عباس بن علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عباس بن علی
مزار عباس ابن علی
مزار عباس ابن علی

معلومات شخصیت
پیدائش 15 مئی 647  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 اکتوبر 680 (33 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سانحۂ کربلا  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبید اللہ بن عباس  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد علی بن ابی طالب  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ام البنین  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ امام  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عباس بن علی علی بن ابی طالب کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ گرامی کا نام فاطمہ ام البنین تھا جن کا تعلق عرب کے ایک مشہور و معروف اور بہادر قبیلے بنی کلاب سے تھا۔ وہ ولیہ خُدا، عرفانِ الہیٰ، محدثہ، فقہیہ، معرفت اہلبیت اطہار علیہ السلام اور علوم ظاہری وباطنی کی حامل تھیں، عباس بن علی اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی حسین بن علی کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ اسی لیے وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔ اُن کو افضل الشہدا، باب الحوائج، قمر بنی ہاشمؑ، علمدار کربلا، غازی، سقائے سکینہؑ بھی کہا جاتا ہے

ولادت با سعادت

عباس بن علی کی ولادت باسعادت چار شعبان المعظم 26ھ کو ہوئی۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت مودت محبت اور عقیدت تھی۔ علی بن ابی طالب نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔


حضرت عباس ؑکی تاریخ تولدکےسلسلےمیں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن معروف یہ ہے کہ آپ کی ولادت با سعادت جمعہ کےدن چہار شعبان سال ٢٦ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئیٔی۔ امیر المومنین نے اپنے نو مولود کا نام عباسؑ رکھا چونکہ علی (ع) بعنوان دروازہ علم نبوت جانتے تھے کہ ان کا یہ فرزند ارجمند بغیر کسی شک و تردیدکے باطل کے مقابلے میں سخت اور هیبت والے اور حق کے سامنے شاداب و تسلیم ہے۔ استاد ارجمند آیت اﷲ ڈاکٹراحمدبہشتی دامت برکاتہ اپنی ایک کتاب (قہرمان علقمہ) میں عباس کے معنی بیان کرتے هوے فرماتے ہیں: «نہیں جانتا کہ عباس ؑکو زیادہ غصہ دلانے والا معنی کروں یانہیں۔ کیونکہ آپ ہی تھے کہ دشت کربلا میں دشمن آپ کےوجود سے غصے میں آجاتا اوراس پر حالت عبوست ظاہرہوجاتی۔ا اورنام عباس ان کی چین وسکون کوچھین لیتا تھا۔ » البتہ اھل لغت نے لفظ عباس کا ایک اور معنی بھی بیان کیا ہے وہ معنی بھی حضرت عباس کے لیے مناسب اور موزوں ہے۔اس معنی کے تحت عباس اس شیر کو کہتے ہیں جس کو دیکھ کر دوسرے شیر بھاگ جاتے ہیں۔اور یہ منظر صحرا طف میں سب نے دیکھاکہ جناب عباس جس طرف بھی حملہ کرتے تھے سارے یزیدی وہاں سے بھاگ جاتے تھے۔ شجاعت ، بہادری، وفا اور دلیری جیسی خصوصیات کو دیکھتے ہوئے شجاع باپ نے اپنے شجاع بیٹے کا نام عباس ؑرکھا اور مورخین کے کلمات اس بات کے گواہ ہیں وہ لکھتے ہیں:«سماہ امیرالمومنین علیه السلام بالعباس لعلمه بشجاعته و سطوته و عبوسته فی قتال الاعداء و فی مقا بله الخصما» ٰ حضرت علی علیہ السلام نے عباس کا نام عباس اس لیے رکھا کیونکہ آپ میدان جنگ میں دشمن کے مقابلے میں حضرت عباس کی شجاعت،قدرت و صلابت کے بارے میں علم و آگاھی رکھتے تھے۔

ابتدائی زندگی

علی بن ابی طالب نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ علی بن ابی طالب سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کیے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدرؑ کہلانے لگے۔ اسی بنا پر اُنہیں ثانی علی المرتضی ٰ بھی کہا جاتا ہے۔ عباس بن علی بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لیے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لیے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور اسی لیے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔ آپ عرب اور بنو ہاشمؑ کے خوبصورت ترین ہستیوں میں سے تھے۔ اسی لیے آپ کو قمر بنی ہاشمؑ بھی کہا جاتا ہے۔

ضریح روضہ عباس

حضرت عباس کا حسب ونسب

کسی شخص کی شخصیت اس کے حسب و نسب سے بخوبی سمجھی جاسکتی ہے چونکه صالح گرجانوں کی مثال اس پاک سر زمین کی سی ہے جس میں شایستہ اورپھلدار درخت پر ورش پاتے هیں۔ خاندانی اصالت شخصیتوں کی پرورش میں نمایا ںکردار ادا کرتی ہے، تبھی تو امام علی علیہ السلام مالک اشتر ؓکو خطاب کرتے ہوئے فرماتے هیں ۔« وتوَّ خَ منهم اهل التَّجربة و الحیاء من اهل البیوتات الصالحة والقدم فی الاسلام المتقدمة فانهم اکرم اخلاقا و اصح اعراضا و اقل فی المطامع اشرافا و ابلغ فی عواقب الامور نظرا » یعنی اپنے عمّال میں سے ایسے افراد کا انتخاب کرو جو تجربہ کار و غیرت مند ہوں اور ان کا تعلق صالح خاندانوں سے ہو اور وہ اسلام میں اپنی خدمات کی بناپرپیشی رکتھے ہوں کیو نکہ ایسے لوگ بلند اخلاق ،بے داغ اورعزت والے ہوتے ہیں۔ حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتایج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔


امیر المومنین علی علیہ السلام کے اس فرمان سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ حسب و نسب پاک ہی گوہر و صدف پاک کو پروان چڑھایاکرتا ہے۔ نسب پاک ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتا۔ حضرت عباس علیہ السلام ان خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں جن کو عالم انساب میں وہ برتری حاصل ہے جو کم کسی کو حاصل ہوتی ہے۔وہ باپ کی جانب سے علوی و هاشمی ہیں جو شرف اور کرامت میں بے نظیر ہے جن کانظیر روی زمین میں پیدا نہیں ہوسکتا ہے۔ یوں ، عباسؑ نہ فقط قمر بنی ہاشم ہیں بلکہ قمر بشریت اور جہان ہستی کا چمکتا ہوا مهتاب ہیں۔


