حکیم بن حزام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حکیم بن حزام صحابی رسول کنیت ابو خالد، ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے بھتیجے تھے۔ اکثر مسلمان علما کے نزدیک ان کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی (وَلَمْ يُولَدْ قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ فِي الْكَعْبَةِ أَحَدٌ) اس سے پہلے اور بعد کسی کی ولادت کعبہ میں نہ ہوئی۔[1] حکیم بن حزام کی پیدائش کی صحیح روایات بکثرت موجود ہیں جن میں سے چند ایک صحیح مسلم، تاریخ الکبیر امام بخاری، مسند امام شافعی، البدایہ والنہایہ،تاریخ الخمیس، اسد الغابہ وغیرہ ہیں۔

کعبہ میں پیدائش[ترمیم]

کعبہ میں حکیم بن حزام کی پیدائش کے علاوہ کسی اور کی پیدائش نہ پہلے اور نہ بعد میں ہوئی۔

  • حكيم بن حزام ولد في جوف الكعبۃ، ولا يعرف ذلك لغيره. وأما ما روي أن عليا ولد فيها فضعيف عند العلماء۔[2] حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور یہ بات کسی دوسرے کے متعلق سننے میں نہیں آئی اور اس قول کے متعلق کہ حضرت علی کی ولادت کعبہ میں ہوئی علما کے نزدیک یہ قول ضعیف ہے۔
  • وذكر أبو الفرج بن الجوزي في كتابہ «مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن»: وقول من قال: إن علي بن أبي طالب ولد في جوف الكعبۃليس بصحيح، لم يولد فيها غير حكيم۔[3] علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب مثیر العزم الساکن الی اشرف الاماکن میں اس قول کے بارے کہاکہ حضرت علی بن طالب کی ولادت کعبے میں ہوئی یہ صحیح نہیں حکیم بن حزام کے علاوہ کوئی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔
  • ولد حكيم فى جوف الكعبۃ، ولا يُعرف أحد ولد فيها غيره [4] حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور یہ بات کسی دوسرے کے متعلق سننے میں نہیں آئی۔
  • أنہ ولد في جوف الكعبہ، قال العلماء : ولا يعرف أحد شاركہ في هذا [5] حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور یہ بات کسی دوسرے کے متعلق سننے میں نہیں آئی۔
  • ولم يولد في جوف الكعبۃ سوى حكيم بن حزام [6] اور کوئی حکیم بن حزام کے علاوہ کعبے میں پیدا نہیں ہوا۔
  • أنہ ولد في جوف الكعبۃ، ولا يُعرف هذا لغيره

وولد فِي جوف الكعبۃ، ولم يُسمع هَذَا لغيره[7] حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور یہ بات کسی دوسرے کے متعلق سننے میں نہیں آئی اور نہ کسی کی پہچان ہے۔[8][9][10][11][12][13][14] حكیم بْن حزام بْن خویلد بن أسد بن عبد العزى بن قصی، القرشی الأسدی پورا نسب ہے ان کی والدہ کا نام صفیہ تھا اور بعض جگہ فَاخِتَةُ بِنْتُ زُهَیْرِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ہے۔

یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے۔ زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام میں معزز لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔ مؤلفۃ القلوب میں سے تھے انہیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 100 اونٹ غزوہ حنین میں عطا فرمائے ایک سو بیس برس زندہ رہے۔ 54 ہجری میں خلافت امیر معاویہ میں وفات ہوئی۔ غزوۂ بدر میں کفار کی طرف سے شامل ہوئے اور بھاگ کر بچ گئے قسم کھاتے تھے قسم ہے اس کی جس نے مجھے بدر کے دن بچایا۔ دارلندوہ انہی کے پاس تھا ۔[15]

فتح مکہ کے موقع پر اعلان کیا گیا

‘‘جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگا اس کو امان ہے اور جو شخص حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہوگا اس کو امان ہے اور جو شخص مسجد میں داخل ہوگا اس کو امان ہے اور جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا اس کو امان ہے۔[16]

زید بن حارثہ کو سوق بنی عکاظ سے (جو مکہ معظمہ کے قریب ایک بازار لگتا تھا) اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ (رض) کے لیے چار سو درہم میں خریدا، جب حضرت خدیجہ (رض) نے انہیں اپنا بیٹا بنا لیا تو انہیں زید بن محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نام سے بلایا جانے لگا۔[17]

عروہ بن حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان چیزوں کے متعلق مجھے بھی بتلائیں جو میں جاہلیت کے زمانے میں کرتا تھا۔ مثلا صدقہ، غلام آزاد کرنا، صلہ رحمی تو کیا ان پر بھی اجر ملے گا تو اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنی انہی پچھلی نیکیو ں کی وجہ سے ہی تو مسلمان ہوا ہے۔[18]

