جالوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
داؤد اور جالوت، داؤد جالوت پر پتھر پھینکتے ہوئے۔(1888 کی تصویر)

جالوت (/ɡəˈləθ/; عبرانی: גָּלְיָת، جدید Golyat ، طبری Golyāṯ; عربی: جالو، جليات Ǧulyāt (عیسائی اصطلاح)، Ǧālūt (قرآنی اصطلاح) میں جات (فلستیوں کے پانچ ریاست شہروں میں سے ایک) ایک بائبل کا کردار ہے جس کو بیان کیا گیا ہے کے وہ دیو فلستی جنگجو تھا جس کو داؤد نے شکست دی۔

بائبل میں ذکر[ترمیم]

جالوت کا ذکر کتاب سموئیل اول و دوم دونوں میں ہے۔
کتاب سموئیل اول باب 17 آیت 1:58 کے مطابق:

(1)پِھر فِلستِیوں نے جنگ کے لِئے اپنی فَوجیں جمع کِیں اور یہُوداہ کے شہر شو کہ میں فراہم ہُوئے اور شو کہ اور عزِیقہ کے درمِیان افسد مِّیم میں خَیمہ زن ہُوئے۔(2) اور ساؤُل اور اِسرا ئیل کے لوگوں نے جمع ہو کر ایلہ کی وادی میں ڈیرے ڈالے اور لڑائی کے لِئے فِلستِیوں کے مُقابِل صف آرائی کی۔ (3) اور ایک طرف کے پہاڑ پر فلِستی اور دُوسری طرف کے پہاڑ پر بنی اِسرائیل کھڑے ہُوئے اور اِن دونوں کے درمِیان وادی تھی۔ (4) اور فِلستِیوں کے لشکر سے ایک پہلوان نِکلا جِس کا نام جاتی جولیت تھا ۔ اُس کا قد چھ ہاتھ اور ایک بالِشت تھا۔ (5) اور اُس کے سر پر پِیتل کا خود تھا اور وہ پِیتل ہی کی زِرہ پہنے ہُوئے تھا جو تول میں پانچ ہزار پِیتل کی مِثقال کے برابر تھی۔ (6) اور اُس کی ٹانگوں پر پِیتل کے دو ساق پوش تھے اور اُس کے دونوں شانوں کے درمِیان پِیتل کی برچھی تھی۔ (7) اور اُس کے بھالے کی چَھڑ اَیسی تھی جَیسے جُلاہے کا شہتِیر اور اُس کے نیزہ کا پَھل چھ سَو مِثقال لوہے کا تھا اور ایک شخص سِپر لِئے ہُوئے اُس کے آگے آگے چلتا تھا۔ (8) وہ کھڑا ہُؤا اور اِسرا ئیل کے لشکروں کو پُکار کر اُن سے کہنے لگا کہ تُم نے آ کر جنگ کے لِئے کیوں صف آرائی کی؟ کیا مَیں فِلستی نہیں اور تُم ساؤُل کے خادِم نہیں ؟ سو اپنے لِئے کِسی شخص کو چُنو جو میرے پاس اُتر آئے۔ (9) اگر وہ مُجھ سے لڑ سکے اور مُجھے قتل کر ڈالے تو ہم تُمہارے خادِم ہو جائیں گے پر اگر مَیں اُس پر غالِب آؤُں اور اُسے قتل کر ڈالُوں تو تُم ہمارے خادِم ہو جانا اور ہماری خِدمت کرنا۔ (10) پِھر اُس فلِستی نے کہا کہ مَیں آج کے دِن اِسرائیلی فَوجوں کی فضِیحت کرتا ہُوں ۔ کوئی مَرد نِکالو تاکہ ہم لڑیں۔ (11) جب ساؤُل اور سب اِسرائیلِیوں نے اُس فِلستی کی باتیں سُنِیں تو ہِراسان ہُوئے اور نِہایت ڈر گئے۔ (12) اور داؤُد بَیت لحم یہُود اہ کے اُس افراتی مَرد کا بَیٹا تھا جِس کا نام یسّی تھا ۔ اُس کے آٹھ بیٹے تھے اور وہ آپ ساؤُل کے زمانہ کے لوگوں کے درمِیان بُڈّھا اور عُمر رسِیدہ تھا۔(13) اور یسّی کے تِین بڑے بیٹے ساؤُل کے پِیچھے پِیچھے جنگ میں گئے تھے اور اُس کے تِینوں بیٹوں کے نام جو جنگ میں گئے تھے یہ تھے الیاب جو پہلوٹھا تھا ۔ دُوسرا ابِیند اب اور تِیسرا سمّہ۔ (14) اور داؤُد سب سے چھوٹا تھا اور تِینوں بڑے بیٹے ساؤُل کے پِیچھے پِیچھے تھے۔ (15) اور داؤُد بَیت لحم میں اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چرانے کو ساؤُل کے پاس سے آیا جایا کرتا تھا۔ (16) اور وہ فِلستی صُبح اور شام نزدِیک آتا اور چالِیس دِن تک نِکل کر آتا رہا۔ (17) اور یسّی نے اپنے بیٹے داؤُد سے کہا کہ اِس بھُنے اناج میں سے ایک ایفہ اور یہ دس روٹِیاں اپنے بھائِیوں کے لِئے لے کر اِن کو جلد لشکر گاہ میں اپنے بھائِیوں کے پاس پُہنچا دے۔ (18) اور اُن کے ہزاری سردار کے پاس پنِیر کی یہ دس ٹِکیاں لے جا اور دیکھ کہ تیرے بھائِیوں کا کیا حال ہے اور اُن کی کُچھ نِشانی لے آ۔ (19) اور ساؤُل اور وہ بھائی اور سب اِسرائیلی مَرد ایلہ کی وادی میں فِلستِیوں سے لڑ رہے تھے۔ (20) اور داؤُد صُبح کو سویرے اُٹھا اور بھیڑ بکرِیوں کو ایک نِگہبان کے پاس چھوڑ کر یسّی کے حُکم کے مُطابِق سب کُچھ لے کر روانہ ہُؤا اور جب وہ لشکر جو لڑنے جا رہا تھا جنگ کے لِئے للکار رہا تھا اُس وقت وہ چھکڑوں کے پڑاؤ میں پُہنچا۔ (21) اور اِسرائیلِیوں اور فِلستِیوں نے اپنے اپنے لشکر کو آمنے سامنے کر کے صف آرائی کی۔ (22) اور داؤُد اپنا سامان اسباب کے نِگہبان کے ہاتھ میں چھوڑ کر آپ لشکر میں دَوڑ گیا اور جا کر اپنے بھائِیوں سے خَیر و عافِیّت پُوچھی۔ (23) اور وہ اُن سے باتیں کرتا ہی تھا کہ دیکھو وہ پہلوان جات کا فِلستی جِس کا نام جولیت تھا فِلستی صفوں میں سے نِکلا اور اُس نے پِھر وَیسی ہی باتیں کہِیں اور داؤُد نے اُن کو سُنا۔ (24) اور سب اِسرائیلی مَرد اُس شخص کو دیکھ کر اُس کے سامنے سے بھاگے اور بُہت ڈر گئے۔ (25) تب اِسرائیلی مَرد یُوں کہنے لگے تُم اِس آدمی کو جو نِکلا ہے دیکھتے ہو؟ یقِیناً یہ اِسرا ئیل کی فضِیحت کرنے کو آیا ہے ۔ سو جو کوئی اُس کو مار ڈالے اُسے بادشاہ بڑی دَولت سے نِہال کرے گا اور اپنی بیٹی اُسے بیاہ دے گا اور اُس کے باپ کے گھرانے کو اِسرا ئیل کے درمِیان آزادکر دے گا۔ (26) اور داؤُد نے اُن لوگوں سے جو اُس کے پاس کھڑے تھے پُوچھا کہ جو شخص اِس فِلستی کو مار کر یہ ننگ اِسرا ئیل سے دُور کرے اُس سے کیا سلُوک کِیا جائے گا؟ کِیُونکہ یہ نامختُون فِلستی ہوتا کَون ہے کہ وہ زِندہ خُدا کی فَوجوں کی فضِیحت کرے؟۔(27) اور لوگوں نے اُسے یِہی جواب دِیا کہ اُس شخص سے جو اُسے مار ڈالے یہ یہ سلُوک کِیا جائے گا۔ (28) اور اُس کے سب سے بڑے بھائی الیاب نے اُس کی باتوں کو جو وہ لوگوں سے کرتا تھا سُنا اور الیاب کا غُصّہ داؤُد پر بھڑکا اور وہ کہنے لگا تُویہاں کیوں آیا ہے اور وہ تھوڑی سی بھیڑ بکرِیاں تُو نے جنگل میں کِس کے پاس چھوڑِیں؟ مَیں تیرے گھمنڈ اور تیرے دِل کی شرارت سے واقِف ہُوں ۔ تُو لڑائی دیکھنے آیا ہے۔ (29) داؤُد نے کہا مَیں نے اب کیا کِیا؟ کیا بات ہی نہیں ہو رہی ہے؟۔ (30) اور وہ اُس کے پاس سے پِھر کر دُوسرے کی طرف گیا اور وَیسی ہی باتیں کرنے لگا اور لوگوں نے اُسے پِھر پہلے کی طرح جواب دِیا۔ (31) اور جب وہ باتیں جو داؤُد نے کہِیں سُننے میں آئِیں تو اُنہوں نے ساؤُل کے آگے اُن کا چرچا کِیا اور اُس نے اُسے بُلا بھیجا۔ (32) اور داؤُد نے ساؤُل سے کہا کہ اُس شخص کے سبب سے کِسی کا دِل نہ گھبرائے ۔ تیرا خادِم جا کر اُس فِلستی سے لڑے گا۔ (33) ساؤُل نے داؤُد سے کہا کہ تُو اِس قابِل نہیں کہ اُس فِلستی سے لڑنے کو اُس کے سامنے جائے کِیُونکہ تُو محض لڑکا ہے اور وہ اپنے بچپن سے جنگی مَرد ہے۔(34) تب داؤُد نے ساؤُل کو جواب دِیا کہ تیرا خادِم اپنے باپ کی بھیڑ بکرِیاں چراتا تھا اور جب کبھی کوئی شیر یا رِیچھ آ کر جُھنڈ میں سے کوئی برّہ اُٹھا لے جاتا۔ (35) تو مَیں اُس کے پِیچھے پِیچھے جا کر اُسے مارتا اور اُسے اُس کے مُنہ سے چُھڑا لاتا تھا اور جب وہ مُجھ پر جھپٹتا تو مَیں اُس کی داڑھی پکڑ کر اُسے مارتا اور ہلاک کر دیتا تھا۔ (36) تیرے خادِم نے شیر اور رِیچھ دونوں کو جان سے مارا ۔ سو یہ نامختُون فِلستی اُن میں سے ایک کی مانِند ہو گا اِس لِئے کہ اُس نے زِندہ خُدا کی فَوجوں کی فضِیحت کی ہے۔ (37) پِھر داؤُد نے کہا کہ خُداوند نے مُجھے شیر اور رِیچھ کے پنجہ سے بچایا ۔ وُہی مُجھ کو اِس فِلستی کے ہاتھ سے بچائے گا ۔ ساؤُل نے داؤُد سے کہا جا خُداوند تیرے ساتھ رہے۔ (38) تب ساؤُل نے اپنے کپڑے داؤُد کو پہنائے اور پِیتل کا خود اُس کے سر پر رکھّا اور اُسے زِرہ بھی پہنائی۔ (39) اور داؤُد نے اُس کی تلوار اپنے کپڑوں پر کَس لی اور چلنے کی کوشِش کی کِیُونکہ اُس نے اِن کو آزمایا نہیں تھا ۔ تب داؤُد نے ساؤُل سے کہا مَیں اِن کو پہن کر چل نہیں سکتا کِیُونکہ مَیں نے اِن کو آزمایا نہیں ہے ۔ سو داؤُد نے اُن سب کو اُتار دِیا۔ (40) اور اُس نے اپنی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لی اور اُس نالہ سے پانچ چِکنے چِکنے پتّھر اپنے واسطے چُن کر اُن کو چرواہے کے تَھیلے میں جو اُس کے پاس تھا یعنی جھولے میں ڈال لِیا اور اُس کا فلاخن اُس کے ہاتھ میں تھا ۔ پِھر وہ اُس فِلستی کے نزدِیک چلا۔ (41) اور وہ فِلستی بڑھا اور داؤُد کے نزدِیک آیا اور اُس کے آگے آگے اُس کا سِپر بردار تھا۔ (42) اور جب اُس فِلستی نے اِدھر اُدھرنِگاہ کی اور داؤُد کو دیکھا تو اُسے ناچِیز جانا کِیُونکہ وہ محض لڑکا تھا اور سُرخ رُو اور نازُک چِہرہ کا تھا۔(43) سو فِلستی نے داؤُد سے کہا کیا مَیں کُتّا ہُوں جو تُو لاٹھی لے کر میرے پاس آتا ہے؟ اور اُس فِلستی نے اپنے دیوتاؤں کا نام لے کر داؤُد پر لَعنت کی۔ (44) اور اُس فِلستی نے داؤُد سے کہا تُو میرے پاس آ اور مَیں تیرا گوشت ہوائی پرِندوں اور جنگلی درِندوں کو دُوں گا۔ (45) اور داؤُد نے اُس فِلستی سے کہا کہ تُو تلوار بھالا اور برچھی لِئے ہُوئے میرے پاس آتا ہے پر مَیں ربُّ الافواج کے نام سے جو اِسرا ئیل کے لشکروں کا خُدا ہے جِس کی تُو نے فضِیحت کی ہے تیرے پاس آتا ہُوں۔ (46) اور آج ہی کے دِن خُداوند تُجھ کو میرے ہاتھ میں کر دے گا اور مَیں تُجھ کو مار کر تیرا سر تُجھ پر سے اُتار لُوں گا اور مَیں آج کے دِن فِلستِیوں کے لشکر کی لاشیں ہوائی پرِندوں اور زمِین کے جنگلی جانوروں کو دُوں گا تاکہ دُنیا جان لے کہ اِسرا ئیل میں ایک خُدا ہے۔ (47) اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خُداوند تلوار اور بھالے کے ذرِیعہ سے نہیں بچاتا اِس لِئے کہ جنگ تو خُداوند کی ہے اور وُہی تُم کو ہمارے ہاتھ میں کر دے گا۔ (48) اور اَیسا ہُؤا کہ جب وہ فِلستی اُٹھا اور بڑھ کر داؤُد کے مُقابلہ کے لِئے نزدِیک آیا تو داؤُد نے جلدی کی اور لشکر کی طرف اُس فِلستی سے مُقابلہ کرنے کو دَوڑا۔ (49) اور داؤُد نے اپنے تَھیلے میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اُس میں سے ایک پتّھر لِیا اور فلاخن میں رکھ کر اُس فِلستی کے ماتھے پر مارا اور وہ پتّھر اُس کے ماتھے کے اندر گُھس گیا اور وہ زمِین پر مُنہ کے بل گِر پڑا۔(50) سو داؤُد اُس فلاخن اور ایک پتّھر سے اُس فِلستی پر غالِب آیا اور اُس فِلستی کو مارا اور قتل کِیا اور داؤُد کے ہاتھ میں تلوار نہ تھی۔ (51) اور داؤُد دَوڑ کر اُس فِلستی کے اُوپر کھڑا ہو گیا اور اُس کی تلوار پکڑ کر مِیان سے کھینچی اور اُسے قتل کِیا اور اُسی سے اُس کا سر کاٹ ڈالا اور فِلستِیوں نے جو دیکھا کہ اُن کا پہلوان مارا گیا تو وہ بھاگے۔ (52)اور اِسرا ئیل اور یہُوداہ کے لوگ اُٹھے اور للکار کر فِلستِیوں کو گئی اور عقرُو ن کے پھاٹکوں تک رگیدا اور فِلستِیوں میں سے جو زخمی ہُوئے تھے وہ شعریم کے راستہ میں اور جات اور عقرُو ن تک گِرتے گئے۔(53)تب بنی اِسرائیل فِلستِیوں کے تعاقُب سے اُلٹے پِھرے اور اُن کے خَیموں کو لُوٹا۔(54)اور داؤُد اُس فِلستی کا سر لے کر اُسے یروشلِیم میں لایا اور اُس کے ہتھیاروں کو اُس نے اپنے ڈیرے میں رکھ دِیا۔ (55)جب ساؤُل نے داؤُد کو اُس فِلستی کا مُقابلہ کرنے کے لِئے جاتے دیکھا تو اُس نے لشکر کے سردار ابنیر سے پُوچھا ابنیر یہ لڑکا کِس کا بَیٹا ہے؟ ابنیر نے کہا اَے بادشاہ تیری جان کی قَسم مَیں نہیں جانتا۔(56)تب بادشاہ نے کہا تُو تحقِیق کر کہ یہ نَوجوان کِس کا بَیٹا ہے۔(57)اور جب داؤُد اُس فِلستی کو قتل کر کے پِھرا تو ابنیر اُسے لے کر ساؤُل کے پاس لایا اور فِلستی کا سر اُس کے ہاتھ میں تھا۔(58) تب ساؤُل نے اُس سے کہا اَے جوان تُو کِس کا بَیٹا ہے؟ داؤُد نے جواب دِیا مَیں تیرے خادِم بَیت لحمی یسّی کا بَیٹا ہُوں۔[1]
داؤد جالوت کے مرنے پر خداوند کا شکر ادا کرتے ہوئے