حضرت عباسؑ کے والدگرامی حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام ہیں کہ جن کی عظمت کے سامنے دوست و دشمن سب سر تسلیم خم کے نظرآتےہیں۔ ان کی ماں فاطمہ بنت حزام بن خالد جو ام البنین سے ملقب اور اسی نام سے معروف ہوئیں۔آپ کی شخصیت عالم اسلام میں بے نظیر مانی جاتی ہے آپ ہی کے چار فرزند کربلا میں سبط پیامبر حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جام شھادت نوش فرماکر تا ابد زندہ وجاویدہوگئے۔


حضرت ام البنین کا خاندان شرافت و پاکی ، سخاوت و شجاعت اور مہمان نوازی میں عرب کے قبائل کےدرمیان زبان زد عام و خاص تھا۔ ان کے والدین، دادا، پردادا ۔۔۔ بھی انسانی کمالات کے شہرہ آفاق ستارے تھے۔حضرت ابوالفضل عباسؑ نے فضائل و کمالات کو ان دو خاندانوں سے ورثے میں پایا تھا۔

حضرت عباس علیہ السلام کے القاب

ارباب تاریخ نے حضرت عباسؑ کے کئی القاب بیان کیے ہیں ، ہم ان میں سے کچھ کا بیان اختصار کے ساتھ ایسے ہے۔

١۔ابو الفضل:

ابو الفضل یعنی فضیلتوں کامالک(باپ)، حضرت عباسؑ کو شاید ان کی انگنت فضائل کی وجہ سے اس لقب سے موسوم کیا گیا ہو یا فضل ان کےکسی بیٹے کا نام تھا جس کی وجہ سےآپ ابو الفضل کہلایے۔

٢۔ابوالقریہ:

کچھ علما اورمورخین نے آپ کو ابو قریہ (صاحب مشکیزہ)سے ملقب کیا ہے۔ کیونکہ حضرت عباس نے روز عاشورا چند مرتبہ پانی کا مشکیزہ خیمہ گاہ حسینیؑ تک پہنچایا تھا۔

٣۔ابوالقاسم:

حضرت عباس ؑکے ایک بیٹے کا نام قاسم تھا ۔ بعض مورخین کے مطا بق قاسم نے اپنے پدر بزرگوار کے ہمراہ کربلا میں جام شہادت نوش فرمایا۔اس بیٹےسے نسبت کی وجہ سے آپ ابوقاسم کہلائے ۔

٤۔قمر بنی ہاشم:

حضرت عباسؑ بہت ہی حسین،اور پرکشش چہرے کےمالک تھے۔صاحب مقاتل الطالبین لکھتے ہیں کہ حضرت عباسؑ بہت خوبصورت ،حسین تھے جب وہ ایک درشت ہیکل گھوڑے پر سوار ہوتے تو ان کے پاوں زمین سے لگ جاتے تھے۔ انہیں قمر بنی ہاشم کہا جاتاتھا۔ شہید مطہری(رہ) فرماتے ہیں کہ حضرت عباسؑ بلند قامت جسیم اور خوبصورت جوان تھے، امام حسین علیہ السلام آپ کو دیکھ کربہت محظوظ ہواکرتے تھے۔

٥۔ سقا:

حضرت عباسؑ کے محبوب ترین القاب میں سے ایک لقب سقا ہے۔ جب پسر مرجانہ نے خاندان رسالت پر پانی کی بندش کی تو حضرت عباسؑ نے اپنی بہادری اور دلیری کا ثبوت دیتے ہوئے کئی بار پانی خیموں تک پہنچایا اور اہل بیت پیامبر(ع)کو سیراب فرمایا ۔ اس وظیفے کی انجام دہی میں ہی جام شہادت نوش فرما کر رہتی دنیا تک تاریخ کے اوراق میں سرخ رو ہوئے۔

٦۔علمدار:

حضرت عباسؑ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کےلشکرکےعلمدار تھےلشکر امام حسین علیہ السلام کی سالاری کا منصب آپ ہی کے نصیب میں آیا۔

٧۔عبدالصالح:

امام صادق علیہ السلام اس زیارت میں کہ جسے ابوحمزہ ثمالیؓ نے نقل فرمایا ہے آپؑ کو عبد صالح سے خطاب کرتے ہیں۔جیسا کہ آپ علیه السلام فرماتے ہیں (السلام علیک ایها العبد الصالح) میرا سلام ہو تجھے پر اے بندہ شایستہ۔

٨۔المواسی:

آپ کی اناہائی اثیار اور قربانی کی وجہ سے آپ کو المواسی کا لقب دیا گیا۔ آپ نے دشمن کو بھگا کر پانی تک رسائی حاصل کی لیکن اہل بیت عصمت و طہارت ؑکی پیاس کو یاد کرکے خود پانی نہیں پیا ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «اشهد لقد نصحت ﷲ و رسوله ولاخیک فنعم الاخ المواسی۔» میں گواہی دیتاہوں کہ آپ اللہ ورسول اوراپنےبھائی کی راہ میں خیرخواہ تھےاورنصیحت کی۔ آپ بہت ہمدردی رکھنےوالے بھائی تھے۔ زیارت ناحیہ مقدسہ میں امام زمانہ(عج) فرماتے ہیں: ااسلام علی ابی الفضل العباس المواسی اخاہ بنفسه ۔ یعنی سلام ہو ابوالفضل عباسؑ پرکہ جنہوں نے اپنی جان کےساتھ بھائی کی مواسات (ہمدردی)کی۔

9۔ باب الحوائج:

یہ لقب ایسا دلنشین ہے کہ آج بھی اہل بیت ؑ سے محبت رکھنے والے حضرت عباسؑ کو اسی لقب سے جانتے اور یاد کرتے ہیں،گویا باب الحوائج آپ ؑکا دوسرا نام ہو۔محبان حضرت عباسؑ کا عقیدہ ہے کہ اگر کوئی خالص نیت کے ساتھ عباس ؑکو وسیلہ قرار دے تو اﷲ تعالی اس کی حاجتیں اور مرادیں بر لاتا ہے اوراسے مایوس نہیں کرتا ہے۔ایسا کیوں نہ ہو چونکہ عباسؑ در ر حمت خدا اور اس کے محکم اسباب و وسائل میں سے ایک ہیں۔ عباس ہی نے تو اپنے امام علیہ السلام کی نصرت اور دین اسلام کی بقاء اور پایداری کے لیے سب سے زیادہ تلاش و کوشش کی یہاں تک کہ اپنی جان بھی اس ہدف پر قربان کی۔تعجب اس پر ہوتا اگر عباس باب الحوائج نہ کہلاتے!

