زیارت اربعین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

زیارت اربعین (عربی: زيارة الإمام الحسين ( عليه السلام ) يوم الأربعينروز اربعین کی زیارت کے ساتھ مخصوص ہے اور شیعہ عقائد کی رو سے ائمۂ معصومین نے اس کی بہت تاکید کی ہے جس کی بنا پر شیعیان اہل بیت اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔

شیعیان عراق روز اربعین کربلائے معلی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر عراقی یہ راستہ پیدل طے کرتے ہیں۔ اربعین کے جلوس شیعیان عالم کے عظیم ترین اجتماعات میں شمار ہوتے ہیں۔

زیارت اربعین کے سلسلے میں ہدایات[ترمیم]

روز اربعین امام حسین علیہ السلام 20 صفر ہی کا دن ہے۔ شیخ طوسی کتاب تہذیب الاحکام اور مصباح المتہجد میں امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں:

  • ہر شب و روز میں 51 رکعتیں نماز (یعنی 17 رکعتیں واجب اور نوافل کی 34 رکعتیں) بجا لانا
  • زیارت اربعین
  • انگشتری داہنے ہاتھ میں پہننا
  • سجدے میں پیشانی خاک پر رکھنا
  • نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم اونچی آواز سے پڑھنا"۔[1]

اربعین حسینی کے روز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھنا دو صورتوں میں وارد ہوا ہے۔

زیارت اربعین کی پہلی صورت[ترمیم]

یہ وہ زیارت ہے جو شیخ طوسی نے اپنی دو کتابوں تہذیب الاحکام [2]اور مصباح المتہجد (کتاب)[3] میں صفوان جمّال سے روایت نقل کی ہے۔ صفوان جمال کہتے ہیں: میرے مولا امام صادق علیہ السلام نے زیارت اربعین کے بارے میں مجھ سے فرمایا: "جب دن کافی چڑھ جائے تو یہ زیارت پڑھو: متن، ترجمہ فارسی، زیارت اربعین بمع اردو ترجمہ۔

پس دو رکعت نماز بجا لاؤ اور جو چاہتے ہو اللہ سے مانگو اور واپس چلے آؤ۔

زیارت اربعین کی دوسری صورت[ترمیم]

یہ وہ زیارت ہے جو جابر بن عبداللہ انصاری سے مروی ہے اور اس کی کیفیت وہی ہے جو عطاء سے نقل ہوئی ہے۔ (عطاء ظاہرا وہی عطیۂ عوفی کوفی ہیں جو پہلے اربعین کے موقع پر جابر کے ہمراہ تھے، جب وہ زیارت امام حسین علیہ السلام کے لئے کربلا جارہے تھے)۔ عطاء کہتے ہیں:

میں 20 صفر کو جابر بن عبداللہ انصاری کے ساتھ تھا، جب ہم غاضریہ پہنچے تو انہوں نے آب فرات سے غسل کیا اور ایک پاکیزہ پیراہن، جو ان کے پاس تھا ، پہن لیا اور پھر مجھ سے کہا: "اے عطاء! کیا عطریات میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟" میں نے کہا: میرے پاس "سعد"[4] ہے۔ جابر نے اس میں سے کچھ لے لیا اور اپنے سر اور بدن پر مل لیا؛ ننگے پاؤں روانہ ہوئے حتی کہ قبر مطہر پر پہنچے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہوگئے اور تین مرتبہ "اللہ اکبر" کہا اور گر کر بےہوش ہوئے۔ ہوش میں آئے تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا: "السلام علیکم یا آل اللہ..." جو درحقیقت وہی نصف رجب کو وارد ہونے والی زیارت ہے۔[5]. متن، ترجمہ اور آواز زیارت امام حسین (ع) در نیمہ ماہ رجب۔ اربعین کی دوسری غیر معروف زیارت بمع اردو ترجمہ

اربعین کے جلوس[ترمیم]

مفصل مضمون: اربعین چونکہ ائمہ(ع) نے زیارت اربعین کی بہت تاکید فرمائی ہے لہذا شیعیان عالم بالخصوص شیعیان عراق ہر سال یوم اربعین حسینی ملک کے تمام علاقوں سے کربلائے معلی کا رخ کرتے ہیں۔ اکثر زائرین پائے پیادہ سفر کرتے ہیں اور اربعین کے یہ جلوس شیعیان عالم کے عظیم ترین اجتماعات میں شمار ہوتے ہیں۔ سنہ 2013 ء میں پہلے ہی پیشین گوئی ہوئی تھی کہ تقریبا دو کروڑ زائرین کربلا پہنچیں گے[6] بعض رپورٹوں میں کہا گیا کہ سنہ 1435 ھ (بمطابق 2013 ء) میں ڈیڑھ کروڑ زائرین کربلا میں جمع ہوئے تھے۔[7]

محمد علی قاضی طباطبائی شہرت قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ اربعین کے دن کربلا کا سفر اختیار کرنا شیعیان اہل بیت(ع) کے درمیان ائمہ معصومین کے دور سے رائج تھا اور حتی کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانے میں بھی اہل تشیع اس سفر کے پابند تھے۔[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طوسی، تہذیب الاحكام، ج 6، ص 52۔
  2. طوسی، تہذیب الاحکام، ج 6، ص 113۔
  3. مصباح المتہجد، ص 787۔
  4. ایک قسم کی خوشبو۔
  5. شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان، باب سوم، زيارت امام حسین در روز اربعين
  6. سایت خبری فردا
  7. سايت خبري فردا
  8. قاضی‌ طباطبایی، تحقيق دربارہ اول اربعين حضرت سيدالشہدا(ع)، ص2۔

مآخذ[ترمیم]

  • طوسی، محمد بن الحسن، تہذيب الاحكام، دار الكتب الاسلاميہ، تہران، 1407 ھ.
  • قاضی طباطبایی، سيد محمد علی، تحقيق دربارہ اول اربعين حضرت سيدالشہدا(ع)، بنياد علمی و فرہنگی شہید آيت اللہ قاضی طباطبايی، قم، 1368ہجری شمسی۔
  • قمی، شیخ عباس،‌ مفاتیح الجنان.

بیرونی ربط[ترمیم]