خوات بن جبیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خوات بن جبیر
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسب[ترمیم]

خوات بن جبیرانصاری غزوہ بدر میں شامل ہونے والے انصار صحابہ میں شامل ہیں۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور ابو صالح ہے۔ ان کا پورا نسب خوات بن جبير بن النعمان بن أميہ بن امرء القيس-اور یہ البرك بن ثعلبہ بن عمرو بن عوف بن مالك بن الاوس الانصاری الاوسی، یہ بنی ثعلبہ بن عمرو سے تعلق رکھتے ہیں، غزوہ بدر میں شریک تھے ان کے بھائی عبد اللہ بن جبیر تھے ۔

غزوات[ترمیم]

یہ رسول اللہ کے سواروں میں سے تھے۔ یہ غزوہ بدر کے لیے نکلے کہ مقام صفراء پر پہنچ کر انہیں پنڈلی میں پتھر لگ گیا جس کی وجہ سے واپس لوٹ آئے مگر رسول اللہ نے مال غنیمت میں حصہ دیا تھااور یہ ذات النحيين کے شوہر تھے ذات النحيين ایک ضرب المثل ہے کہ فلاں ذات النحيين سے بھی زیادہ کام میں مشغول رہنے والا ہے۔[1] احد اور باقی غزوات میں شرکت کی۔ حضرت علیؓ کی خانہ جنگیوں میں سے صفین میں شریک تھے۔

وفات[ترمیم]

40ھ میں بمقام مدینہ انتقال کیا اس وقت 74 سال کا سن تھا۔

حلیہ[ترمیم]

حلیہ یہ تھا ،قد میانہ مہندی کا خضاب لگاتے تھے،آنکھیں جاتی رہی تھیں۔

اولاد[ترمیم]

ایک بیٹا یاد گار چھوڑا،صالح نام تھا۔

فضل وکمال[ترمیم]

عبد اللہ بن ابی لیلیٰ بسر بن سعد، صالح وغیرہ نے ان سے چند حدیثیں روایت کی ہیں،امام بخاری نے ان کا یہ حکیمانہ مقولہ نقل کیا ہے: نوم اول النھار اخرق واوسطہ خلق وآخرہ حمق دن کے پہلے حصہ میں سونا بے تمیز، درمیانی حصہ میں مناسب اورآخری حصہ میں بیوقوفی ہے نہایت شجاع تھے،آنحضرتﷺ نے ان کو اپنا سوار بنایا تھا۔ [2] زندہ دلی کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کے ساتھ حج کو جا رہے تھے حضرت ابو عبیدہؓ اورعبدالرحمن بن ؓعوف بھی ساتھ تھے، لوگوں نے فرمائش کی کہ ضرار کے اشعار گاؤ،حضرت عمرؓ نے کہا نہیں اپنے شعر سنائیں،چنانچہ تمام رات گاتے رہے، سپیدہ سحر نمودار ہوا،تو حضر ت عمرؓ نے فرمایا خوات بس کرو، اب صبح ہو گئی۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  2. (اسد الغابہ:2/126)
  3. (اصابہ:2/143)