ابراہیم بن ولید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابراہیم بن ولید
(عربی میں: ابراهيم ابن الوليد ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 ہزاریہ  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 جنوری 750  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ولید بن عبدالملک  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان خلافت امویہ  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750


ابراہیم بن ولید، پورا نام ابراہیم بن ولید بن عبد الملک (عہد:126ھ/744ء تا 127ھ/745ء) (عربی زبان میں : ابراهيم ابن الوليد بن عبد الملك‎، انگریزی زبان میں : Ibrahim ibn al-Walid) ایک اموی خلیفہ تھا۔ اس نے بہت کم وقت کے لیے حکومت کی تھی۔ یزید ثالث کی 126ھ میں وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ ابراہیم بن ولید ذی الحجہ 126ھ میں تخت تشین ہوا۔ یزید ثالث نے حکومت کے مفاد کے لیے کوئی کام نہ کیا تھا۔ وہ کمزور اور برائے نام خلیفہ تھا بالکل اسی طرح ابراہیم بن ولید نے بھی حکومت کے لیے کوئی کام سر انجام نہ دیا اور وہ بھی بے حد کمزور اور برائے نام خلیفہ تھا۔ 127ھ میں خلافت کے تھوڑے عرصے بعد ہی وہ اپنے مخالفوں کے خوف سے حکومت چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ اس نے اپنے عہد میں عبدﷲ ابن عمر کو عراق کا والی مقرر کیا تھا۔[1] ابراہیم بن ولید کے والد ماجد کا نام ولید بن عبدالملک تھا۔ اس کی تعلیم کے بارے میں کوئی خاص معلومات حاصل نہیں ہے۔

اختلاف بیعت[ترمیم]

ابراہیم بن ولید ایک برائے نام خلیفہ تھا کیونکہ اس کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ صرف چند لوگوں نے بیعت کی تھی۔ اکثریت نے بیعت نہیں کی تھی۔ وہ کبھی خلیفہ کے لقب سے پکارا جاتا اور کبھی امیر کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ ایک جمعہ میں لوگوں نے اسے خلیفہ کہہ کر سلام کیا اور دوسرے جمعہ کو محض امیر کے لقب سے، آئندہ جمعہ کو نہ خلیفہ کہا اور نہ امیر کہا۔[2] ابراہیم بن ولید اسی تذبذب کے عالم میں چار ماہ کے عرصہ تک خلافت پر فائز رہا۔ ایک روایت کے مطابق وہ کل ستر (70) روز تک خلیفہ رہا۔[3]

مروان بن محمد کی مخالفت[ترمیم]

اس کے بھائی کے زمانے میں مروان بن محمد نے علم بغاوت بلند کیا تھا لیکن اس کے بھائی نے اسے آذربائیجان اور آرمینیہ کی حکومت دے کر اس کی بغاوت کو مصالحت میں بدل دیا تھا لیکن یزید کے مرنے کے بعد مروان بن محمد، ابراہیم بن ولید کی سیاسی کمزوری سے ایک بار پھر فائدی اٹھایا۔

کتابیات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ibrahim ibn al-Walid - Wikipedia
  2. ابن خلدون، ج، 2، ص- 325
  3. تاریخ اسلام، خالد اسمعیل، ص- 453