حکیم بن حزام نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ مانگا۔ تو آپ نے دیا۔ میں نے پھر مانگا تو آپ نے دیا۔ پھر فرمایا کہ اے حکیم یہ مال سرسبز وشاداب اور میٹھا ہے، جو اس کو سخاوت نفس کے ساتھ لے۔ تو اس میں برکت دی جاتی ہے اور جو لالچ کے ساتھ اس کو لے تو اس میں برکت نہیں رہتی اور اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حکیم نے کہا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قسم اس ذات کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا۔ اب آپ کے بعد کسی سے کچھ قبول نہیں کروں گا، یہاں تک کہ میں دنیا سے چلا جاؤں۔ حضرت ابوبکر (رض) ان کو (وظیفہ) دینے کے لیے بلاتے، تو وہ قبول کرنے سے انکار کردیتے۔ پھر عمر (رض) نے ان کو (وظیفہ ) دینے کے لیے بلایا تو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ عمر (رض) نے فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت میں تمہیں حکیم پر گواہ بناتا ہوں کہ میں اس مال میں سے حکیم کا حق اس کے سامنے پیش کرچکا ہوں، لیکن وہ لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ چنانچہ حکیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی شخص سے کچھ بھی قبول نہ کیا یہاں تک کہ وفات پاگئے۔[19]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. المستدرك على الصحیحین المؤلف: أبو عبد الله الحاكم نیشاپوری ،ناشر: دار الكتب العلمیہ بیروت
  2. السيرة الحلبية۔إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون، أبو الفرج، نور الدين ابن برهان الدين حلبی
  3. إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال، أبو عبد الله، علاء الدين
  4. تهذيب الأسماء واللغات: أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي
  5. فوائد مختارة من النووي جمع واختيار: سليمان بن محمد اللهيميد
  6. : شرح صحيح الإمام البخاري، شمس الدين محمد بن عمر بن أحمد السفيري الشافعي
  7. شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى،محمد بن علي بن آدم بن موسى الإثيوبي الوَلَّوِي
  8. حَكِيم هَذَا ولد فِي جَوف الْكَعْبَۃ وَلَا يعرف أحد ولد فِيهَا غَيره،البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعۃ في الشرح الكبير: ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمر بن علي بن أحمد الشافعي المصري
  9. قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ: كَانَ مَوْلِدُ حَكِيمٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَۃ۔ قَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ: وَلَا يُعْرَفُ ذَلِكَ لِغَيْرِهِ، وَمَا وَقَعَ فِي مُسْتَدْرَكِ الْحَاكِمِ مِنْ أَنَّ عَلِيًا وُلِدَ فِيهَا ضَعِيفٌ،تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي: عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطی
  10. قال الزبير بن بكار كان مولد حكيم في جوف الكعبۃ۔ قال شيخ الإسلام ابن حجر: ولا يعرف ذلك لغيره،الوسيط في علوم ومصطلح الحديث: محمد بن محمد بن سويلم أبو شُهبة
  11. ثُمَّ حَكِيمٌ مُفْرَدٌ بَأَنْ وُلِدْ ... بِكَعْبَةٍ وَمَا لِغَيْرِهِ عُهِدْ۔ شرح أَلْفِيَّةِ السُّيوطي : الشيخ محمد ابن العلامۃ علي بن آدم ابن موسى الأثيوبي الولوي
  12. حكيم بن حزام المولود في جوف الكعبۃ، ولا توجد هذه الخصيصۃ إلا لہ۔ شرح ألفيۃ العراقي : أبو الفضل زين الدين عبد الرحيم العراقي
  13. وَكَانَ وُلِدَ فِي جَوْفِ الْكَعْبَۃوَلَمْ يَصِحَّ أَنَّ غَيْرَهُ وُلِدَ فِي الْكَعْبَةِ۔ المجموع شرح المهذب : أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي
  14. وولد حكيم في جوف الكعبة كما سلف، ولا نعرف من ولد بها غيره وأما ما روي أن علياً ولد في جوفها فلا يصح۔ الإعلام بفوائد عمدة الأحكام: ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمر بن علي بن أحمد الشافعي المصري
  15. اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ابن اثیر ،جلد سوم صفحہ-597، المیزان پبلیکیشنز۔ لاہور
  16. الکامل فی التاریخ ج 2 ص166 مطبوعہ دارالکتب العربیہ، بیروت
  17. تفسیر انوارالبیان، مولانا عاشق الہٰی ،سورہ الاحزاب،آیت36
  18. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1380
  19. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1415