ذو البجادین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ذوالبجادین یا دو چادروں والا۔ یہ لقب رسول اللہ ﷺنے جس صحابی کو دیا تھا ان کا نام عبد اﷲ مزنی جن کا لقب ذوالبجادین ہے۔ اسلام لانے سے قبل پرانا نام عبد العزیٰ تھا جسے تبدیل کیا گیا تھا۔

جب انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضری کا ارادہ کیا تو ان کی والدہ نے انہیں دو چادریں دیں ایک چادر اوڑھ لی دوسری کا ازار باندھ لیا بجادموٹی چادر کو کہتے ہیں[1] یہ قبیلہ مزینہ کے ایک یتیم تھے اور اپنے چچا کی پرورش میں تھے۔ جب یہ سن شعور کو پہنچے اور اسلام کا چرچا سنا تو اِن کے دل میں بت پرستی سے نفرت اور اسلام قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ مگر ان کا چچا بہت ہی کٹر کافر تھا۔ اس کے خوف سے یہ اسلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد جب لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے تو انہوں نے اپنے چچا کو ترغیب دی کہ تم بھی دامن اسلام میں آ جاؤ کیونکہ میں قبول اسلام کے لیے بہت ہی بے قرار ہوں۔ یہ سن کر ان کے چچا نے ان کو برہنہ کرکے گھر سے نکال دیا۔ انہوں نے اپنی والدہ سے ایک کمبل مانگ کر اس کو دو ٹکڑے کرکے آدھے کو تہبند اور آدھے کو چادر بنا لیااور اسی لباس میں ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے۔ رات بھر مسجد نبوی میں ٹھہرے رہے۔ نماز فجر کے وقت جب جمالِ محمدی کے انوار سے ان کی آنکھیں منور ہوئیں تو کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا نام دریافت فرمایا تو انہوں نے اپنا نام عبد العزیٰ بتا دیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ آج سے تمہارا نام عبد اﷲ اور لقب ذوالبجادین (دوکمبلوں والا) ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تعریفات علوم درسیہ،صفحہ 241،مفتی محمد عبد اللہ قادری،والضحیٰ پبلیکیشنز لاہور
  2. سیرتِ مصطفی، مؤلف عبد المصطفیٰ اعظمی صفحہ499