کربلائی شاعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کربلائی شاعری وہ شاعری ہے جو کربلا سے متاثر ہو کر کی جائے۔ کربلا کے واقعہ کے بعد سے ہی ہر زبان میں یہ منفرد شاعری رواج پاتی گئی۔ اس کے تاریخی حوالے کر بلا کے زمانہ وقوع سے جا ملتے ہیں۔
اس کی متعدد اقسام ہیں۔ 1۔ قصیدہمرثیہنوحہبندمسدسمخمسرباعیبیتمنقبت 10۔ سلام 11۔سوز وغیرہ

کربلا اور ادب[ترمیم]

ہر زبان کے ادب نے کربلا کے موضوع سے فکری روشنی حاصل کی ہے۔ کربلا محض ایک حدیثِ غم ہی نہیں بلکہ اسرارِ حیات و کائنات کی معرفت سے بھر پور ایک بے مثال اخلاقی و تربیتی مخزن بھی ہے۔ یوں تو اردو ادب کی تمام تخلیقی اصناف کربلا کے ادراک سے لبریز نظر آتی ہیں لیکن اردو شاعری کی تاریخ اس موضوع کے بغیر اپنی شناخت ہی مکمل نہیں کر پاتی۔ اردو شعر و ادب کربلا سے صرف متاثر ہی نہیں ہوئے بلکہ مضمونِ کربلا نے اردو شاعری کو کئی گرانقدر اصناف سے آراستہ بھی کیا ہے۔ تاریخِ ادب کے جائزہ سے یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ سلام، مرثیہ، نوحہ اور منقبت جیسی اصناف کی تجسیم و تخلیق کربلا کے بغیر نا ممکن تھی۔

تاریخی پس منظر[ترمیم]

اردو کئی زبانوں کے اختلاط سے وجود میں آنے والی ایک لشکری زبان ہے لیکن اس کے علمی ماخذات پر نگاہ کی جائے تو عربی اور فارسی ادب کے رحجانات اس کی پرورش میں زیادہ غالب اور فعّال نظر آتے ہیں۔ اس لحاظ سے اردو ادب میں بھی مضامینِ کربلا کی فکری میراث فارس و عرب ہی کے واسطوں سے داخل ہوئی۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اردو شاعری نے اس موضوع کو اپنے رگ و پے میں کچھ اس نفاست اور انفرادیت سے جگہ دی کہ بسا اوقات کربلا کا عنوان اردو شاعری کا بالکل ذاتی اور فطری موضوع محسوس ہونے لگتا ہے۔ کم از کم 1500 ء ہی سے اگر اردو کی تاریخ کا دکن میں قطب شاہی و عادل شاہی ادوارِ سلطنت سے مطالعہ کیا جائے تو اردو کی نثری تالیفات اور شعری تخلیقات کی مقبولیت اور حوصلہ افزائی کا ایک مؤثر ترین افق مجلسِ حسین کو سمجھا جاتا رہا۔ دکن میں علم اور ادب کے ذخائر نے اردو زبان کو بہت محبت سے گلے لگایا۔ اسی لیے قدیم روز مرّہ میں اردو کو دکّنی کے نام سے بھی پہچانا جاتا رہا۔

دکن، لکھنؤ اور دلّی کے دبستان[ترمیم]

دکن میں ملک الشعراء نصرتی، کمال خان رستمی، فرمانروائے گولکنڈہ حیدرآباد محمد قلی قطب شاہ، ملّاوجہی، غوّاصی اور ولی دکنی سے لے کر دبستانِ دلّی و لکھنؤ میں اردو کی پرورش اور ارتقا حسنین میرزا رفیع سودا، میر تقی میر، ناسخ، ہمدانی مصحفی، مومن خان مومن، امیر مینائی ،خواجہ حیدر علی آتش، میر حسن، میر انیس، میرزا دبیر، جھنّو لال دلگیر، اسد اللہ خان غالب، استاد ذوق، بہادر شاہ ظفر، یاس یگانہ چنگیزی اور حسرت موہانی تک اردو شاعری کی تاریخ بنانے والے ان اربابِ ادب کے نام تسبیحِ سخن کے وہ دانے ہیں کہ جن کے بغیر سلکِ اردو کا ورود و وجود ہی مکمل نہیں ہو پاتا۔ اِن میں سے ہر ایک عظیم شاعر کے فکر ی رحجانات میں کربلا کے رثائی اور معنوی اثرات توانائی کے ساتھ گونجتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اقبال اور عہدِ نو کے شعرا[ترمیم]

کلاسیکی عہد کے بعد شاعرِ مَشرق علامہ اقبال کی فکری و شعری دنیا میں بھی کربلا کے شعوری سفر کو جنابِ ابراہیم تا جنابِ حسین جس لا محدود تناظر کے ساتھ سمجھایا گیا اس سے اردو ادب میں کربلا شناسی کا فلسفہ ایک منفرد نظریاتی تحریک کی صورت میں متعارف ہوا۔ اقبال کے بعد آج تک کے شعرائے اردو میں بھی کوئی ایسا نام نہیں جس کا قلم کربلا کے اثرات سے محروم رہا ہو۔

کربلائی شعرا[ترمیم]

جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، عبدالحمید عدم، احسان دانش، ناصر کاظمی، استاد قمر جلالوی، علامہ رشید ترابی،عابد علی عابد، سید ضمیر جعفری، جون ایلیا، رئیس امروہوی،شکیب جلالی،احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، احمد فراز، منیر نیازی، شیر افضل جعفری، کیفی اعظمی، مصطفیٰ زیدی، کیپٹن جعفر طاہر، مشیر کاظمی،علامہ سید شاد گیلانی، بیدل پانی پتی، علامہ طالب جوہری، سیف زلفی،وحید الحسن ہاشمی، ڈاکٹر مسعود رضا خاکی ،قیصر بارہوی،افسر عباس افسر ،سجاد باقر رضوی، عدیم ہاشمی ،مہندر سنگھ بیدی ،بیدل حیدری، سید محسن نقوی، محسن احسان، پروین شاکر،فارغ بخاری، عاشور کاظمی، مشکور حسین یاد،افتخار عارف، ریحان اعظمی، حسن رضوی، امجد اسلام امجد،عباس تابش، زاہد فخری، سید صفدر ہمدانی، ڈاکٹر خورشید رضوی ،سبط جعفر زیدی، شاہد نقوی، ریحان سرور، اختر چنیوٹی، زکی سرور کوٹی،صاحبزادہ رفعت سلطان،پیر نصیر الدین نصیر،ظفر سعید ظفر، سید ندیم عباس شاد، قائم نقوی،سید عقیل محسن نقوی، شوکت رضا شوکت، سیدعرفی ہاشمی، ڈاکٹر شبیہ الحسن ہاشمی،رمیض حیدری، عقیل عباس جعفری، میر حسین حیدر تکلم، میر سجاد میر، حسنین اکبر، یاور رضا یاور اور ان کے علاوہ عہد حاضر کے بہت سے دیگر نامور اور گمنام تخلیق کار ایسے ہیں کہ ان میں سے چند ایک کا قلم تو مرثیہ و سلام نویسی کے لیے ہی مختص رہا جبکہ باقی سخنورغزل و نظم کے ساتھ ساتھ ایک موزوں تناسب کے ساتھ نعت، مرثیہ اور سلام کو بھی لکھتے رہنے کی ادبی روایت کے حامل نظر آتے ہیں۔ بھارت ،امریکا، کینیڈا،انگلینڈ ،یورپ اور عرب ریاستوں میں رہنے والے کئی گرانقدر ادبی قامت کے شعرائے اہل البیت کی فہرست اس مضمون میں شامل نہیں ہے لیکن آسٹریلیا میں مقیم کئی شعرا ئے اردو مثلاََ ڈاکٹر سید شبیر حیدر اور صباصادق بولانی، غزل نوشی گیلانی اور سعید خان کے ساتھ ساتھ سلام و نعت کہنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ شاعری میں لغاتِ کربلا

کربلائی استعارے[ترمیم]

عہد قدیم سے لے کر اب تک کے شعرا میں اگر مرثیہ کی مخصوص صنف سے ہٹ کر نگاہ کی جائے تو اردو زبان کی غزل کو بھی ہر عہد کے شعرا کربلا کی تشبیہات اور استعارات سے مزیّن کرتے ہوئے ملتے ہیں۔

اِس میدان میں مسلمان شعرا کے علاوہ اردو زبان کے بعض غیر مسلم شعرا کی تخلیقات بھی کربلائی استعارات اور افکار سے لبریز رہی ہیں اور یہ بات کربلا سے اردو کے لا زوال رشتے کی گواہی کو اور زیادہ مضبوط کر دیتی ہے۔

شاعری میں کربلا کے موضوع کی شعوری ترکیب مرثیہ، سلام، نوحہ اور رباعی میں ظہور کرتی ہے جبکہ اس موضوع کی غیر شعوری ترکیب کا حوالہ اردو غزل و نظم میں موجزن نظر آتا ہے۔

اردو غزل بلکہ نظم کی بھی لغات میں پیاس، وفا ،دشتِ بلا، شام غریباں، مقتل، نوکِ نیزہ، گریہء خون، خیمہ، قفس، درد، خیر و شر، تشہیر، کوچہء عشق، فرات، دھوپ، سجدہ، جراحت، ماتم، سفر، یتیمی، تشنہ دہانی، غربتِ جاں، چراغِ خیمہ، آخری وداع، رسن بستگی، صبر، بیکسی، خنجرِ قاتل، شہیدِ وفا، مسافرت، حُر، گردِ سفر، تیغِ ستم، چہرے پہ خون ملنا، بندشِ آب، سر بُریدگی، بازو قلم ہونا، مشکیزہ، دریا، پامالی، بازارِکوفہ، خاکِ مزار یا خاکِ شفا، وقتِ عصر، چادرِ سر، عزا، مجلس،بے پردہ، علمدار، سینہ کوبی، رخصت، آمد، رَجَز، جنگ، شہادت، دعا، طفل شیر خوار، ماں کی گود، باپ کا سینہ اور ان جیسے کئی دیگر استعارات و اشارات جیسے شمر، یزید، شقی، ظالم، حارث، طماچہ، در چھین لینا، تازیانہ، اجڑنا، گھرانہ، صغری، شام، بازار، ننگے سر، خاک نشیں، باغی، ڈھول، شہنائی، ہار کے جیتنا، جیت کر ہارنا، وغیرہ شامل ہیں ان کا معدن کربلا کے سوا کچھ اور قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عربی اور فارسی میں بھی اس موضوع پر بے شمار کتب ہیں۔

عربی میں سید جواد شبر کی ایک تاریخی ادبی کتاب ادب الطف ہے۔

متعلقہ عناوین و موضوعات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]