ابو لبابہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو لبابہ
رفاعہ بن عبدالمنذر
ابو لبابہ
معلومات شخصیت
پیدائشی نام رفاعہ بن عبد المنذر
پیدائش سنہ 580ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 660ء (79–80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب اوسی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ احد  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو لبابہ بن عبد المنذر انصار مدینہ میں سے ہیں اور قبیلہ اوس کے سرداروں میں سے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

رفاعہ نام، ابو لبابہ کنیت، قبیلہ اوس سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے، رفاعہ ابن عبدالمنذر بن زبیر بن امیہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس ہے۔ [1]

اسلام[ترمیم]

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عقبہ ثانیہ میں اسلام لائے اور نقیب بنائے گئے۔

غزوات[ترمیم]

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر غزوات میں شرکت کی، غزوۂ بدر میں خاص امتیاز حاصل ہوا، ہر اونٹ پر 3، 3 آدمی سوار تھے، ابو البابہؓ جس اونٹ پر تھے وہ شہنشاہ زماں کا موکب ہمایوں تھا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی پر تھے، وہ لوگ باری باری چڑہتے اترتے تھے،جب آنحضرت کے اترنے کی باری آتی تو جان نثار عرض کرتے کہ آپ سوار رہیں ہم پیدل چلیں گے، لیکن آنحضرت فرماتے کہ تم مجھ سے زیادہ پیدل چلنے پر قادر نہیں اورنہ میں تم میں سے زیادہ ثواب سے مستغنی ہوں۔ [2] مدینہ سے دو دن کی مسافت پر روما ایک مقام ہے وہاں پہنچ کر آنحضرت ﷺ نے ابو لبابؓہ کو مدینہ پر اپنا نائب مقرر کرکے واپس کر دیا اور غنیمت میں جس طرح مجاہدین کا حصہ لگایا تھا ان کا بھی لگایا۔

غزوہ قینقاع اورغزوہ سویق میں بھی وہی مدینہ پر آنحضرت کے جانشین تھے، [3] میں آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل قریظہ کا جو یہودی تھے اور اسلام کے سخت دشمن تھے، محاصرہ کیا یہ لوگ قبیلہ اوس کے حلیف تھے،اس بنا پر انھوں نے ابولبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشورہ کے لیے بلایا یہ وہاں پہنچے تو یہود نے بڑی تعظیم کی اور ان کے سامنے اصل مسئلہ پیش کیا، یہودیوں کی عورتیں اور بچے روتے ہوئے سامنے نکل آئے، یہ عجیب درد ناک سماں تھا، اس کو دیکھ کر دل بھر آیا اور کہا کہ میرے خیال میں تم کو آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم مان لینا چاہیے، گلے کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ نہ ماننے کی صورت میں قتل کر دیے جاؤ گے، کرنے کو تو اشارہ کر گئے؛ لیکن جب یہ خیال آیا کہ خدا اور رسول اللہ کی خیانت ہوئی تو پیروں کے نیچے کی زمین نکل گئی، وہاں سے اٹھ کر مسجد نبوی میں آئے اور ایک موٹی اور وزن دار زنجیر سے اپنے کو ایک ستون میں باندھا کہ جب تک خدا تو بہ قبول نہ کرے اس طرح بندھا رہوں گا۔

زیادہ عرصہ گذرا تو آنحضرت نے لوگوں سے دریافت کیا، قصہ معلوم ہونے پر فرمایا، خیر جو کچھ ہوا اچھا ہوا، اگر وہ میرے پاس آجاتے تو میں خود استغفار کرتا غرض 7، 8 روز اسی طرح گذرے نماز اور حوائج ضروریہ کے لیے زنجیر کھول لیتے تھے اس سے فراغت کے بعد ان کی لڑکی پھر باندھ دیتی، کھانا پینا بالکل ترک تھا، کانوں سے بہرے ہو گئے، آنکھیں بھی معرضِ خطر میں پڑگئیں اور ناطاقتی سے بیہوش ہوکر زمین پر گر گئے اس وقت رحمتِ الہی کے نزول کا وقت آیا۔ آنحضرت حضرت ام سلمہؓ کے مکان میں تھے کہ طلوع فجر سے پیشتر آیت تو بہ اتری آپ فرط مسرت سے مسکرا اٹھے، حضرت ام سلمہؓ نے کہا یا رسول اللہ!خدا آپ کو ہمیشہ ہنسائے، بات کیا ہے؟فرمایا ابو لبابہ کی توبہ قبول ہو گئی، اتنا کہا تھا کہ یہ خبر تمام شہر میں مشہور ہو گئی، لوگ ابو لبابہؓ کو کھولنے آئے، انھوں نے کہا کہ جب آنحضرت صل اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خود آ کر کھولیں گے اس وقت یہاں سے ہٹوں گا ؛چنانچہ نماز صبح کے لیے جب آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد تشریف لائے تو خود اپنے دست مقدس سے حضرت ابو لبابہ کو کھولا۔

