جبیر بن مطعم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جبیر بن مطعم
معلومات شخصیت
تاریخ وفات 670ء کی دہائی  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نافع بن جبیر  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مطعم بن عدی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جبیر بن مطعم (وفات: 57ھ یا 59ھ) علم الانساب کے بڑے ماہر صحابی تھے ان کا شمار قریش کے ممتاز نسابوں میں تھا۔

نام ونسب[ترمیم]

جبیر نام، ابو محمد کنیت، نسب نامہ ہوں ہے: جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف قرشی نوفلی۔ جبیر کے والد مطعم قریش کے نرم دل اورخدا ترس بزرگوں میں تھے، بنی ہاشم شعب ابی طالب میں چلے گئے اور تین سال تک اس قید میں زندگی بسر کرتے رہے۔ اس کے خلاف صدا بلند کرنے والوں میں ایک جبیر بن مطعم بھی تھے۔[1] جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تبلیغ کے لیے آپ طائف تشریف لے گئے اوراہل طائف نے آپ پر ظلم کیا تو آپ لوٹتے وقت مکہ کے پاس پہنچ کر مطعم سے پناہ طلب کی۔ مطعم گوا س وقت کافر تھے لیکن آنحضرتﷺ کی درخواست پر آپ کو اپنی حمایت میں لے لیا۔ مطعم کو معلوم تھا کہ رسول اللہ کو اپنی حمایت میں لینا تمام مشرکین مکہ کو مقابلہ کی دعوت دینا ہے۔ اسی لیے حمایت میں لینے کے بعد ہی اپنے لڑکوں کو حکم دیا کہ ہتھیار لگا کر حرم میں آئیں اور خود حرم میں جاکر ببانگ دہل اعلان کیا کہ میں نے محمد ﷺ کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے[2] جبیر اسی منصف مزاج اورنرم دل باپ کے فرزند تھے۔ لیکن قومی عصبیت قبولِ حق سے مانع آتی تھی۔ مشرکین مکہ اورمسلمانوں کے درمیان میں سب سے پہلا معرکہ بدر ہوا۔ اس میں جبیر شریک نہ ہو سکے تھے۔ جنگ کے بعد اپنے قیدیوں کو فدیہ دیکر چھڑانے آئے تھے۔ جس وقت یہ پہنچے اس وقت آنحضرتﷺ نماز میں مصروف تھے۔ اورسورۂ طور کی آیات تلاوت فرما رہے تھے۔ جبیر مسجد میں داخل ہوئے تو کلام اللہ کی سحر انگیز آیتیں کانوں میں پڑیں۔ انہیں سن کر جبیر اس درجہ متاثر ہوئے کہ وہ بیان کرتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔[3] آنحضرتﷺ کے نماز مکمل کرنے کے بعد انہوں نے آپ سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے ان کے باپ کے احسانات کو یاد کرکے فرمایا کہ اگر تمہارے باپ زندہ ہوتے اور وہ سفارش کرتے تو میں چھوڑدیتا۔ بدر کے مقتولین کا انتقام احد کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس میں تمام مشرکین نے بقدر استطاعت حصہ لیا۔ جبیر نے اپنے غلام وحشی کو بھیجا اورکہا اگر تم حمزہ کوقتل کردو گے تو تم کو آزاد کر دیا جائے گا۔ چنانچہ حمزہ اسی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

اسلام[ترمیم]

جبیر میں اثر پزیر ی کا مادہ پہلے سے موجود تھا۔ قبول حق کا مادہ جذبہ عصبیت پر غالب آگیا اور بروایت صحیح حدیبیہ اورفتح مکہ کے درمیانی زمانہ میں وہ مسلمان ہو گئے۔[4]

غزوات[ترمیم]

قبولِ اسلام کے بعد صرف حنین میں شرکت کا پتہ چلتا ہے۔ حنین کی واپسی کے وقت یہ آنحضرتﷺ کے ساتھ تھے۔

وفات[ترمیم]

جبیر آنحضرتﷺ کے بعد کافی عرصہ تک زندہ رہے،57ھ میں مدینہ میں وفات پائی۔ دو لڑکے محمد اور نافع یادگار چھوڑے۔

فضل و کمال[ترمیم]

گو جبیر کو آنحضرتﷺ سے فیضیاب ہونے کا بہت کم موقع ملا تاہم احادیث نبوی کی معتدبہ تعداد ان کے حافظہ میں محفوظ تھی،ان کی مرویات کی تعداد ساٹھ تک پہنچتی ہے، ان میں سے چھ متفق علیہ ہیں، ان کے تلامذہ میں محمد، نافع، سلیمان بن صرد اور ابن مسیب قابل ذکر ہیں۔

علم الانساب[ترمیم]

علم الانساب کے بڑے حافظ تھے اوراس کو اس فن کے سب سے بڑے ماہر حضرت ابوبکرؓصدیق سے حاصل کیا تھا، اس لیے ان کا شمار قریش کے ممتاز نسابوں میں تھا، حضرت عمرؓ کو جب نسب کی تحقیقات کی ضرورت پیش آتی تھی تو جبیر ہی سے تحقیقات کرتے تھے۔

اخلاق[ترمیم]

ان کے میزانِ اخلاق میں حلم و برد باریِ کا پلہ بہت بھاری ہے،گووہ قریش کی ایک مقتدر شاخ کے رکن اورروسائے قریش میں تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں کبر ونخوت نام کو نہ تھا اورقریش کے حلیم ترین اشخاص میں ان کا شمار تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرۃ ابن ہشام،جلداول،صفحہ:4،6
  2. ابن سعد حصہ سیرۃ :22
  3. مسند احمد بن حنبل:4/88
  4. اصابہ:1/22