زینب بنت جحش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زینب بنت جحش
(عربی میں: زينب بنت جحش خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
زینب بنت جحش

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 592  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 641 (48–49 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش مکہ
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
شوہر
پہلا شوہر (جو 622ء میں فوت ہوگئے)
زید بن حارثہ (طلاق شد)
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
والدین جحش بن رباب
اميمہ بنت عبدالمطلب
والد جحش بن رباب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ امیمہ بنت عبد المطلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی

ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش (عربی: زينب بنت جحش، پیدائش: 593ء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔

ابتدائی زندگی

نام زینب اور کنیت ام الحکم تھی۔ والد کا نام جحش بن رباب اور والدہ کا نام امیمہ تھا جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پھوپھی تھیں۔ اس طرح حضرت زینب ا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پھوپھی زاد تھیں۔ پہلے ان کا نام برہ تھا جسے حضور ﷺ نے تبدیل فرمایا۔ (آنحضرت کی دیگر دو ازواج مطہرہ جویریہ بنت حارث اور میمونہ بنت حارث کا نام بھی برہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدل دیا تھا۔)
حضرت زینب بنت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ میرا نام برہ تھا رسول اللہ ﷺ نے میرانام زینب رکھ دیا۔ آپ ﷺ کے پاس (نکاح میں ) زینب بنت جحش (رض) آئیں ان کا نام بھی برہ تھا تو آپ ﷺ نے اس کا نام بھی زینب رکھ دیا۔[1]

ازدواجی زندگی

حضرت زینب کا پہلا نکاح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ سے ہوا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آزاد کردہ غلام اورمتبنیٰ (گود لیے ہوئے لے پالک، بیٹے)تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے تو حضرت زید نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کو طلاق دینے کی اجازت مانگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو نباہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب تعلقات اور زیادہ ناخوشگوار ہونے لگے تو حضرت زید بن حارثہ نے انہیں طلاق دے دی۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نکاح

مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

جب زید بن حارثہ نے آپ کو طلاق دے دی چونکہ عرب میں اس وقت تک متبنیٰ کو اصلی اولاد تصور کیا جاتا تھا اس لیے آپ تامل فرماتے رہے لیکن چونکہ یہ جاہلیت کی رسم تھی اس کا مٹانا مقصود تھاتو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیت قرآنی نازل فرما کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت زینب سے نکاح کرنے کا حکم دیا۔

وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا

ترجمہ:

اور جب تو نے اس شخص سے کہا جس پر الله نے احسان کیا اور تو نے احسان کیا اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ الله سے ڈر اور تو اپنے دل میں ایک چیز چھپاتا تھا جسے الله ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا حالانکہ الله زیادہ حق رکھتا ہے کہ تو اس سے ڈرے پھر جب زید اس سے حاجت پوری کر چکا تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی گناہ نہ ہو جب کہ وہ ان سے حاجت پوری کر لیں اور الله کا حکم ہوکر رہنے والا ہے۔

اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کر لیا۔ آپ کے دعوت ولیمہ میں حجاب کی آیات نازل ہوئیں[2]

آپ کی دو بیوہ بھابھیاں بھی ازواج مطہرہ تھیں۔ (ام حبیبہ جو عبید اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں اور زینب بنت خزیمہ جو عبد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں۔)

انتقال

ان کا انتقال حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت 20 ہجری میں ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 53 برس تھی حضرت عمر نے ہی جنازہ پڑھایا[3]

حوالہ جات

  1. صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1111
  2. سیر الصحابہ، سعید انصاری ،جلد6، صفحہ 71،دارالاشاعت کراچی
  3. سیر الصحابہ، سعید انصاری ،جلد6، صفحہ 73،دارالاشاعت کراچی