سریہ مرثد بن ابو مرثد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سریہ مرثد بن ابو مرثد

سریہ رجیح

سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ صفر 4 ہجری
مقام رجیح (الرجیح)
محل وقوع
نتیجہ مسلمانوں کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا
خطۂ اراضی مکہ
متحارب
مسلمان بنو عضل و بنو قارہ
قائدین
مرثد بن کناز
مشہور مرثد بن ابو مرثد
نامعلوم
قوت
6 سے 10 مبلغین صحابہ 100 سے زاہد
نقصانات
8 شہید، 2 گرفتار
گرفتار کرنے کے بعد ان کو مکہ میں بیچ دیا گیا

پس منظر[ترمیم]

مرثد بن ابو مرثدان کا نام کناز بن حصین غنوی تھا۔ یہ مکہ سے قیدی نکال کر لاتے تھے ایک مرتبہ مکہ سے قیدی نکال کر لا رہے تھےکہ ایک کوڑی پر ان کی ملاقات ایک عورت سے ہوئی[1] ابن عباس سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺنے قبیلہ بنو غنی کے ایک شخص کو جسے مرثد بن ابی مرثد کہتے تھے اور وہ بنوہاشم کا حلیف تھا مکہ روانہ کیا تاکہ وہ مکہ سے کچھ مسلمانوں کو نکال لائے جو قیدی تھے [2]

واقعات[ترمیم]

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص جس کا نام مرثد بن ابی مرثد تھا وہ قیدیوں کو مکہ سے مدینہ پہنچایا کرتا تھا۔ مکہ میں ایک زانیہ عورت تھی جس کا نام عناق تھا وہ اس کی دوست تھی۔ مرثد نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اسے مدینہ پہنچائے گا۔ مرثد کہتے ہیں کہ میں (مکہ) آیا اور ایک دیوار کی اوٹ میں ہوگیا۔ چاندنی رات تھی کہ اتنے میں عناق آئی اور دیوار کے ساتھ میرے سائے کی سیاہی کو دیکھ لیا۔ جب میرے قریب پہنچی تو پہچان گئی اور کہنے لگی کہ تم مرثد ہو؟ میں نے کہا ہاں مرثد ہوں۔ کہنے لگی اھلا وسہلا ومرحبا (خوش آمدید)۔ آج کی رات ہمارے یہاں قیام کرو۔ مرثد فرماتے ہیں کہ میں نے کہا عناق ! اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے اس نے زور سے کہا خیمے والو ! یہ آدمی تمہارے قیدیوں کو لے جاتا ہے۔ چنانچہ آٹھ آدمی میرے پیچھے دوڑے۔ میں (خندمہ) ایک پہاڑ کی طرف بھاگا اور وہاں پہنچ کر ایک غار دیکھا اور اس میں گھس گیا۔ وہ لوگ آئے اور میرے سر پر کھڑے ہوگئے اور وہاں پیشاب بھی کیا جو میرے سر پر ٹھہرنے (گرنے) لگے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مجھے دیکھنے سے اندھا کردیا اور واپس چلے گئے۔ پھر میں بھی اپنے قیدی ساتھی کے پاس گیا اور اسے اٹھایا۔ وہ کافی بھاری تھا۔ میں اسے لے کر اذخر کے مقام تک پہنچا۔ پھر اس کی زنجیریں توڑیں اور اسے پیٹھ پر لادلیا۔ وہ مجھے تھکا دیتا تھا یہاں تک کہ مدینہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا [3]

نتائج[ترمیم]

ماقبل:
سریہ منذر بن عمرو
صفر 4 ہجری
سرایا نبوی
سریہ مرثد بن ابو مرثد
مابعد:
سریہ محمد بن مسلمہ (قرطا)
10 محرم 6 ہجری

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرت حلبیہ جلد سوم 507
  2. تفسیر قرطبی ،تفسیر خازن ،تفسیر الشعراوی
  3. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1124