ماریہ قبطیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ماریہ قبطیہ
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 فروری 637  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
شوہر محمد بن عبد اللہ (630–632)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد ابراھیم بن محمد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی

ام المؤمنین ماریہ قبطیہ (عربی: مارية القبطية) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔ وہ پہلے مسیحی تھیں اور بازنطینی شاہ مقوقس نے 628ء میں انہیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بطور ہدیہ بھیجا تھا۔

تفصیل

سال ( 627ء ) میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرق وسطیٰ کے مختلف اکابرین اور بادشاہوں کو خطوط ارسال کیے جن میں اسلام کی حقانیت بیان کی گئی تھی اور ایک اللہ کی عبادت کرنے کا پیغام شامل ہوتا تھا۔ ان خطوط کی تفصیل ابن جریر طبری کی تصنیف تاریخ طبری میں موجود ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نکاح

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد نبوی سے ملحق اپنی ازواج کے حجروں میں رہتے تھے۔ بعض مؤرخین کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے شادی نہیں کی تھی لیکن بعض کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماریہ قبطیہ سے شادی کی تھی۔

اولاد

حضرت ماریہ، حضرت خدیجہ کے بعد دوسری بیوی ہیں جن سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد ہوئی۔ حضرت ماریہ محمد بن عبد اللہ کے بیٹے ابراہیم بن محمد کی ماں ہیں۔ ابراہیم کا نام نبی ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا۔ ابراہیم سولہ مہینے کی عمر میں ہی انتقال کر گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بیٹے کی جدائی کا بہت غم تھا۔

انتقال

مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے پانچ سال کے بعد محرم 16 ہجری میں حضرت ماریہ بھی انتقال کرگئیں۔ اُن کی تاریخ پیدائش نامعلوم ہے۔

وضاحت

زیادہ تر مصنفین ان کا شمار بحیثیت لونڈی کرتے ہیں، مولانا حسن مثنیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ سیدہ ماریہ ازواج مطہرات میں سے تھی ۔

حوالہ جات