عبد اللہ بن عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد اللہ بن عبد المطلب
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 545  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 570 (24–25 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت المعلیٰ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ آمنہ بنت وہب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد عبد المطلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ فاطمہ بنت عمرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ بیوپاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عبداللہ ابن عبدالمطلب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد تھے۔ آپ 545ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا اور ان کا نسب عبداللہ کے ساتھ مرہ بن کعب پر جا کر مل جاتا ہے۔ آپ دینِ حنیف (دینِ ابراہیمی) پر قائم تھے۔ اگرچہ ان کے اسلام کے بارے میں مختلف آراء ہیں مگر یقینی طور پر ان کی بت پرستی اور کسی اخلاقی برائی (جو ان دنوں عرب میں عام تھیں) کی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی۔

اہل تشیع کا نظریہ[ترمیم]

اہلِ تشیع کے مطابق آپ مومن تھے اور اسلام پر قائم تھے جو اس وقت دینِ ابراہیمی کی صورت میں موجود تھا۔ آپ اپنی خوبصورتی کے لیے بے انتہا مشہور تھے اور بہت خواتین نے ان کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی یا ان سے عقد کی خواہش کی مگر پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ بننے کی سعادت آمنہ بنت وہب کی قسمت میں لکھی تھی۔ جو بنی زہرہ کے سردار کی بیٹی تھیں۔

وفات[ترمیم]

عبداللہ ابن عبدالمطلب بہت کم عمری (تقریباً پچیس سال) کی عمر میں 570ء میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیدائش سے تقریباً چھ ماہ پہلے مدینہ اور مکہ کے درمیان میں سفر کرتے ہوئے وفات پا گئے۔ وہ شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام کو روانہ ہوئے تھے مگر یثرب(مدینہ) میں بیماری کی وجہ سے آرام کرنے کے لیے رک گئے تھے۔ جب شام کا تجارتی قافلہ مکہ واپس آیا تو عبدالمطلب اور آمنہ بنت وہب نے عبد اللہ کو نہ پایا۔ انہیں پتہ چلا کہ وہ یثرب(مدینہ) میں بیمار ہو کر رک گئے تھے۔ عبدالمطلب نے اپنے ایک بیٹے حارث بن عبدالمطلب کو مدینہ بھیجا تاکہ وہ عبداللہ کو لے آئیں مگر وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ عبداللہ ان کا نام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لفظ اللہ اسلام سے پہلے بھی رائج تھا اور اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ اور ان کے والد یا خاندان اللہ پر یقین رکھتا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]