یزید بن معاویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں


یزید بن معاویہ
أمير المؤمنين أبي خالد يزيد بن معاوية الأموي.png 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 23 جولا‎ئی 647  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 14 نومبر 683 (36 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دمشق[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت خلافت امویہ
Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد معاویہ بن یزید،خالد بن یزيد،عاتکہ بنت یزید  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد معاویہ بن ابو سفیان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان خلافت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
امارت   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
680  – 683 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png معاویہ بن ابو سفیان 
معاویہ بن یزید  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

یزید بن معاویہ (مکمل نام: یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی) خلافت امویہ کا دوسرا خلیفہ تھا۔ ان کی ولادت 23 جولائی 645ء کو عثمان بن عفان کی خلافت میں ہوئی۔ ان کی ماں کا نام میسون تھا اور وہ شام کی کلبیہ قبیلہ کی مسیحی خاتون تھی[2] ،اُنہوں نے امیر معاویہ کے بعد 680ء سے 683ء تک مسند خلافت سنبھالا۔ ان کے دور میں سانحۂ کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسین ابن علی شہید کئے گئے۔ حسین بن علی کا سر یزید کے دربار میں لے جایا گیا۔ جبکہ دیگر روایات کے مطابق اسی نے ان کی شہادت کا حکم دیا [حوالہ درکار] اور عبداللہ ابن زیاد کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری دی اور جب حسین بن علی کا سر اس کے سامنے آیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو قید میں رکھا۔اسی دور میں عبد اللہ ابن حنظلہ کی تحریک کو کچلنے کے لیے مدینہ میں قتل عام ہوا اور عبد اللہ ابن زبیر کے خلاف لڑائی میں خانہ کعبہ پر سنگ باری کی گئی۔ یزید نے امیر معاویہ کی وفات کے بعد 30 برس کی عمر میں رجب 60ھ میں مسند خلافت سنبھالی۔ اس کے عہد حکومت میں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں مغربی اقصی فتح ہوا اور مسلم بن زیاد نے بخارا اور خوارزم فتح کیا، دمشق میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس کی توسیع یزید نے کی تھی اس لیے اس نہر کو اسکی طرف منسوب کرکے نہر یزید کہا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ اسی نے سب سے پہلے کعبۃ اللہ کو ریشمی غلاف پہنایا۔[3]

یزید پر الزامات[ترمیم]

یزید پر الزام ہے کہ اس نے والی مُلک ہوکر زمین میں فساد پھیلایا، حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہی ، مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کئے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑ ا اور جلادیا، مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمرائیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے گود کے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارک چور ہوگئے ، سر انور کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھاکاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا، حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے ، اس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا ، ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے۔[4]

مختلف مکتبہ ہائے فکر کی آرا[ترمیم]

یزید بحیثیت شخصیت اور بحیثیت کردار ہمیشہ سے مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر میں متنازع رہا ہے۔ یہ اختلاف شیعہ اور سُنی مکتب فکر میں تو ہے ہی لیکن خود سنی مکتب فکر کے مختلف سوچ رکھنے والے طبقات اس بارے میں اختلاف رکھتے ہیں۔

شیعیت کا موقف[ترمیم]

امام حسن اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان میں صلح کی ایک بنیادی شرط یہ تھی کہ ان کے بعد کوئی جانشین مقرر نہیں ہوگا مگر امیر شام نے اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کیا اور اس کے لیے بیعت لینا شروع کر دی۔ کچھ اصحاب رسول نے اس بیعت سے انکار کر دیا جیسے عبد اللہ بن زبیر۔ امام حسین نے بھی بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ یزید کا کردار اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں تھا۔ یزید کی تخت نشینی کے بعد اس نے امام حسین سے بیعت لینے کی تگ و دو شروع کر دی۔ یزید نے مدینہ کے گورنر اور بعد میں کوفہ کے گورنر کو سخت احکامات بھیجے کہ امام حسین سے بیعت لی جائے۔ یزید نے جب محسوس کیا کہ کوفہ کا گورنر نرمی سے کام لے رہا ہے تو اس نے گورنر کو معزول کر کے ابن زیاد کو گورنر بنا کر بھیجا جو نہایت شقی القلب تھا۔ مورخین نےلکھا ہے کہ ابن زیاد نے یزید کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خاندان رسالت کو قتل کیا اور قیدیوں کو اونٹوں پر شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق بھیج دیا ۔ دمشق میں بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ ہوا۔ یزید نے حسین ابن علی کے سر کو اپنے سامنے طشت پر رکھ کر ان کے دندان مبارک کو چھڑی سے چھیڑتے ہوے اپنے کچھ اشعار پڑھے جن سے اس کا نقطۂ نظر معلوم ہوتا ہے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے

'کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو ، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئي نہ کوئی فرشتہ آیا ہے
–دمع السجوم ص 252

اہل سنت و دیگر غیر شیعی مکتبہ ہائے فکر[ترمیم]

اہل سنت و الجماعت کے نزدیک یزید پلید ایک فاسق وفاجز اور مرتکب کبائر تھا ۔اس نے نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول امام عالی مقام امام حسین اور ان کے رفقائے کار کو کربلا میں شہید قتل اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مسجد نبوی کے تقدس کو پامال کیا ۔

  • داتا گنج بخش کا فرمان :

″جب یزیدیوں نے امام حسین کو مع ان کے فرزندوں اور عزیز واقارب میدان کربلا میں شہید کر دیا اور زین العابدین بیمار تھے اور امیر المؤمنین آپ کو علی اصغر کہا کرتے تھے جب ان کو بے کجاوہ اونٹوں پر سوار کر کے دمشق میں یزید بن معاویہ کے سامنے لائے ″اخزاہ اللہ ″ تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا اے امام اہل بیت کیا حال ہے تو امام زین العابدین نے فرمایا ’’ اصبحنا من قومنا بمنزلۃ قوم موسی من آل فرعون یذبحون ابنائہم ویستحیون نسائہم ″[5]

  • امام سیوطی کا مؤقف :

″لعن اللہ قاتلہ وابن زیاد ومعہ یزید ایضا ″ [6] یعنی اللہ تعالی امام حسین کے قاتل اور ابن زیاد اور یزید پر لعنت کرے ۔

  • مجدد الف ثانی کا مؤقف:

″یزید بے دولت از زمرہ فسقا است توقف در لعنت او بنا بر اصل اہلسنت است کہ شخصے معیّن را گرچہ او کافر باشد تجویز لعنت نہ کردہ اند مگر آنکہ بیقین معلوم کنند کہ ختم او بر کفر بود کابی لہب وامرأتہ نہ او شایان لعنت نیست ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والاٰخرۃ ″[7] یزید بد بخت فاسقوں کے گروہ سے ہے اس پر لعنت میں توقف کرنا یہ اہلسنت وجماعت کے اصول کی بنا ءپر ہے کہ کسی معین شخص پر لعنت جائز نہیں خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو ،ہاں اگر یقین سے معلوم ہو جائے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا اس پر لعنت جائز ہے جیسے کہ ابو لہب اور اسکی بیوی ۔تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یزید مستحق لعنت نہیں ہے (بیشک وہ لعنت کا حقدار ہے) قرآن مجید میں ہے بے شک جو لوگ اللہ تعالٰی اور اسکے پیارے رسول کو ایذا دیتے ہیں ا ن پر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لعنت ہے ۔

  • احمد رضا خان کا مؤقف

یزید پلید علیہ ما یستحقہ من العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اھلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر ائمہ اہل سنت کا اطباق واتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔ [4] ایک مقام پر لکھتے ہیں : ″یزید پلید کے بارے میں ائمہ اہل سنت کے تین قول ہیں امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہرگز بخشش نہ ہوگی اور امام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہے اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافرلھذا یہاں بھی سکوت کریں گے″۔ واللہ تعالی اعلم[8] ایک مقام پر لکھتے ہیں :″اگر کوئی کافر کہے منع نہ کریں گے اور خود کہیں گے نہیں ″[9]

  • مولانا امجد علی اعظمی لکھتے ہیں :

″یزید پلید فاسق فاجر مرتکبِ کبائر تھا، معاذ اللہ اس سے اور ریحانہ رسول اللہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سیّدنا امام حسین سے کیا نسبت۔۔۔؟! آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ: ہمیں ان کے معاملہ میں کیا دخل؟ ہمارے وہ بھی شہزادے، وہ بھی شہزادے ایسا بکنے والا مردود، خارجی، ناصبی مستحقِ جہنم ہے۔ ہاں! یزید کو کافر کہنے اور اس پر لعنت کرنے میں علمائے اہلسنّت کے تین قول ہیں اور ہمارے امامِ اعظم کا مسلک سُکُوت، یعنی ہم اسے فاسق فاجر کہنے کے سوا، نہ کافر کہیں، نہ مسلمان۔[10]

دیوبندی بنیادی طور پر حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا عقیدہ سلفی حضرات سے مختلف ہے۔ جمہور علماء دیوبند کا نقطۂ نظر یزید کے بالکل مخالف ہیں۔ ان کے مطابق یزید ایک برا شخص تھا۔