١0۔شہید:

ارباب تاریخ نے اگرچہ شہید کا لقب حضرت عباسؑ کے لیے بیان نہیں کیا ہے لیکن امام صادق علیہ الاسلام کے کلام مبارک میں آپ کے لیے یه لقب بیان ہواہے ایک مرتبہ معاویہ بن عماریزیدی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا جب فدک آپ کو واپس کیا گیا تواسے آپ نے کس طرح تقسیم کیا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا ؛«اعطینا ولد العباس الشهید الربع و الباقی لنا» یعنی عباس شہیدؑ کے فرزندان کو ایک چوتھائی حصہ دیا اور باقی ہمارے لیے ہے۔

١1۔پاسدار و پاسبان حرم:

طول تاریخ میں بہت ساروں نے اپنی ناموس اور حریم کی دفاع میں حتی جان تک کو قربان کیا لیکن کوئی بھی اس کام میں حضرت عباسؑ کی منزلت کو نہیں پہنچ سکا۔حضرت عباس ؑسارے پاسبانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔تبھی تو اسلامی جمہوریہ ایران میں ہر سال چار شعبان کو روز جانباز کے نام سے منایا جاتا ہے۔ مذکورہ القابات کے علاوہ بھی مورخین نےکئی ایک القاب حضرت عباس ؑکے لئےنقل کیے ہیں’ جن میں سے ،الفادی’عمید’ حامی’ واقی’ کبش الکتیبہ’،اوراطلس، زیادہ مشہورہیں۔

حضرت عباسؑ پیکر وفا

لفظ وفاء کو غدر، فریب اور بے وفائی کے مقابلے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ وفا، فضلیت اور بے وفائی اور غدر صفت رذیلہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ امام صادق علیہ السلام کی ایک لمبی حدیث ہے اس میں نیک اور بری صفتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں: «الوفاء وضدہ الغدر» یعنی وفا عقل کی وزیر ہے اور خداوند نے غدر کو جووزیر جہل ہے اس کے مقابلے میں قرار دیا ہے۔ شاید یہ کہنا مناسب ہو اگر ایمان صاحب اجزاء ہو تو قطعی طور پر ان اجزاء میں سے ایک جزء وفاءہے۔ جیساکہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:((ان اﷲ عزوجل وضع الایمان علی سبعه اسهم علی البر و الصدق و الیقین و الرضاء و الوفاء و العلم و الحلم)) یعنی(اﷲتعالی نے ایمان کو سا ت حصوں میں قرار دیا: نیکی، سچائی،یقین، رضا ، وفا ، علم و حلم)

اصولی طور پر نیک اعمال کی قبولیت کے لیے وفاء کا ہونا شرط ہے۔جو لوگ غدار،حیلہ گر اور فریب کار ہوتے ہیں ان کا مقام تو کتوں سے بھی نیچے درجے کا ہے ایسے لوگ نیک اعمال کے ثواب سے بے نصیب ہیں۔جیسا خود خدا وند ارشاد فرماتا ہے . « اوفوا بعهدی اوف بعهدکم» یعنی( میرے عہد سے وفا داری کرو تا تمہارے عہد کی میں پاسداری کروں۔)لہذا خداوند نے جن نیک اعمال کے لیے ثواب کا وعدہ کیا ہے یہ وعدہ تب نبھایا جائیگا کہ جب صاحب عمل، وفادار لوگوں میں سے ہو۔ اس سلسلے میں آیات و روایات بہت ہیں۔ اس سے زیادہ بیان اس مقالے کے احاطے سے باہر ہے۔سابقاً اس حقیقت کی طرف اشارہ کیاجاچکا ہےکہ حضرت عباسؑ نیک فضو ہیں کےمرکزکہلاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی کنیت ہی ابو الفضل یعنی فضیلتوں کا باپ پڑ گئی۔حضرت عباسؑ کی پوری فضیلتوں کا احصا ایک یا دو مقالوں کی گنجائش سےباہ رہے بلکہ اس امر کے لیے کئی جلد کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کومد نظر رکھتے ہوئے ہم اس مقالے میں حضرت عباسؑ کی صرف صفت وفا پر مختصربحث کریں گے۔ آپؑ کی وفا کو مختلف پیرایوں سے بیان کیا جاسکتا ہے۔

وفاداری کے مختلف پہلو

وفاداری کے کئی ایاوک پہلو ہوتےہیں ۔ دین کے ساتھ وفا داری، اپنی قوم و ملت کے ساتھ وفاداری، اپنے ملک اور وطن کے ساتھ وفاداری، اپنے بھائی اور نزدیک ترین افراد کے ساتھ وفا داری،امامِ وقت سے وفاداری دوست اور احباب کے ساتھ وفا داری وغیرہ۔ حضرت عباسؑ نے ان تمام پہلووں میں امتحان دےکر پہلے رتبے پر فائز ہوئے۔

١۔دین کے ساتھ وفا داری

دین اسلام پر جب کبھی بھی برا وقت آیا عباس علیہ السلام بہترین مدافع کے طور پر سامنے آئے اور کبھی بھی اپنی جان کی پروا نہ کی، چاہے وہ بابا علی مرتضی(ع) کا زمانہ امامت ہو یا بھیا حسن مجتبی(ع) کا دور امامت، آپ ہمیشہ اسلام اور اپنے امام وقت کے دفاع میں ہر اول دستے میں رہے۔اور اپنی وفا کے جوہر دکھلاتے رہے۔جس وقت بھیا حسین سید الشہداءعلیہ السلام کا دور امامت آیا ہمیشہ ان کی اطاعت میں زندگی گزاری. جب بنوامیہ نے یذید ملعون کو خلیفهه المسلمین کے منصب پر بٹھا کر دین اسلام کو پا مال کرنے کا تہیہ کیا اور امام حسین علیہ السلام کو یہ فرمانا پڑا کہ (علی الاسلام،السلام) یعنی یذید جیسے فاجروفاسق شخص کو خلیفہ بنا کر اس کی بیعت کرنا گویا اسلام کو سلام کرکے اسے خیر باد کہنا ہے ایسے موقع پر حضرت عباسؑ جیسے دین اسلام کے وفا دار اپنی جان کو جو کھوں میں ڈال کر اسلام کی بقاء اور اس کی سربلندی کیلئےاپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے۔

