ابوطلحہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابوطلحہ انصاری کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ تھا جو اپنے درختوں کی کثرت، پھلوں کی عمدگی اور پانی کی شیرینی کے لحاظ سے یثرب کے تمام باغوں سے اچھا تھا۔ ایک روز ابوطلحہ اس کے گھنے سائے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ اچانک ایک خوش الحان پرندے نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ اس کے پر سبز، چونچ سرخ اور پاؤں رنگین تھے . وہ درختوں کی شاخوں پر خوشی سے چہچہاتا، رقص کرتا اور پھدکتا پھر رہا تھا۔ حضرت ابوطلحہ کو یہ منظر اتنا بھلا معلوم ہوا کہ تھوڑی دیر کے لیے اس کی دلکشی میں کھو گئے۔ جب ان کی توجہ نماز کی طرف واپس آئی تو وہ بھول چکے تھے کہ انہوں نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں،دو یا تین؟ وہ سوچتے رہ گئے مگر کچھ یاد نہ آیا۔

وہ نماز ختم کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورآپ سے اپنے نفس کی شکایت کی جس کوباغ، اس کے گھنے اور سایہ دار درختوں اور اس کے خوش نوا پرندے نے نماز سے غافل کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا:

"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!آپ گواہ رہیں، میں اس باغ کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر رہا ہوں۔ آپ اس کو جس مصرف میں چاہیں خرچ کریں "

حوالہ جات[ترمیم]

  • زندگیاں صحابہ کی: ڈاکٹر رافت پاشا، ص 402