دعائے کمیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دعائے کمیل حضرت کمیل ابن زیاد نخعی نے حضرت علی سے نقل کی ہے۔ یہ دعا معرفت خداوندی کے سلسلے میں اعلی و ارفع مضامین نیز اللہ تعالی سے گناہوں کی بخشش کی درخواست پر مشتمل ہے۔یہ دعا نیمہ شعبان اور ہر شب جمعہ کو پڑھی جاتی ہے،جس میں صاحبان معرفت اور اہل عرفان و سلوک وجد میں آتے ہیں.

کمیل بن زیاد نخعی[ترمیم]

زیادہ تر علمائے رجال کمیل کو تابعی کے عنوان سے متعارف کراتے ہیں صحابہ کے سوانح نگاروں نے بھی ان کا نام صحابہ کے زمرے میں ذکر نہیں کیا ہے لیکن چونکہ ان کی نوجوانی کا کچھ حصہ آپ کے ایام حیات میں گزرا ہے لہذا ان کے صحابی ہونے کا احتمال قویّ ہے؛ کیونکہ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے تو اس کے مطابق آپ کے وصال کے وقت کمیل 18 سالہ نوجوان تھا۔ کمیل بن زیاد بن نہیک نخعی قبیلۂ نخع، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تابعین اور حضرت علی اور حضرت حسن کے اصحاب خاص میں سے ہیں۔ وہ ان اشخاص میں سے ہیں جنہوں نے امیرالمؤمنین کی خلافت کے پہلے روز ہی آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور جنگ صفین سمیت امیر المؤمنین کی جنگوں میں حاضر تھے۔ انہیں امیرالمؤمنین کے صاحبِ سرّ جانا جاتا ہے۔ کمیل سنہ 82ھ‍ میں حجاج بن یوسف کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

چونکہ یہ دعا کمیل بن زیاد نے حضرت علی سے نقل کی ہے، اسی لیے دعائے کمیل کے نام سے مشہور ہوئی ہے۔