٢۔قوم و ملت کے ساتھ وفادری


قوم وملت کے ساتھ وفاداری حضرت عباس ؑکی روح میں متجلی تھی۔ قوم و ملت بنی امیہ کے ظلم و جور میں جکڑی ہوئی ہے۔ظلم کی گھٹا ٹوپ تاریکی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔بہادرسے بہادر شخص بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے کترا تا نظرآتاہے۔بنوا میہ نے تمام مسلمانوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے، ان کے اموال کو تاراج کر دیا اور کسی کی ناموس محفوظ نہیں۔لوگوں کو استثمار کرنے کے لیے دین خدا کو اپنا کھلونا بنا کر کھیل کھیلا جارہا ہے ایسے سخت اوقات میں عباس علیہ اسلام ہی قوم وملت کے وفا دار ہیں تبھی تو امام حسین علیہ السلام نے روز عاشورا اپنا علم عباس ؑکے سپردکرکے ان کو اپنا سپاہ کا سالار بناتے ہیں حقا کہ حضرت عباس ؑنے اپنے دونوں بازووں کوکٹوا کر اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ،اور نهر علقمہ پر جام شہادت نوش کرکے ہمیشہ کے لیے علقمہ کے هیرو کهلائے گئے۔

٣۔ملک و وطن سے وفادری


اسلامی مملکت خطرے میں ہے اس سے بڑ ھ کر برا وقت کبھی اسلامی وطن پر نہیں آیاہے۔بنوامیہ اسلامی وطن کی ثروت کو لوٹ رہے ہیں۔ مملکت اسلامی کے خزانے من پسند افراد میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔جو چرطے کل تک اسلامی مملکت کے اندر موح س سمجھے جاتے تھے ان کو آج عالی ترین مناصب دیکر انہیں عزت دی جاتی ہے، وہ ان منصولں کے آڑاوٹ میں لوگوں کے اموال کو غارت کر رہے ہیں۔ان سے پوچھ گچھ کرنے والا کوئی نہیں۔ ارباب تاریخ لکھتے ہیں کہ حضرت عباس کی شہادت کے بعد امام حسین علیہ اسلام کے بدن میں زندگی کی کوٍئی رمق باقی نہیں رہی تھی آپ ہڈیوں کے ایک ڈھا نچے کی صورت میں رہ گئے تھے۔ «لم یبق الحسین بعد ابی الفضل الاهیکلا شاخصا معری عن لوازملوازم الحیات» جب حضرت عباسؑ شہید ہوئے تو دشمن ہر طرف سے اصحاب امام حسین علیہ السلام پر حملہ آور ہوئے ، اب چونکہ حسینؑ سے وفاء کرنے والا اس کابهادر بھائی عباسؑ باقی نہ رہا تھا۔ «لما قتل العباس تدا فعت الرجال علی اصحاب الحسین»


یه وه وقت تها کہ اسلامی مملکت کے اندر آزاد اندیش انسانوں کے لئےکوئی جگہ نہیں تھی۔جن لوگو ں کی اسلام کے لیے خدمات تھیں اور ابھی بھی شیفتہ اسلام ہیں ان کو وطن سے نکال دیا جاتا ہے۔ عمارؓ و میثم ؓو سعیدؓ بن جبیر ؓاور رشدب ہجریؓ جیسوں کا دائرہ تنگ کر کے ان کو انہی کے خون میں نہلایا گیا۔جب کہ عمرو عاصم ، ابوہریرہ، عمر سعد، زیاد ، عبید جیسے اسلام دشمن عناصر کی شخصیت پروری کی جاتی ہے۔ ولید جیسوں کو مدینہ الرسول کا حاکم بنایا جاتا ہے۔ ایسے حالات اور شرائط میں اسلامی مملکت کی بقاء اور استحکام کے لیے عباس علمدار ؑجیسے وفادار افراد اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن ایک مضبوط عزم و ارادہ کے ساتھ اپنے امام وقت کے گرد یوں جمع ہوجاتے ہیں جیسے پروا نے شمع کے گرد. اور اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔اور یوں اسلامی وطن کے پاسبان کے لقب سے معزز پاتے ہیں۔

٤۔ بھائی سے وفا داری

امام حسین علیہ السلام ریحان رسول خدا ﷺ ہیں۔ وہ ہی رهبر دین، مسلمین کےپیشوا و صالحین کےامام اور سرور و سالار شہیدان ہیں۔ عباسؑ کا اپنے بھائی حسین علیہ السلام کے ساتھ کبھی نہ ٹوٹنے والا ایک عہد موجود ہے۔انہوں نے اپنے امام حق کی بیعت کی تا کہ باطل سے ٹکرائںر۔عباسؑ، امام نور کا پیرو کار ہے اور وہ ظلمت اور تاریکی کے رهبروں کے ساتھ اپنی آخری سانسوں تک نبرد آزماں ہے۔عباسؑ نے بتلا دیا کہ وہ اپنے بھائی، مولا ، رهبر ، امام اور مقتدی کے ساتھ کس قدر وفادارہیں۔آپ کی وفاداری اس قدر عروج کو پنچیس کہ خود وفا کو ناز ہے کہ وہ آپ سے منسوب ہے۔اور آپ وفاداروں کے لیے نمونہ، بلکہ پیکر وفا ہوئے۔ کیوں نہ ایسا ہو چونکہ تاریخ نے کبھی ایسے وفا کو نہیں دیکھا ہے،اگر آپ کو قطب وفا کہا جایے تو بیجا نهیں ہے۔ امام زمانہ (عج) اس بارے میں فرماتے ہیں «السلام علی ابی الفضل العباس المواسی اخاہ بنفسه» همارا سلام ہو ابو الفضل العباسؑ پر جس نے اپنی جان قربان کرنے کے ساتھ بھائی سے ہمدردی کی-

