خباب بن ارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خباب ابن ارتآپ مشہور صحابی ہیں، پرانے مؤمن ہیں، اسلام لانے والوں میں ان کا چھٹا نمبر تھا، اسی لیے "سادس الاسلام" کہلاتے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

خباب نام،ابو عبد اللہ کنیت،نسب نامہ یہ ہے،خباب بن ارت بن جندلہ ابن سعد بن حزیمہ بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم،زمانہ جاہلیت میں غلام بناکر مکہ میں فروخت کیے گئے۔

اسلام[ترمیم]

خباب ان خوش نصیب بزرگوں میں ہیں جو دعوت اسلام کے بالکل ابتدائی زمانہ میں یعنی زید بن ارقم کے گھر میں آنحضرتﷺ کے پناہ گزین ہونے کے قبل مشرف باسلام ہوئے

ابتلاوآزمائش[ترمیم]

خباب کے اسلام قبول کرنے کے زمانہ میں اسلام کا اظہار تعزیرات مکہ میں ایسا شدید جرم تھا،جس کی سزا میں مال ودولت،ننگ وناموس ہر چیز سے ہاتھ دھونا پڑتا تھا؛لیکن خباب نے اس کی مطلق پر واہ نہ کی اور ببانگ دہل اپنے اسلام کا اظہار کیا، یہ غلام تھے،ان کا کوئی بھی حامی ومددگار نہ تھا، اس لیے کفار نے ان کو مشق ستم بنا لیا اوران کو بڑی درد ناک سزائیں دیتے تھے،ننگی پیٹھ ،دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹاکر سینہ پر ایک بھاری پتھر رکھ کر ایک آدمی اوپر سے مسلتا اوروہ اس وقت تک ان انگاروں پر کباب ہوتے رہتے،جب تک خود زخموں کی رطوبت آگ کو نہ بجھاتی، لیکن اس سختی کے باوجود وہ زبان کلمہ حق سے نہ پھرتی ،رحمۃ اللعالمین اس کسمپرسی کی حالت میں تالیف قلب فرماتے تھے؛لیکن ان کا آقا اتنا سنگدل تھا کہ وہ ان کے لیے اتنا سہارا بھی نہ برداشت کرسکا اوراس کی سزا میں لوہا آگ میں تپاکر اس سے ان کا سرداغا، انہوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ میرے لیے بارگاہِ ایزدی میں دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو اس عذاب سے نجات دے،آپ نے دعا فرمائی کہ خدایا!خباب کی مددکر۔ جب اس جسمانی سزا سے بھی آتش انتقام سردنہ پڑی تو مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کی،عاص بن وائل کے ذمہ ان کا قرض تھا، یہ جب تقاضا کرتے تو جواب دیتا کہ جب تک محمدﷺ کا ساتھ نہ چھوڑوگے،اس وقت تک نہیں مل سکتا،یہ جواب دیتے کہ جب تک مرکر دوبارہ زندہ نہ ہوگے میں محمد ﷺ سے الگ نہیں ہو سکتا وہ کہتا اچھا میں مرکر پھر زندہ ہوں گا اور مجھ کو مال اور اولاد ملے گی، اس وقت تمہارا قرض دوں گا۔

ہجرت ومواخات[ترمیم]

خباب مدتوں نہایت صبرواستقلال کے ساتھ یہ تمام مصیبتیں جھیلتے رہے،پھر جب ہجرت کی اجازت ملی تو ہجرت کرکے مدینہ آ گئے،ہجرت بھی تکلیف ومصائب کے خوف سے نہ کی تھی؛بلکہ خاصۃ لوجہ اللہ کی تھی،چنانچہ کہاکرتے تھے کہ میں نے آنحضرتﷺ کے ساتھ خالصۃ لوجہ اللہ ہجرت کی تھی،مدینہ آنے کے بعد آنحضرتﷺ نے ان میں اورخراش بن صمہ غلام تمیم کے درمیان مواخات کرادی۔[1]

غزوات[ترمیم]

مدینہ آنے کے بعد شروع سے آخر تک تمام غزوات میں شریک رہے۔،[2]

خلافت فاروقی[ترمیم]

عمرفاروق ان کے فضائل کی وجہ سے ان کا بہت احترام کرتے تھے ایک دن یہ ان سے ملنے گئے تو عمر نے ان کو اپنے گدھے پر بٹھایا اور لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ان کے علاوہ صرف ایک شخص اور ہے جو اس پر بیٹھنے کا مستحق ہے،خباب نے پوچھا امیر المومنین! وہ کون؟ فرمایا بلال! آپ نے عرض کیا وہ میرے برابر کیوں کر مستحق ہوسکتے ہیں،مشرکین میں ان کے بہت سے مدد گار تھے؛لیکن میرا پوچھنے والا سوائے اللہ کے کوئی نہ تھا، اس کے بعد اپنا استحقاق بتاتے ہوئے اپنے مصائب کی داستان سنائی۔[3]

وفات[ترمیم]

37ھ میں کوفہ میں بیمار پڑے،کوفہ میں وفات پانے والے سب سے پہلے مسلمان ہیں، علی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی، کوفہ میں ہی آپ کا مزار شریف ہے۔ (اشعہ) [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ:2/106
  2. ابن سعد،جلد3،قسم1،صفحہ116
  3. مستدرک حاکم،جلد3،تذکرہ خباب بن ارت
  4. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ15نعیمی کتب خانہ گجرات