سریہ خبط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

-

سلسلہ سرایا نبوی
مقام
محل وقوع
نتیجہ
متحارب
مسلمان

اس سریہ کوامام بخاری نے غزوہ سیف البحر کے نام سے ذکر کیا ہے۔ رجب میں حضورﷺ نے ابوعبیدہ بن الجراح کو تین سو صحابہ کرام کے لشکر پر امیر بناکر ساحل سمندر کی جانب روانہ فرمایاتاکہ یہ لوگ قبیلہ جہینہ کے کفار کی شرارتوں پر نظر رکھیں اس لشکر میں خوراک کی اس قدر کمی پڑ گئی کہ امیرلشکر مجاہدین کو روزانہ ایک ایک کھجور راشن میں دیتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ یہ کھجوریں بھی ختم ہوگئیں اور لوگ بھوک سے بے چین ہوکر درختوں کے پتے کھانے لگے یہی وجہ ہے کہ عام طورپر مؤرخین نے اس سریہ کا نام سریۃ الخبط یا جیش الخبط رکھا ہے۔ خبط عربی زبان میں درخت کے پتوں کو کہتے ہیں۔ چونکہ مجاہدین اسلام نے اس سریہ میں درختوں کے پتے کھاکر جان بچائی اس لیے یہ سریۃ الخبط کے نام سے مشہور ہو گیا۔[1] جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ کو امیر بنا کر تین سو آدمیوں کا ایک لشکر ساحل کی طرف بھیجا ہم چل پڑے ہم راستہ ہی میں تھے کہ زاد راہ ختم ہو گیا ابوعبیدہ نے تمام لشکر کے توشے حکم دے کر جمع کر لیے تو وہ کھجور کے دو تھیلے ہوئے ابوعبیدہ ہمیں روز تھوڑا تھوڑا دیتے یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گیا اب ہمیں ایک ایک کھجور ملنے لگی تو میں نے جابر سے کہا ایک کھجور سے کیا پیٹ بھرتا ہوگا جابر نے کہا اس ایک کھجور کے ملنے کی حقیقت جب معلوم ہوئی کہ جب وہ بھی ختم ہو گئی یہاں تک کہ ہم (ساحل) سمندر پر پہنچ گئے تو دیکھا کہ ایک مچھلی پہاڑی کی طرح موجود ہے اس لشکر نے وہ مچھلی اٹھارہ دن تک کھائی پھر ابوعبیدہ نے اس مچھلی کی دو پسلیاں کھڑی کرائیں اور ایک سواری کو اس کے نیچے سے گزارا تو بغیر اس کے لگے ہوئے سواری نیچے سے صاف نکل گئی۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرتِ مصطفی،عبد المصطفیٰ اعظمی،صفحہ 409ناشرمکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی
  2. صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1549