عاتکہ بنت زید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عاتکہ بنت زید
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 672  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات زید ابن الخطاب
عبد اللہ بن ابو بکر
عمر ابن الخطاب
زبیر ابن العوام
حسین ابن علی  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عاتکہ بنت زید پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحابیہ تھیں اور ان کا تعلق قریش کےخاندان عدی سے تھیں ۔ ان کا سلسلہ نسب یہ ہے: عاتکہ بنت زید بن عمروبن نفیل بن عبدالعزیٰ بن ریاح بن عبد اللہ بن قرظ بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی ۔ ان کی شادی دوسرے خلیفہ عمر بن خطاب سے ہوئی تھی۔

جلیل القدر صحابی حضرت سعید بن زید (یکےازاصحاب عشرہ مبشرہ ) ان کے حقیقی بھائی تھے اور حضرت عمر بن خطاب چچا زاد بھائی ۔ مشہور صحابیہ حضرت فاطمہ بنت خطاب ان کی چچا زاد بہن اور بھاوج تھیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

حضرت عاتکہ کے والد زید بن عمرو ان لوگوں میں سے تھے جو زمانہ جاہلیت میں ہی توحید کے قائل تھے۔[1]:186[2] اور جن کےبارے میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ قیامت کے دن تنہا ایک امت کے حیثیت سے اٹھیں گے۔ مشہور صحابی سعید بن زید ان کے بھائی تھے۔[3]:296[2] زید کو حضور ﷺ کی بعثت سے چند سال قبل 605ء میں کسی دشمن نے قتل کر ڈالا تھا اور عاتکہ یتیم ہو گئی تھیں۔[4]:102–103

ذاتی زندگی[ترمیم]

دوسری شادی[ترمیم]

ان کی دوسری شادی زید ابن الخطاب[2] سے ہوئی جو اسلام لا چکے تھے اور ان کے عمر میں بڑے تھے۔[3] ان کی معیت میں عاتکہ نے مدینہ منورہ کی جانب 622ء میں ہجرت کی تھی۔[1]:186[2] بعد میں دونوں کا طلاق ہو گیا۔ دسمبر 632ء میںجنگ یمامہ میں زید شہید ہو گئے [2]

دوسری شادی[ترمیم]

ان کی شادی حضرت ابوبکر صدیق کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن ابی بکر سے ہوئی۔[1]:186[5]:101 حضرت عبد اللہ ؓ کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ ان کے عشق میں جہاد تک کو ترک کر دیا تھا۔[2][6] وہ بھی شوہر پر جان چھڑکتی تھیں اور ہمیشہ ان کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح دیتی تھیں۔

چونکہ انہوں نے حضرت عبد اللہ ؓ کو جہاد پر جانے کے لیے مجبور نہیں کیا تھا اس لیے ابو بکر صدیق ؓ نے حضرت عبد اللہ ؓ کو حکم دیا کہ وہ عاتکہ ؓ کو طلاق دے دیں۔[2][6] بلاذری نے طلاق کی وجہ ان کا بانجھ ہونا لکھا ہے۔[7]:267 پہلے تو وہ پہلے تو وہ کچھ عرصہ ٹالتے رہے لیکن جب والد ماجد کی طرف سے سخت اصرار ہوا تو انہوں نے حضرت حضرت عاتکہ ؓ کو ’’ایک ‘‘ طلاق دے دی۔ لیکن بیوی کے فراق نے انھیں نڈھال کر دیا اور انہوں نے یہ شعر کہے:[2][6]

اعاتك لا انساك ماذرشاق
وما ناح قمر ي الحمام المطوق
اعاتك قلبي كل يوم وليلة
اليك بما تخفي النفوس معلق
ولم ارمثلي طلق اليوم مثلها
ولا مثلها في غير جرم تطلق[2]

اے عاتکہ ؓ جب تک سورج چمکتا رہے گا ،

اور قمر ی بولتی رہے گی میں تجھے نہ بھولوں گا اے عاتکہ ؓ میرا دل شب و روز بصد ہزار تمنا و شوق تجھ سے لگا ہوا ہے مجھ جیسے آدمی نے اس جیسی خاتون کو کبھی طلاق نہ دی ہو گئی اور نہ اس جیسی خاتون کو بغیر گناہ طلاق دی جاتی

حضرت ابوبکر صدیق ؓ بڑے نرم دل تھے ،ان کے کانوں تک یہ اشعار پہنچے تو انہوں نے حضرت عبد اللہ ؓ کو رجعت کرنے کی اجازت دے دی۔[2][6]:87

