ام ایمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

برکہ بنت ثعلبہ جنہیں عام طور ام ایمن کے نام سے جانا جاتا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد بزرگوار عبد اللہ بن عبد المطلب کی خادمہ تھیں۔

نام و نسب[ترمیم]

برکۃ نام، اُمّ ایمن کنیت، اُمّ الظباء عرف، سلسلہ نسب یہ ہے: برکۃ بنت ثعلبہ بن عمرو بن حصن بن مالک بن سلمہ بن عمر و بن نعمان۔ حبشہ کی رہنے والی تھیں اور عبداللہ (پدرِ آنحضرتﷺ ) کی کنیز تھیں، بچپن سے عبداللہ کیساتھ رہیں اور جب انہوں نے انتقال کیا تو حضرت آمنہ کے پاس رہنے لگیں اسکے بعد خود سرورِ کائنات کے حلقۂ غلامی میں داخل ہونے کا شرف حاصل کیا۔ آنحضرتﷺ کی ان ہی نے پرورش اور پرداخت کی تھی۔

نکاح[ترمیم]

حارث بن خزرج کے خاندان میں عبید بن زید ایک شخص تھے، اُمّ ایمن کا ان ہی کے ساتھ عقد ہوا۔ لیکن جب انہوں نے وفات پائی تو آنحضرتﷺ نے زیدبن حارثہ سے جو محبوبِ خاص تھے، نکاح پڑھایا، یہ بعثت کے بعد کا واقعہ ہے۔

اسلام[ترمیم]

زیدچونکہ مسلمان ہوچکے تھے اُمّ ایمن نے بھی اسلام قبول کیا۔

عام حالات[ترمیم]

جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو وہ بھی گئیں اور وہاں سے ہجرت کے بعد مدینہ واپس آئیں۔ غزوۂ اُحد میں شرکت کی اس موقع پر وہ لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی تیمارداری کرتی تھیں، غزوۂ خیبر میں بھی شریک ہوئیں۔ 11ھ میں آنحضرتﷺ نے انتقال فرمایا اُمّ ایمن سخت مغموم تھیں اور رو رہی تھیں۔ ابوبکر اور عمرنے سمجھایا کہ رسول اللہﷺ کے لیے خدا کے پاس بہتر چیز موجود ہے، جواب ملا: ’’یہ خوب معلوم ہے۔‘‘ اور یہ رونے کا سبب بھی نہیں رونے کا اصلی سبب یہ ہے کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا، ابوبکر اورعمر پر اس جواب کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ بھی ان کے ساتھ مل کر زار و قطار رونے لگے۔ 23ھ میں عمرنے شہادت پائی، اُمّ ایمن کو معلوم ہوا تو بہت روئیں، لوگوں نے کہا: اب کیوں روتی ہو؟ بولیں:’’اب اس لیے کہ اسلام کمزور پڑگیا۔‘‘[1]

رسول اللہ کی پرورش[ترمیم]

جب حضرت محمدﷺ بی بی حلیمہ کے گھر سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور اپنی والدہ محترمہ کے پاس رہنے لگے تو ام ایمن جو آپ کے والد ماجد کی باندی تھیں آپ ﷺ کی خاطر داری و خدمت گزاری میں دن رات جی جان سے مصروف رہنے لگیں یہی آپ ﷺ کو کھانا کھلاتی تھیں'کپڑے پہناتی تھیں' کپڑے دھوتی تھیں جب آپ ﷺ بڑے ہوئے تو آپﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ سے ان کا نکاح کر دیا جن سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے بی بی ام ایمن حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے بعد کافی دنوں تک مدینہ میں زندہ رہیں اور ابو بکر صدیق اورعمر فاروق اپنی اپنی خلافتوں کے دوران بی بی ام ایمن کی زیارت و ملاقات کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے ۔[2][3] ایک بار ام ایمن نے آٹا چھانا، اور اس کی چپاتیاں تیار کر کے، آپ ﷺ كی خدمت میں پیش کیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ بولیں ہمارے ملک میں اس کا رواج ہے میں نے چاہا کہ آپ ﷺ کے لئے بھی اس قسم کی چپاتیاں تیار کروں۔ لیکن آپ نے کمال زہد و ورع سے فرمایا کہ آٹے میں چوکر ملالو پھر گوندھو۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیر الصحابیات، مؤلف ، مولانا سعید انصاری 78،مشتاق بک کارنر لاہور
  2. الاستیعاب ،کتاب کنی النساء، باب الألف، رقم3557، ام أیمن خادمۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ج4، ص478
  3. جنتی زیور، عبدالمصطفٰی اعظمی، صفحہ514، ناشر؛ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، کراچی۔
  4. سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ ، باب الحوّاری، الحدیث:3336، ج4، ص42