قیام حسینی کا خط زمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قافلہ حسینی کا مدینہ سے شام تک سفر: لحظہ بہ لحظہ، شہر بہ شہر

قیام حسینی کا خط الوقت حسین بن علی سے بیعت کے مطالبہ کے بعد قافلہ حسینی کی مدینہ سے روانگی سے شروع ہو کر قافلہ حسینی کی واپس مدینہ آمد تک کے واقعات کا تسلسل زمانی ہے۔

سنہ 60 ھ[ترمیم]

تاریخ واقعہ
15 رجب معاویہ بن ابی سفیان کی موت۔[1]
28 رجب سنہ 60 (ہفتہ کی شب) حسین بن علی کی حج کی ادائیگی کے لیے مدینہ سے مکہ روانگی۔[2]
3 شعبان (شب جمعہ) حسین بن علی کا مکہ میں داخلہ۔[3]
10 رمضان عبد اللہ بن مسمع ہمدانی اور عبد اللہ بن وال کے توسط سے حسین بن علی کے لیے کوفیوں کے پہلے خطوط کی وصولی۔[4]
12 رمضان قیس بن مُسْہِر صَیداوی، عبد الرحمٰن بن عبد اللہ ارحبی اور عمارہ بن عبد سلولی کے توسط سے حسین بن علی کو 150 خطوط کی وصولی۔[5]
14 رمضان ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبد اللہ حنفی کے توسط سے کوفہ کے عمائدین کے خطوط کی وصولی۔[6]
15 رمضان مسلم بن عقیل کی مکہ سے ایلچی کے فرض کی انجام دہی کے لیے کوفہ کی جانب روانگی۔[7]
5 شوال مسلم بن عقیل کا کوفہ میں داخلہ۔[7]
8 ذوالحجہ (منگل) حسین بن علی کی حج کو عمرہ میں بدل کر مکہ سے روانگی۔[6]
8 ذوالحجہ کوفہ میں مسلم بن عقیل کا قیام۔[8]
9 ذوالحجہ مسلم بن عقیل کی شہادت۔[9]

سنہ 61 ه‍[ترمیم]

تاریخ واقعہ
2 محرم حسین بن علی کا کربلائے معلی میں داخلہ۔[10]
3 محرم عمر بن سعد بن ابی وقاص کی 4000 نفری لشکر کے ساتھ کربلائے معلی آمد۔[11]
6 محرم حبیب بن مظاہر اسدی کی قبیلۂ بنی اسد سے حسین بن علی کے لیے نصرت کی درخواست اور اس دعوت پر ان کا انکار۔[12]
7 محرم حسین بن علی اور اصحاب و انصار پر پانی کی بندش۔[13]
9 محرم تاسوعہ اور کربلائے معلی میں شمر بن ذی الجوشن کی آمد۔[14]
9 محرم عمر بن سعد کا امام علیہ السلام کو اعلان جنگ اور آپ (ع) کی طرف سے مہلت کی درخواست۔[15]
10 محرم واقعہ عاشورہ اور شہادت حسین بن علی اور اہل بیت و اصحاب کی شہادت۔
11 محرم اسیران اہل بیت(ع) کی کوفہ روانگی۔[16]
11 محرم غاضریہ کے قبیلہ بنی اسد کے ہاتھوں شہدائے كربلا کی تدفین۔[17]
1 صفر اہل بیت اور حسین بن علی کے سر مبارک کا شام میں داخلہ۔۔۔[18][19]
20 صفر اربعین حسینی اور اہل بیت کا کوفہ میں دوبارہ آمد۔[20]
20 صفر اہل البیت کی شام سے مدینہ روانگی (بعض اقوال کے مطابق)۔[21]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص32۔
  2. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص34۔
  3. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص35۔
  4. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص37۔
  5. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص37ـ 38۔
  6. ^ ا ب شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص38۔
  7. ^ ا ب مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص65۔
  8. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص66۔
  9. ابن کثیر، البدایہ و النهایہ، ج8، ص171۔
  10. مفید، الارشاد، ج2، ص84۔
  11. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص84۔
  12. ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج5، ص90ـ91۔
  13. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص86۔
  14. ابن سعد، ترجمہ الحسین و مقتلہ، ص179۔
  15. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89.۔
  16. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص114 ۔
  17. ابن کثیر، الارشاد، ج 8، ص205۔
  18. ابوریحان محمد بن احمد بیرونی خوارزمی، آلاثار الباقیہ عن القرون الخالیہ، ص31۔
  19. البتہ کچھ مآخذ میں اہل بیت کے داخلہ شام کی تاریخ 16 ربیع الاول بیان کی گئی ہے: دیکھیں: (عماد الدین حسن بن علی طبری، کامل بہائی (الکامل البہائی فی السقیفہ)، ج2، ص293)۔
  20. بیرونی، وہی مآخذ، ص331۔
  21. ۔شیخ مفید، مسارّ الشیعہ، ص46۔

مآخذ[ترمیم]

  • ابن اعثم، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالاضواء، 1411 ھ ۔
  • ابن سعد، «ترجمہ الحسین و مقتلہ»، تحقیق سید عبد العزیز طباطبائی، فصلنامہ تراثنا، سال سوم، شمارہ 10، 1408 ھ ۔
  • ابن کثیر دمشقی، ابوالفداء اسماعیل، البدایہ و النہایہ، تحقیق علی شیری، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1408ھ ۔
  • بیرونی خوارزمی، ابوریحان محمد بن احمد، الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ، بیروت، دارصادر، [بے تاریخ]۔
  • شیخ مفید، الارشاد فی معرفہ حجج اللہ علی العباد، تحقیق مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم، دارالمفید، 1413 ھ ۔
  • شیخ مفید، مسارّ الشیعہ، (چاپ شدہ در جلد 7 مؤلفات شیخ مفید)، تحقیق مہدی نجف، چاپ دوم: بیروت، دارالمفید، 1414ھ ۔
  • طبری، عماد الدین حسن بن علی، کامل بہائی (الکامل البہائی فی السقیفہ)، تہران، مکتبہ المصطفوی، [بے تاریخ]۔
  • مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق سعید محمد لحّام، بیروت، دارالفکر، 1421 ھ ۔

بیرونی روابط[ترمیم]