فیلو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فیلو
(قدیم یونانی میں: Φίλων τοῦ 'Αλεξανδρείας ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
PhiloThevet.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 15 ق م[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسکندریہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 45  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسکندریہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت قدیم روم  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل یہودی [2]  ویکی ڈیٹا پر نسل (P172) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فلسفی، مؤرخ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان قدیم یونانی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلسفہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر افلاطونیت، رواقیت  ویکی ڈیٹا پر مؤثر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فیلو یودیس یا اسکندریہ کا فیلو ایک یہودی مصنف جس 25 ق م سے 50ء تک زندگی پائی تھی۔ اس نے پرانے عہد نامے کی وحدتِ الٰہی اور یونانی فلسفہ کا امتزاج کرنے کی کوشش کی۔ چالیس عیسوی میں وہ غالباً ادھیڑ عمر کا تھا جب اسے ایک احتجاجی گروہ میں منددب کی حیثیت سے شہنشاہ روم کے پاس جانا پڑا کیونکہ اسکندریہ میں یہودیوں کے خلاف بلوہ ہوا اور کئی یہودی مارے گئے اور یہودیوں کے جائز حقوق بھی قیصر کلیگلہ نے (جو پاگل ہو گیا تھا) غصب کرلیے۔

فیلو کی تصانیف میں یہودیت کی مدافعت، توارت کی تفسیر اور یہودی ربیائی فرقوں مثلاً اسینی زبان کا بیان ہے۔ اُس کا نظریہ اس وقت کے مطابق افلاطون اور ستوئیکی کا ملاپ ہے۔

اس نے پرانے عہد نامے کی تفسیر میں تمثیلی (allegorical) طریقہ اپنایا۔ اس کا مقصد اور مدعایہ تھا کہ یونانی دنیا کے سامنے ثابت کرے کہ یہودی کتبِ مقدسہ اُن کے فلسفہ کی پیش روی کرتی ہیں۔ پولس رسول کی طرح وہ دو دنیاؤں کا باشندہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ یہودی اور یونانی فلسفہ اور روایت کو ہم آہنگ کرے۔ اُس کا خدا کے متعلق نظریہ اس ہم آہنگی کو ثابت کرنے کی کوشش کو صاف ظاہر کرتا ہے۔

فیلو کے مطابق کلمہ بیک وقت کلمہِ تخلیق ہے جو کائنات کو منظم کرتا ہے اور ایک قسم کا درمیانی ہے جو انسان کو خدا سے متعارف کرتا ہے۔ یوحنا کی انجیل کے پہلے باب کی پہلی چودہ آیات اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ یوحنا رسول کے دماغ کے پس منظر میں فیلو کا نظریہ ضرور موجود تھا لیکن یوحنا نے کلمہ کی منفرد مخصوص تشریح کی۔ بہت سے اور مسیحی مفکروں نے بھی فیلو کا طریقہ تفسیر اپنایا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Philo-Judaeus
  2. ISBN 8446007827