یسعیاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یسعیاہ
Isaiah (Bible Card).jpg
یسعیاہ
پیغمبر
پیدائش آٹھویں صدی ق م
یہوداہ (؟)
وفات ساتویں صدی ق م
محترم در یہودیت
مسیحیت
اسلام[1]
تہوار 9 مئی[2]

یسعیاہ (عبرانی: יְשַׁעְיָהוּ، یونانی:Ἠσαίας، انگریزی: Isaiah، عربی: اشعیاء؛ بہ معنی «خدا نجات ہے») کتاب یسعیاہ کے مصنف اور پیغمبران عہد عتیق میں سے ایک پیغمبر تھے۔ یسعیاہ عاموص[3] کے بیٹے تھے۔ اور وہ یروشلم میں ہیکل سلیمانی کے پاس رہتے تھے۔[4] انہوں نے ایک نبیہ سے شادی کی جس کے بارے میں مفسرین تورات کا عقیدہ ہے کہ وہ دبورہ[5] اور خلدہ[6] کی طرح منصب نبوت رکھتی تھی۔ یسعیا کے دو بیٹے تھے جن کے نام مہیر شالال حاش بز[7] اور شیاریاشوب[8] بیان کیے گئے ہیں۔ یسعیاہ نے یہودیہ میں عہد عزیاہ، آخز اور حزقیاہ کے دوران چونسٹھ سال تک پیغمبری کی۔ ان کا پہلا دور خدمت ۷۴۰ قبل مسیح، عزیا کے دور حکومت کے آخری ایام میں تھا۔ وہ چودہ سال تک سلطنت حزقیاہ کے روحانی مشیر رہے۔ اور ان کی نظروں میں ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ اس دور میں وہ عوامی اجتماعات میں شریک ہوا کرتے تھے۔[9] بادشاہ منسی کے عہد میں انہیں قید کر دیا گیا اور بروایت انہوں نے اس سے شہادت کی استدعا کی۔[10] یسعیاہ ۶۸۱ قبل مسیح تک بقید حیات تھے۔[11] ان کو شہزادہ پیغمبران عہد عتیق اور بشارت دینے والے پیغمبر کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔

کتاب یسعیاہ[ترمیم]

فارسی کتاب ”قاموس مقدس“ میں ہاکس نے پیغمبر یسعیاہ کے بارے میں کتاب مقدس سے اس طرح نقل کیا ہے: ”وہ خدا کی نجات جیسے ہیں۔ عزیاہ، یوتام، آخز اور حزقیاہ کے ہمعصر اور بنی اسرائیل کے اکابر انبیا میں سے تھے۔“[12] کئی ایک تاریخی کتابوں کے مصنف تھے جیسے حیات عزیا ان کی ہی تصنیف ہے۔ اور وہ ہوسیع، یوایل اور عاموص نبی کے بھی ہم عصر تھے۔[13] کتاب یسعیاہ میں پیش گوئیاں اور اطلاعات ہیں اور ایک باب میں تو مسیح کی آمد کی بیّن ترین پیش گوئی کی گئی ہے جس کی وجہ سے انہیں نبی انجیلی کا لقب دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں ۲۹ باب حادثات اور واقعات متفرق کی پیش گوئیوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے کچھ دور مسیح میں امن عام سے متعلق ہیں اور باقی اس کتاب میں دو عظیم واقعات کے متعلق نشان دہی کی گئی ہے۔ کچھ ناقدین کہتے ہیں کہ اس کتاب کے باب ۴۰-۶۶ یسعیا سے دو سو سال بعد لکھے گئے تھے۔ کچھ دانشور یہ دلیل دیتے ہیں کہ کتاب کے دیگر ابواب کی طرح یہ بھی خود ان ہی کے لکھے ہوئے ہیں۔[14]

یسعیاہ کی بشارتیں اور مختلف نظریے[ترمیم]

  • ہاکس نے ان کی بشارارت سے آمد مسیح کی بشارت کو اخذ کیا اور اسی بنا پر انہیں انجیلی نبی کا نام دیا۔
  • محمد صادقی تہرانی نے انہیں بزرگ پیغمبر، نبی قرآنی اور بشارت دہندہ محمدی اور مہدوی کا نام دیا ہے۔[14] اس سلسلے میں وہ یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ یسعیاہ کی بشارات کا وہ حصہ یعنی کتاب یسعیا کے باب ۴۲ کی آیات ۱ سے ۲۰ جسے ہاکس آمد مسیح کی بشارت گردانتا ہے وہ دراصل ظہور محمد بن عبداللہ ﷺ کی روشن اور ناقابل تردید بشارت ہے۔

