فتح مکہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مکہ کی فتح
حصہ مسلمانقریش چنگیں
تاریخ11 جنوری 630
مقاممکہ
نتیجہ بغیر جنگ کیے مسلمانوں کی فتح، قریش نے ہتھیار ڈال دیئے، مقابلہ نہیں کیا۔
محارب
مسلمان قریش
کمانڈر اور رہنما
محمد بن عبد اللہﷺ ابو سفیان بن حرب
طاقت
10,000 نامعلوم
اموات اور نقصانات
2 12

فتح مکہ (جسے فتح عظیم بھی کہا جاتا ہے)[1] عہد نبوی کا ایک غزوہ ہے جو 20 رمضان سنہ 8 ہجری بمطابق 10 جنوری سنہ 630 عیسوی کو پیش آیا، اس غزوے کی بدولت مسلمانوں کو شہر مکہ پر فتح نصیب ہوئی اور اس کو اسلامی قلمرو میں شامل کر لیا گیا۔ اس غزوہ کا سبب قریش مکہ کی جانب سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی تھی جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان میں ہوا تھا، یعنی قریش مکہ نے اپنے حلیف قبیلہ بنو دئل بن بکر بن عبد منات بن کنانہ (اس کی ایک خاص شاخ جسے بنو نفاثہ کہا جاتا ہے) نے بنو خزاعہ کے خلاف قتل و غارت میں مدد کی تھی اور چونکہ بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف قبیلہ تھا اس لیے اس حملے کو قریش مکہ کی جانب سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی سمجھا گیا جو مسلمانوں اور قریش کے درمیان میں ہوا تھا، یہ معاہدہ "صلح حدیبیہ" کے نام سے معروف ہے۔ اسی معاہدہ کی خلاف ورزی کے جواب میں نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم الشان لشکر تیار کیا جو دس ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا؛ لشکر آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ مکہ پہونچ گیا اور بغیر کسی مزاحمت کے مکہ میں پر امن طریقے سے داخل ہو گیا سوائے ایک معمولی سی جھڑپ کے جس کا سپہ سالار خالد بن ولید کو اس وقت سامنا ہوا جب قریش کی ایک ٹولی نے عکرمہ بن ابی جہل کی قیادت میں مسلمانوں سے مزاحمت کی اور پھر خالد بن ولید کو ان سے قتال کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بارہ کفار مارے گئے اور باقی بھاگ گئے، جبکہ دو مسلمان بھی کام آئے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں داخل ہوئے اور لوگوں کو اطمینان ہو گیا تو کعبہ کے پاس آئے اور اس کا طواف کیا۔ اثنائے طواف کعبہ کے ارد گرد موجود بتوں کو اپنے پاس موجود تیر سے گراتے اور پڑھتے جاتے: «جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا»[2] و«جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ»،[3] "جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا" (ترجمہ: حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے) اور پڑھتے "جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد" (ترجمہ: حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے، نہ دوبارہ کرنے کا)۔ کعبہ میں بتوں کی تصویریں آویزاں اور ان کے مجسمے نصب تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بھی ہٹانے اور توڑنے کا حکم دیا جس کی تعمیل کی گئی، جب نماز کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بلال ابن رباح کو حکم فرمایا کہ کعبہ کے اوپر چڑھ جائیں اور اذان دیں؛ بلال کعبہ کے اوپر چڑھے اور اذان دی۔

فتح مکہ کے بعد ایک کثیر تعداد حلقہ بگوش اسلام ہوئی جن میں سرفہرست سردار قریش و کنانہ ابو سفیان اور ان کی بیوی ہند بنت عتبہ ہیں۔ اسی طرح عکرمہ بن ابو جہل، سہیل بن عمرو، صفوان بن امیہ اور ابوبکر صدیق کے والد ابو قحافہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔

پس منظر[ترمیم]