5۔ وقت کے امام سے وفاداری

حضرت عباسؑ کی مہم ترین خصوصیات میں سے ایک خصوصیت اپنے زمانے کے امام کی شناخت اور ان کیان کی اطاعت محض تھی۔ آپ نے تین اماموں ؑ کی دور امامت کو دیکھا .چاہے بابا علی علیہ السلام کا دور امامت ہو یا بھیا حسن علیہ السلام کا دور امامت ہو، آ پ نے ہمیشہ اپنی وفا کا لوها منوایا ۔ آپ کے زیارتنامہ میں امام صادق علیہ السلام سے منقول یہ جملات اس امر کی روشن دلیل ہیں کہ آپ ولایت مداری میں کس قدر آگے تھے۔ «المطیح ﷲ و لرسوله ولامیر المومنین والحسن والحسین صلی اﷲ علیهم » یعنی ،تجھ پر سلام اےای اﷲ کے صالح بندےوخدابندےو خدا اور اس کے رسول کے مطیع و فرماں بردار اور امیرالمومنین،امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے حقیقی پیرو کار۔ حضرت عباسؑ نے کربلا میں وفا اور وفاداری کے جو نقوش چھوڑے ہیں وہ سب اپنے امام وقت کی اطاعت اور اس سے وفاداری کی وجہ سے ہے۔ کوئی یہ نہ سوچے کہ شاید حضرت عباسؑ کی فداکاری قبیلہ کاتعصب اور خاندانی تھی، نہیں بلکہ حضرت عباسؑ کی یہ ساری قربانیاں ولایت مداری اور اس کی اطاعت کی وجہ سے تھیں۔چنانچہ ارباب تاریخ اس شبھہ سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں۔


«بل کان یعرف ان دین اﷲ قائم با لحسین(علیه السلام) وهو عمود الدین ، مجاهد عن دین اﷲ و عن شریعت المصطفی و حامی عن ابن رسول اﷲ و عن بنات الزهراء کما قال انی احامی ابدا عن دینی وعن امام الصادق الیقین نجل النبی الطاهر الامین» بلکہ( حضرت عباسؑ) جانتے تھے کہ دین خدا، امام حسین کی وجہ سے قائم ہے۔امام حسینؑ ہی دین کے ستون ہیں۔ وه دین خدا اور شریعت پیامبرﷺ کی بقاء کے لیے جہاد کر رہے ہیں (اس خاطر حضرت عباس جان ودل سے) فرزندان رسول خداﷺ اور حضرت زهرا سلام اللہ علیہا کی بیٹیوں کی حمایت کر رہے تھے جیسا کہ خود فرمایا کرتے تھے، خدا کی قسم اگر میرے بازووں کو کاٹو تو بھی میں اپنے دین، اپنے امام حق اور یقین اور فرزند دختر پیامبر پاک ﷺ و امین کی حمایت کروں گا۔

وفاداری کے چند نمونے

یوں تو حضرت عباسؑ کی پوری زندگی وفا اور وفاداری سے لبریز ہے لیکن حضرت عباس ؑکی یه وفا داری سانحہ کربلا میں کچھ منفرد انداز میں نکھر کر سامنے آئی دوست ہوں یا دشمن کوئی بھی آپ کی وفا داری کی داد دئے بغیر نہ رہ سکا۔ منمندرجہدرجہ ذیل سطور میں حضرت عباسؑ کی وفاداری کے چند نمونے پیش کرتے ہیں۔

١۔امان نامے کا ٹکرر کرنا

عبیداللہ اوراس کے کارندے اس بات سے آگاہ تھے کہ جب تک حضرت عباسؑ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہیں ان پر حاوی ہونا نہایت ہی دشوار مسئلہ ہے لہذا یہ چال چلی کہ حضرت عباسؑ کو امام حسین علیه السلام سے جداکریں اس چال اورحربے کوعملی جامه پهنا نے کے لیے عصرتاسوعا شمرملعون چارهزار فوج کے همراه دشت نینوا پهنچا،اورحضرت عباسؑ کو آواز دی لیکن حضرت عباس ؑنے اس کی پکار پر کوٍئی توجہ نہیں دی بلکہ یوں کہوں عباس نامدارؑ نے شمر کو جواب کا لائق ہی نہ سمجھا، جب آقا و مولا امام حسین علیہ السلام نے کہا میرے عزیز بھیا جا و دیکھوشمر آپ سے کیا چاہتا ہے؟ اپنے بھیا اور امامؑ کی اطاعت میں آگے بڑھ کر شمر سے کہا،کہو کیا کہا چاہتے ہو۔شمر نے کہا اے عباس !میں نے ابن زیاد سے تمہیں اور تمھارے بھائیوں کے لیے امانامان نامہ لے لیا ہے، لہذا آپ اپنے آپ کو حسین ؑسے الگ رکھیے۔شیر خدا کے شیر فرزند بپھر گئے اور طیش میں آکر فرمایا:«تبت یداک و لعن ما جئت به من امانک یا عدو اﷲ، اتأ مرونا ان نترک اخانا وسیدنا الحسین بن فاطمه و ند خل فی طاعت اللعناء و اولاد اللعناء اتومننا و ابن رسول اﷲ لا آمان له» تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیس اور لعنت ہو اس امان نامہ پر اور اس پر جس سے یہ امان نامہ لے کر کے آئے ہو، اے دشمن خداکیا تو ہمیں یہ امرکررہاہے کہ ہم اپنے بھائی ومولا اور فاطمہ (ع) کےلخت جگر کو تنای چھوڑ کر لعنت شدگان اور لعنت شدگان کے فرزندوں کی اطاعت کے زمرے میں داخل ہوجائیں(عجیب بات ہے) آیا ہمیں امان دے رہے ہو لیکن فرزند رسول خدا ﷺکے لیے کوئی امانآمان نہیں؟یہ جملات حضرت عباس کی شجاعت اور وفاداری کی واضح دلیل ہے۔

٢۔شب عاشورا کو اعلان وفاداری'

