جبیر بن مطعم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

جبیر بن مطعمعلم الانساب کے بڑے ماہر صحابی تھےان کا شمار قریش کے ممتاز نسابوں میں تھا،

نام ونسب[ترمیم]

جبیر نام، ابو محمد کنیت، نسب نامہ یہ ہے، جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف قرشی نوفلی جبیر کے والد مطعم قریش کے نرم دل اورخدا ترس بزرگوں میں تھے، بنی ہاشم شعب ابی طالب میں چلے گئے اور تین سال تک اس قید میں زندگی بسر کرتے رہے، اس کے خلاف صدا بلندکرنے والوں میں ایک جبیر بن مطعم بھی تھے۔[1] تبلیغ کیلئے آپ طائف تشریف لے گئے اوروہاں سے ناکام لوٹے تو مکہ کے پاس پہنچ کر مطعم سے پناہ طلب کی، مطعم گوا س وقت کافر تھے،لیکن آنحضرتﷺ کی درخواست پر آپ کو اپنی حمایت میں لے لیا، مطعم کو معلوم تھا کہ رسول اللہ کو اپنی حمایت میں لینا تمام مشرکین مکہ کو مقابلہ کی دعوت دینا ہے، اسی لیے حمایت میں لینے کے بعد ہی اپنے لڑکوں کو حکم دیا کہ ہتھیار لگا کر حرم میں آئیں اور خود حرم میں جاکر ببانگ دہل اعلان کیا کہ میں نے محمد ﷺ کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے[2]جبیر اسی منصف مزاج اورنرم دل باپ کے فرزند تھے،لیکن قومی عصبیت قبولِ حق سے مانع آتی تھی، مشرکین مکہ اورمسلمانوں کے درمیان سب سے پہلا معرکہ بدر ہوا، اس میں جبیر شریک نہ ہوسکے تھے، لیکن اپنے قیدیوں کو فدیہ دیکر چھڑانے آئے تھے، جس وقت یہ پہنچے اس وقت آنحضرتﷺ نماز میں مصروف تھے، اورسورۂ طور کی آیات تلاوت فرمارہے تھے،جبیر مسجدمیں داخل ہوئے تو کلام اللہ کی سحر انگیز آیتیں کانوں میں پڑیں، انہیں سن کر جبیر اس درجہ متاثر ہوئے کہ وہ بیان کرتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ میرا قلب پھٹ جائے گا۔[3] آنحضرتﷺ کے نماز تمام کرنے کے بعد انہوں نے آپ سے بدر کےقیدیوں کے بارے میں گفتگو کی ،آپ نے ان کے باپ کے احسانات کو یاد کرکے فرمایا کہ اگر تمہارے باپ زندہ ہوتے اور وہ سفارش کرتے تو میں چھوڑدیتا۔ بدر کے مقتولین کا انتقام احد کی صورت میں ظاہر ہوا، اس میں تمام مشرکین نے بقدر استطاعت حصہ لیا، جبیر نے اپنے غلام وحشی کو بھیجا اورکہا اگر تم حمزہ کوقتل کردو گے تو تم کو آزاد کردیا جائے گا؛چنانچہ حمزہ اسی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

اسلام[ترمیم]

جبیر میں اثر پزیر ی کا مادہ پہلے سے موجود تھا،قبول حق کا مادہ جذبہ عصبیت پر غالب آگیا اور بروایت صحیح حدیبیہ اورفتح مکہ کے درمیانی زمانہ میں وہ مسلمان ہوگئے۔[4]

غزوات[ترمیم]

قبولِ اسلام کے بعد صرف حنین میں شرکت کا پتہ چلتا ہے،حنین کی واپسی کے وقت یہ آنحضرتﷺ کے ساتھ تھے۔

وفات[ترمیم]

جبیر آنحضرتﷺ کے بعد کافی عرصہ تک زندہ رہے،57ھ میں مدینہ میں وفات پائی دو لڑکے محمد اور نافع یادگار چھوڑے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرۃ ابن ہشام،جلداول،صفحہ:4،6
  2. ابن سعد حصہ سیرۃ :22
  3. مسند احمد بن حنبل:4/88
  4. اصابہ:1/22