سموئیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ان کو شموئیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔عہد 1100 سے 1020 قبل مسیح ہے۔ ملک شام قدیم میں ایک کوہستانی علاقہ افرائیم کے نام سے تھا۔ اس کے شہر رامہ میں آپ رہتے تھے۔ بنی اسرائیل کے تقاضے پر اُن کے لیے پہلا بادشاہ اللہ تعالیٰ کی وحی سے چنا جو کہ طالوت علیہ السلام یا ساؤل تھے[1]

  • أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُواْ لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلاَّ تُقَاتِلُواْ قَالُواْ وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ

اس آیت میں واقعہ حضرت شموئیل (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے، جب بنی اسرائیل جالوت بادشاہ کے مقابل جنگ کرنے بھیجے گئے تھے۔ جالوت قوم عمالقہ کا بڑا ظالم بادشاہ تھا جو بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر مسلط کردیا گیا تھا۔ جیسے ایک زمانہ میں فرعون۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر ماجدی از مولاناعبدالماجد دریابادی تفسیر سورۃ البقرہ آیت 246 فقرہ 930
  2. تفسیر نورالعرفان