صلح حدیبیہ دس سال کے لیے ہوئی تھی مگر 630ء کے بالکل شروع میں مشرکینِ مکہ کے اتحادی قبیلہ بنو بکر نے مسلمانوں کے اتحادی قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کیا اور کئی آدمی قتل کر دیے۔ اس دوران مکہ کے مشرک قریش نے چہرے پر نقاب ڈال کر بنو بکر کی مدد بھی کی مگر یہ بات راز نہ رہ سکی۔ یہ صلح حدیبیہ کا اختتام تھا۔ مسلمان اس وقت تک بہت طاقتور ہو چکے تھے۔ ابوسفیان نے بھانپ لیا تھا کہ اب مسلمان اس بات کا بدلہ لیں گے اس لیے اس نے صلح کو جاری رکھنے کی کوشش کے طور پر مدینہ کا دورہ کیا۔ ابوسفیان اپنی بیٹی امِ حبیبہ کے گھر پہنچا، جو اسلام لے آئی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ جب اس نے بستر پر بیٹھنا چاہا تو حضرت امِ حبیبہ نے بستر اور چادر لپیٹ دی اور ابوسفیان کو بیٹھنے نہ دیا۔ اس نے حیران ہو کر پوچھا کہ بستر کیوں لپیٹا گیا ہے تو حضرت ام حبیبہ نے جواب دیا کہ 'آپ مشرک ہیں اور نجس ہیں اس لیے میں نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جگہ پر بیٹھیں۔۔[4] جب ابوسفیان نے صلح کی تجدید کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رجوع کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا پھر اس نے کئی بزرگوں کی وساطت سے کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ سخت غصے اور مایوسی میں اس نے تجدیدِ صلح کا یکطرفہ اعلان کیا اور مکہ واپس چلا گیا۔[5] قبیلہ بنو خزاعہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فریاد کی تو انہوں نے مکہ فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ بنو خزاعہ نے اپنے ایک شاعر عمرو ابن خزاعہ کو بھیجا تھا جس نے دردناک اشعار پڑھے اور بتایا کہ وہ 'وتیرہ' کے مقام پر رکوع و سجود میں مشغول تھے تو قریش نے ان پر حملہ کر دیا اور ہمارا قتلِ عام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو کہا کہ ہم تمہاری مدد کریں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روانگی کا مقصد بتائے بغیر اسلامی فوج کو تیار کیا اور مدینہ اور قریبی قبائل کے لوگوں کو بھی ساتھ ملایا۔ لوگوں کے خیال میں صلحِ حدیبیہ ابھی قائم تھی اس لیے کسی کے گمان میں نہ تھا کہ یہ تیاری مکہ جانے کے لیے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ سے باہر جانے والے راستوں پر نگرانی بھی کروائی تاکہ یہ خبریں قریش کا کوئی جاسوس باہر نہ لے جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا بھی کی کہ اے خدایا آنکھوں اور خبروں کو قریش سے پوشیدہ کر دے تاکہ ہم اچانک ان کے سروں پر ٹوٹ پڑیں۔[6] 10 رمضان 8ھ کو روانگی ہوئی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہاں جانا ہے۔ ایک ہفتہ میں مدینہ سے مکہ کا فاصلہ طے ہو گیا۔ مکہ سے کچھ فاصلہ پر 'مرالظہران' کے مقام پر لشکرِ اسلام خیمہ زن ہو گیا۔ لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ مکہ کا ارادہ ہے۔

جنگ[ترمیم]

