خطرہ سمجھا جاتا تھا۔[28] قریش اور ابتدائی مسلم اشرافیہ شام کو (جس سے وہ طویل عرصے سے واقف تھے) اپنے اثر میں محفوظ رکھنا چاہتے تھے اور اسی مقصد کے تحت مسلم افواج میں شامل نو مسلم خانہ بدوش عربوں کو عراق کی طرف ہجرت کی ترغیب دی گئی۔ [29] میڈلنگ کے مطابق ممکن ہے کہ عمر نے یزید اور معاویہ کو شام میں خلافت کے اقتدار کے ضامن کے طور پر ترقی دی ہو تاکہ جنوبی جزیرۂ عرب کے اشرافیہ قبیلے حِمیَریوں کی بڑھتی ہوئی قوت اور بلند عزائم کا مقابلہ کیا جا سکے، جو مسلم فتوحات میں نمایاں کردار ادا کر چکے تھے۔ [17]
  5. معاویہ کے نائلہ بنت عمارہ کلبیہ کو طلاق دینے کے بعد ان کا نکاح معاویہ کے قریبی رفیق حبیب بن مسلمہ فہری سے ہوا۔ حبیب بن مسلمہ کی وفات کے بعد نائلہ کا نکاح معاویہ کے ایک اور قریبی ساتھی نعمان بن بشیر انصاری سے کر دیا گیا۔[34]
  6. عثمان کی کوششیں کہ خلیفہ کے عہدے پر قریشی کنٹرول قائم رہے اور عمر کے وقت کے غیر منظم مالی نظام پر قابو پایا جا سکے،[53][54] اس کے نتیجے میں ان کے قریبی رشتہ داروں کو (جو بنو امیہ اور اس کے اصل قبیلے بنو عبد شمس سے تعلق رکھتے تھے) تمام اہم گورنریوں پر تعینات کیا گیا۔ ان صوبائی تقرریوں میں شام اور جزیرہ کی گورنریاں شامل تھیں جس پر ان کے اموی کزن معاویہ کی گورنری تھی، کوفہ پر بالترتیب امویان ولید بن عقبہ اور سعید بن عاص کی گورنری رہی، بصرہ کے ساتھ بحرین اور عمان پر عثمان کے ماموں زاد کزن عبد اللہ بن عامر کی گورنری تھی، مکہ پر علی بن عدی بن ربیعہ کی تعیناتی تھی اور مصر پر عثمان کے رضاعی بھائی عبد اللہ بن ابی سرح کو مقرر کیا گیا۔ عثمان اپنے داخلی فیصلوں میں بھی اپنے اموی کزن مروان بن حکم پر انحصار کرتے تھے۔ [55] عثمان نے یہ بھی حکم دیا کہ مفتوحہ زمینوں سے زائد آمدنی (جو عمر نے ریاستی جائداد قرار دی تھی لیکن فتح کرنے والے قبائل کے قبضے میں تھی) مدینہ کو بھیجی جائے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے رشتہ داروں اور دیگر نمایاں قریشی افراد کو زمینیں تفویض کیں۔ [54]
  7. تاریخی طور پر فتنہ کی اصطلاح سے مراد ایسی خانہ جنگی یا بغاوت سمجھی جانے لگی جو متحد مسلم جماعت میں دراڑیں ڈال دے اور اہلِ ایمان کے عقیدے کو خطرے میں ڈال دے۔[61]
  8. ابتدائی مسلم مصادر کا عمومی اتفاق ہے کہ اس مرحلے پر خلیفہ علی کی عراقی افواج کو برتری حاصل ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں شامیوں نے تحکیم کے ذریعے تصفیے کی اپیل کی۔ اس کے بر خلاف بعض ابتدائی غیر مسلم مصادر (جن میں معترف تیوفانس بھی شامل ہیں) کے مطابق شامی فاتح رہے اور اس موقف کی تائید اموی درباری شاعری سے بھی ہوتی ہے۔[56][80]
