ام ایمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

'

ام ایمن
معلومات شخصیت
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر زید بن حارثہ  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد اسامہ بن زید  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

برکہ بنت ثعلبہ' جنہیں عام طور ام ایمن کے نام سے جانا جاتا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد بزرگوار عبد اللہ بن عبد المطلب کی خادمہ تھیں۔

نام و نسب[ترمیم]

برکۃ نام، اُمّ ایمن کنیت، اُمّ الظباء عرف، سلسلہ نسب یہ ہے : برکۃ بنت ثعلبہ بن عمرو بن حصن بن مالک بن سلمہ بن عمر و بن نعمان۔ حبشہ کی رہنے والی تھیں اور عبد اللہ (پدرِ آنحضرتﷺ ) کی کنیز تھیں، بچپن سے عبد اللہ کے ساتھ رہیں اور جب انہوں نے انتقال کیا تو حضرت آمنہ کے پاس رہنے لگیں اس کے بعد خود سرورِ کائنات کے حلقۂ غلامی میں داخل ہونے کا شرف حاصل کیا۔ آنحضرتﷺ کی ان ہی نے پرورش اور پرداخت کی تھی۔

نکاح[ترمیم]

حارث بن خزرج کے خاندان میں عبید بن زید ایک شخص تھے، اُمّ ایمن کا ان ہی کے ساتھ عقد ہوا۔ لیکن جب انہوں نے وفات پائی تو آنحضرتﷺ نے زیدبن حارثہ سے جو محبوبِ خاص تھے، نکاح پڑھایا، یہ بعثت کے بعد کا واقعہ ہے۔

اسلام[ترمیم]

زیدچونکہ مسلمان ہوچکے تھے اُمّ ایمن نے بھی اسلام قبول کیا۔

عام حالات[ترمیم]

جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو وہ بھی گئیں اور وہاں سے ہجرت کے بعد مدینہ واپس آئیں۔ غزوۂ اُحد میں شرکت کی اس موقع پر وہ لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی تیمارداری کرتی تھیں، غزوۂ خیبر میں بھی شریک ہوئیں۔ 11ھ میں آنحضرتﷺ نے انتقال فرمایا اُمّ ایمن سخت مغموم تھیں اور رو رہی تھیں۔ ابوبکر اور عمرنے سمجھایا کہ رسول اللہﷺ کے لیے خدا کے پاس بہتر چیز موجود ہے، جواب ملا: ’’یہ خوب معلوم ہے۔ ‘‘ اور یہ رونے کا سبب بھی نہیں رونے کا اصلی سبب یہ ہے کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا، ابوبکر اورعمر پر اس جواب کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ بھی ان کے ساتھ مل کر زار و قطار رونے لگے۔ 23ھ میں عمرنے شہادت پائی، اُمّ ایمن کو معلوم ہوا تو بہت روئیں، لوگوں نے کہا: اب کیوں روتی ہو؟ بولیں :’’اب اس لیے کہ اسلام کمزور پڑ گیا۔ ‘‘[1]

رسول اللہ کی پرورش[ترمیم]

جب حضرت محمدﷺ بی بی حلیمہ کے گھر سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور اپنی والدہ محترمہ کے پاس رہنے لگے تو ام ایمن جو آپ کے والد ماجد کی باندی تھیں آپ ﷺ کی خاطر داری و خدمت گزاری میں دن رات جی جان سے مصروف رہنے لگیں یہی آپ ﷺ کو کھانا کھلاتی تھیں 'کپڑے پہناتی تھیں ' کپڑے دھوتی تھیں جب آپ ﷺ بڑے ہوئے تو آپﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ سے ان کا نکاح کر دیا جن سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے بی بی ام ایمن حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے بعد کافی دنوں تک مدینہ میں زندہ رہیں اور ابو بکر صدیق اورعمر فاروق اپنی اپنی خلافتوں کے دوران بی بی ام ایمن کی زیارت و ملاقات کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے ۔[2][3] ایک بار ام ایمن نے آٹا چھانا اور اس کی چپاتیاں تیار کر کے، آپ ﷺ كی خدمت میں پیش کیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ بولیں ہمارے ملک میں اس کا رواج ہے میں نے چاہا کہ آپ ﷺ کے لیے بھی اس قسم کی چپاتیاں تیار کروں۔ لیکن آپ نے کمال زہد و ورع سے فرمایا کہ آٹے میں چوکر ملالو پھر گوندھو۔[4]

فضل وکمال[ترمیم]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کی ہیں، راویوں میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک، حنش بن عبد اللہ صنعانی اور ابویزید رضی اللہ عنہ مدنی داخل ہیں۔

اخلاق[ترمیم]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نہایت عزت کرتے اور فرماتے تھے کہ ام ایمن رضی اللہ عنہا میری ماں ہیں، اکثر ان کے مکان تشریف لے جاتے، ایک مرتبہ تشریف لائے توانہوں نے شربت پیش کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (کسی وجہ سے) مترود ہوئے، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا ناراض ہوئیں۔ [5] حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کوحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کرنے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پرایک قسم کا ناز تھا، یہ خفگی اسی محبت کی خفگی تھی۔ [6] انصار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبہت سے نخلسان دیے تھے، جب بنوقریظہ اور بنونضیر پرفتح حاصل ہوئی توآپ نے انصار رضی اللہ عنہم کوان کے نخلستان واپس کرنا شروع کیے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے کچھ باغ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ نے ام ایمن رضی اللہ عنہا کوعطا فرمائے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ آئے توحضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان کے واپس کرنے سے انکار کر دیا، اس پرمصررہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کراُن کوباغ سے دس گنا زیادہ عطا فرمایا۔ [7]


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیر الصحابیات، مؤلف، مولانا سعید انصاری 78،مشتاق بک کارنر لاہور
  2. الاستیعاب ،کتاب کنی النساء، باب الألف، رقم3557، ام أیمن خادمۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ج4، ص478
  3. جنتی زیور، عبد المصطفٰی اعظمی، صفحہ514، ناشر؛ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ، کراچی۔
  4. سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، باب الحوّاری، الحدیث:3336، ج4، ص42
  5. (مسلم:2/341)
  6. (نووی شرح مسلم)
  7. (صحیح بخاری۔ زرقانی:3/337)