شام عاشورا امام حسین علیہ السلام نے اپنے تمام یار و انصار کو ایک خیمے میں جمع کرکے فرمایا : سب سنو یہ قوم دغل باز،صرف میرے خون کی پیاسی ہے لہذا میں اپنی بیتم تمہاری گردنوں سے اٹھاتا ہوں ،چراغ گل کیے دیتا ہوں۔شب کی تاریکی سے فائدہ اٹھا کر ہر کوئی اپنا اپنا راستہ لےلے اور یوں ہر کسی کو بھاگنے کی بہترین فرصت فراہم کی لیکن قربان جائیں حضرت عباسؑ کی وفاداری پر کہ تاریکی کا سکوت توڑ کر سب سے پہلے آپ نے اپنے عھد وفا کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا ، چنانچہ ارباب تاریخ نے لکھا ہے «فبدألقول العباس بن علی علیه السلام فقال له لم نفعل ذالک؟البقی بعدک؟ لا ارنا اﷲ ذالک ابدا» اس وقت عباسؑ بن علی ؑنے آغاز سخن فرمایا اور امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا،ہم یہ کام کیوں انجام دیں؟کیا اس لیے کہ آپ کے بعد باقی رهیں (یعنی زندہ رہںا)؟ نہیں، خدا کبھی بھی یہ چیز(آپ کی جدایی ) ہمیں نہ دکھلائے۔

٣۔نہر فرات پر وفاداری کی انتہا


جب اکبر شہید ہوئے کئی بار حضرت عباس ؑنے امام حسین علیہ السلام سے جنگ کی اجازت چاہی ہر بار امام علیہ السلام نے یہ کہہ کر کہ بھیا تو میرے فوج کا علمدار ہے اگر تو جائے گا تو میری فوج کا کیا بنے گا؟ میرا خیال ہے شاید امام علیہ السلام عباس کو کچھ دیر اور اپنےدرمیان روکنا چاہتے تھے چونکہ امام علیہ السلام جانتے تھے خیام حسینی میں موجود مخدرات عصمت و طہارتؑ اور چھو ٹے معصوم بچوں کی ڈھارس عباسؑ تھے جب تک عباسؑ زندہ تھے ؛ ان کی امیدیں بھی زندہ تھیں۔ جب حضرت عباسؑ کا اصرار بڑھا تو امام علیہ السلام نے یہ کہکر کہ خیموں میں چھوٹے بچے تشنہ لب ہیں ان کے لیے کچھ پانی کا بندوبست کرو۔ حضرت عباس ؑنے اپنے بھائی حسین ؑکے ماتھے کو چوما اور نہر فرات کی طرف بڑھے فوج اشقیا کی صفوں کو چیرتےہوئے نہر فرات تک پہنچے ، مشکیزہ کو پانی سے بھرا خود بھی تو پیاسے تھے ایک چلو پانی کالیا اور پینےکاارادہ کیا «فذکر عطش الحسین علیه السلام و من معه فرقی الماء» ایک دفعہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھ موجود افراد(چھوٹے چھوٹے بچوں) کی پیاس یاد آئی ۔ پانی کو نہر فرات میں پھینک دیااور اپنے نفس سے یوں مخاطب ہوئے: «یا نفس من بعد الحسین هونی و بعدہ لا کنت ان تکونی وهذا الحسین وارد المنون وتشربین باردالمعین ، تاﷲ ما هذا فعال دینی» ای نفس حسینؑ کے بعد ذلت و خواری تر ی نصیب ہو’ حسینؑ کے بعد زندہ رہنے کے لیے تو باقی نہ رہے۔حسین علیہ السلام (تشنگی کی وجہ سے) موت کے دھانے پرجا پہنچے ہیں اور تو ٹھنڈا پانی پی رہاہے ، خدا کی قسم یہ کام عباس کے دین اور آئین(وفا) میں شامل نہیں، پھر ایک نعرہ لگاتے ہوئے فرمایا:« واﷲ لا اذوق الماء وسیدی الحسین عطشانا» اﷲ کی قسم میں پانی نہیں پیتا در حالیکہ میرے آقا حسین علیہ السلام پیاسے ہیں ۔


ایک فارسی شاعر نے زبان عباس ؑکو یوں رقم کیا ہے۔

       عباس بی وفا تو نبودی کنون چہ شد

                                نوشی تو آب ماندہ حسینیت در انتظار

                                                 

      عباس تو بے وفا نہیں تھے ابھی تجھ کو کیا ہوا

   تو پانی پیے جبکہ تیرا حسینؑ پیاسا تیرے انتظار میں ہے

 


وفاداری عباسؑ پر دشمن کا اعتراف

حضرت عباسؑ کی وفاداری اتنی عظیم تھی کہ دشمن بھی اس پر اعتراف کرنے لگا’ اور ان کا پلید ترین دشمن بھی اس سے انکار نہیں کرسکا۔ چنانچہ جب وسائل غارت شدہ کو شام میں یزید کے پاس لے جایا گیا ان وسائل میں ایک بڑا علم بھی تھا جس کا کوئی بھی حصہ تیروں اور تلواروں کے زخموں سے خالی نہیں تھا لیکن اس علم کا دستگیرہ (قبضہ) بالکل سالم تھا، یزید نےپوچھا اس علم کو کون اٹھاتا تھا؟ کہا گیا یہ علم ’عباس بن علی کا ہے۔ یزید تعجب سے تین بار اس علم کی تعظیم میں کھڑے ہوکر بیٹھا اور کہا «انظروا الی هذا العلم فانه لم یسلم من الطعن و الضرب الا مقبض الید التی تحمله» یعنی اس علم کو دیکھیے نیزوں اور تلوار کی چوٹوں سے اس کا کوئی حصہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، سوائے دستگیرہ کے جس کو علمدار اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر اٹھاتے تھے۔ (یعنی صرف قبضہ علم ضربات سے محفوظ رہا ہے) قبضہ علم کا سالم رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ علمدار نے تیروں ، نیزوں اور تلواروں کی تمام ضربات کو جو ہاتھوں پر آتے تھے تحمل کیا ہے اور علم کو گرنے نہ دیاہے۔ تب یزید نے کہا « بیت اللعن یا عباس هکذایکون وفاء الاخ لاخیه » اے عباس لعن اور ملامت (ننگ و عار)کو اپنے سے کوسوں دور کر دیا (یعنی لعن اور ملامت تجھے پر نہیں ججتی ہے)بے شک بھائی کی بھائی سے وفاداری ایسی ہی ہونی چاہیے‏۔

ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔

      پنج امامی کہ تو را دیدہ اند

                          دست علم گیر تو بوسیدہ اند

     چشم خداوند چو دست تو دید

                        بوسہ زد و اشک زچشمش چکید

 


اے عباس تجھ کو پانچ اماموں ؑنے دیکھا ہے اور علم اٹھانے والے تیرے بازووں کا بوسہ لیتے ہیں۔عین اﷲ (حضرت علیؑ) نے جب قنداقے کو اٹھایا اور تربے بازووں پر ان کی نظر لگی تو انکھیں آنسووں سے نمناک ہوئیں۔

حضرت عباس کی وفاداری ائمہ علیہم السلام کی نگاہ میں

ائمہ معصومین علیہم السلام نے حضرت عباس علیہ اسلام کے متعلق بہت کچھ بیان فرمایا ہے اور معصوم کی زبان سے نکلی ہوئی بات مبالغہ آرائی اور غیر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ قول معصوم حقیقت کو بیان کرتا ہے ۔ ذیل میں چند ایک نمونے بطور مختصر بیان کرتے ہیں؛

١۔امام زین العابدین علیہ السلام خود کربلا میں موجود تھے امام حسینؑ اور ان کے یارو انصار کی شہادت کے بعد مخدرات عصمت اور ننےدمنھے بچوں کو کوفے اور شام کے بازاروں اور درباروں میں سہارا دیا ۔ آپ ہی تو کربلا میں اپنے چچا عباس کی وفا داریوں کے چشم دیدہ گواہ تھے۔آپ علیہ السلام حضرت عباسؑ کی وفا کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں: «رحم اﷲ عمی العباس فلقد آثر وابلی وفدی اخاہ بنفسه حتی قطعت یداهٰ» خدا رحمت کرے میرے چچا عباسؑ پر کہ جنہوں نے حقیقی طور پر ایثار ، جانبازی اور وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بھائی کی خاطر اپنی جان فدا کی اور اپنے دونوں بازووں کو ان کے راہ میں کٹوایا۔

٢۔امام صادق علیہ السلام حضرت عباسؑ کی وفاداری اور فداکاری کو بیان کرتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں۔«اشهد لقد نصحت ﷲ و لرسوله ولا خیک فنعم الاخ المواسی» میں شھادت دیتا ہوں کہ تو نے خدا، اس کے رسول ﷺاور اپنے بھائی کے ساتھ بہترین نیکی اور خیر خواھی کی، پس آپ (اے عباسؑ)کس قدر اچھا فداکار اور وفادار بھائی تھے۔

٣۔حضرت عباس علیہ السلام کی فداکاری اور وفاداری کا تذکرہ امام زمانہ (عج اﷲتعالی فرجه الشریف)نے زیارت ناحیہ مقدسہ کے اندر یوں بیان کیا ہے:

«السلام علی ابی الفضل العباس المواسی اخاه بنفسه» ؛ (میرا سلام ہو ابو الفضل العباس ؑپر کہ جنہوں نے اپنے بھائی کے لیے اپنی جان کی قربانی پیش کرکے ایثار اور وفاداری کا اعلی مظاہرہ کیا۔)

واقعہ کربلا اور عباس بن علی

واقعہ کربلا کے وقت عباس بن علی کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ حسین بن علی نے آپ کو لشکر کا علمبردار قراردیا۔ اِسی وجہ سے آپ کا ایک لقب علمدار کربلا بھی مشہور ہے۔ آج ساری دُنیا میں جگہ جگہ شہداء کربلا کی یاد منائی جاتی ہے۔ مجلسِ عزَا وجلوس عزاداری میں کربلا کے علم کی شبیہ اور شبیہ ذوالجناح کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ حسین بن علی کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے زیادہ تھی مگر عباس بن علی کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس بن علی جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امامؑ وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق، عباس بن علی کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباسؑ کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہو گئے آپ نے بڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔

روضۂ عباس

شہادت

10 محرم کو حسین بن علی نے ان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی حضرت سیدہ سکینہ الحسین کے لیے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دیے اور شہادت پائی۔ اس دوران میں ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت ﷺ پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی عباس بن علی کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔[1] ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔ جو ایک دُنیا کا زندہ معجزہ ہے۔

سلام کرتا ہے مُحسن اور سارا زمانہ اس باب الحوائج قمرِ بنی ہاشم کو ۔۔۔۔۔

ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے

سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے۔

مزار

کربلا میں حضرت عباس کے روضے کے نو دروازے ہیں۔ روضہ حسین کے دروازوں کی طرح ان سب کے بھی مختلف نام ہیں اور ان سب پر مختلف طرح سے سلام کیا گیا ہے۔