جنگ تو ہوئی نہیں مگر احوال کچھ یوں ہے کہ مر الظہران کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تاکید کی کہ لشکر کو بکھیر دیا جائے اور آگ جلائی جائے تاکہ قریشِ مکہ یہ سمجھیں کہ لشکر بہت بڑا ہے اور بری طرح ڈر جائیں اور اس طرح شاید بغیر خونریزی کے مکہ فتح ہو جائے۔ یہ تدبیر کارگر رہی۔ مشرکین کے سردار ابوسفیان نے دور سے لشکر کو دیکھا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ شاید بنو خزاعہ کے لوگ ہیں جو بدلہ لینے آئے ہیں مگر اس نے کہا کہ اتنا بڑا لشکر اور اتنی آگ بنو خزاعہ کے بس کی بات نہیں۔ اس کے بعد ابوسفیان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امان پانے کے لیے لشکرِ اسلام کی طرف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کی پناہ میں چل پڑا۔ کچھ مسلمانوں نے اسے مارنا چاہا مگر چونکہ عباس بن عبدالمطلب رض نے پناہ دے رکھی تھی اس لیے باز آئے۔ رات کو قید میں رکھ کر صبح ابوسفیان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو سفیان کو دیکھا تو فرمایا 'کیا ابھی اس کا وقت نہیں آیا کہ تو یہ سمجھے کہ ایک خدا کے علاوہ اور کوئی خدا نہیں ہے؟' ابوسفیان نے کہا کہ اگر خدائے واحد کے علاوہ کوئی خدا ہوتا تو ہماری مدد کرتا۔ یہ دیکھ کر کہ اس نے ایک خدا کو تسلیم کیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ 'کیا اس کا وقت نہیں آیا کہ تم جانو کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں؟' اس پر ابوسفیان نے کہا کہ 'مجھے آپ کی رسالت میں تردد ہے' اس پر ان کو پناہ دینے والے عباس بن عبد المطلب سخت ناراض ہوئے اور کہا کہ اے ابوسفیان اگر تو اسلام نہ لایا تو تمہاری جان کی کوئی ضمانت نہیں۔ اس پر ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے رہا نہ کیا بلکہ ایک جگہ رکھ کر مسلمانوں کے دستوں کو اس کے سامنے گزارا۔ وہ بہت مرعوب ہوا اور عباس بن عبد المطلب کو کہنے لگا کہ 'اے عباس تمہارے بھتیجے نے تو زبردست سلطنت حاصل کر لی ہے'۔ حضرت عباس بن عبد المطلب نے کہا کہ 'اے ابوسفیان یہ سلطنت نہیں بلکہ نبوت ہے جو خدا کی عطا کردہ ہے'۔ اس کے بعد حضرت عباس بن عبد المطلب نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہا کہ 'اے اللہ کے رسول۔ ابوسفیان ایسا شخص ہے جو ریاست کو دوست رکھتا ہے اسے اسی وقت کوئی مقام عطا کریں' اس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'ابوسفیان لوگوں کو اطمینان دلا سکتا ہے کہ جو کوئی اس کی پناہ میں آجائے گا امان پائے گا۔ جو شخص اپنے ہتھیار رکھ کر اس کے گھر میں چلا جائے اور دروازہ بند کر لے یا مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ سپاہِ اسلام سے محفوظ رہے گا'۔[7] اس کے بعد ابوسفیان کو رہا کر دیا گیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس نے مکہ جا کر اسلامی لشکر کی عظمت بتا کر ان لوگوں کو خوب ڈرایا۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لشکر کو چار دستوں میں تقسیم کیا اور مختلف سمتوں سے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا اور تاکید کی کہ جو تم سے لڑے اس کے علاوہ اور کسی سے جنگ نہ کرنا۔۔[8] چاروں طرف سے شہر گھر گیا اور مشرکین کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہا۔ صرف ایک چھوٹے گروہ نے لڑائی کی جس میں صفوان بن امیہ بن ابی خلف اور عکرمہ بن ابی جہل شامل تھے۔ ان کا ٹکراؤ حضرت خالد بن ولید کی قیادت کردہ دستے سے ہوا۔ مشرکین کے 28 افراد انتہائی ذلت سے مارے گئے۔[9] لشکر اسلام انتہائی فاتحانہ طریقہ سے شہرِ مکہ میں داخل ہوا جہاں سے آٹھ سال پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔ کچھ آرام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجاہدین کے ہمراہ کعبہ کہ طرف روانہ ہوئے۔ کعبہ پر نظر پڑتے گھوڑے پر سواری کی ہی حالت میں حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر بلند کرتے تھے اور لشکرِ اسلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جواب میں تکبیر بلند کرتے تھے۔ کعبہ میں داخل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام تصاویر کو باہر نکال دیا جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر بھی شامل تھی اور تمام بتوں کو توڑ دیا۔ بتوں کو توڑنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رض کو اپنے مبارک کاندھوں پر سوار کیا اور بتوں کو اپنے ہاتھوں سے بھی توڑتے رہے۔ یہاں تک کہ کعبہ کو شرک کی تمام علامتوں سے پاک کر دیا۔

نتائج[ترمیم]

فتحِ مکہ ایک شاندار فتح تھی جس میں چند کے علاوہ کوئی قتل نہ ہوا۔ فتح کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب کو عام معافی دے دی۔ کافی لوگ مسلمان ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے شرک نہ کرنے، زنا نہ اور چوری نہ کرنے کی تاکید پر بیعت لی۔ اور انہیں اپنے اپنے بتوں کو توڑنے کا حکم دیا۔ مکہ کی فتح عرب سے مشرکین کے مکمل خاتمے کی ابتدا ثابت ہوئی۔

پیش منظر[ترمیم]

مکہ کی فتح کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سابقہ مشرکین کو مکہ کے اطراف میں بتوں کو توڑنے کے لیے بھیجا۔ مکہ کے فتح کے بعد ارد گرد کے مشرکین پریشان ہو گئے اور ایک اتحاد قائم کیا جس وجہ سے فتحِ مکہ کے اگلے ہی ماہ غزوہ حنین پیش آیا۔

حوالے[ترمیم]

  1. زاد المعاد فی هدی خير العباد، ابن قیم الجوزیہ، مؤسسة الرسالة، بيروت - لبنان، مكتبة المنار الإسلامية، الكويت، الطبعة السابعة والعشرون، 1415هـ/1994م
  2. سورة الإٍسراء، الآية: 81
  3. سورة سبأ، الآية: 49
  4. السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام صفحہ 38
  5. السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام صفحہ 38-39
  6. السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام صفحہ 39
  7. السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام جلد 4 صفحہ 45-46
  8. المغازی (واقدی) جلد 2 صفحہ 825
  9. السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام جلد 4 صفحہ 49