یہوداہ اسکریوتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یہوداہ اسکریوتی
یہوداہ اسکریوتی کی خودکشی کا منظر
یہوداہ اسکریوتی کی خودکشی کا منظر

معلومات شخصیت
وفات صدی 1ء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
یروشلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات خودکشی بذریعہ پھندا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر

یہوداہ اسکریوتی یا اسخریوطی، عبرانی میں یہ نام "ایش قریتی" تھا جو بگڑ کر اسکریوتی ہو گيا۔ یسوع المسیح کا ایک رسول[1]،یہ شمعون اسکر یوتی کا بیٹا تھا۔ اس کے بارے مسیحی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس نے ہی کچھ رقم کے عوض مسیح کی مخبری کی تھی جس پر بعد میں شرمساری کی وجہ سے خودکشی کر لی۔[2]

یہوداہ بطور رسول[ترمیم]

بارہ رسل میں یہ واحد شخص تھا جو گلیلی نہ تھا۔[1] یہ ایک تیز دماغ شخص تھا، اس کو حواریوں میں سے خزانچی بنایا گيا۔[3] اس نے قریب ایک سال مسیح کے ساتھ بسر کیا، اس کی غداری کی بنیاد ظاہر ہے کہ لالچ تھی اس لیے یہ جھوٹا ایمان لایا تھا یہ سمجھتے ہوئے کہ مسیح کوئی دنیاوی سلطنت قائم کریں گئے، مگر جب یہ سب نہ ہوتا ہوا نظر آیا تو اس نے مسیح سے غداری کر کے مال کمانے کی کوشش کی۔

مسیح کی مخبری[ترمیم]

چاروں ہی اناجیل میں یسوع مسیح کو دھوکے کے ساتھ پکڑوانے کا ذکر ہوا ہے۔[4][5][6][7] اناجیل کے مطابق گتسمنیکے باغ میں رسول اور یسوع مسیح چھپے ہوئے تھے، کہ ایک دم ہی کچھ لوگ آ گئے، جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور تلواریں تھیں۔ اس وقت یہوداہ اسکریوتی آ گئے آیا اور جس طرح اس نے ان لوگوں کو بتا رکھا تھا کہ میں جس کا بوسہ لوں وہ یسوع مسیح ہو گا، وہ آ گئے آیا اور یسوع مسیح کا بوسہ لیا پھر مسلسل بوسے لیے۔ اس دوران ہی وہ لوگ یسوع مسیح کو پکڑ کر لے گئے۔ اس غداری کے عوض اس نے ان لوگوں سے 30 چاندی کے سکے لیے تھے۔ اس کام پر وہ نادم ہوا اور جا کر ایک باغ میں خودکشی کر لی۔[8]

یہوداہ اسکر یوتی کی انجیل کا پہلا صفحہ

یہوداہ سے منسوب کتب[ترمیم]

  • یہوداہ کی انجیل، یہ عہد نامہ جدید میں شامل نہیں،[9] کیونکہ یہوداہ اسکریوتی مسیحیوں کے نزدیک ایک غدار شخص ہے، جس نے اناجیل کے مطابق یسوع مسیح کو پکڑوایا تھا۔[10] اس انجیل کے اوراق مصر میں 1970ء میں ملے تھے۔ اس انجیل میں واقعہ صلیب کا رد کیا گیا ہے، اسی طرح اس میں یسوع مسیح کے خدا ہونے کے مسیحی عقیدے کی نفی کی گئی ہے۔[11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 قاموس الکتاب، صفحہ 1186
  2. متی کی انجیل، باب27، ورس 3 تا 5
  3. یوحنا کی انجیل، 4:12
  4. متی کی انجیل، باب 26
  5. مرقس کی انجیل، باب 14
  6. لوقا کی انجیل، باب 22
  7. یوحنا کی انجیل، باب 18
  8. متی کی انجیل، 3:27
  9. http://www.livescience.com/28506-gospel-judas-ink-authenticity.html
  10. متی کی انجیل، 16:32
  11. جریدہ نیشنل جیو گرافک، مئی 2006