طخفہ بن قیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طَخْفَہ بن قیس صحابی رسول اور اصحاب صفہ میں شمار ہوتے ہیں۔
یعیش بن طخفہ فرماتے ہیں ’’کان أبي من أصحاب الصفۃ‘‘ کہ میرے والد محترم اصحابِ صفہ میں تھے ۔[1] نام طَخْفَہ، والد کا نام قیس، قبیلۂ غفار سے تعلق رکھنے کی وجہ سے غِفاری کہے جاتے ہیں علامہ ابن عبدالبر اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے طخفہ کے نام کے سلسلہ میں اختلاف نقل کیا ہے امام بخاری نے ’’ تاریخِ اوسط‘‘ میں طخفہ ہی کو راجح قرار دیا ہے ۔ طخفہ کی روایت سنن ابوداؤد ، سنن نسائی، مسند احمد اور معجم طبرانی وغیرہ میں آئی ہے اور ہرجگہ طخفہ نام آیا ہے ۔ [2] طخفہ فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم صفہ کے طالب علموں کو عائشہ صدیقہ کے گھرچلنے کاحکم دیا ہم لوگ آپ کے ساتھ چل کر ام لمؤ منین صدیقہ کے گھر پہونچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! ہم لوگوں کو کھانا کھلا ؤ! وہ دلیا کھجور یاگوشت کے ساتھ ملاکر پکاہوا کھانا لے کرآئیں ، ہم نے کھایا پھر آپ نے فرمایا: اے عائشہ ! ہمیں اور کھلاؤ! وہ کھجور، ستو، پنیر اور گھی سے تیار کردہ حریرہ لے کر آئیں ، ہم نے کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ اب ہمیں کچھ پلاؤ!تودودھ سے بھراہوا بڑاپیالہ لے کر آئیں ہم نے پیا۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کی جانب مخاطب ہوکر فرمایا:تم سونا چاہو تو سو جاؤ! اور مسجد جانا چاہو تو چلے جاؤ۔ طخفہ فرماتے ہیں : ایک دن میں مسجد نبوی میں رات کے آخری حصہ میں پیٹ کے بل سویا تھا کسی نے پیرسے مجھے حرکت دی اور کہا: اس طرح لیٹنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔میں نے کہنے والے کی جانب دیکھا تو وہ محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ [3] طخفہ صفہ کے طالب علموں کے ساتھ مدینہ منورہ میں مقیم رہے اور ان کا انتقال مدرسہ صفہ ہی میں ہوا [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سنن أبوداؤد : 2/ 678
  2. حلیۃ الأولیاء: 1/ 375
  3. حلیۃ الأولیاء: 2/ 9
  4. الاصابۃ : 7/ 255