فریسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فریسی
פְּרוּשִׁים
تاریخی قائدین
تاسیس 167 ق م
تحلیل 73ء
صدر دفتر یروشلم
نظریات
مذہب ربیائی یہودیت

فریسی ہیکل دوم کی یہودیت کے دوران مختلف اوقات سرزمینِ مقدسہ میں سیاسی جماعت، سماجی تحریک اور مکتب فکر رہے تھے۔ تاہم ستر 70ء میں ہیکل دوم کی تباہی کے بعد فریسی عقائد ربیائی یہودیت کے لیے بنیادی، عوامی عبادت اور رسومات کی بنیاد بن گئے۔

فریسیوں اور صدوقیوں کے مابین اختلافات دیگر یہودی فرقوں کی نسبت کہیں زیادہ گہرے اور وسیع ہیں۔ یہ اختلافات رومیوں کی فتح کے دور میں اور بھی گہرے ہوئے۔[1] اختلاف کی ایک وجہ ثقافتی بھی تھی جو ہیلین کے اثرات کے حامی (صدوقی) اور مخالف (فریسی) تھے۔ تیسری وجہ مذہبی اور قوانین سے متعلق تھی جنہوں نے دوسرے ہیکل کی اہمیت پر زور دیا اور اس کے ساتھ مذہبی رسومات بھی تھیں اور دوسرے وہ جنہوں نے قوانینِ موسیٰ پر زور دیا۔ چوتھا نکتہ بالکل مذہبی تھا جو توریت کے مختلف شرحوں کی وجہ سے تھا کہ ان قوانین کو عام زندگی پر کیسے لاگو کیا جائے۔ صدوقیوں کے نزدیک تحریری توریت ہی کامل تھی اور زبانی توریت، انبیا، تحاریر اور مردوں کے دوبارہ جی اٹھنے کے قائل نہ تھے۔

یوسیفس کے بارے زیادہ تر مورخین کا ماننا ہے کہ وہ فریسی تھا اور دوسرے ہیکل کی تباہی سے قبل فریسیوں کی کل تعداد 6٫000 کے لگ بھگ مانی جاتی ہے۔[2] یوسیفس کے خیال میں فریسی عوام کے زیادہ قریب تھے جبکہ صدوقی طبقہ امرا میں شامل تھے۔ فریسیوں کے خیال میں قوانینِ موسیٰ کے وہ حقیقی شارح تھے[3] جبکہ صدوقیوں کے خیال میں ان کے جدِ امجد صدوق کو سلیمان کے دور میں سب سے بڑے کاہن کا رتبہ ملا ہوا تھا سو وہ بہتر شارح تھے۔ یوسیفس نے اپنی تحریروں جہاں ”عوام“ لکھا ہے، اس سے مراد وہ افراد جو کسی مذہبی حیثیت کے حامل نہیں تھے بلکہ عام یہودی تھے۔

یہودی تاریخ اور ادب سے ہٹ کر فریسیوں کے بارے عہد نامہ جدید میں یوحنا اصطباغی اور فریسیوں کے ساتھ اختلافات کے بارے تذکرہ موجود ہے۔[4] عہد نامہ جدید میں پولس کے بارے کئی جگہ درج ہے کہ وہ فریسی تھے۔[5] اولین مسیحیت اور فریسیوں کے تعلقات اتنے جارحانہ نہ تھے۔ مثال کے طور پر گملی ایل کے بارے میں مسیحیوں کا خیال ہے کہ وہ بہت نرم دل فریسی رہنما تھا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "History & Overview of the Dead Sea Scrolls"۔ www.jewishvirtuallibrary.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Antiquities of the Jews, 17.42
  3. Ber. 48b; Shab. 14b; Yoma 80a; Yeb. 16a; Nazir 53a; Ḥul. 137b; et al.)
  4. Matthew 3:1–7,Luke 7:28–30
  5. Apostle Paul as a Pharisee Acts 26:5 See also Acts 23:6, Philippians 3:5
  6. [Acts 5:34-39]