کتاب سموئیل دوم باب 21 آیت 19:22 میں بھی جالوت کا ذکر کیا گیا ہے:

(19)اور پِھر فِلستِیوں سے جُوب میں ایک اَور لڑائی ہُوئی ۔ تب اِلحنان بِن یعری ارجیم نے جو بَیت لحم کا تھا جاتی جولیت(جالوت) کو قتل کِیا جِس کے نیزہ کی چھڑ جُلاہے کے شہتِیر کی طرح تھی۔(20)پِھر جات(شہر) میں لڑائی ہُوئی اور وہاں ایک بڑا قدآور شخص تھا ۔ اُس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں چھ چھ اُنگلِیاں تِھیں جو سب کی سب گِنتی میں چَوبِیس تِھیں اور یہ بھی اُس دیو سے پَیدا ہُؤا تھا۔(21)جب اِس نے اِسرائیلِیوں کی فضِیحت کی تو داؤُد کے بھائی سِمعی کے بیٹے یُونتن نے اُسے قتل کِیا۔(22) یہ چاروں اُس دیو سے جات میں پَیدا ہُوئے تھے اور وہ داؤُد کے ہاتھ سے اور اُس کے خادِموں کے ہاتھ سے مارے گئے۔[2]

اسلام میں[ترمیم]

حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے کا ایک بادشاہ۔ عرب مورخ مسعودی کا بیان ہے کہ فلسطین میں بربر قوم آباد تھی، اور یہ ان کا بادشاہ تھا۔ اس کے باپ کا نام مولود تھا۔ اس نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا اور اردن کے علاقے میں لڑائی ہوئی۔ بنی اسرائیل کے بادشاہ طالوت نے اعلان کیا کہ جو کوئی جالوت کو مارے گا ۔ اسے آدھی سلطنت انعام میں دی جائے گی۔ اور شہزادی سے نکاح کر دیا جائے گا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے گوپھن سے پتھر مار کر اس کو ہلاک کردیا۔ مورخ طبری کے نزدیک وہ عاد و ثمود کی قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اور اس نے اسرائیلیوں کو بہت پریشان کر رکھا تھا۔ حتی کہ تبرکات اور تابوت سکینہ بھی بنی اسرائیل سے چھین کر لے گیا گیا۔ اسلامی روایات بائبل کے مطابق ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بائبل میں اس کا نام گولیتھ ہے۔

قرآن کی تفسیر[ترمیم]

حضرت داؤد علیہ السلام کو حکومت ملنے کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب طالوت جو بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص تھا وہ جب بادشاہ بن گیا تو طالوت نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ ”جالوت“ سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ میں نکلے۔ جالوت بہت ہی قد آور اور نہایت ہی طاقتور بادشاہ تھا وہ اپنے سر پر لوہے کی جو ٹوپی پہنتا تھا اس کا وزن تین سو رطل تھا۔ جب حضرتِ طالْوت بنی اسرائیل کے لشکر کولے کر ظالم بادشاہ جالوت سے مقابلے کے لئے بیتْ المقدَّس سے روانہ ہوئے تو ان کے لشکر کی اِس طرح آزمائش ہوئی۔

آیت :
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ ۚ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ ۚ فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ۚ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ﴿۲۴۹﴾

ترجَمہ:

