سعید بن عبد اللہ حنفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سعید بن عبد الله حنفی امام حسین کے اصحاب میں سے تھے اور عاشورہ کے دن نماز ظہر کے وقت زہیر بن قین کے ساتھ امام حسین کی نماز پڑھتے وقت حفاظت کرتے رہے اور تیر اپنے جسم کے اوپر روکتے رہے اور امام کے نماز ختم کرنے کے بعد تیروں کے زخموں کی وجہ سے شہید ہو گئے ۔

شب عاشورا[ترمیم]

شب عاشورا امام حسین نے اپنے مشہور خطبہ کے بعد فرمایا: رات کی تاریکی آپ کو احاطہ کیے ہوئے ہے ،آپ چاہیں تو اپنی جان بچانے کے لیے اپنے قبیلوں کو جاسکتے ہو۔ سعيد بن عبد اللّه اپنی جگہ سے اٹھے اور کہا:

اے نواسہ رسول ! خدا کی قسم ہم سے یہ نہیں ہوگا کہ آپ کو تنہا چھوڑ دیں ، ہمیں رسول اللہ کی اپنی آل کے بارے میں وصیت یاد ہے ۔ خدا کی قسم اگر ہمارے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور آپ سلامت رہیں ،ان کو آگ میں جلا دیا جائے اور وہ خاک ہو جائیں اور ایسا 70 بار ہو تو بھی ہم آپ سے جدا نا ہوںگے اپنی جانیں آپ پر فدا کر دیں گے ۔ کیسے آپ سے جدا ہوں کہ اک بار تو مرنا ہے پھر اس کے بعد عزت سرمدی اور نعمت ابدی ہے ، ایسی نعمت جس کو ہرگز زوال اور فنا نہیں ہے![1]

مہدی ال محمد کی نظر میں[ترمیم]

واقعہ عاشورا کے دو سو سال بعد ،مهدی ال محمد نے زیارت ناحیہ مقدسہ سعید پر سلام کے بعد آپ کی شب عاشورا گفتار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:( این تواک بار تو وریی که به ارزوی خود رسیدی و امامت را مواساه و یاری دادی .خداوند ما را باشما در زمره شهدا محشور گرداند و در اعلی علیین همراهی و هم نشینی شما را به ما روزی دهد۔)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]