حرب الفجار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

جب محمدصلى الله عليه وسلم کی عمر بیس سال ہوئی،تو ذی القعدہ کے مہینے میں عکاظ کے بازار میں ایک لڑائی درپیش ہوئی۔جس میں ایک طرف قریش اور کنانہ کے قبائل تھے اور دوسری طرف قیس عیلان کے قبائل تھے۔دونوں میں گھمسان کا رن پڑا اور فریقین کے کئی کئی آدمی قتل ہوئے۔ لیکن پھر انہوں نے صلح کیا کہ دونوں فریق کے مردے گنے جائے ،جس کے زیادہ مقتولین ہو ان کو بدلے میں زیادہ خون بہا دیا جائے گا۔اس کے بعد جنگ ختم ہوئی اور باہمی شر ع عداوت مٹادیا گیا۔
محمد صلى الله عليه وسلم نے اس جنگ میں اپنے چچاؤں کی مدد کی اور آپﷺ چچاؤں کو تیر تھمایا کیا کرتے۔ اس جنگ کو جنگِ فجار یا حربِ فجار اسلئے کہاگیا کیونکہ اس حرام مہینے کو پامال کیا گیا تھا۔فجار نام کے واقعات چار مرتبہ پیش آئے اور مذکورہ واقعہ چوتھا واقعہ ہے،اس سے پہلے جو تین واقعات درپیش ہوئے تھے وہ چھوٹے چھوٹے واقعات تھے ،ان میں سب سے بڑی لڑائی چوتھی تھی جو ذکر کی گئی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]