سریہ سالم بن عمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

-

سریہ سالم بن عمیر
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ شوال 2 ہجری
مقام بستی بنو قریظہ
محل وقوع
نتیجہ * سالم بن عمیر نے ابو عفک کو قتل کر دیا۔[1]
خطۂ اراضی مدینہ منورہ موجودہ سعودی عرب
متحارب
مسلمان ابو عفک
قائدین
سالم بن عمیر ابو عفک
قوت
اکیلے سالم بن عمیر ابو عفک
نقصانات
ابو عفک مارا گيا

بنو قریظہ میں ایک بنو عمر بن عوف کا ایک یہودی ابو عفک نام کا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف ہجو کہا کرتا اور لوگوں کو آپ کے خلاف ابھارتا تھا۔ اس کو قتل کرنے کے لئے ایک صحابی سالم بن عمیر نے نذر مانی، یہ سریہ صرف اسی ایک مقصد کے لئے تھا۔ اس کو سریہ میں اس لئے ہی شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی اجازت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دی تھی۔

پس منظر[ترمیم]

بنو عامر بن عوف میں ابو عفک نامی ایک شیخ تھا جس کی عمر ایک سو بیس سال تھی یہ مدینہ میں لوگوں کو رسول اللہ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا جب غزوہ بدر میں مسلمان فاتح ہوئے تو اس کا حسد اور بغاوت اور زیادہ ہوگئی اور اس نے رسول اللہ کے خلاف ایک توہین آمیز قصیدہ بھی لکھا

واقعات[ترمیم]

سالم بن عمیر نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کرونگا یا اس کوشش میں قتل ہو جاؤنگا سالم اسی موقع کی تلاش میں تھے جب ایک رات ابو عفک اپنے صحن میں سو رہا تھا کہ سالم نے تلوار اس کے جگر پر رکھ کر قتل کر دیا وہ جب بہت چیخا تو اس کے ساتھی آئے لیکن سالم بھاگ چکے تھے یہ واقعہ شوال میں ہجرت کے بیس ماہ بعد پیش آیا پیش آیا [2]

ماقبل:
سریہ عمیر بن عدی
رمضان 2 ہجری
سرایا نبوی
سریہ سالم بن عمیر
مابعد:
سریہ محمد بن مسلمہ
ربیع الاول 3 ہجری

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر شوقی ابو خلیل، اٹلس سیرت نبوی، صفحہ224
  2. الصارم المسلول صفحہ 168