سعید بن جبیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سعید بن جبیر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 665  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 714 (48–49 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فقیہ،  محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل علم حدیث،  فقہ،  تفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

سعید بن جبیر تابعین کے ائمہ کبار میں تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

سعید نام،ابوعبداللہ کنیت ،بنی والبہ بن حارث اسدی کے غلام تھے، اس نسبت سے وہ والبی کہلاتے تھے، ان کا شمار ان تابعین میں ہے،جو علم وعمل کے مجمع البحرین تھے۔ فضل وکمال سعید کا آغاز اگرچہ غلامی سے ہوا، لیکن آگے چل کر وہ اقلیم علم کے تاجدار بنے، حافظ ذہبی انہیں علمائے اعلام میں لکھتے ہیں [1] امام نووی کا بیان ہے کہ سعیدتفسیر،حدیث،فقہ،عبادت اورزہد وورع جملہ کمالات میں وہ کبار ائمہ اورسرکردہ تابعین میں تھے۔[2]

تعلیم[ترمیم]

سعید نے گو اس زمانہ میں ہوش سنبھالا،جب اکابر صحابہ کی بڑی تعداد اٹھ چکی تھی،پھر بھی باقیات صالحات میں عبداللہ بن عمر،عبداللہ بن عباس،عبداللہ بن زبیر،ابوسعید خدری،ابوہریرہ،عائشہ صدیقہ اورانس بن مالک وغیرہ علمائے صحابہ موجود تھے،سعید بن جبیران کے فیضان علم سے پورے طور سے مستفید ہوئے [3]

علم و فن کے جامع[ترمیم]

سعید بن جبیر کی ذات جملہ علوم وفنون کی جامع تھی، جوکمالات دوسرے علما میں فرداً فرداً تھے، وہ ان کی ذات میں تنہا مجتمع تھے،خصیف کا بیان ہے کہ مسائل طلاق کے سب سے بڑے عالم سعید بن مسیب تھے،حج کے عطاء تھے،حلال وحرام کے طاؤس تھے اور تفسیر کے مجاہد تھے اوران سب کی جامع سعید بن جبیر کی ذا ت تھی۔[4] وہ علم کا ایسا سرچشمہ تھے جس کی اس عہد کے تمام علما کو احتیاج تھی،میمون بن مہران کابیان ہے کہ سعید نے ایسے وقت میں انتقال کیا کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہ تھا جو ان کے علم کا محتاج نہ رہا ہو۔

اشاعت علم[ترمیم]

علم وفن کا یہ ذخیرہ انہوں نے اپنی ذات تک محدود نہ رکھا؛بلکہ جہاں تک ہو سکا اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچایا،آپ کے بعض کوتاہ نظر اصحاب آپ کو حدیث بیان کرنے پر ملامت کرتے تھے، آپ انہیں جواب دیتے ،مجھے تم سے اورتمہارے ساتھیوں سے حدیث بیان کرنا زیادہ پسند ہے،بہ نسبت اس کے کہ میں اسے اپنی قبر میں ساتھ لے جاؤں۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ الحفاظ :حافظ ذہبی1/65
  2. تہذیب الاسماء ،جلد 1ول،ق1،ص 216
  3. تہذیب التہذیب:4/11
  4. ابن خلکان :1/305
  5. ابن سعد:7/186