  9. مسیحی زائر آرکولف نے 679ء سے 681ء کے درمیان یروشلم کا سفر کیا اور لکھا کہ لکڑی کے شہتیروں اور مٹی سے بنی ایک عارضی مسلم عبادت گاہ، جس میں 3،000 عبادت گزاروں کی گنجائش تھی، ہیکلِ سلیمانی (حرم شریفل میں قائم کی گئی تھی جبکہ ایک یہودی مدراش کے مطابق معاویہ نے اس احاطے کی دیواروں کی از سرِ نو تعمیر کروائی۔ دسویں صدی عیسوی کے وسط کے عرب مؤرخ ابن طاہر صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ معاویہ نے اسی مقام پر ایک مسجد تعمیر کی۔ [135]
  10. یہ دعویٰ کہ معاویہ نے عبد الرحمٰن بن خالد کو اپنے مسیحی طبیب ابن اُثال کے ذریعے زہر دلوایا، متعدد وسطی دور کی اسلامی مؤرخین کی کتابوں میں ملتا ہے مثلاً مدائنی، طبری، بلاذری اور مصعب بن زبیر۔[195][196]۔ مؤرخ ویلفرڈ میڈلنگ اس رائے کو قبول کرتے ہیں[195] جبکہ مارٹن ہائنڈز اور جولیس ولہاؤزن کے نزدیک معاویہ کا اس معاملے میں کردار ابتدائی مسلم مصادر میں محض الزام ہے۔ [196][197] مستشرقین مائیکل یان د خویہ اور ہنری لامنس اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں؛[198][199] د خویہ کے نزدیک یہ ”نامعقول“ ہے کہ معاویہ اپنے بہترین آدمیوں میں سے ایک سے خود کو محروم کرتے اور زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ عبد الرحمٰن بن خالد بیمار تھے اور معاویہ نے ابن اُثال سے علاج کی کوشش کرائی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ مزید یہ کہ د خویہ ان روایات کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتے ہیں کیونکہ ان کی اصل مدینہ بتائی جاتی ہے جو بنو مخزوم کا مرکز تھا نہ کہ حمص جہاں عبد الرحمٰن بن خالد کا انتقال ہوا۔ [198]
  11. ان میں فریڈ ایم ڈونر، یہودا نبو، کارل ہائنز اولیگ اور گیرڈ آر پوئن شامل ہیں۔[234]
  12. ہند بنت عتبہ، امیہ کے بھائی ربیعہ کی پوتی تھیں اور معاویہ، حنظلہ اور عتبہ کی والدہ تھیں۔

حوالہ جات

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ Hinds 1993, p. 264
  2. ^ ا ب پ Watt 1960a, p. 151
  3. Hawting 2000, pp. 21–22
  4. Watt 1960b, p. 868
  5. Wellhausen 1927, pp. 22–23
  6. Wellhausen 1927, pp. 20–21
  7. Lewis 2002, p. 49
  8. Kennedy 2004, p. 52
  9. Kennedy 2004, p. 54
  10. ^ ا ب Madelung 1997, p. 45
  11. Fowden 2004, p. 151, note 54
  12. Athamina 1994, p. 259
  13. Donner 2014, pp. 133–134
  14. Sharon 2018, pp. 100–101, 108–109
  15. Donner 2014, p. 154
  16. ^ ا ب Madelung 1997, pp. 60–61
  17. ^ ا ب پ Madelung 1997, p. 61
  18. Donner 2014, p. 153
  19. Sourdel 1965, p. 911
  20. Kaegi 1995, pp. 67, 246
  21. Kaegi 1995, p. 245
  22. Donner 2012, p. 152
  23. ^ ا ب Dixon 1978, p. 493
  24. Lammens 1960, p. 920
  25. Donner 2014, p. 106
  26. ^ ا ب Marsham 2013, p. 104
  27. Athamina 1994, p. 263
  28. Athamina 1994, pp. 262, 265–268
  29. ^ ا ب Kennedy 2007, p. 95
  30. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ Hinds 1993, p. 267
  31. ^ ا ب Wellhausen 1927, pp. 55, 132
  32. ^ ا ب Humphreys 2006, p. 61