مشہور دیوبندی عالم محمد قاسم نانوتوی نے یزید کو پلید کا خطاب دیا۔[11]۔ یہی لفظ رشید احمد گنگوہی نے استعمال کیا۔[12]۔ اشرف علی تھانوی نے یزید کی مخالفت کی اور اسے فاسق کہا۔[13] مفتی محمد شفیع نے یزید کی بیعت کو ایک حادثہ قرار دیا۔[14] انہوں نے حوالہ جات کے ساتھ لکھا کہ یزید نے تخت نشین ہوتے ہی کچھ اصحاب رسول سے زبردستی بیعت لینے کا حکم جاری کیا۔ [15] انہوں نے یہ بھی لکھا کہ جب حسین ابن علی کا سر یزید کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے ان کے دانتوں کو چھڑی سے چھیڑتے ہوئے اشعار پڑھے جس پر ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابو ہرزہ اسلمی ، جو موقع پر موجود تھے انہوں نے کہا کہ اے یزید تو ان دانتوں کو چھیڑتا ہے جن کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بوسہ دیا کرتے تھے۔ تو جب قیامت کو آئے گا تو تیری شفاعت ابن زیاد کرے گا اور حسین آئیں گے تو ان کی شفاعت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کریں گے۔ یہ کہہ کر ابو ہرزہ مجلس سے نکل گئے۔ [16] یزید نے حسین ابن علی کے ایک بچے عمرو بن حسین کو کہا کہ سانپ کا بچہ سانپ ہوتا ہے یعنی حضرت حسین ابن علی کو سانپ سے تشبیہ دی۔ [17] مفتی محمد شفیع کے مطابق اگرچہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یزید شہادت حسین کے بعد پشیمان ہوا مگر اس پشیمانی کو نہیں مانا جاسکتا کیونکہ اس واقعہ کے بعد بھی یزید سیاہ کار رہا اور اس کی موت بھی ایسے ہوئی کہ مرتے مرتے اس نے مکہ پر چڑھائی کرنے کے لیے ایک لشکر بھیجا۔ یزید کو اس واقعہ کے بعد چین نصیب نہ ہوا اور اس کو دنیا میں بھی اللہ نے ذلیل کیا اور اسی ذلت کے ساتھ وہ ہلاک ہو گیا۔[18]

بریلوی مکتب فکر کے علماء کے نزدیک یزید کے بارے میں جو یہ مشہور ہے کہ اس نے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے لشکر میں شمولیت کی اور وہ شاید جنت کی بشارت کا حقدار ہے، یہ مغالطہ پر مبنی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث میں بلادِ روم یعنی قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر حملہ آور پہلے لشکر کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشارت دی تھی:

اول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھم [19]
"میری امت کا وہ پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا (اللہ نے) اس کی مغفرت کردی"

بریلوی مکتب فکر کے نزدیک درحقیقت بلادِ روم، قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) یا بالخصوص قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے پہلے لشکر میں یزید شامل نہیں ہوا۔ تاریخ اسلام کی مستند اور مقبول ترین کتب جن میں البدایہ والنھایہ، الكامل فی التاريخ، تاریخ ابن خلدون، تاريخ بغداد اور تاريخ دمشق وغیرہ میں منقول ہے کہ بلاد روم یعنی قیصر روم کے شہر (مدینۃ قیصر) پر پہلا حملہ 42ھ میں ہوا اور دوسرا حملہ 43ھ ہوا اور اسلامی لشکر قسطنطنیہ پر بھی حملہ آور ہوا۔ الغرض یکے بعد دیگرے بلادِ روم یعنی قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر چھ حملے کئے گئے اور بالاآخر ساتواں لشکر 49ھ میں امیر معاویہ کے دور خلافت میں، روانہ کیا گیا جس میں یزید کی شمولیت ہوئی۔ یزید نے پہلے پہل اس لشکر میں شامل ہونے سے انکار کیا، بعد ازاں لشکر کو پیش آنے والی مشکلات کی خبریں آنے پر خوشی کا اظہار کیا اور قطعہ پڑھا جو تاریخ کی کتب میں منقول ہے۔ جب امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہَ کو یزید کی اس نازیبا حرکت کا علم ہوا تو آپ نے اسے لشکر کی روانگی کے بعد بطور سزا 50ھ میں قسطنطنیہ بھجوایا۔ [20] پس مذکورہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں لفظ " اول جیش" یزید کو اس بشارت میں شامل کرنے میں مانع ہے۔ یزید کی شمولیت بترتیب ساتویں لشکر میں ہوئی جبکہ پہلا لشکر کم و بیش آٹھ سال قبل حملہ آور ہوچکا تھا۔ اسی طرح دوسرا لشکر سات برس قبل مدینۃ قیصر کی طرف جنگ کے لیے روانہ ہوا اور قسطنطنیہ پر بھی حملہ آور ہوا۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہنا چاہے کہ مذکورہ بالا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف قسطنطنیہ کے لیے مخصوص نہیں بلکہ اس میں مدینۃ قیصر یعنی پورے بلادِ روم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے پھلا لشکر جو 42ھ میں حملہ آور ہوا وہ ہی اس بشارت کا مستوجب ہے۔ یہ حدیث کتبِ حدیث بشمول صحیح بخاری میں لفظ مدینۃ قیصر کے ساتھہ آئی ہے۔ مذکورہ بالا یا کوئی اور مغفرت کی بشارت پر مبنی حدیث لفظ قسطنطنیہ کے ساتھہ وارد نہیں ہوئی۔

