لبید بن سہل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لبید ابن سہل انصاری قبیلہ انصار سے تعلق رکھنے والے صحابی رسول ہیں
یہ درحقیقت قبیلہ انصار سے ہیں یا ان کے حلیف ہیں ان کا ذکربنی ابیرق کے قصہ میں آتاہے۔ بنی ابیرق قبیلہ بنی ظفرکے چند لوگ تھے کل تین آدمی تھے ایک کا نام بشردوسرے کابشیرتیسرے کے مبشرتھا۔بشیرکی کنیت ابوطعمہ تھی شاعر تھامنافق تھااپنے اشعارمیں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجوکرتاتھا۔اورکہہ دیا کرتاتھاکہ یہ اشعار تو فلاں شخص کے ہیں میرے نہیں ہیں مگرصحابۂ کرام ان اشعار کو سنتے ہی کہہ دیا کرتے تھے کہ وہ دشمن خدا جھوٹاہے یہ اشعاراسی کے ہیں بشیرکاچچارفاعہ بن زید ایک مالدار آدمی تھا اسلام کی رغبت اس کے دل میں آگئی تھی اورقریب تھا کہ مسلمان ہوجائےاس زمانہ میں یہ دستور تھاکہ جب کوئی قافلہ شام سے گیہوں لے کرآتاتومالدارلوگ اپنے لیے گیہوں مول لیتے تھے اوراپنے اہل و عیال کے لیے جو خرید دیاکرتےتھے چنانچہ اس وقت بھی ایک قافلہ گیہوں لے کر آیا رفاعہ نے اپنےدوبورہ گیہوں کے خرید لیے اور ان کو اپنے بالاخانہ میں رکھ دیااس بالاخانہ میں دوزرہیں تھیں اوران زرہوں کے درست کرنے کے کچھ آلات تھے پس رات کوبشیر ان کے گھر میں گئےاوروہ ہتھیاراورغلہَّ سب چرالائے صبح کو رفاعہ نے مجھے (یعنی قتادہ کو)بلابھیجااورکہاکہ دیکھورات کو ہمارے ہاں چوری ہو گئی اورہماراغلّہ اورہتھیار سب جاتے رہے بشیراوران کے بھائیوں نے کہاکہ خدا کی قسم یہ فعل لبید بن سہل کا ہے جوہمارے قبیلہ کا ایک شخص ہے یہ شخص نیکوکاری اورزہد و تقوی کے ساتھ مشہورتھاجب یہ خبرلبید کو پہنچی تو وہ تلوار لے کرپہنچے اوربنی ابیرق کے پاس گئے کہ خداکی قسم یہ تلوار تمھارے گوشت میں مل جائے گی ورنہ صاف صاف بتاؤ کہ یہ چوری کس نے کی ہے بنی ابیرق نے کہاآپ یہاں سے جائیے اللہ کی قسم آپ اس چوری سے بری ہیں اس کے بعد پوری حدیث ذکرکی۔۔اسی واقعہ میں اللہ عزوجل نے یہ آیتیں نازل فرمائی تھیں اناانزلناالیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس الی قولہ ومن یکسب خطیئتہً اواثماثم یرم بہ بریئا فقداحتمل بہتاناواثمامبیناان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔
ابن کلبی نے لبیدہ کا نسب اس طرح بیان کیاہے لبید بن سہل بن حارث بن عروہ بن عبدرزاح بن ظفراورکہاہے کہ چوری کی تہمت انھیں پرلگائی گئی تھی مگرابوعمرسے تعجب ہے کہ انھوں نے کہامیں نہیں جانتاکہ آیایہ انصارکے خاندان سے ہیں یاانصارکےحلیف ہیں باوجودیکہ نسب سے واقف تھے۔ [1] [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ جلد3صفحہ 899 حصہ ہفتم ،مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  2. الاصابہ فی تمیز الصحابہ جلد5صفحہ 278مؤلف: حافظ ابن حجر عسقلانی ،ناشر: مکتبہ رحمانیہ لاہور