  33. Morony 1987, p. 215
  34. ^ ا ب پ Morony 1987, pp. 215–216
  35. ^ ا ب پ Donner 2014, p. 245
  36. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج Jandora 1986, p. 111
  37. ^ ا ب Jandora 1986, p. 112
  38. Shahid 2000a, p. 191
  39. Shahid 2000b, p. 403
  40. Madelung 1997, p. 82
  41. Donner 2014, pp. 248–249
  42. ^ ا ب Kennedy 2001, p. 12
  43. Donner 2014, p. 248
  44. ^ ا ب پ Bosworth 1996, p. 157
  45. ^ ا ب پ ت Lynch 2016, p. 539
  46. ^ ا ب Lynch 2016, p. 540
  47. Lynch 2016, pp. 541–542
  48. Bosworth 1996, p. 158
  49. ^ ا ب Bosworth 1996, pp. 157–158
  50. Kaegi 1995, pp. 184–185
  51. ^ ا ب پ ت Kaegi 1995, p. 185
  52. ^ ا ب Madelung 1997, p. 84
  53. Kennedy 2004, p. 70
  54. ^ ا ب Donner 2012, pp. 152–153
  55. Madelung 1997, pp. 86–87
  56. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح Hinds 1993, p. 265
  57. ^ ا ب Lewis 2002, p. 62
  58. Humphreys 2006, p. 74
  59. Madelung 1997, p. 184
  60. ^ ا ب Hawting 2000, p. 27
  61. Gardet 1965, p. 930
  62. Wellhausen 1927, p. 55–56, 76
  63. Kennedy 2004, p. 76
  64. Humphreys 2006, p. 77
  65. Hawting 2000, p. 28
  66. Wellhausen 1927, p. 76
  67. Shaban 1976, p. 74
  68. Madelung 1997, pp. 191, 196
  69. Madelung 1997, pp. 196–197
  70. Madelung 1997, pp. 199–200
  71. Madelung 1997, p. 224
  72. Madelung 1997, p. 203
  73. Madelung 1997, pp. 204–205
  74. Madelung 1997, pp. 225–226, 229
  75. Madelung 1997, pp. 230–231
  76. Lewis 2002, p. 63
  77. Madelung 1997, pp. 232–233
  78. Madelung 1997, p. 235
  79. ^ ا ب Vaglieri 1960, p. 383
  80. Crone 2003, p. 203, note 30
  81. Hinds 1972, pp. 93–94
  82. Madelung 1997, p. 238
  83. Hinds 1972, p. 98
  84. Hinds 1972, p. 100
  85. Kennedy 2004, p. 79
  86. Madelung 1997, p. 245
  87. Donner 2012, p. 162
  88. Hinds 1972, p. 101
  89. Madelung 1997, pp. 254–255
  90. Hinds 1972, p. 99
  91. Donner 2012, pp. 162–163
  92. Donner 2012, p. 165
  93. ^ ا ب Madelung 1997, p. 257
  94. Madelung 1997, p. 258
  95. ^ ا ب پ ت Kennedy 1998, p. 69
  96. ^ ا ب پ Wellhausen 1927, p. 99
  97. Madelung 1997, pp. 262–263, 287
  98. Wellhausen 1927, p. 100
  99. Madelung 1997, p. 289
  100. Madelung 1997, pp. 290–292
  101. Madelung 1997, pp. 299–300
  102. Madelung 1997, pp. 301–303
  103. Madelung 1997, pp. 304–305
  104. Madelung 1997, p. 307
  105. Wellhausen 1927, pp. 102–103
  106. Donner 2012, p. 166
  107. Madelung 1997, p. 317
  108. Madelung 1997, pp. 320, 322
  109. Marsham 2013, p. 93
  110. Marsham 2013, p. 96
