ابو محجن ثقفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو محجن ثقفی
عبد اللہ بن حبیب
معلومات شخصیت
مقام پیدائش طائف
تاریخ وفات 638
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ شاعر

ابو محجن ثقفی ایک بہادر صحابی تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

عمرونام،ابو محجن کنیت،نسب نامہ یہ ہے، عمروبن حبیب بن عمرو بن عمیر بن عوف ابن حقدہ بن غیرہ بن عوف ثقفی عمرو زمانۂ جاہلیت کے مشہور بہادروں میں تھے۔

اسلام[ترمیم]

میں اپنے قبیلہ بنی ثقیف کے ساتھ مشرف باسلام ہوئے۔[1]

جنگ قادسیہ[ترمیم]

عمرو نہایت شجاع وبہادر تھے،لیکن بہت آخر میں اسلام کے شرف سے مشرف ہوئے تھے، اس لیے حیاتِ نبویﷺ میں کسی خدمت کا موقع نہ ملا،ان کے کارناموں کا آغاز عہد فاروقی سے ہوتا ہے،جس زمانہ میں ایران پر فوج کشی ہوئی،اتفاق سے اسی زمانہ میں عمرنے انہیں ایک جر م میں قید کردیا تھا، فوج کشی کا حال سن کر ابو محجن کی رگِ شجاعت بھڑک اٹھی وہ کسی طرح قید خانے سے نکل گئے اس وقت قادسیہ کی جنگ پھر چکی تھی، ابو محجن سیدھے قادسیہ پہنچے، عمر کو ان کے فرار کی اطلاع ہوئی، تو آپ نے اسلامی افواج کے سپہ سالار سعد بن ابی وقاص کو ان کی گرفتاری کا حکم لکھ بھیجا، انہوں نے گرفتار کرکے قید کردیا،ابو محجن لڑائی کے واقعات سن سن کر میدانِ جنگ میں پہنچنے کے لیے بیقرار ہوجاتے تھے، مگر بیڑیوں نے پاؤں پکڑ رکھے تھے،اس لیے مجبور تھے،آخر میں ضبط نہ ہوسکا، ایک دن سعد بن ابی وقاص کی بیوی سلمیٰ سے کہا کہ مجھ پر رحم کرکے میری بیڑیاں کاٹ دو اور سعد کا گھوڑا مجھے دیدو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر زندہ بچ گیا تو خود آکر بیڑیاں پہن لونگا، سلمیٰ نے انکار کیا ان کے انکار پر ابو محجن اورزیادہ شکستہ خاطر ہوئے،لیکن ولولہ جہاد چین نہ لینے دیتا تھا،اپنی معذوری پر نہایت درد انگیز اشعار پرھ پڑھ کر دل کی بھڑاس نکالنے لگے،یہ رقت انگیز اشعار سن کر سلمیٰ کا دل پسیج گیا، انہوں نے بیڑیاں کھول دیں اور شوہر کا گھوڑا انہیں دیدیا ابو محجن اسی وقت گھوڑا کداتے ہوئے میدانِ جنگ میں پہنچے اور تکبیر کا نعرہ لگا کر اس زور شور سے لڑے کہ جدھر نکل جاتے تھے،ایرانی فوجیں درہم برہم ہو جاتی تھیں، یہ غیر معمولی شجاعت دیکھ کر لوگ عش عش کرتے تھے، سعد بن ابی وقاص عرق النساء کی وجہ سے خود میدان جنگ میں نہ جاسکتے تھے اور ایک مقام سے بیٹھے ہوئے لڑائی کا رنگ دیکھ رہے تھے،ابو محجن کی بہادری دیکھ دیکھ کر تعجب کررہے تھے،لیکن انہیں یہ نہ معلوم تھا کہ ابو محجن قید سے چھوٹ کر میدانِ جنگ میں پہنچ گئے، اس لیے کہہ رہے تھے کہ اگر ابو محجن قید میں نہ ہوتے تو وہی ہوسکتے تھے، گھوڑا بھی میرا ہی معلوم ہوتا ہے،اختتامِ جنگ کے بعد ابو محجن نے لوٹ کر بیڑیاں پاؤں میں ڈالیں۔ سعد گھر واپس آئے اوربیوی کو جنگ کے حالات سنانے لگے،اسی سلسلہ میں انہوں نے کہا آج میدانِ جنگ میں خدانے ایک عجیب شخص بھیج دیا تھا، اگر ابو محجن قید نہ ہوتے تو میں سمجھتا کہ وہی ہوسکتے ہیں، یہ سن کر بیوی نے سارا قصہ سنادیا، سعد نے اسی وقت ابو محجن کو قید سے رہا کردیا اور ان سے کہا میں کبھی تمہارے جیسے شخص پر حد جاری نہیں کرسکتا۔

وفات[ترمیم]

آذر بیجان میں وفات پائی،سنہ وفات متعین نہیں ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ جلد 5 ص 290،ناشر: دار الفكر - بيروت
  2. الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ،کتاب النساء ،ج2، ص682 ،مکتبہ رحمانیہ لاہور