جمانہ بنت ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جمانہ بنت ابی طالب
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
مقام وفات مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو طالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ فاطمہ بنت اسد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی

جمانہ بنت ابی طالب (عربی : جمانة بنت أبي طالب) ایک صحابیہ، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پہلی عم زاد اور علی بن ابی طالب کی بہن تھیں۔[1]

نام و نسب[ترمیم]

جمانہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب کی بیٹی تھیں۔ ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد تھا۔ ان کی شادی ان کے عم زاد ابو سفیان بن حارث سے ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے کا نام جعفر بن ابو سفیان (عربی: جعفر بن أبي سفيان) تھا۔[2]

سوانح[ترمیم]

جمانہ بنت ابی طالب کا نام کتب میں بہت کم ملتا ہے۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ ابو طالب کی اولاد میں جمانہ کا نام بھی ملتا ہے مگر ان کے حالات سے کوئی آگاہی نہیں ہوتی۔ اسحاق بن راہویہ نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیداوار خیبر میں سے تیس وسق خرما جمانہ بنت ابی طالب کے لیے مقرر فرمائے تھے۔ اس بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلعت اسلام سے مشرف تھیں اور جمانہ فتح خیبر تک حیات تھیں۔

وفات[ترمیم]

جمانہ کی وفات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الطبقات الكبرى - ابن سعد -ج8 - ص38
  2. الإصابة في تمييز الصحابة - ابن حجر - ج8 - ص63