اور خود ہاکس نے کلمہ عربیہ کے ذیل میں تسلیم کیا ہے کہ گیارہویں اور اس کے بعد کی آیات عربستان میں مطلع نور محمدی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اور کتاب یسعیاہ کے باب ۶۰ کی آیات ۱ سے ۲۲ پیغمبر اسلام محمد کے بارے میں کامل بشارات ہیں اور ان کا مسیح سے کوئی تعلق نہیں۔

اور ۱۲:۵۴-۱ میں مقام بعثت محمد بن عبد اللہ کا بیان ہے اور ۱۲:۲۸-۱۰ میں ان کی خصوصیات اور کتب آسمانی میں مذکور نشانیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ جو ہاکس نے امن عامہ کو بیان کتاب یسعیاہ سے حضرت مسیح سے مربوط کیا ہے اسے تو ان کے عہد سے قطعا کوئی نسبت ہی نہیں بلکہ یہ تو زمانہ و حکومت حضرت مہدی علیہ السلام سے وابستہ ہے۔ تو جیسا کہ کتاب یسعیاہ کی آیات ۹:۱۱-۱ اور آیه ۲۵:۶۵-۱۶ میں بیان کیا گیا ہے۔ ہاکس نے کتاب یسعیاہ کے بقیہ میں دو عظیم واقعات کا ذکر تو کیا ہے لیکن اس پر خود کوئی رائے نہیں دی۔ ان دو عظیم واقعات میں سے ایک ظہور نور قدوسی محمد اور دوسرا ظہور موعود کل ملل و منتَظَر مرغوب قبائل ، محمد بن‌ الحسن‌ العسکری ہے۔[15]

  • بعض مسیحی دانشور (جیسا کہ ہاکس نے بھی لکھا) کو شک ہے کہ ابواب ۴۰ سے لیکر ۶۶ تک یسعیاہ نبی کے دو سو سال بعد لکھے گئے۔ اور اس بنیاد پر یہ گمان کرتے ہیں کہ کتاب یسعیاہ کی بہت سی اہم بشارتیں بلکہ تمام ہی ان ہی ابواب میں ہیں جیسا کہ ابواب ۴۳ اور ۵۴ اور ۶۵۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ ناقدین نہیں چاہتے کہ مسلمان ان بشارات سے اپنے حق میں استفادہ کریں یا بطور دلیل پیش کریں۔ چونکہ ہاکس کے برعکس وہ ان بشارات کو مسیح سے مربوط نہ کر سکے تو انہوں نے ان کو مشکوک قرار دیتے ہوئے یہانتک کہہ دیا کہ یہ تو یسعیاہ کے دو سو سال بعد لکھی گئیں۔ جبکہ بعض دیگر دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب بشارتیں ہر صورت مسیح سے ہی متعلق ہیں اس دلیل کے ساتھ کہ پہلے ابواب کی طرح تمام ابواب یسعیاہ کے اپنے لکھے ہوئے ہیں۔

محمد صادق تہرانی کی نظر میں اس مسئلے کو جس سمت سے بھی دیکھا جائے یہ اسلام ہی کے حق میں ہے۔ اور پہلی بشارتیں جو یسعیاہ سے منسوب ہیں اور جو ان سے دوسو سال بعد لکھی گئیں حتمی طور پر زبان وحی سے صادر شدہ ہیں اور مسیح سے کوئی نسبت نہیں رکھتیں۔[16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Historical Dictionary of Prophets in Islam and Judaism, B. M. Wheeler, Appendix II
  2. Holy Prophet Isaiah
  3. یسعیاہ ۱: ۱
  4. یسعیاہ ۱: ۶
  5. قضاۃ ۴: ۴
  6. دوم سلاطین ۲۲: ۱۴
  7. یسعیاہ ۸: ۳
  8. یسعیاہ ۷: ۳
  9. دوم سلاطین ۱۹: ۲
  10. عبرانیوں ١١: ۳۷
  11. دوم سلاطین ۱۳:۱۰
  12. کتاب یسعیاہ 1: 2 و 1: 7
  13. کتاب دوم تواریخ 22: 26
  14. ^ ا ب صادقی تهرانی، محمد - بشارات عهدین - ص 18 - انتشارات شکرانه - چاپ 1390
  15. صادقی تهرانی، محمد - بشارات عهدین - ص 18 و 19 - انتشارات شکرانه - چاپ 1390
  16. صادقی تهرانی، محمد - بشارات عهدین - ص 19 - انتشارات شکرانه - چاپ 1390