  111. Marsham 2013, pp. 97, 100
  112. Marsham 2013, pp. 87, 89, 101
  113. Marsham 2013, pp. 94, 106
  114. ^ ا ب پ Wellhausen 1927, p. 131
  115. ^ ا ب Kennedy 2004, p. 86
  116. Wellhausen 1927, pp. 59–60, 131
  117. ^ ا ب Kennedy 2001, p. 20
  118. Crone 1994, p. 44
  119. Kennedy 2004, pp. 86–87
  120. Hawting 1996, p. 223
  121. Kennedy 2001, p. 13
  122. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ Hinds 1993, p. 266
  123. Crone 1994, p. 45, note 239
  124. ^ ا ب پ ت ٹ ث Kennedy 2004, p. 87
  125. Sprengling 1939, p. 182
  126. ^ ا ب Humphreys 2006, pp. 102–103
  127. Wellhausen 1927, p. 134
  128. Hawting 2000, p. 842
  129. Foss 2016, p. 83
  130. Hirschfeld 1987, p. 107
  131. Hasson 1982, p. 99
  132. Hoyland 1999, p. 159
  133. Elad 1999, p. 23
  134. Elad 1999, p. 33
  135. Elad 1999, pp. 23–24, 33
  136. ^ ا ب Hinds 1993, pp. 266–267
  137. ^ ا ب پ ت ٹ ث Kennedy 2004, p. 83
  138. Kennedy 2004, pp. 83–84
  139. Kennedy 2004, p. 84
  140. Kennedy 2004, pp. 84–85
  141. ^ ا ب پ Kennedy 2004, p. 85
  142. Wellhausen 1927, p. 120
  143. ^ ا ب Wellhausen 1927, p. 121
  144. ^ ا ب Hasson 2002, p. 520
  145. Wellhausen 1927, p. 124
  146. Hawting 2000, p. 41
  147. ^ ا ب پ Foss 2009, p. 268
  148. Foss 2009, p. 269
  149. Foss 2009, p. 272
  150. Foss 2009, pp. 269–270
  151. Wellhausen 1927, p. 135
  152. Wellhausen 1927, pp. 135–136
  153. Bosworth 1991, pp. 621–622
  154. Wellhausen 1927, p. 136
  155. Madelung 1997, p. 345, note 90
  156. Madelung 1997, p. 346
  157. Wellhausen 1927, pp. 136–137
  158. ^ ا ب Miles 1948, p. 236
  159. Dixon 1971, p. 170
  160. Miles 1948, p. 238
  161. Miles 1948, p. 237
  162. Al-Rashid 2008, p. 270
  163. Al-Rashid 2008, pp. 271, 273
  164. Kaegi 1995, p. 247
  165. Wellhausen 1927, p. 115
  166. ^ ا ب پ Jankowiak 2013, p. 273
  167. Kaegi 1995, pp. 244–245, 247
  168. Kaegi 1995, pp. 245, 247
  169. Jankowiak 2013, pp. 273–274
  170. ^ ا ب Jankowiak 2013, pp. 303–304
  171. Howard-Johnston 2010, pp. 303–304
  172. Jankowiak 2013, p. 290
  173. Jankowiak 2013, pp. 267, 274
  174. Jankowiak 2013, pp. 304, 316
  175. Bosworth 1996, pp. 159–160
  176. ^ ا ب Jankowiak 2013, p. 316
  177. Jankowiak 2013, p. 318
  178. Jankowiak 2013, pp. 278–279, 316
  179. Stratos 1978, p. 46
  180. Lilie 1976, pp. 81–82
  181. Jankowiak 2013, p. 254
  182. ^ ا ب Kennedy 2004, p. 88
  183. Kaegi 1995, pp. 247–248
  184. Kennedy 2007, pp. 207–208
  185. Kaegi 2010, p. 12
