پیلاطس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رومی یہودیہ کا حاکم
پیلاطس
(لاطینی میں: Pontius Pilatusخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
پیلاطس

رومی یہودیہ کا حاکم
معلومات شخصیت
پیدائش آبروزو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 38  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت قدیم روم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ زوجۂ پیلاطس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان،عسکری افراد کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان یونانی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

پیلاطُس 25ء سے 35ء تک یہودیہ کا حاکم تھا۔ اس کا نام سب مسیحی عقیدوں میں آتا ہے۔[1] 25ء میں تبیریس قیصر نے اسے یہودیہ کا پانچواں حاکم مقرر کیا۔ چونکہ رومی صدر عدالت نے پنا پرانا فیصلہ کہ یہودیہ کا حاکم اپنی بیوی لے جا نہیں سکتا، بدل دیا تھا اس لیے پیلاطس اپنے ساتھ اپنی بیوی بھی لے گیا۔[2] وہ اپنے علاقے کا پورا حاکم تھا اور اس کے تحت پانچ ہزار سے زائد رسالہ اور پیادہ فوج تھی جو قیصریہ کی چھاؤنی میں مقیم تھی۔ اس کی فوج کا کچھ حصہ انطونیہ کے برج (قلعہ) میں دیکھ بھال کے لیے متعین تھا۔ یہودیہ کے حاکم کے اختیار بڑے وسیع تھے۔ وہ موت اور زندگی کا فیصلہ کر سکتا تھا۔ وہ یہودی صدر عدالت کے فیصلے بدل سکتا تھا[3] اس لیے سب فیصلے توثیق کے لیے اُس کے سامنے پیش کیے جاتے تھے۔ سردار کاہن کا تقرر اور ہیکل کے نظم و نسق میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ سردار کاہن کا خاص لباس صرف اُسی کی حفاظت میں رکھا جاتا اور صرف عیدوں پر نکالا جاتا تھا۔ عیدوں کے ایام میں حاکم خود بھی یروشلم میں قیام کیا کرتا تھا۔ غیر مسیحی رومی مورخ پیلاطس کا ذکر یسوع مسیح کی سزائے موت کے سلسلے میں کرتے ہیں۔[4] یہودی مورخ یوسیفس اور یہودی فلسفی فیلو پیلاطس کی ایک بھیانک تصویر کھینچتے ہیں۔ اُن کے مطابق وہ ضدی، ظالم، سنگ دل اور لٹیرا حاکم تھا۔ وہ ضابطہِ عدالت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لوگوں کو سزا سنا دیتا تھا۔ یُوسفیس مختلف واقعات کے ذریعہ اُس کی اِن خرابیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ پیلاطُس سے پہلے رومی حاکم، یہودیوں کی دل آزاری کے خیال سے یروشلم میں قیصر کے جھنڈے نہیں لاتے تھے، کیونکہ اُن جھنڈوں پر قیصر کی شبیہ ہوتی تھی جس کے آگے سپاہی جھکتے تھے لیکن پیلاطس جب حاکم مقرر ہوا تو اُس نے خفیہ طور پر رات کو جھنڈے منگوا لیے اور جب یہودیوں نے متواتر 5 دن قیصریہ میں احتجاج کیا تو ان سب کو ایک کھیل کے میدان میں جمع کروایا اور اپنے سپاہیوں کو اُن پر پل پڑنے کا حکم دیا۔ اُس نے ہیکل کے خزانے سے رقم نکلوا کر پانی بہم پہنچانے کا منصوبہ بنوایا۔ اگرچہ یہ شہریوں کے مفاد میں تھا اس لیے یہودیوں کی ایک بِھیڑ اکٹھی ہو گئی۔ پیلاطس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ عام لباس میں لوگوں میں گُھل مِل جائیں۔ جب اُنہیں ایک اشارہ دیا گیا تو قتلِ عام شروع کر دیا۔[5] ان میں اکثر لوگ گلیلی تھے جو ہیرودیس بادشاہ کے رعایا تھے۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ اس سانحہ سے ہیرودیس اور پیلاطس کے درمیان میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔[6] اسی لیے پیلاطس نے موقع غنیمت جان کر یسوع پکڑوائے جانے کا فائدہ اُٹھایا اور اُسے ہیرودیس کے پاس بھیجا۔[7] یوں اُن دونوں کے درمیان میں پھر تعلقات اُستوار ہو گئے۔ پیلاطس نے 35ء میں سامریوں کے ایک مذہبی جلوس پر جو کوہ گرزیم پر اکٹھا ہو رہا تھا ہلّہ بولنے کا حکم دیا۔ بہت لوگوں کا خون بہایا گیا اور بیشتر کو قید کیا گیا۔ سامریوں نے مذہبی نے ایک رومی حاکمِ اعلیٰ کے سامنے شکایت کی جس نے پیلاطُس کو روم میں قیصر کے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا۔ اس کے بعد تاریخ میں اُس کے متعلق کوئی تصدیق شدہ بیان نہیں۔ ایک روایت کے مطابق اُس نے خودکشی کر لی تھی۔ دوسری روایت کے مطابق وہ مسیحی ہو گیا تھا۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. لوقا باب 3 آیت 1
  2. متی باب 27 آیت 19
  3. یوحنا باب 19 آیت 10
  4. تستُس (Tacitus) اطالوی مورخ کی تواریخ 15-44
  5. لوقا باب 13 آیت 1
  6. لوقا باب 23 آیت 16
  7. لوقا باب 23 آیت 6 تا 7
  8. قاموس الکتاب صفحہ 228