ابان بن سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابان بن سعید
(عربی میں: أبان بن سعيد بن العاص خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائشی نام ابان بن سعید
مقام پیدائش مکہ
مقام وفات اجنادین
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
لقب کاتب وحی
رشتے دار
عملی زندگی
طبقہ الصحابہ
نسب الجمحی القرشی
پیشہ بیوپاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
آجر مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں دیگر غزوات

ابان بن سعیدبن العاصصحابی رسول اور اور مکہ مکرمہ کے خاندان قریش کی سرکردہ شخصیت تھے ۔

نام ونسب[ترمیم]

ابان نام،سلسلہ نسب یہ ہے،ابان بن سعید بن العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی القرشی الاموی،ماں کا نام ہند بنت مغیرہ تھا، ان کا سلسلۂ نسب پانچویں پشت پر عبد مناف پر آنحضرتﷺ سے مل جاتا ہے۔

زمانہ ٔجاہلیت[ترمیم]

اسلام لانے کے قبل ابان بھی دوسرے اہل خاندان کی طرح آنحضرتﷺ اورمسلمانوں کے سخت خلاف تھے ؛چنانچہ جب ان کے بھائی خالد اورعمرو مشرف باسلام ہوئے توانہوں نے اشعار میں اظہار ناراضی کیا، جس کا ایک شعریہ ہے۔ الالیت میتا بالظریبہ شاھد لمایفتری فی الدین عمروخالد (کاش ظریبہ میں موت کی نیند سونے والا دیکھتا کہ عمرو اورخالد نے دین میں کیا افترا کیا ہے) غزوۂ بدر میں مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی حمایت میں اپنے بھائی عبید ہ اور عاص کے ساتھ لڑنے نکلے،عبید ہ اورعاص مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے ؛لیکن ابان بچ کر نکل گئے۔[1] صلح حدیبیہ کے موقع پر جب آنحضرتﷺ نے عثمان غنی کو قریش کے پاس صلح کی گفت وشنید کے لیے بھیجا تو وہ ابان ہی کے یہاں مہمان ہوئے تھے، کیوں کہ یہ عثمان غنی کے عزیز تھے اوران ہی نے ان کی حفاظت کی ذمہ داری لی تھی۔

راہب سے گفتگو[ترمیم]

گووہ اسلام اورپیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف تھے تاہم اصل حقیقت کی جستجورہتی تھی اورآنحضرتﷺ کی نبوت کے بارہ میں واقف کاروں سے پوچھا کرتے تھے،اس وقت شام اصحاب علم وخبر کا مرکز تھا، یہ تجارت کے سلسلہ میں وہاں جایا کرتے تھے،ایک مرتبہ ایک راہب سے کہا میں قبیلہ قریش سے تعلق رکھتا ہوں، اس قبیلہ کا ایک شخص اپنے کو خدا کا فرستادہ ظاہر کرتا ہے اورکہتا ہے کہ مجھ کو بھی خدا نے عیسی علیہ السلام اورموسیٰ علیہ السلام کی طرح نبی بناکر بھیجا ہے راہب نے نام پوچھا، انہوں نے کہا محمدﷺ ،راہب نے صحف آسمانی کی رو سے نبی مبعوث کاسن اورنسب وغیرہ بتایا ،ابان نے کہا یہ تمام باتیں تو اس شخص میں موجود ہیں،راہب نے کہا تو خدا کی قسم،وہ شخص عرب پر اقتدار حاصل کرنے کے بعد تمام دنیا پر چھاجائے گا،تم واپس جانا تو خدا کے اس نیک بندے تک میرا سلام پہنچادینا؛چنانچہ ابان جب واپس ہوئے تو رنگ بدل چکا تھا اوراسلام اورمسلمانوں کے ساتھ وہ پرخاش باقی نہ رہی۔

اسلام وہجرت[ترمیم]

کچھ دنوں تک آبائی مذہب کی لاج اورہم چشموں کی طعنہ زنی کے خیال سے خاموش رہے لیکن زیادہ دنوں تک جذبہ حق نہ دب سکا اور غزوہ خیبر سے پہلے مشرف باسلام ہو گئے اور اسلام کے بعد ہی ہجرت کی سعادت بھی حاصل کی۔

غزوات[ترمیم]

اسلام لانے کے بعد ہی آنحضرتﷺ نے ایک سریہ کا امیر بناکر نجد روانہ کیا،وہاں سے کامیاب ہوکر واپس ہوئے تو خیبر فتح ہوچکا تھا، اسی وقت ابوہریرہ بھی مہاجرین حبش کے ساتھ واپس ہوئے تھے،دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ خیبر کے مال غنیمت سے کچھ ہم لوگوں کو بھی مرحمت ہو، ان میں اورابوہریرہ میں پہلے سے کچھ چشمک تھی،انہوں نے کہا یا رسول اللہ ان لوگوں کو نہ دیجئے،ابان کو غصہ آ گیا بولے پہاڑ کی بھیڑی اتری » (بلی سے چھوٹا ایک جانور)وہ بھی بولی!آنحضرتﷺ نے دونوں کو خاموش کیا۔[2] نجد کی مہم کے علاوہ ان کو دوسرے سریوں کی امارت بھی عطا کی گئی۔

بحرین کی امارت[ترمیم]

علاء بن حضرمی کو معزول کرنے کے بعد آنحضرتﷺ نے ان کو بحرین کے بری اوربحری دونوں حصوں کا عامل مقرر کیا، آپ کی وفات تک یہ اپنے فرائض ذمہ داری سے انجام دیتے رہے، وفات کی خبر سن کر وہاں سے واپس ہوئے۔

خلافت صدیقی[ترمیم]

ابوبکر صدیق کی بیعت عام کے بعد قریش کے جو چند افراد کچھ دنوں تک ان کی بیعت سے دست کش رہے تھے،ان میں ایک ابان بھی تھے ؛لیکن جب بنو ہاشم نے بیعت کرلی ،تو ان کو بھی کوئی عذر نہ ہوا،صدیق اکبر نے آنحضرتﷺ کے کسی عامل کو معزول نہیں کیا تھا، ابان بھی آپ کے مقرر کردہ عامل تھے،اس لیے ان سے دوبارہ واپس جانے کی خواہش کی ؛لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں آنحضرتﷺ کے بعد کسی کا پیش کردہ عہدہ قبول نہیں کر سکتا،بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ دنوں تک اس عہد پر قائم نہیں رہے اورخلیفۂ اول کے اصرار پر یمن کی گورنری قبول کرلی۔[3]

وفات[ترمیم]

زمانہ وفات میں بہت اختلاف ہے،بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکرصدیق کے آخر عہدِ خلافت میں جنگ اجنادین میں شہادت پائی،ابن اسحق کی روایت ہے کہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے،ایک اورروایت سے پتہ چلتا ہے کہ عثمان کے عہدِ خلافت تک زندہ تھے اورمصحف عثمانی ان ہی کی نگرانی میں زید بن ثابت کاتب وحی نے لکھا تھا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاصابۃ فی تمييز الصحابۃ،مؤلف : احمد بن علی بن حجر ابو الفضل العسقلانی، ناشر : دار الجيل - بيروت
  2. بخاری،جلد2،کتاب المغازی غزوۂ خیبر
  3. اسد الغابہ1/35مؤلف، ابو الحسن علی الشيبانی الجزری عز الدين ابن الاثير، ناشر: دار الفكر بيروت
  4. الاستيعاب فی معرفۃ الأصحاب1/36مؤلف،ابو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی، ناشر: دار الجيل، بيروت