اس کے بعد وہ ہر غزوے میں شریک ہونے لگے ۔ طائف کےمحاصرے میں ایک دن وہ دشمن کی طرف سے آنے والے ایک تیر سے سخت مجروح ہو گئے۔[1]:186[8][7]:267[2] اگر چہ یہ زخم اس وقت تو مندمل ہو گیا لیکن تیر کا زہر اندر ہی اندر کام کرتا رہا۔ سرور عالم ﷺ کے وصال کے کچھ عرصہ بعد شوال 11 ہجری میں یہ زخم عود کر آیا اور اسی کے صدمہ سے حضرت عبد اللہ ؓ بن ابی بکر ؓ نے وفات پائی۔[9]:76[2] حضرت عاتکہ ؓ کو ان کی وفات سے سخت صدمہ پہنچا ،مرحوم خاوند کی طرح وہ بھی شعر وشاعری میں درک رکھتی تھیں ۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پر درد مرثیہ کہا جس کے کچھ اشعار یہ ہیں۔[1]:187[7]:267

اليت لاينفك عني حزنية
عليك ولا ينفك جلدي اغبرا
للہ عينا من راي مثلہ فتي
اكرو احمي في الهياج و اصبرا
اذا شرعت فيہ الاسنة خاضها
الي الموت حتي يدرك الموت احمر ا
مدي الدهر حين غنت حمامة ايكة
وما ترد الليل الصباح المنورا

قسم کھا کر کہتی ہوں کہ تیرے غم میں میری آنکھ

روئے گئی اور میرا جسم غبار آلود رہے گا زہے قسمت اس آنکھ کی جس نے تجھ جیسا جنگ جو اور ثابت قدم جوان دیکھا اس پر تیر برستے تو ان کی بوچھاڑ میں گھستا ہو وہ اس وقت تک موت کی رف چلتا رہتا جب تک کہ خون کی ندیاں نہ بہا لیتا ۔ زندگی بھر جب جنگلی کبوتر گنگنائے گا (روتی رہوں گی ) اور جب تکط رات پر صبح روشن آتی رہے

تیسری شادی[ترمیم]

کچھ عرصہ بعد حضرت عمر فاروق ؓ نےحضرت عاتکہ ؓ سے نکاح کر لیا۔[1]:187[2] اس سے قبل انہوں نے شادی اور دنیاوی زندگی سے خود کو کنارہ کش کر لیا تھا۔ مگر حضرت عائشہ بنت ابی بکر نے انہیں ایسا نہ کرنے کی تاکید کی۔[10]:70[7]:267–268 دعوت و لیمہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی شریک تھے ، انہوں نےحضرت عاتکہ ؓ کو اوپر والے مرثیے کا پہلا شعر یاد دلایا تو وہ رونے لگیں۔[1]:187[2][7]:268 تاہم عمر فاروق ؓ سے بھی ان کی وفاداری اور محبت ہمیشہ مثالی رہی۔ [7]:267

حضرت عمر سے عاتکہ کو ایک بیٹا ہوا جن کا نام ایاد رکھا گیا۔[3]:204 شادی کے بعد عاتکہ نے حضرت عمر سے مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت مانگی اور عمر خاموش رہے کیونکہ جس چیز کی اجازت خود نبی دے چکے تھے عمر اس سے کیسے منع کرسکتے تھے لہذا عاتکہ مسجد جا کر نماز ادا کرتی تھیں۔[11][1]:188–189[2][12]

نومبر 644ء میںحضرت عمر فاروق ؓ نے شہادت پائی۔[3]:285[12] اس موقع پر بھی انہوں نے ایک درد ناک مرثیہ کہا اس کے چند اشعار یہ ہیں۔

من لنفس عادها احزانها
ولعين شفها طول السهد
وجسد لفف في الكفانہ
رحمة اللہ علي ذاك الجسد
فيہ تفجيع لمولي عازم
لم يدعہ اللہ يمشي بسبب[9]:152

كون سمجھائے اس نفس کو جس کے غموں نے پھرا عادہ کیا ہے ۔

اور اس آنکھ کو جس کو بیداری کی کثرت نے تکلیف دی ہے اور اس جسم کو جو کفن میں لپیٹا گیا ہے اللہ تعالی کی اس پر رحمت ہو مقروض اور نادار عزیزوں کو اس کا صدمہ ہے

چوتھی شادی[ترمیم]

حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد حضرت عاتکہ ؓ کا نکاح حواری رسو ل حضرت زبیر بن العواموام سے ہوا۔[5]:101 شادی میں انہوں نے دو شرطیں رکھیں۔ ایک یہ کہ زبیر انہیں ماریں گے نہیں اور دوسرے یہ کہ انہیں مسجد جانے کی اجازت ہوگی۔ ایک شرط یہ بھی رکھی کہ ان کے حقوق سلب نہیں کیے جائیں گے۔[2][6]:88[8]

دسمبر 656ء میں زبیر نے جنگ جمل کے موقع پر ابن جرموز کے ہاتھ سے شہادت پائی۔[3]:83–86 حضرت عاتکہ ؓ فرط غم سے نڈھا ل ہو گئیں اور بے اختیار ان کی زبان پر یہ مرثیہ جاری ہو گیا ۔

غدر ابن جرموز بفارس بهمة
يوم اللقاء وكان غير معزد
يا عمرو *لونبهة ہ لوجدعہ
لا طائشار عش الجنان ولا اليد
كم غمر ة قد خاضها لم يثنہ
عنا طرادك ياابن فقع القردد
ثكلتك امك ان ظفربمثلہ
ممن مضي *ممن يروح و يغتدي
واللہ ربك ان قتلت لمسلما
حلت عليك عقوبة المتعمد[13]

ان کے سابقہ تمام شوہر شہید ہوئے تھے اور یہ مشہور ہو گیا تھا کہ جسے شیادت کا درجہ پانا ہو وہ عاتکہ سے شادی کرلے۔[6]:89 چنانچہ حضرت علی بن ابی طالب نے ان سے شادی کی خواہش ظاہر کی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ ایک برادر نبی، میں آپ کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔[7]:268

پانچویں شادی[ترمیم]

عاتکہ نے حضرت علی سے تو شادی نہیں کی البتہ ان کے بیٹے حسین بن علی سے شادی کرلی۔ حسین ان کے تقریباً 25 برس چھوٹے تھے اور اتفاق یہ کہ واقعہ کربلا میں اکتوبر 680ء میں انہیں بھی شہادت نصیب ہوئی البتہ عاتکہ کا انتقال ان سے قبل ہی ہو چکا تھا۔[6]:89[8][7]:268

وفات[ترمیم]

عاتکہ کا انتقال 672ء میں ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ Muhammad ibn Saad. Kitab al-Tabaqat al-Kabir vol. 8. Translated by Bewley, A. (1995)۔ The Women of Madina۔ London: Ta-Ha Publishers.
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز Ibn Hajar al-Asqalani. Al-Isaba fi tamyiz al-Sahaba vol. 8 #11448.
  3. ^ ا ب پ ت ٹ Muhammad ibn Saad. Kitab al-Tabaqat al-Kabir vol. 3. Translated by Bewley, A. (2013)۔ The Companions of Badr۔ London: Ta-Ha Publishers.
  4. Muhammad ibn Ishaq. Sirat Rasul Allah۔ Translated by Guillaume, A. (1955)۔ The Life of Muhammad۔ Oxford: Oxford University Press.
  5. ^ ا ب Muhammad ibn Jarir al-Tabari. Tarikh al-Rusul wa'l-Muluk۔ Translated by Smith, G. R. (1994)۔ Volume 14: The Conquest of Iran۔ Albany: State University of New York Press.
  6. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج Abbott, N. (1942)۔ Aishah – the Beloved of Mohammed۔ Chicago: University of Chicago Press.
  7. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ Shuraydi, H. (2014)۔ The Raven and the Falcon: Youth versus Old Age in Medieval Arabic Literature۔ Leiden: Brill.
  8. ^ ا ب پ Ahmed, L. (1992)۔ Women and Gender in Islam: Historical Roots of a Modern Debate، p. 76. New Haven & London: Yale University Press.
  9. ^ ا ب Jalal al-Din al-Suyuti. History of the Caliphs۔ Translated by Jarrett, H. S. (1881)۔ Calcutta: The Asiatic Society.
  10. Muhammad ibn Jarir al-Tabari. Tarikh al Rusual wa'l-Muluk۔ Translated by Blankinship, K. Y. (1993)۔ Volume 11: The Challenge to the Empires۔ Albany: State University of New York Press.
  11. Malik ibn Anas. Muwatta 14:14.
  12. ^ ا ب Holmes Katz, M. (2013)۔ Prayer in Islamic Thought and Practice، p. 191. New York: Cambridge University Press.
  13. Sallabi, A. H. (2010). Biography of Ali Ibn Abi-Talib: A Comprehensive Study of His Personality and Era, volume 2, p. 88. Riyadh: Darussalam.