قریش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بنو قریش یا قریش مکہ کا ایک اہم ترین قبیلہ تھا۔ خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تعلق اسی قبیلے کی ایک شاخ بنو ھاشم سے تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جدِ امجد قصی ابن کلاب کی اولاد کو قریش کہا جاتا ہے۔ چونکہ قصی ابن کلاب نے اہل عرب کو ایک مرکز پر جمع کیا اس لیے وہ قریش کہلائے کیونکہ تقرش کا مطلب عربی میں جمع کرنے کے اور قصی عرب کو جمع کرنے والے تھے۔[1] تاریخ طبری کے مطابق قصی ابن کلاب وہ پہلے شخص ہیں جنہیں قریش کہا گیا۔[2]۔ عبدالملک بن مروان کا کہنا ہے کہ قصی ابن کلاب سے پہلے کوئی قریش نہیں تھا۔[3]


قریش کے سردار[ترمیم]

شاخیں[ترمیم]

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش سے قبل بھی عرب کے تمام قبیلوں میں خاندانِ قریش کو خاص امتیاز حاصل تھا۔ خانہ کعبہ جو تمام عرب کا دینی مرکز تھا اس کے متولی یہی قریش تھے اور مکہ مکرمہ کی ریاست بھی انہی سے متعلق تھی ۔ قبیلہ قریش کی بڑی بڑی شاخیں مندرجہ ذیل تھیں:

  1. بنو ہاشم
  2. بنو امیہ
  3. بنو نوفل
  4. بنو عبدالدار
  5. بنو اسد
  6. بنو تیم
  7. بنو مخزوم
  8. بنو عدی
  9. بنو عبد مناف
  10. بنو سہم

ان کے علاوہ دیگر شاخیں بھی ہیں۔

ذمہ داریاں[ترمیم]

مکہ معظمہ کی تمام ذمہ داری کے عہدے انہی شاخوں میں بٹے ہوئے تھے ان عہدوں اور ان کے متعلقین کی تفصیل درج ذیل ہے:

1 ۔ سداتہ ، یعنی کعبہ کی حفاظت اور اس کی خدمت ، محافظ کعبہ ہی کے پاس کعبہ کی کنجی رہتی تھی اور وہی لوگوں کو اس کی زیارت کراتا تھا۔یہ عہدہ بنی ہاشم کے خاندان میں تھا اور نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے زمانہ میں آپ کے دادا عبدالمطلب اس عہدے پر مقرر تھے ۔

2 ۔ سقایہ ، یعنی پانی کا انتظام ، مکہ معظمہ میں پانی کی قلت تھی اور موسم حج میں ہزارہا زائرین کے جمع ہو جانے کی وجہ سے پانی کا خاص انتظام کیا جاتا تھا۔اس کی صورت یہ تھی کہ چمڑے کے حوض بنوا کر اُنہیں صحنِ کعبہ میں رکھ دیا جاتا تھا اور اُس کے آس پاس کے پانی کے چشموں سے پانی منگوا کر اُنہیں بھر دیا جاتا تھا۔ جب تک چاہِ زمزم دوبارہ صاف نہ ہو گیا یہ دستور جاری رہا۔سقایہ کی خدمت بنی ہاشم سے متعلق تھی۔

3 ۔ رفادہ زائرین ، کعبہ کی مہمانداری کے لئے قریش کے تمام خاندان ایک قسم کا چندہ ادا کرتے تھے اس چندہ سے غریب زائرین کے کھانے پینے کا انتظان کیا جاتا تھا یہ خدمت پہلے بنی نوفل سے متعلق تھی پھر بنی ہاشم کے حصے میں آئی۔

4 ۔ عُقاب ، یہ قریش کے قومی جھنڈے کا نام تھا جب لڑائی کا زمانہ ہوتا تھا تو اسے نکالا جاتا تھا اگر اتفاق رائے سے کوئی معزز شخص جھنڈا اُٹھانے کے لئے تجویز ہو گیا تب تو اسے دے دیا جاتا تھا ورنہ جھنڈے کا محافظ جو بنو امیہ کے خاندان میں سے ہوتا تھا، یہ خدمت انجام دیتا تھا۔

5 ۔ ندوہ ، یہ مکہ کی قومی اسمبلی تھی۔ قریش مشورہ کرنے کے لئے یہیں جمع ہوتے تھے یہیں جنگ و صلح اور دوسرے بڑے بڑے معاملات کے فیصلے ہوتے تھے اور قریش کی شادیاں بھی یہیں ہوتی تھیں ( ندوہ ) کا انتظام بنی عبدالدار سے متعلق تھا۔

6 ۔ قیادہ ، یعنی قافلہ کی راہنمائی ، جس شخص سے یہ منصب متعلق ہوتا تھا اسے خاص معاملات میں مشورہ لیا جاتا تھا۔قریش کسی معاملہ کا آخری فیصلہ کرنے سے پہلے مشیر کی رائے ضرور حاصل کر لیتے تھے۔یہ منصب بنی اسد سے متعلق تھا۔

7 ۔ قبہ ، جب مکہ والے لڑائی کے لئے نکلنے کا ارادہ کرتے تو ایک خیمہ نصب کیا جاتا اس خیمہ میں لڑائی کا سامان جمع کر دیا جاتا تھا۔یہ ذمہ داری بھی قریش کے کسی خاندان سے متعلق ہوتی تھی۔

8 ۔ حکومہ ، یعنی آپس کے لڑائی جھگڑوں کا فیصلہ کرنا ،

9 ۔ سفارہ ، یعنی ایلچی گری ، جب کسی دشمن قبیلہ سے صلح کی بات چیت ہوتی تو کسی سمجھ دار آدمی کو اس کام کے لئے مقرر کیا جاتا۔ابتدا اسلام میں قریش کے آخری سفیر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ بن خطاب تھے۔

اس تفصیل سے معلوم ہو گیا کہ ، قریش ، عرب کا سب سے زیادہ معزز قبیلہ تھا۔ پھر قریش میں بھی بنی ہاشم کا خاندان سب سے زیادہ ممتاز تھا کیونکہ اکثر بڑے بڑے عہد انہی سے متعلق تھے۔


مزید دیکھئے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ عقد الفرید از علامہ بدربہ
  2. ^ تاریخ طبری طبع مصر جلد ۲ صفحہ ۱۸۸
  3. ^ فتح الباری فی شرح البخاری صفحہ ۳۰۲
  4. ^ 4.0 4.1 سانچہ:Hadith-usc
  5. ^ 5.0 5.1 M Pacuk.
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=قریش&oldid=720332’’ مستعادہ منجانب