ام سائب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ام سائب یہ ایک بڑھیا اور نابینا صحابیہ تھیں۔ جو خدا کی راہ میں اپنا وطن چھوڑ کر اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ رہنے لگی تھیں۔ ان کی کرامت مشہور ہے کہ ان کا ایک بیٹا جو ابھی بچہ تھا اچانک انتقال کر گیا لوگوں نے اس کی لاش کو کپڑا او ڑھا دیااورحضرت ام سائب (یہاں اندھی مہاجرہ بڑھیا استعمال ہوا) کو خبر کردی کہ آپ کا بچہ انتقال کر گیا یہ سن کو انہوں نے آبدیدہ ہوکر دونوں ہاتھ اٹھا کر اس طرح دعا مانگی کہ۔ یا اﷲعزوجل! تجھ پر ایمان لائی اور میں نے اپنا وطن چھوڑ کر تیرے رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی طرف ہجرت کی ہے اس لیے اے میرے اﷲعزوجل! میں تجھ سے دعا کرتی ہوں کہ تو میرے بچے کی موت کی مصیبت مجھ پر نہ ڈال۔ انس بن مالک صحابی کا بیان ہے کہ ام سائب کی دعا ختم ہوتے ہی ایک دم ان کا بچہ اپنے چہرے سے کپڑا اٹھا کر اٹھ بیٹھا اور زندہ ہو گیا ۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حجۃ اللہ علی العالمین، فی معجزات سید المرسلین، محمد یوسف بن اسماعیل نبہانی، ص692، نوریہ رضویہ پبلیکیشنز، لاہور۔