ابو طلحہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابوطلحہ انصاری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ابو طلحہ انصاری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 585 (عمر 1434–1435 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ام سلیم  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابوطلحہ انصاری ان کا نام زیدبن سہل بن اسود بن حرام انصاری نجاری تھا یہ بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر میں موجودتھے جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ جراح اورابوطلحہ میں سلسلۂ مواخات قائم فرمادیا،یہ سب معرکوں میں شریک رہے،یہ بہترین تیراندازبہادرسپاہی تھے،غزوۂ احد میں ان کی کارگزاری قابلِ تعریف رہی،وہ حضورِاکرم کا بچاؤ اپنے آپ کو ڈھال بنا کر کرتے اور آپ کے آگے کھڑے ہوکرتیراندازی کرتے،اوراپنی چھاتی سے سپرکاکام لیتے،تاکہ حضورِ اکرم کوکوئی گزندنہ پہنچے،اورکہتے،آپ کی گردن کے آگے میری گردن اور ذات کے سامنے میرا جسم ہے،حضوراکرم سنکرفرماتے کہ لشکر میں ابوطلحہ کی آواز سوآوازوں پر بھاری تھی،غزوۂ حنین میں انہوں نے بیس آدمیوں کو قتل کیا تھا،اوران کے ہتھیاراتارلئے تھے۔ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ تھا جو اپنے درختوں کی کثرت، پھلوں کی عمدگی اور پانی کی شیرینی کے لحاظ سے یثرب کے تمام باغوں سے اچھا تھا۔ ایک روز ابوطلحہ اس کے گھنے سائے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ اچانک ایک خوش الحان پرندے نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ اس کے پر سبز، چونچ سرخ اور پاؤں رنگین تھے۔ وہ درختوں کی شاخوں پر خوشی سے چہچہاتا، رقص کرتا اور پھدکتا پھر رہا تھا۔ حضرت ابوطلحہ کو یہ منظر اتنا بھلا معلوم ہوا کہ تھوڑی دیر کے لیے اس کی دلکشی میں کھو گئے۔ جب ان کی توجہ نماز کی طرف واپس آئی تو وہ بھول چکے تھے کہ انہوں نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں،دو یا تین؟ وہ سوچتے رہ گئے مگر کچھ یاد نہ آیا۔

وہ نماز ختم کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورآپ سے اپنے نفس کی شکایت کی جس کوباغ، اس کے گھنے اور سایہ دار درختوں اور اس کے خوش نوا پرندے نے نماز سے غافل کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا:

"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!آپ گواہ رہیں، میں اس باغ کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر رہا ہوں۔ آپ اس کو جس مصرف میں چاہیں خرچ کریں " ،ہم ان کا نسب ان کے نام زید کے ترجمے میں بیان کرآئے ہیں،یہ بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر میں موجودتھے،ابوجعفرنے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابن اسحاق سےبہ سلسلۂ شرکائے غزوۂ بدرازبنوخزرج ابوطلحہ کاجوبنومالک بن نجارسے تھے،ذکرکیاہے،ان کا نسب زید بن سہل بن اسود بن حرام تھا،ابن اسحاق نے بھی یہی لکھاہے۔

ابوطلحہ،ام سلیم کے،جوانس بن مالک کی والدہ تھیں،خاوند تھے،ایک روایت میں ہے کہ وہ مدینے میں 31ہجری میں فوت ہوئے،اوردوسری روایت کی روسے 34ہجری ان کاسال وفات ہے،اس وقت ان کی عمر ستر برس تھی،نمازِجنازہ حضرت عثمان نے پڑھائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • زندگیاں صحابہ کی: ڈاکٹر رافت پاشا، ص 402