سموئیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سموئیل
Saul Rejected as King (Bible Card).jpg
حضرت سموئیل عليه السلام.png اور بادشاہ طالوت
پیغمبر، نبی
پیدائش تقریباً 1020 ق م
وفات تقریباً 1100 ق م
رامہ،بنیامین
معزز در یہودیت
عیسائیت
اسلام
تہوار 20 اگست (مشرقی آرتھوڈوکس، لوتھران اور رومن کیتھولک)
جولائی 30(ارمینی رسولی چرچ)
پاؤمی نہم (قبطی آرتھوڈکس چرچ)

ان کو شموئیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔عہد 1020 سے 1100 قبل مسیح ہے۔ ملک شام قدیم میں ایک کوہستانی علاقہ افرائیم کے نام سے تھا۔ اس کے شہر رامہ میں آپ رہتے تھے۔

اسلامی نقطہ نظر[ترمیم]

بنی اسرائیل کے تقاضے پر اُن کے لیے پہلا بادشاہ اللہ تعالیٰ کی وحی سے چنا جو طالوت یا ساؤل تھے[1]

  • أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُواْ لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلاَّ تُقَاتِلُواْ قَالُواْ وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ

اس آیت میں واقعہ حضرت شموئیل (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے، جب بنی اسرائیل جالوت بادشاہ کے مقابل جنگ کرنے بھیجے گئے تھے۔جالوت قوم عمالقہ کا بڑا ظالم بادشاہ تھا جو بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر مسلط کردیا گیا تھا۔ جیسے ایک زمانہ میں فرعون۔[2]

مسیحیت میں[ترمیم]

حناح، عیلی کاہن کو اپنا بیٹا دیکھتے ہوئے۔

خاندان[ترمیم]

سموئیل کی والدہ کا نام حناح تھا اور ان کے والد کا نام القانہ تھا۔القانہ رامہ ثیم میں ضلع صوف کا رہنا والا تھا۔[3][4] ان کا شجرہ نسب کیہات(بائبل) کے نسب نامہ (1 تواریخ 15-6:3) میں موجود ہے۔اور حیمان القانہ کا پوتا تھا (1 تواریخ 12-6:18)۔ تواریخ میں نسبی سانچوں کے مطابق،القانہ ایک لاوی تھا مگر اس کا ذکر سموئیل کی بائبل میں بالکل نہیں ہے۔اصل میں القانہ ایک لاوی کا رہنا والا تھا اور قبیلہ افرائیم سے اس کا تعلق تھا[5] اور کتاب قضاة 17:7 میں درج ہے کہ لاوی کے لوگ قبیلہ یہودہ سے تھے۔اس دونوں قبیلوں کو لے کر عیسائی علماء کرام میں اختلاف ہے۔

سموئیل۔1 میں 28-1:1 کے مطابق، القانہ کی دو بیویاں تھیں ایک کا نام حناح تھا اور دوسری کا نام فنانح تھا۔فنانح کے دو بچے تھے اور حناح کی ایک بھی اولاد نہ تھی۔لیکن پھر بھی القانہ کو حناح محبوب تھی۔اور اس کی وجہ سے فنانح حناح سے حسد کرتی تھی۔اور حناح کو ہر وقت بانجھ پن کا طعنہ دیتی رہتی تھی۔ ان دونوں کا رشتہ بالکل سارہ اور ہاجرہ کے رشتے کی طرح تھا۔[6]

القانہ ایک متقی آدمی تھا کیونکہ وہ اپنے خاندان کو وقفہ وقفہ سے حج کے لئے سیلا کے مقدس مقام پر لے جایا کرتے تھے۔القانہ اور حناح کا متقی ہونا اوربعد میں اولاد ہونا بالکل ایسا ہی ہے جیسا زکریا اور الیشبع سے یحییٰ کی پیدائش، عمران اور حنا سے مریم کی پیدائش۔[6]

سموئیل کی پیدائش[ترمیم]

ایک مرتبہ حناح سیلا عبادت گاہ گئی اور اس نے اپنی اولاد کے لئے دعا کی۔اس نے نذر (انگریزی: vow) کی قسم کھائی اور روتے ہوئے کہا اگر خداوند نے مجھے اولاد سے نوازا تو میں اسے ایک (انگریزی: Nazirite) یعنی نذیر کی حیثیت سے خدا کے لئے وقف کردونگی۔[6] عیلی ، جو سیلا کی عبادت گاہ کی چوکھٹ پر بیٹھ رہا تھا، اس کی بیٹھتے ہوئے نظر حناح پر پڑی،اس نے وہاں دیکھا کے عورت اپنے اپ سے کچھ بڑ بڑا رہی ہے اور عیلی پہلے سوچا کہ شاید اس عورت نے نشہ کیا ہوا ہے پر اس نے جب حناح کی باتوں پر غور کیا تو اسے اصلی حقیقت کا پتا چلا۔پھر عیلی نے حناح کی حوصلہ افزائی کی۔ عیلی سیلا کا کاہن اور بنی اسرائیل کا آخری قاضی تھا۔وہ شمشون کی وفات کے بعد قاضی بنا تھا۔[7] عیلی نے حناح کو دعائیں دیں اور اسے خوشی خوشی گھر رخصت کیا۔کچھ عرصے بعد حناح حاملہ ہوگئی اور سموئیل کو جنم دیا۔حناح نے سموئیل کی پیدائش پر خوشی سے نشیدِ مریم (انگریزی: Magnificat) پڑھا۔

جب سموئیل کا ماں کا دودھ چھوٹ گیا تو حناح اپنی (انگریزی: vow) کے مطابق اسے عیلی کے پاس چھوڑ گئی۔[3]اور وہ وقت وقت پر سموئیل سے ملنے آتی رہی۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر ماجدی از مولاناعبدالماجد دریابادی تفسیر سورۃ البقرہ آیت 246 فقرہ 930
  2. تفسیر نورالعرفان
  3. ^ 3.0 3.1 سموئیل نبی،امریکا میں آرتھوڈوکس چرچ
  4. بائبل میں صرف یہ کھالی نہیں لکھا کے القانہ صوف میں رہتا تھا بلکہ کچھ جگہ صوف سرزمین لکھا ہے یہ صرف سموئیل اول کی آیت 9:5 میں اس کا تذکرہ ہے یہودی انسائیکلوپیڈیا، "القانہ" [1] اصطلاح صوفن کا ذکر آیت 1:1 میں ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ سموئیل ایک صوفی(رہائشی) تھا۔مزید Holman Bible Dictionary، میں Ramathaim-Zophim دیکھیں [2]
  5. عبرانی افرئیمی، جسے Gesenius(عبرانی لغت) میں "افرائیمی" کے طور پر تشریح کی ہے [3]،[4]۔ دیکھیں یہودی انسائیکلوپیڈیا، "القانہ" کے لئے تفصیلات۔ [5]
  6. ^ 6.0 6.1 6.2 Bergant, Dianne. The Collegeville Bible Commentary Based on the New American Bible، Liturgical Press, 1992 ISBN 978-0-8146-2210-0
  7. ^ 7.0 7.1 "Samuel the Prophet"، Chabad.org

بیرونی روابط[ترمیم]

سموئیل
پیشرو 
عیلی کاہن
اسرائیل کے قاضی طالوت بنی اسرائیل کا پہلا بادشاہ تھا، جس کو سر کا مسح یا مالش کرکے بادشاہ بنایا گیا۔