عباس بن علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عباس بن علی
العباس بن علي
[[File:Al Abbas Mosque, Shrine Karbala.jpg|frameless|alt=]]
The shrine of Abbas on November 28, 2010 in کربلا، محافظہ کربلا، عراق
پیدائش شعبان26 ہجری[1]
15 مئی 647 (647-05-15)
مدینہ، حجاز (اب سعودی عرب میں)[1]
وفات محرم 10، 61 ہجری
اکتوبر 10، 680 (عمر 33 سال)
کربلا، اموی خلافت (اب عراق میں)
مدفن مزار عباس، کربلا، عراق
رہائش مدینہ، حجاز (اب سعودی عرب میں)
شہریت حجازی عرب
وجہِ شہرت سانحہ کربلا
خطاب أبو الفضل
(عربی: Father of Virtue)
*قمر بني هاشم[2]
(عربی: قمر بنو ہاشم)
*السقى[2]
(عربی زبان: The provider of water)
*علمدار
(فارسی: Flag/Standard bearer)
*شہنشاہِ وفا

(عربی زبان: Door to حسین)
*باب الحوائج[3][4]
(عربی زبان: The door to fulfilling needs)
*افضل الشهداء
(عربی زبان: Most superior martyr)
*Abū Qurba
(عربی زبان: The owner of the skin of water)
*Strength of حسین
مخالفین یزید اول
شریک حیات Lubaba bint Ubaydillah
اولاد عبید اللہ ابن عباس
فضل ابن عباس
قاسم ابن عباس
والدین علی
فاطمہ (known as the mother of the sons)
رشتہ دار محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم


عباس بن علی علی بن ابی طالب کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنین تھا جن کا تعلق عرب کے ایک مشہور ومعروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔ وہ ولیہ خُدا ، عرفانِ الہیٰ ، محدثہ، فقہیہ ، معرفت اہلبیت اطہار علیہ السلام اور علوم ظاہری وباطنی کی حامل تھیں، عباس بن علی اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی حسین بن علی کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی لیے وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔ اُن کو افضل الشہدا ، باب الحوائج ، قمر بنی ہاشمؑ ، علمدار کربلا ، غازی ، سقائے سکینہؑ بھی کہا جاتا ہے

ولادت با سعادت[ترمیم]

عباس بن علی کی ولادت باسعادت چار شعبان المعظم 26ھ کو ہوئی۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت مودت محبت اور عقیدت تھی۔ علی بن ابی طالب نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

علی بن ابی طالب نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ علی بن ابی طالب سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرؑ کہلانے لگے۔ اسی بناء پر اُنہیں ثانی علی المرتضی ٰ بھی کہا جاتا ہے۔ عباس بن علی بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لئے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لئے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے ۔ آپ عرب اور بنو ہاشمؑ کے خوبصورت ترین ہستیوں میں سے تھے۔ اسی لیے آپ کو قمر بنی ہاشمؑ بھی کہا جاتا ہے۔

ضریح روضہ عباس

واقعہ کربلا اور عباس بن علی[ترمیم]

واقعہ کربلا کے وقت عباس بن علی کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ حسین بن علی نے آپ کو لشکر کا علمبردار قراردیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔ آج ساری دُنیا میں جگہ جگہ شہداء کربلا کی یاد منائی جاتی ہے۔ مجلسِ عزَا وجلوس عزاداری میں کربلا کے علم کی شبیہ اور شبیہ ذوالجناح کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ حسین بن علی کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے زیادہ تھی مگر عباس بن علی کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی ۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس بن علی جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امامؑ وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق، عباس بن علی کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباسؑ کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہوگئے آپ نےبڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔

روضۂ عباس

شہادت[ترمیم]

10 محرم کو حسین بن علی نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسین کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علی کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ [5] ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔ جو ایک دُنیا کا زندہ معجزہ ہے۔

سلام کرتا ہے مُحسن اور سارا زمانہ اس باب الحوائج قمرِ بنی ہاشم کو .....

ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے

سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے۔

اولاد ونسل[ترمیم]

عباس بن علی کی اولاد اِس وقت دُنیا کے کافی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ آپ علوی سید ہیں ۔ اِس لیے آپ کی اولاد دُنیا میں سادات علوی کے نام مشہور ومعروف ہے۔ سادات علوی کی آگئے مختلف شاخیں ہیں۔ اِسی لیے آپ کی اولاد عرب وعراق میں ‘‘ سادات علوی ‘‘ مصر میں ‘‘ سادات بنی ہارون ‘‘ اردن میں ‘‘ سادات بنو شہید ‘‘ یمن میں ‘‘ سادات بنی مطاع ‘‘ ایران میں ‘‘ سادات علوی ابوالفضلی ‘‘ اور برصغیر پاک وہند میں ‘‘ سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی ‘‘ کے عنوان سے مشہور و معروف ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 at-Tabrizi، Abu Talib (2001). Ahmed Haneef. ed. Al-Abbas Peace be Upon Him. Abdullah Al-Shahin. Qum: Ansariyan Publications. pp. 39–40.
  2. ^ 2.0 2.1 at-Tabrizi، Abu Talib (2001). Ahmed Haneef. ed. Al-Abbas Peace be Upon Him. Abdullah Al-Shahin. Qum: Ansariyan Publications. pp. 45–47.
  3. ^ Lalljee, Yousuf N. (2003). Know Your Islam. New York: Tahrike Tarsile Qur'an. p. 160. ISBN 0-940368-02-1.
  4. ^ "Al-Abbas". http://www.rafed.net/english/books/biography/al-abbas/05.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2006-07-30.
  5. ^ بسطامی، تحفہء حسینیہ، صفحہ 78 ۔ عربی