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مسرت طاری تھی کہ درخواست کی کہ اپنا گھر بار چھوڑ کر آپ کے پاس رہوں گا اور اپنا کل مال صدقہ کرتا ہوں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک ثلث صدقہ کرو۔ [4] تو بہ میں یہ آیتیں نازل ہوئی تھیں: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ، وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ [5] مسلمانو! تم اللہ رسول اوراپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو؛ حالانکہ تم اس کو جانتے ہو اور خوب سمجھ لو کہ تمھارا مال اور اولاد آزمائش ہیں اور خدا کے پاس بڑا اجر ہے مسلمانو! تم ؛بلکہ خدا سے ڈرو گے تو تم کو ممتاز کرے گا اورتمہاری برائیاں دور کرے گا اور خدا بڑا فضل کرنے والا ہے۔ میں غزوہ فتح ہوا، اس غزوہ میں عمرو بن عوف کا جھنڈا ان کے پاس تھا، غزوۂ تبوک میں شریک تھے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس غزوہ میں شامل نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے اپنے کو مسجد کے ستون میں باندھا تھا، لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں، غزوہ تبوک میں جو مسلمان بلا عذر رہ گئے تھے وہ صرف 3 تھے مرارہ بن ربیع، بلال بن امیہ، کعب بن مالکؓ، چنانچہ قرآن مجید میں بھی تین ہی کا لفظ موجود ہے۔ وعلی الثلثۃ الذین خلفوا۔ [6]

وفات[ترمیم]

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے سنہ وفات میں سخت اختلاف ہے؛ لیکن اس قدر مسلم ہے کہ حضرت علیؓ کے عہد مبارک میں وفات پائی۔ [7]

اولاد[ترمیم]

دو لڑکے چھوڑے ، سائب اور عبد الرحمن ۔

فضل و کمال[ترمیم]

حضرت ابو لبابہؓ جلیل القدر صحابی تھے برسوں آنحضرت کی صحبت سے مشرف رہے تھے، اس اثنا میں بہت حدیثیں سننے کا اتفاق ہوا ہوگا، لیکن ان کی مرویات کی تعداد نہایت قلیل ہے۔ روایان حدیث کے زمرہ میں بعض اکابر صحابہ داخل ہیں، مثلاً عبد اللہ بن عمرو، تابعین کا تمام اعلیٰ طبقہ ان کی مسند فیض کا حاشیہ نشین ہے، جن میں مخصوص لوگوں کے نام یہ ہیں: عبد الرحمن بن یزید بن جابر،ابوبکر بن عمرو بن حزم، سعید بن مسیب، سلمان اغر، سعید الرحمن بن کعب بن مالک، سالم بن عبداللہ بن عمر، عبید اللہ بن ابی یزید، نافع مولی ابن عمر وسالب عبد الرحمن۔ [8]

اخلاق[ترمیم]

معمولی معمولی باتوں میں بھی حدیث نبوی پر عمل کا لحاظ رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سانپ مارنے کی حدیث سنی تھی اس کی بنا پر جہاں سانپ دیکھتے مارڈالتے تھے لیکن گھر میں نکلنے والے سانپ اس سے مستثنیٰ تھے، ابو لبابہؓ کا مکان ان کے مکان سے بالکل متصل واقع تھا، ایک روز کہا اپنے گھر کی کھڑکی کھولو، میں اسی طرف سے مسجد جاؤں گا، ابن عمرؓ اٹھے اور ادھر سے وہ بھی کھول رہے تھے پٹ کھلا تو ایک سانپ نظر آیا، عبد اللہ بن ؓعمر نے دوڑ کر مارنا چاہا، انھوں نے روکا کہ آنحضرت نے گھر کے ساپنوں کے مارنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [9] [10]

ستون ابو لبابہ[ترمیم]

رفاعہ بن عبد المنذر غزوہ خندق کے موقع پر مدینہ کے یہودیوں " بنونضیر " کے خلاف فیصلہ ہوا جنھوں نے غداری کی تھی آنحضرت کی کارروائی کے موقع پر رفاعہ نے اشارہ سے اس کارروائی کا انھیں اشارہ سے بتایا پھر خود ہی اس غلطی سے توبہ کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ایک ستوں سے باندھے رکھا تھا، چھ دن تک بندھے رہے بعد میں مسجد نبوی کے اس ستوں کو رفاعہ کی کنیت کی نسبت سے " ابولبابہ " کہا جانے لگا۔[11] [1]

حوالہ جات[ترمیم]