(طالوت) بولا بے شک اللہ (ﷻ) تمہیں ایک نَہَر سے آزمانے والا ہے، تو جو اس کا پانی پئے وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چْلّو اپنے ہاتھ سے لے لے۔[3]

تفسیر خزائن میں لکھا ہے کہ سخت گرمی تھی، صِرف 313 افراد نے صبر کیا اور صرف ایک چلّو پانی لیا۔ وہ ایک چلّْو ان کے لئے اور اْن کے جانوروں کیلئے کافی ہو گیا اور جنہوں نے بے صبری کی اور خوب پانی پیا تھا ان کے ہونٹ سیاہ ہو گئے، پیاس خوب بڑھ گئی اور ہمّت ہار گئے۔جالوت کے عظیم لشکر سے 313 مسلمانوں کا مقابلہ تھا جو اطاعت گزار تھے ان کے حوصلے مضبوط تھے، ان کا نقشہ اِسی آیتِ کریمہ میں اس طرح پیش کیا گیا ہے: ترجمہ:

(بے صبرے) بولے:ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں (کے مقابلے) کی، بولے وہ جنھیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا (یعنی صبر کرنے والے کہنے لگے) کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔[3]

جب دونوں فوجیں میدانِ جنگ میں لڑائی کے لئے صف آرائی کرچکیں تو طالوت نے اپنے لشکر میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کریگا، میں اپنی شہزادی کا نکاح اس کے ساتھ کردوں گا۔ اور اپنی آدھی سلطنت بھی اس کو عطا کردوں گا۔ یہ فرمان شاہی سن کر حضرت داؤد علیہ السلام آگے بڑھے جو ابھی بہت ہی کمسن تھے اور بیماری سے چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ اور غربت و مفلسی کا یہ عالم تھا کہ بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے۔

روایت ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام گھر سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے تھے تو راستہ میں ایک پتھر یہ بولا کہ اے داؤد! مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھر ہوں۔ پھر دوسرے پتھر نے آپ کو پکارا کہ اے حضرت داؤد مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کا پتھر ہوں۔ پھر ایک تیسرے پتھر نے آپ کو پکار کر عرض کیا کہ اے حضرت داؤد علیہ السلام مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں جالوت کا قاتل ہوں۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔

جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت داؤد علیہ السلام اپنی گوپھن لے کر صفوں سے آگے بڑھے اور جب جالوت پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے ان تینوں پتھروں کو اپنی گوپھن میں رکھ کر اور بسم اللہ پڑھ کر گوپھن سے تینوں پتھروں کو جالوت کے اوپر پھینکا اور یہ تینوں پتھر جا کر جالوت کی ناک اور کھوپڑی پر لگے اور اس کے بھیجے کو پاش پاش کر کے سر کے پیچھے سے نکل کر تیس جالوتیوں کو لگے اور سب کے سب مقتول ہو کر گر پڑے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لا کر اپنے بادشاہ حضرت طالوت کے قدموں میں ڈال دیا اس پر حضرت طالوت اور بنی اسرائیل بے حد خوش ہوئے۔

جالوت کے قتل ہوجانے سے اس کا لشکر بھاگ نکلا اور حضرت طالوت کو فتح مبین ہو گئی اور اپنے اعلان کے مطابق طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کردیا اور اپنی آدھی سلطنت کا ان کو سلطان بنا دیا۔ پھر پورے چالیس برس کے بعد جب حضرت طالوت بادشاہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت داؤد علیہ السلام پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے اور جب حضرت سموئیل علیہ السلام کی وفات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا۔

حضرت داؤد علیہ السلام سے پہلے سلطنت اور نبوت دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی کو بھی نہیں ملا تھا۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ ان دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک سلطنت اور نبوت دونوں منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے اور پھر آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔[4] اس واقعہ کا اجمالی بیان قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں اس طرح ہے کہ

آیت :
فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ{٢۵١}

ترجمہ:

اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا۔،[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سموئیل اول باب 17 آیت 1:58
  2. سموئیل دوم باب 21 آیت 19:22
  3. ^ 3.0 3.1 پارہ۲، البقرہ:﴿۲۴۹﴾۔
  4. تفسیر جمل علی الجلالین، ج ۱، ص۸۰۳، پ ۲، البقرہ۔ ۱۵۲
  5. البقرہ:٢۵١