  186. ^ ا ب پ Christides 2000, p. 789
  187. ^ ا ب Kaegi 2010, p. 13
  188. ^ ا ب Kennedy 2007, p. 209
  189. ^ ا ب پ Christides 2000, p. 790
  190. Kennedy 2007, p. 217
  191. Lewis 2002, p. 67
  192. Wellhausen 1927, p. 146
  193. Hinds 1991, pp. 139–140
  194. Madelung 1997, pp. 339–340
  195. ^ ا ب Madelung 1997, pp. 340–342
  196. ^ ا ب Hinds 1991, p. 139
  197. Wellhausen 1927, p. 137
  198. ^ ا ب de Goeje 1911, p. 28
  199. Gibb 1960, p. 85
  200. Marsham 2013, p. 90
  201. Wellhausen 1927, pp. 141, 143
  202. Morony 1987, p. 183
  203. Wellhausen 1927, p. 142
  204. Wellhausen 1927, pp. 143–144
  205. Hawting 2002, p. 309
  206. Marsham 2013, pp. 90–91
  207. Marsham 2013, p. 91
  208. Crone 1994, p. 45
  209. Madelung 1997, pp. 342–343
  210. Donner 2012, p. 177
  211. Wellhausen 1927, pp. 145–146
  212. Hawting 2000, p. 43
  213. Wellhausen 1927, p. 144–145
  214. Morony 1987, p. 210, 212–213
  215. Morony 1987, p. 210
  216. Morony 1987, pp. 209, 213–214
  217. Wellhausen 1927, p. 139
  218. Morony 1987, p. 213
  219. Morony 1987, pp. 213–214
  220. Grabar 1966, p. 18
  221. Crone & Hinds 2003, pp. 6–7
  222. Crone & Hinds 2003, p. 6
  223. Humphreys 2006, p. 93
  224. ^ ا ب Wellhausen 1927, pp. 137–138
  225. Crone 2003, p. 30
  226. ^ ا ب Crone 2003, p. 33
  227. Hawting 2002, p. 310
  228. Kennedy 2004, p. 98
  229. ^ ا ب Kennedy 2016, p. 34
  230. Kennedy 2004, p. 82
  231. Humphreys 2006, pp. 112–113
  232. ^ ا ب Madelung 1997, pp. 326–327
  233. Hoyland 2015, p. 98
  234. Hoyland 2015, p. 266 n. 30
  235. Hoyland 2015, pp. 135–136, 266 n. 30
  236. ^ ا ب Hoyland 2015, p. 233
  237. Hawting 2000, pp. 16–17
  238. Humphreys 2006, pp. 3–6
  239. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ Hawting 2000, p. 42
  240. Humphreys 2006, p. 119
  241. ^ ا ب Humphreys 2006, p. 121
  242. ^ ا ب پ Hoyland 2015, p. 134
  243. ^ ا ب Crone & Hinds 2003, p. 115
  244. Morony 1986, pp. 184–185
  245. Lewis 2002, p. 65
  246. Kennedy 2007, p. 349
  247. Humphreys 2006, p. 115
  248. Ende 1977, p. 14
  249. ^ ا ب پ Kohlberg 2020, p. 105
  250. Kohlberg 2020, p. 105, note 136
  251. Kohlberg 2020, pp. 105–106
  252. Pierce 2016, pp. 83–85
  253. Kohlberg 2020, p. 103
  254. ^ ا ب Kohlberg 2020, p. 104
  255. Hyder 2006, p. 82
  256. Kraemer 1992, pp. 64–65
  257. Halm 2003, pp. 90, 192
  258. Hoffman 2012, pp. 9-10

کتابیات

برائے مطالعہ

معاویہ بن ابی سفیان
پیدائش: 602ء وفات: 26 اپریل 680ء
ماقبل  خلیفۂ اسلام
اموی خلیفہ

661ء–680ء
مابعد