ابن زیاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابن زیاد
Arab-Sasanian Dirham in the name of Ubayd Allah ibn Ziyad.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 648  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 6 اگست 686 (37–38 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دریائے خازر  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد زیاد بن ابی سفیان  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں سانحۂ کربلا  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

گورنر کوفہ، پورا نام عبیداللہ بن زیاد بن ابیہ جسے ابن مرجانہ یا ابن زیاد کے نام سے پہچانا جاتا ہے (28 ہجری - 67 ہجری) بنو امیہ کا ایک مشہور فوجی کمانڈر تھا اور امام حسین بن علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے اہم عوامل میں سے ایک تھا۔ وہ مرجانہ نامی لونڈی سے پیدا ہوا۔ بعض نے طنزیہ انداز میں ابن زیاد کو اس کی والدہ سے منسوب کیا ہے اور اسے "ابن مرجانہ" کہا جانے لگا، جس سے مراد عبید اللہ کی پیدائشی ناپاکی ہے۔ مسلم بن عقیل نے کوفے میں امام حسین علیہ السلام کے حق میں زمین ہموار کرنا شروع کی تو یزید بن معاویہ نے ابن زیاد کو بصرے سے تبدیل کرکے کوفے کا گورنر مقرر کر دیا۔ اس نے پہلے مسلم بن عقیل اور ان کے دو کم سن فرزندوں کو شہید کرادیا۔ پھر حضرت حُر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک ہزار سوار دے کر حضرت امام حسین علیہ السلام کا راستہ روکنے کے لیے بھیجا۔ امام حسین علیہ السلام میدان کربلا میں خیمہ زن ہوئے۔ ابن زیاد نے پہلے عمر بن سعد اور پھر شمر بن ذی الجوشن کو فوج دے کر ان کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ جس کے نتیجے میں المناک حادثہ کربلا(محرم 61ھ) رونما ہوا۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد پہلے شہداء کے سر کاٹ کر ابن زیاد کو پیش کیے گئے۔ اس نے امام حسین علیہ السلام کے سر کی بے ادبی کی اور تمام سر یزید کو روانہ کر دیے۔ محرم 67ھ میں ابن زیاد کا مختار ثقفی کے جرنیل ابراہیم سے مقابلہ ہوا۔ جس میں ابن زیاد کو شکست ہوئی اور وہ میدان جنگ میں مارا گیا۔ قتل کے بعد اس کے سر کو کوفے میں اسی مقام پر لا کر رکھا گیا جہاں چھ سال قبل اس نے امام حسین علیہ السلام کا سر رکھوایا تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

سانچے[ترمیم]