غزوہ ذات الرقاع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
غزوہ ذات الرقاع
حصہ غزوات نبوی
غزوہ ذات الرقاع.JPG
نقشہ مقام غزوہ ذات الرقاع
تاریخ محرم 5 ہجری
625ء یا 627ء
مقام ذات الرقاع
نتیجہ
  • دشمن بھاگ گيا (بعض ذرائع دعوی کرتے ہیں کہ ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے)[1][2][3]
سپہ سالار و رہنما
محمد نامعلوم
طاقت
400 [3][4] اتحادی فوج بنو محارب, بنو ثعلبہ اور بنو غطفان کی

وجہ تسمیہ[ترمیم]

رقاع کپڑے کے چیتھڑے کو کہتے ہیں اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس غزوہ میں چلتے چلتے ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور ہم نے ان پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لیے اسی لیے اس غزوے کا نام ذات الرقاع پڑ گیا-[5] بعض مؤرخین نے کہا کہ چونکہ وہاں کی زمین کے پتھر سفید و سیاہ رنگ کے تھے اور زمین ایسی نظر آتی تھی گویا سفید اور کالے پیوند ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں،لہٰذا اس غزوہ کو غزوہ ذات الرقاع کہا جانے لگااور بعض کا قول ہے کہ یہاں پر ایک درخت کا نام ذات الرقاع تھااس لئے لوگ اس کو غزوہ ذات الرقاع کہنے لگے،ہو سکتا ہے کہ یہ ساری باتیں ہوں۔ [6]

وجوہات[ترمیم]

ایک شخص تجارت کیلئے مدینہ آیا اس نے بتایا کہ قبائل انمار و ثعلبہ نے مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب حضور ﷺ کو اِس کی اطلاع ملی توآپ ﷺ نے چارسوصحابہ کرام کالشکراپنے ساتھ لیا۔عثمان بن عفان کو مدینہ میں نائب مقرر کیا

واقعات[ترمیم]

10محرم 5ھ کو مدینہ سے روانہ ہو کر مقامِ ذات الرقاع تک تشریف لے گئے لیکن آپ ﷺ کی آمد کا حال سن کر یہ کفار پہاڑوں میں بھاگ کر چھپ گئے اس لئے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ مشرکین کی چند عورتیں ملیں جن کو صحابہ کرام نے گرفتارکرلیا۔اس وقت مسلمان بہت ہی مفلس اور تنگ دستی کی حالت میں تھے۔ چنانچہ ابو موسیٰ اشعری کا بیان ہے کہ سواریوں کی اتنی کمی تھی کہ چھ چھ آدمیوں کی سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا جس پر ہم لوگ باری باری سوار ہو کر سفر کرتے تھے پہاڑی زمین میں پیدل چلنے سے ہمارے قدم زخمی اور پاؤں کے ناخن جھڑ گئے تھے اس لئے ہم لوگوں نے اپنے پاؤں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لئے تھے یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کا نام غزوہ ذات الرقاع (پیوندوں والا غزوہ) ہو گیا۔

نتائج[ترمیم]

مشہور امام سیرت ابن سعد کا قول ہے کہ سب سے پہلے اس غزوہ میں حضور ﷺنے صلوٰۃ الخوف پڑھی۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Rahman al-Mubarakpuri, Saifur (2005), The Sealed Nectar, Darussalam Publications, p. 192 
  2. “ The Expedition called Dhat-ur-Riqa”, Witness Pioneer.com (online version of The Sealed Nectar)
  3. ^ 3.0 3.1 Muir, William (1861), The life of Mahomet, Smith, Elder & Co, p. 223 
  4. Watt, W. Montgomery (1956). Muhammad at Medina. Oxford University Press. p.30. ISBN 978-0-19-577307-1.  (free online)
  5. صحیح بخاری، کتاب مغازی، باب غزوہ ذات الرقاع، حدیث 4128
  6. زرقانی جلد2 ص88
  7. زُرقانی ج2ص90