یرمیاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ارمیاہ بن حلقیا
Michelangelo Buonarroti 027.jpg
ارمیاہ کلیسا سیستن کی چھت پر
نبی، پیغمبر
پیدائش 655 ق۔م
عنتوت، (کنعان موجودہ عناتا، فلسطین)
وفات 570 یا 580 ق۔م
Flag of Egypt.svg مصر
محترم در اسلام
مسیحیت
یہودیت
بہائیت
قداست سابق
مزار نامعلوم؛ ایک روایت کے مطابق شمالی آئرلینڈ میں
تہوار 1 مئی (مشرقی راسخ الاعتقاد)
1 جنوری (حبشی)
30 اپریل (قبطی)
11 مئی (یروشلمی)
3 جولائی (مصری)

ارمیاہ یا یرمیاہ (/dʒɛrᵻˈmaɪ.ə/؛عبرانی: יִרְמְיָהוּ‎‎، جدید: Yirmeyahu  [jiʁmeˈjahu]، طبری: Yirmĭyāhū؛یونانی: Ἰερεμίας عربی: إرميا Irmiyā مطلب "یہو اعلی مقام") ایک نبی تھے جن کا نام قرآن میں براہ راست تو نہیں لیکن کچھ احادیث روایات میں ان کا ذکر ملتا ہے، اس کے علاوہ کتاب مقدس کے عہدنامہ قدیم میں بیشتر مقامات پر ملتا ہے۔ ان کا تعلق یعقُوب (یعقوب علیہ السلام) کے بیٹے لاوی کے خاندان سے تھا۔

یہودیت میں[ترمیم]

مسیحیت میں[ترمیم]

اسلام میں[ترمیم]

ارمیاہ بن حلقیا کو بعض نبی اور بعض غیر نبی خیال کرتے ہیں۔ بہت ہی اختلاف ہے قرآن میں اشارتا کئی جگہ ذکر آیا ہے
تفسیر مظہری سورۃ الاسراء میں ہے
ہارون بن عمران کی اولاد میں سے ارمیاہ بن حلفیا کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔ ابن اسحاق نے بیان کیا کہ یہ ہی خضر تھے جن کا نام ارمیاہ تھا اور خضر لقب کیونکہ آپ (ایک بار) خشک گھاس پر بیٹھے تھے اور اٹھے تو وہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی تھی‘ اللہ نے ارمیاہ کو بادشاہ کی ہدایت اور سیدھے راستے پر چلانے کے لیے مامور فرمایا۔[1] سو سال بعد دوبارہ اٹھنے والے واقعہ سورہ البقرہ کی آیت 259 کے تحت ابن کثیر لکھتے ہیں یہ گزرنے والے یا تو عزیر علیہ السلام تھے جیسا کہ مشہور ہے یا ارمیاہ بن حلفیا تھے۔[2] اسی آیت کی ضمن میں وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ جنت میں کتا اور گدھا داخل نہیں ہوں گے سوائے اصحاب کہف کے کتے اور ارمیاہ بن حلفیا کے گدھے کے یہ ارمیاہ ہیں جنہیں سوسال تک موت دی گئی اور پھر دوبارہ زندہ کیا گیا ارمیاء بن حلفیا۔[3] سورۃ البقرہ میں ذکر ہے
امام ابن عساکر نے جو یبر سے ضحاک کے سلسلہ سے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’ ولقد اتینا موسیٰ الکتب‘‘ سے مراد ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اکٹھی ایک ہی مرتبہ مفصل اور محکم عطا فرمائی۔ ’’ وقفینا من بعدہ بالرسل‘‘ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یکے بعد دیگرے یہ رسول بھیجے۔ اشمویل بن بابل، مشتانیل، شعیابن امصیا، جزقیل، ارمیا بن حلقیا،[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی،سورۃ الاسراء ،آیت7
  2. تفسیر ابن کثیر حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر ،البقرہ 259
  3. نہایۃ الأرب فی فنون الأدب ،مؤلف: احمد بن عبد الوهاب بن محمد بن عبد الدائم القرشي التيمي البكري، شهاب الدين النويري ،ناشر: دار الكتب والوثائق القومیہ، القاہرہ
  4. تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی ،سورۃ البقرہ،آیت87