بعد ازاں یزید اسلامی تعلیمات کے خلاف اقتدار پر قابض ہوا بلادِ اسلام میں ملوکیت کے آغاز کا موجب بنا۔ حجر عسقلانی فتح الباری میں اس ذیل میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ فرمایا کرتے کہ ’’اے اللہ میں سن ساٹھ ہجری اور تخت سلطنت پر نوعمر لونڈوں کے حکمران بن کر بیٹھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سن ساٹھ ہجری کا سورج طلوع ہونے سے پہلے مجھے دنیا سے اٹھالینا‘‘۔[21] اسی طرح مروان بن حکم جب ابوہریرہ سے یزید کی خلافت کے لیے بیت لینے آیا تو آپ نے مسجد نبوی میں مروان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے مروان! میں نے صادق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’قریش کے خاندان میں سے ایک گھرانہ کے نادان، بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں میری امت برباد ہوجائے گی‘‘۔[21] یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ذریت کے قتال کو اپنی امت کی بربادی پر محمول فرمایا۔

یزید نے امام حسین اور عبد اللہ بن زبیر سمیت دیگر صحابہ اکرام سے زبردستی اپنی بیت لینے کے لیے کہا جو بالآخر سانحہ کربلا کا موجب بنا۔ کربلا میں یزیدی لشکر امام حسین سمیت دیگر اہلبیت اور آپ کے رفقا کو شہید کرنے کا مرتکب ہوا۔ معرکہ کربلا اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ اور یزید کے اقتدار پر یقیناّ بہت بڑا دھبہ ہے۔ اسی طرح سانحہ کربلا کے بعد ذریتِ رسول کے ساتھ یزیدی فوج کا رویہ اور شام کے دربار میں اہلبیت اطہار کے ساتھ سلوک اس کے کردار پر بہت بڑا داغ ہے- بعد ازاں جب سانحہ کربلا کے نتیجہ میں اہل حجاز نے یزید کی بیعت توڑدی تو وہ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر حملے کا مرتکب ہوا اور واقعہ حرہ کے دوراں اپنی افواج کے ذریعے مکہ معظمہ پر پتھروں کی بارش کی اور خانہ کعبہ کی چھت کو جلا دیا، مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور ہزار ہا افراد کو شہید کیا جن میں بہت سے صحابہ اکرام بھی شامل تھے۔ [20]

بنو امیہ
Umay-futh.PNG
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750

اس کے علاوہ معاصریں اور مورخیں نے یزید کو اعلانیہ گناہِ کبیرہ کے ارتکاب (زنا، شراب نوشی، ترکِ نماز وغیرہ) اورعامۃ الناس کو اس کی طرف مائل کرنے کی وجہ سے اسے فاسق و فاجر قرار دیا۔ جیسا کہ امام ابن کثیر، البدايہ و النہايہ میں نقل کرتے ہیں۔

ذکروا عن يزيد ما کان يقع منہ من القبائح في شربۃ الخمر وما يتبع ذلک من الفواحش التي من اکبرھا ترک الصلوۃ عن وقتھا بسبب السکر فاجتمعوا علي خلعہ فخلعوہ۔ عند المنبر النبوي [22]
ترجمہ: یزید کے کردار میں جو برائیاں تھیں ان کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا، فواحش کی اتباع کرتا تھا اور نشے میں غرق ہونے کی وجہ سے وقت پر نماز نہ پڑھتا تھا۔ اسی وجہ سے اہل مدینہ نے اس کی بیعت سے انکار پر اتفاق کر لیا اور منبر نبوی کے قریب اس کی بیعت توڑ دی۔

