توما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
توما رسول
Thomas.jpg
توما
|رسول، مبلغ اور شہید
پیدائش پہلی صدی عیسوی
گلیل، یہودیہ، سلطلنت روم
وفات 21 دسمبر، 72 عیسوی[1]
مالے پورے (انڈیا)[2][3]
احترام در ملنکارا کلیسیا
مشرقی آشوری کلیسیا
رومن کیتھولک
مشرقی راسخُ الاعتقاد کلیسیا
اورینٹل راسخ الاعتقادی
انگلیکان کمیونین
لوتھریت
بعض پروٹسٹنٹ کلیسیاؤں میں قابلِ احترام
قداست قبل کانگریشن
تہوار

3 جولائی – سائرو-مالابار، سائریک کیتھولک،سائریک راسخ الاعتقاد، لاطینی کیتھولک، انگلیکان کمیونین
21 دسمبر – انڈین آرتھوڈوکس، لاطینی کیتھولک (روایتی کیلنڈر)، انگلیکان کمیونین، ہسپانوی چرچ 26 پیشنز – قبطی آرتھوڈکس

6 اکتوبر اور اتوار ایسٹر توما اتوار کے بعد – مشرقی راسخ الاعتقاد، مشرقی کیتھولک
منسوب خصوصیات جڑواں، مسیح کی طرف میں اپنی انگلی رکھتے ہوئے، نیزہ (کے سبب شہادتمربع (اپنا پیشے، ایک بلڈر)
سرپرستی انڈیا، تومی مسیحی، سری لنکا

توما یسوع کا ایک رسول، آرامی زبان میں توما کو توام کہتے ہیں جس کا مطلب ہے "جڑواں۔[4]

بائبل میں توما کا ذکر[ترمیم]

عہد نامہ جدید میں توما کا ذکر چاورں اناجیل اور رسولوں کے اعمال میں ملتا ہے لیکن صرف ایک یا دو بار، البتہ یوحنا کی انجیل میں 6 مرتبہ ذکر آیا ہے ملتا ہے۔

  • جب لعزر کی موت پر باقی شاگردوں نے مسیحی کو بیت عنیاہ جانے سے اس لیے روکا کہ یہودی ان کو سنگسار نہ کر دیں توتوما نے کہا تھا آو ہم بھی اس کے ساتھ چلیں تا کہ اس کے ساتھ مریں۔
  • ایک مقام پر یوحنا ہی میں ہے کا جہاں میں جاتا ہوں تم وہاں کی راہ جانتے ہو۔ اس پر توما نے جواب دیا تھا کہ ۔۔۔۔ہم نہیں جانتے کہ تو کہاں جاتا ہے، پھر راہ کس طرح جانیں؟۔[5]
  • پھر جب واقع صلیب کے بعد (مسیحی عقیدے کے مطابق)، جب باقی حواریوں نے مسیح کو زندہ دیکھا، اور توما کو بتایا تو توما نے شک کیا کہ میں نہیں مانتا، خود دیکھوں تو مانو۔[6]

تاریخی روایات کے مطابق توما حواری ہندستان آیا، یہاں پر تبلیع کی ، کچھ لوگوں نے اس کو اس کی پاداش میں اس کو قتل کر دیا۔

توما کی انجیل[ترمیم]

ناگ حمدی سے ملنے والے مسودات میں سب سے بڑا جو مسودہ تھا وہ توما کی انجیل ہی تھی، اس سے بھی پہلے 1897 میں کچھ مسودات ملے تھے ان میں توما کی انجیل کی طرف اشارے پائے گئے تھے۔اس میں حضرت یسوع مسیح کی طرف منسوب 114 اقوال و ارشادات ہیں۔[4]

توما سے منسوب کتابیں[ترمیم]

توماکی انجیل کے علاوہ بھی کچھ کتب توما سے منسوب کی جاتی ہیں، لیکن توما کی کوئی بھی کتاب عہد نامہ جدید میں شامل نہیں لیکن کچھ مسیحی گروہ اس کی کتب کو الہامی مانتے ہیں۔

  • توما کی انجیل
  • توما کے اعمال، یا اعمال توما
  • انجیل طفولیت مسیح
  • کتاب مسافرت توما
  • مشاہدات توما۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Fr. G. Thalian۔ "`Saint Thomas the Apostle' in `The Great Archbishop Mar Augustine Kandathil, D. D.: the Outline of a Vocation'"۔ D. C. Kandathil۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-04-26۔ 
  2. The Encyclopedia of Christianity, Volume 5 by Erwin Fahlbusch. Wm. B. Eerdmans Publishing – 2008, Page 285. ISBN 978-0-8028-2417-2.
  3. http://www.britannica.com/EBchecked/topic/592851/Saint-Thomas
  4. ^ 4.0 4.1 قاموس الکتاب، صفحہ 269
  5. یوحنا کی انجیل، 16:11
  6. یوحنا کی انجیل 20:25
  7. آکسی ہومو، مطبوعہ لندن 1813