  1. مرکزی دروازے کا نام باب قبلہ ہے اور اس پر السلام علیک یا ابا الفضل العباس لکھا ہوا ہے۔ فضل حضرت عباس کے بیٹے کا نام تھا۔ یہ دروازہ قبلہ رخ ہے۔
  2. ایک دروازے کا نام باب الامام الحسن ہے اور اس پر السلام علیک یا بن امیر المومنین لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے مومنوں کے امیر کے فرزند، آپ پر سلام۔ اہل تشیع حضرت علی کو امیر المومنین کہتے ہیں اور کسی اور کو اس نام سے یاد نہیں کرتے۔
  3. ایک دروازے کا نام باب الکف ہے۔ کف عربی میں ہاتھ میں کہتے ہیں۔ کربلا میں حضرت عباس کو شہید کرنے سے پہلے ان کے بازو قطع کیے گئے تھے۔ اس دروازے کے سامنے وہ مقام ہے جو حضرت عباس کا بایاں ہاتھ شہید ہونے کی یاد میں بنایا گیا۔ اسے باب امام علی بھی کہا جاتا ہے۔ اس پر السلام علیک ایھا العبد الصالح لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے اللہ کے نیک بندے، آپ پر سلام۔
  4. ایک دروازے کا نام باب العلقمیٰ ہے۔ اسے باب فرات اور باب علی بن موسی الرضا بھی کہتے ہیں۔ دریائے فرات کی جو نہر کربلا تک آتی تھی، اس کا نام علقمہ تھا۔ جنگ اسی نہر کے قریب ہوئی تھی۔ اب وہ نہر خشک ہوچکی ہے۔ اس مقام پر جو سڑک ہے، اس کا نام شارع علقمہ رکھ دیا گیا ہے۔ اس دروازے پر السلام علیک یا ساقی عطا شیٰ کربلاء لکھا ہوا ہے۔ ساقی کا مطلب ہے پانی پلانے والا۔ حضرت عباس نے عاشور سے پہلے کئی بار یزیدی فوج کا گھیرا توڑ کر کربلا کے پیاسوں کو پانی پلایا تھا۔
  5. ایک دروازے کا نام باب امام علی الھادی ہے۔ عراق میں جنھیں علی الہادی کہا جاتا ہے، پاکستان اور ہندوستان کے لوگ انھیں امام علی نقی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ اثنا عشری اہل تشیع کے دسویں امام تھے۔ نقوی انھیں کی ولاد میں سے ہیں۔ اس دروازے پر السلام علیک یا حامل لواء الحسین لکھا ہوا ہے۔ حامل لواء کا مطلب ہے، علم دار۔ سپہ سالار۔ یعنی اے حسینی لشکر کے علم دار، آپ پر سلام۔
  6. ایک دروازے کا نام باب الامام محمد جواد ہے۔ عراق میں جنھیں امام محمد جواد کہا جاتا ہے، پاکستان اور ہندوستان میں لوگ انھیں امام محمد تقی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ اثنا عشری اہل تشیع کے نویں امام تھے۔ اس دروازے پر السلام علیک یا قمر بنی ہاشم لکھا ہوا ہے۔ پاکستان کے جلوس میں اٹھائے گئے علموں پر اکثر قمر بنی ہاشم لکھا ہوا دیکھنے کو ملتا ہے۔ حضرت عباس نہایت خوبصورت اور وجیہ تھے اس لیے انھیں یہ لقب دیا گیا۔ یعنی اے بنی ہاشم کے چاند، آپ پر سلام۔
  7. ایک دروازے کا نام باب الامام موسیٰ الکاظم ہے۔ امام موسیٰ کاظم اثنا عشری اہل تشیع کے ساتویں امام تھے۔ اس دروازے پر السلام علیک یا باب الحوائج لکھا ہوا ہے۔ باب الحوائج کا مطلب ہے، ایسا دروازہ جہاں حاجتیں پوری کی جاتی ہوں۔ یعنی اے حاجتیں پوری کرنے والے، آپ پر سلام۔ اہل تشیع چار شخصیات کو باب الحوائج کہتے ہیں جن میں امام موسیٰ کاظم اور حضرت عباس دونوں شامل ہیں۔
  8. ایک دروازے کا نام باب الامام صاحب الزماں ہے۔ امام صاحب الزماں کا مطلب ہے دور حاضر کے امام۔ یعنی اہل تشیع کے بارہویں امام مہدی۔ اس دروازے پر السلام علیک یا من وفیٰ ببیعتہ لکھا ہوا ہے۔ حضرت عباس کا نام وفا سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی اے اپنی بیعت سے وفا کرنے والے، آپ پر سلام
  9. ایک دروازے کا نام باب الامام الحسین ہے۔ یہ روضہ حسین کی طرف کھلتا ہے۔ اس پرالسلام علیک یا من مضیٰ علیٰ بصیرۃ من امرہ لکھا ہوا ہے۔ یعنی اے ہر کام میں بصیرت اختیار کرنے والے، آپ پر سلام۔

اولاد و نسل

عباس بن علی کی اولاد اِس وقت دُنیا کے کافی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ آپ علوی سید ہیں۔ اِس لیے آپ کی اولاد دُنیا میں سادات علوی کے نام مشہور و معروف ہے۔ سادات علوی کی آ گئے مختلف شاخیں ہیں۔ اِسی لیے آپ کی اولاد عرب وعراق میں ‘‘ سادات علوی ‘‘ مصر میں ‘‘ سادات بنی ہارون ‘‘ اردن میں ‘‘ سادات بنو شہید ‘‘ یمن میں ‘‘ سادات بنی مطاع ‘‘ ایران میں ‘‘ سادات علوی ابوالفضلی ‘‘ اور برصغیر پاک وہند میں ‘‘ سادات علوی المعروف اعوان قطب شاہی ‘‘ کے عنوان سے مشہور و معروف ہے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. بسطامی، تحفہء حسینیہ، صفحہ 78۔ عربی

2 . قہرمان علقمه ص٤٢

3 . زینب کبری ص١٢

4 ۔ نہج البلاغہ، خط نمبر،٥٣

5 . مزارسرایر(ابن ادریس)، المقاتل (ابوالفرج اصفهانی) ، الانوار النعمانیه (سیدجزایری) ، تاریخ الخمیس ج2ص317(ابوالحسن دیاربکر).

6 . تنقیح المقال ج ٢ ص١٢٨

7 ۔ حماسہ حسینی ج ٢ ص ١١٨

8 ۔ مفاتیح الجنان،زیارت حضرت عباسؑ

9۔مفاتیح الجنان ،زیارت ناحیه

10 . العباس، عبدلرزاق الموسوی المقرم ص ٨١

11 . الکافی ج ١ ص ٢٢

12. الکافی ج ٢ ص ٤٢

13 . سورہ بقرہ٤٠

14 . مقتل مقرم ،ص ٢٦٩

15 . الذریعہ، ص١٢٤

16 .مفاتیح الجنان ، زیارت نامه حضرت عباس

17 .ایضاً

18 . معالی السمطین ج ١ ص ٢٧٠،نفس المھوم ص٧٧ا

19 . وقایع الایام ، ویژہ محرم ص ٢٦٤

20 . منتخب التواریخ ص٢٥٨، منتخب المیزان الحکمہ ص ٤٠٠

21 . کبیرت الاحمر ،ص ١٥٩، منتخب التواریخ ،ص ٢٥٨

22۔ناسخ التواریخ َ’ج٢ ’ص٤٥ ٣

23 . بحارالانوار ،ج ٤٥، ص٤١ ، ترجمہ مقتل ابی مخنف ،ص ٩٧

24 . سوگنامہ آل محمد ،ص ٣٠٠

25 . بحارالانور، ج٤٤ ص٢٩٨، تنقیح المقال، ج٢ ص١٢٨

26 . ایضا

27 . مفاتیح الجنان،زیارت ناحیه