تعزیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کسی کے مرنے پر صبر کی تلقین اور اظہار ہمدردی کرنا۔ اہل تشیع کے نزدیک شہید کربلا اور دیگر شہدا کا ماتم جو ان کے روضے پر، گھروں یا امام بارگاہوں میں محرم کی پہلی تاریخ سے دسویں تک کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر کہیں تابوت، کہیں ان کے روضے کی تصویر، جسے تعزیہ کہتے ہیں، کہیں دُلدُل یا علم نکالے جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ شہدا کا ماتم بھی کرتے ہیں۔ مجالس عزا میں مرثیہ، نوحہ، سلام پڑھتے اور شہادت کا حال بیان کرتے ہیں۔ ہرملک میں تعزیت کے مختلف طریق رائج ہیں۔ اسلامی ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں شہدا کا ماتم ضرور کیا جاتا ہے۔

عراقی اسے شبیہ کہتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ حادثہ کربلا کی نقل پیش کرتے ہیں۔ ایران میں دولت صفویہ کے عہد سے یعنی سولہویں صدی کے شروع سے تعزیہ داری کا رواج ہوا۔ اور پھر رفتہ رفتہ برصغیر پاکستان و ہندوستان میں بھی تعزیہ داری ہونے لگی۔

امام  حسین علیہ السلام  کے روضہ مبارک کی شبیہہ کو اردو میں  تعزیہ کہا جاتا ہے۔ تعزیہ سونے، چاندی، لکڑی، بانس، کپڑے، اسٹیل  اور کاغذ  سے تیار کیا جاتا ہے۔ اہل تشیع تعزیہ کو غم اور  سوگ کی علامت کے طور پر جلوس کی شکل میں نکالتے ہیں۔ جلوس تعزیہ امام بارگاہ سے برآمد ہو کر کربلا پر اختتام پزیر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تعزیہ کی ابتدا تیمور کے دور میں ہوئی۔ بناوٹ کے لحاظ سے تعزیہ کی مختلف اقسام ہیں ؛

ضریح [ترمیم]

امام عالی مقام کے روضہ مبارک کی ہو بہو  نقل والے تعزیے کو ضریح کہتے ہیں۔ نظام دکن، والی رام پور ،  راجا محمود آباد اور کراچی کے بعض عزا ء خانوں میں ایسی ضریحیں موجود ہیں۔

بنگلہ [ترمیم]

لکھنؤ اور اس کے مضافات میں بننے ولے تعزیے بنگلہ کہلاتے ہیں ۔ ان کی شکل محمل ناقہ یا عماری فیل سے مشابہہ ہوتی ہے۔

مومی تعزیہ[ترمیم]

بانس کی تیلیوں پر مندرجہ بالا اشکال میں سے کوئی بنا کر اس پر موم چڑھا دیا جاتا ہے۔

جو کا تعزیہ[ترمیم]

لکڑی یا بانس وغیرہ کا ڈھانچہ بنا کر اس پر مٹی کی ایک ہلکی سی تہ جما دی جاتی ہے جس ہر جو کے دانے ایک خاص ترتیب سے چپکا دیے جاتے ہیں ۔ ہفتہ ڈیڑھ میں ان دانوں سے  ننھے ننھے پودے نکل آتے ہیں اور تعزیہ بالکل سبز ہو جاتا ہے۔ جلوس کے دوران میں اس پر پانی چھڑکتے ہوئے چلتے ہیں۔

تعارف و تاریخ[ترمیم]

تعزیے 29 ذی الحج سے 9 محرم تک آراستہ کر کے مخصوص مقامات پر رکھ دیے جاتے ہیں۔ ان مقامات کے مختلف نام ہیں مثلا     عزا خانہ ،  تعزیہ خانہ ،  امام بارگاہ ،  عاشور خانہ ،  امام خانہ ،  چبوترا ،  چوک امام صاحب وغیرہ۔ ہندوستان میں تعزیہ سولہویں صدی میں رائج ہوا ۔ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تعزیہ اور جلوس تعزیہ کا رواج تھا۔ عالمگیر ہی نے جلوس تعزیہ میں شمشیر زنی پر پابندی لگائی۔  دکنی ریاستوں میں عزاداری کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ چنانچہ مجلس ، ماتم،  جلوس ،  تعزیہ اور امام بارگاہ قائم کیے گئے۔ تیرہویں صدی ہجری / اٹھارویں صدی عیسوی تک پورے ہندوستان میں تعزیہ داری عام ہو گئی تھی۔ تعزیہ کے سب سے نچلے حصے کو تخت، ا اوپر والے کو   خطیرہ ، اس سے اوپر والے کو تربت اور سب سے اوپر والے کو  علم کہتے ہیں۔ عراق میں تعزیہ کو شبیہہ کہا جاتا ہے۔ ایران میں تعزیے کا رواج نہیں وہاں شبیہہ یا تمثیل رائج ہے البتہ کشمیر، نیپال اور افریقہ میں تعزیہ داری ہندوستانی انداز میں ہوتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا - سید قاسم محمود- شیش محل پبلیکشنز