باب:مسیحیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مسیحیت باب
بنیادی   اشاریہ   منصوبہ جات

تعارف مسیحیت

مسیحیت کی ایک عام علامت

مسیحیت (انگریزی: Christianity) ایک تثلیث کا عقیدہ رکھنے والا گروہ، یسوع مسیح کو اردو میں عام طور پر عیسیٰ کے نام سے جانا ہے۔ مسیحی ان کو خدا کا بیٹا اور خدا کا ایک اقنوم مانتا ہے۔ اور اسے بھی عین اسی طرح خدا مانتا ہے، جیسے خدا اور روح القدس کو۔ جنہیں باپ ، بیٹا روح القدس کا نام دیا جاتا ہے، بعض فرقے مسیح، خدا اور روح القدس کی جگہ مریم کو خدائی جزو مانتے ہیں، جبکہ بعض یسوع مسیح کو صرف نبی مانتے ہیں۔ مسیحیت مذہب پہلی صدی عیسوی میں وجود میں آیا۔ مسیحی جن کو اسلامی دنیا عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے پکارتی ہے، ان کو تثلیث کا ایک جزو یعنی خدا ماننے والے مسیحی کہلاتے ہیں۔ لیکن کچھ مسیحی فرقے یسوع مسیح کو خدا نہیں مانتے وہ انہیں نبی اور عام انسان مانتے ہیں۔ مسیحیت میں تین خداؤں کا عقیدہ بہت عام ہے جسے تثلیت بھی کہا جاتا ہے۔ عام طور پر مسیحی کہتے ہیں باپ، بیٹا، روح القدس ایک ہے اور وہ اپنے آپ کو موحدین (ایک خدا کے ماننے والے) کہتے ہیں۔ اور اسے توحید فی التثلیث کا نام دیتے ہیں۔ مسیحیت ایک سامی مذہب ہے۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں اس کے لگ بھگ دو ارب پیروکار ہیں۔مسیحی یسوع مسیح پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ بائبل مسیحیوں کی مقدس کتاب ہے۔

مسیحیت کے متعلق مزید پڑھیے۔.۔

منتخب مضمون

کرسمس، مسیحیت میں ایسٹر کے بعد سب سے اہم تہوار سمجھا جاتا ہے، اس تہوار کے موقع پر یسوع مسیح کی ولادت کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ گریگوری تقویم کے مطابق 24 دسمبر کی رات سے کرسمس کی ابتدا ہوتی ہے اور 25 دسمبر کی شام کو ختم ہوتا ہے جبکہ جولینی تقویم کے پیروکار اہل کلیسیا کے ہاں 6 جنوری کی رات سے شروع ہو کر 7 جنوری کی شام کو ختم ہوتا ہے۔ گوکہ بائبل ولادت مسیح کی تاریخ کے ذکر سے یکسر خاموش ہے تاہم آبائے کلیسیا نے 325ء میں منعقدہ نیقیہ کونسل میں اس تاریخ کو ولادت مسیح کا دن قرار دیا۔ عموماً یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ولادت کا وقت نصف شب کو رہا ہوگا، پھر پوپ پائیس یازدہم نے کاتھولک کلیسیا میں سنہ 1921ء میں نصف شب کی ولادت کو باقاعدہ تسلیم کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ مسیحیت سے قبل بھی روم میں 25 دسمبر کو آفتاب پرستوں کا تہوار ہوا کرتا تھا چنانچہ ولادت مسیح کی حقیقی تاریخ کا علم نہ ہونے کی بنا پر آبائے کلیسیا نے یسوع مسیح کو "عہد جدید کا سورج" خیال کرتے ہوئے عید شمس کو یوم ولادت تسلیم کر لیا۔ کرسمس کو "زمانۂ ولادت" کا ایک حصہ خیال کیا جاتا ہے، زمانہ ولادت اس عرصے کو کہتے ہیں جس میں اس یادگار سے جڑے دیگر واقعات مثلاً بشارت ولادت، ولادت یوحنا اصطباغی اور ختنہ مسیح وغیرہ رونما ہوئے۔ چنانچہ اس پورے عرصے میں گرجا گھروں میں ان تمام واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔

منتخب صحیفہ

یسوع مسیح پہاڑی پر خطبہ دیتے ہوئے
مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئےہے۔مبارک ہیں وہ لوگ ہے جو غم زدہ ہیں۔کیونکہ خدا کی طرف سے تسلّی ملیگی۔مبارک ہیں وہ لوگ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ خدا کے وعدےسے زمین کے وارث ہونگے۔مبارک ہیں وہ لوگ جو راستباز بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ خدا انکو آسودہ اور خوشحال کریگا۔مبارک ہیں وہ لوگ جو رحم دل ہیں کیونکہ ان پر رحم کئےجائینگے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو پاک ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔مبارک ہیں وہ لوگ جو صلح کراتے ہیں وہ تو خدا کے بیٹے کہلائیںگے۔مبارک ہیں وہ لوگ جو راستبازی کر نے کے سبب سے ستا ئے گئے کیوں کہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئے ہوگی۔“لوگ میری پیروی کرنے کی وجہ سے تمہارا مذاق اُڑائینگے اور ظلم و زیادتی کریں گے اور تم پر غلط اور جھوٹی باتوں کے الزام لگائینگے ،تو تم قابل مبارک باد ہوگے۔خوشی کرنا اور شادماں ہونا اس لئے کہ جنت میں تم اسکا بڑا بدلہ پاؤگے۔کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے نبیوں کے ساتھ بھی لوگ ایسا ہی سلوک کیا کرتے تھے۔
پہاڑی پر وعظ، متی 12-5:3؛ ERV-UR نسخہ

منتخب سوانح

Charles William Forman.gif
چارلس ولیم فورمن ایک امریکی پریسبیٹیرین خادم دین، مشنری، اور رنگ محل مشن اسکول اور لاہور میں واقع نجی یونیورسٹی فورمن کرسچین کالج کے بانی تھے۔

چارلس ولیم فورمن کینٹکی کے علاقہ واشنگٹن سے آدھ میل باہر 3 مارچ 1821ء کے روز پیدا ہوئے۔ اُن کے آباؤ اجداد 1645ء میں بشپ لاڈ کے مظالم سے تنگ آکر انگلستان سے امریکا نقل مکانی کر گئے تھے۔ یہاں کے ڈچ حکام نے اُن کے آباؤ اجداد کی خوش آمدید کی اور لونگ آئی لینڈ میں اُن کو جاگیر بھی عطا کی۔ پس چارلس ولیم کے آباؤ اجداد ابتدا ہی سے آزادی کی فضا میں رہتے تھے۔ چارلس ولیم امریکا کی جنگ آزادی سے محبت رکھنے کے لیے مشہور تھے اور گردونواح کے لوگ اُس کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اگرچہ وہ مذہبی امور اور دین داری کی پروا نہیں کرتے تھے۔

جب چارلس ولیم پندرہ سال کے ہوئے تو اُن کا بڑا بھائی اپنے ساتھ پادری مکابوئے کو گھر لایا۔ پادری مکابوئے واشنگٹن کی پریسبیٹیرین کلیسیا کا پاسبان تھا۔ اثنائے گفتگو میں اُن کے ایک اور بھائی نے حقارت آمیز لہجہ میں سیدنا مسیح کا ذکر کیا۔ چارلس ولیم کو یہ بات بڑی ناگوار معلوم ہوئی کہ ایک مہمان کے جذبات کو ٹھیس لگائی جائے۔ جب اُنہوں نے اپنے مہمان کے چہرے کی طرف نظر کی تو وہاں غصہ کے آثار پانے کی بجائے رنج اور دکھ لکھا دیکھا۔ اُنھوں نے دل میں خیال کیا کہ یہ شخص ضرور مسیح سے پیار کرتا ہے۔ اس واقعہ نے اُن کے دل کو بڑا متاثر کیا اور پانچ سال کے بعد اُنھوں نے اسی گاؤں کے گرجا میں بپتسمہ پایا۔ مکمل مضمون پڑھیں۔۔۔

کیا آپ جانتے ہیں۔.۔

...کہ دنیا بھر میں مسیحی تقریباً 2.5 بلین ہیں؟
...کہ بائبل کا مطالعہ آئزک نیوٹن کا شوق تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ "میرا بائبل پر بنیادی عقیدہ ہے کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے یہ ان لوگوں کی جانب سے لکھی ہوئی ہے جن کو الہام ہوا۔ میں ہر روز بائبل کا مطالعہ کرتا ہوں"۔؟
...کہ بائبل میں موجود یوحنا باب 3 آیت 16 سب سے مشہور آیت ہے : "ہاں! خدا نے دنیا سے محبت رکھی ہے اسی لیے اس نے اس کو اپنا بیٹا دیا ہے۔ خدا نے اپنا بیٹا دیا تا کہ ہر آدمی جو اس پر ایمان لائے جو کھوتا نہیں مگر ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے"۔؟

منتخب تصویر

مالاگاسی زبان میں بائبل کا نسخہ
تصویر ساز: ڈینیل رالیبیرا

مالاگاسی زبان میں بائبل کا نسخہ، مالاگاسی زبان میں بائبل کا سب سے پہلا ترجمہ، ڈیوڈ گریفتھس 1831ء میں کیا۔

موضوعات

متعلقہ ابواب

متعلقہ ویکیمیڈیا