اسی طرح عمر بن عبدالعزیز، یزید کو امیرالمومنین کہنے سے سختی سے منع کرتے اور آپ نے ایک شخص کو اس بنا پر بیس کوڑوں کی سزا دی کیونکہ اس نے یزید کو امیرالمومنین کے لفظ سے یاد کیا۔ [23]

مجدد الف ثانی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری امام حسین اور یزید کو حق و باطل کی دو قوتیں قرار دیتے ہوئے کہا

شاہ است حسین و پادشاہ است حسین
دین است حسین و دین پناہ است حسین
سر داد، نداد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین

اولاد و ازواج[ترمیم]

یزید کے 14 لڑکے اور 5 لڑکیاں تھیں۔

  • معاويہ ابن يزيد جس کی كنیت ابو ليلى ہے۔ یزید کے مرنے کے بعد اسے خلیفہ بنایا جانے لگا تو خلافت سے کنارہ کشی کی اور تسلیم کیا کہ یہ اس کا حق نہیں۔ اس بنیاد پر اس کے رشتہ دار اس کے سخت خلاف ہو گئے۔
  • خالد بن يزيد جس کی كنیت ابوھاشم ہے، کہا جاتاہے کہ اس نے کیمیاء کا علم حاصل کیا تھا۔
  • ابو سفيان، ماں کا مکمل نام :ام ھاشم بنت ابوھاشم بن عتبہ بن ربيعہ بن عبدشمس ،جس سےمروان بن الحكم نے شادی کی تھی،وہی ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہاہے:

أنعمي أم خالد ۔۔۔۔۔ ربَّ ساعٍ كقاعد

  • عبدالعزيزابن يزيد اور اسے الاسوار کہاجاتاتھا،وہ ایک اچھا تیر انداز تھا،اس کی ماں ام كلثوم بنت عبداللہ عامر،عبد العزیز کے بارے میں کسی کا یہ شعر ہے:-

زعمَ الناسُ أنَّ خيرَ قريشٍ ۔۔۔۔۔ كلھُم حين يذكرون الأساورُ اس کے علاوہ اس کی اولاد میں درج ذیل نام آتے ہیں: عبداللہ اصغر،ابو بكر، عتبہ، عبدالرحمن، ربيع، محمد، يزيد، حرب* عمر،عثمان، عاتكہ، رملہ، ام عبدالرحمن، ام يزيد،ام محمد [24]

یزید بن معاویہ
شاہی القاب
پیشرو 
معاویہ بن ابو سفیان
خلافت امویہ
680 – 683
جانشین 
معاویہ بن یزید

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.britannica.com/EBchecked/topic/652315/Yazid-I
  2. تاریخ الخلفاء جلال الدین سیوطی صفحہ 296
  3. روئے خط عربی شاعر یزید بن معاویہ
  4. ^ 4.0 4.1 الفتاوی الرضویۃ، کتاب السیر، ج14، ص591۔593
  5. کشف المحجوب[مکمل حوالہ درکار]
  6. تاریخ الخلفاللسیوطی ،یزید بن معاویہ أبو خالد الأموی،ج:1،ص:157
  7. مکتوبات مجدّدیہ دفتر اوّل
  8. احکام شریعت، ص165
  9. ملفوظات اعلیٰ حضرت ،ص:172
  10. بہار شریعت ،حصہ اوّل :261
  11. عجوبہ اربعہ از مولانا قاسم نانوتوی صفحہ 85
  12. ہدائتِ شیعہ از رشید احمد گنگوہی
  13. امداد الفتاویٰ از مولانا اشرف علی تھانوی صفحہ 5
  14. اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 13
  15. اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 18
  16. اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 95
  17. اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 98
  18. اسوہ حسینی یعنی شہید کربلا از مولانا مفتی محمد شفیع ۔ شائع کردہ صدیقیہ دارالکتب ملتان۔ صفحہ 100 و 110
  19. (صحیح بخاری از امام بخاری ۔ کتاب الجہاد)
  20. ^ 20.0 20.1 البدایہ والنہایہ از ابن کثیر، الکامل فی التاریخ از ابن الاثير، تاریخ ابن خلدون از ابن خلدون، تاريخ بغداد از خطیب بغدادی اور تاريخ دمشق از ابن عساكر وغیرہ
  21. ^ 21.0 21.1 فتح الباری شرح صحیح بخاری از ابن حجر عسقلانی
  22. (البدایہ والنہایہ از امام ابن کثیر)
  23. صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر مکی
  24. روئے خط عربی