مسیحی الٰہیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Gutenberg Bible

مسیحی اِلٰہیات یسوع مسیح مسیحی، مسیحیت سے متعلق اور (عربی سے اِلٰہ یعنی خُدا اور یات یعنی علم یا مطالعہ انگریزی: Theology)، ایک ایسا علم ہے جس میں خدا کا مطالعہ بائبل مقدس کے مطابق مسیحی مذہبی تناظر سے کیا جاتا ہے[1]۔

علم الکتاب (Bibliology)[ترمیم]

علم الکتاب علم اور کتاب سے مل کربناہے۔ یہ دراصل یونانی زبان کے دو الفاظ "ببلیوس (Biblios)" اور "لوگوس (Logos)" بمعنی کلام سے نکلا ہے۔ بائبل مقدس کے مطالعہ کوعلم الکتاب کہا جاتاہے۔ اس میںبائبل مقدس کے نام، عمومی تعارف، بائبل مقدس کے مکاشفہء عام وخاص مکاشفہء نبوت، پیش گوئیوں، مسیح میں خدا کا مکاشفہء، پاک نوشتوں یا کتبِ بائبل میں مسیح کا مکاشفہء، ایمانداروں کے تجربات میں خدا کا مکاشفہء،بائبل بطور کلامِ الہٰی، خدا کے کلام کی تشبیہات، بائبل کی صفات ویگانگت، قدیم تاریخ، نبوت کی تکمیل، بائبل کی قائل کرنے، زندگی کو تبدیل کرنے، قائم رہنے کی قوت اور قدرت، نجات، ہمیشہ کی زندگی اور خدا کی ابدی بادشاہی کے پیغام کا مطالعہ شامل ہیں[2]۔

علم الخدا (Theology)[ترمیم]

علم الخدا دو یونانی زبان کے الفاظ "تھیوس بمعنی خدا (Theos)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" کا مجموعہ ہے۔ یہ خدا کی ذات اور ہستی کے خصوصی مطالعہ پر مرکوز ہے۔ پاک نوشتے ایک ازلی خدا کی ذات کا مکاشفہء فراہم کرتے ہیں جو واحد خدا ہے لیکن اس کی واحد ذات میں تین اقانیم یا شخصیات شامل ہیں یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔ ان تینوں میں امتیاز کیا جاسکتا ہے مگر یہ اپنے جوہر، فطرت، خصوصیات، قدرت اورجلال میں برابر ہیں اور ناقابل تقسیم ہیں۔ اس مسیحی تصورِ خدا کو تثلیث فی التوحید کہا جاتاہے (ایک میں تین یا تین میں ایک)۔ علم الخدا میں تصورِ تثلیث کی بائبلی بنیاد، اثبات اور مثالیں، تاریخ، اہمیت، خدا کی شخصیت، ہستی اور وجودکے کائناتی ، انسانی ، وجودیاتی ، اخلاقی، حیاتیاتی، تاریخی، مسیحائی، بائبلی ، موافقت یا مطابقت کے دلائل، خدا کی فطرت بطور روح، نور، محبت، بھسم کرنے والی آگ اور خدا کی ضروری اور غیر مشترک، اخلاقی، قطعی و حتمی اور نسبتی صفات، خدا کا علم اور اس کی ذات کا تشخص، خدا کے کام الہٰی اقدار، برگزیدگی، تخلیق، تخلیقِ نو اور پروردگاری کا مطالعہ شامل ہیں۔

علم المسیح (Christology)[ترمیم]

علم المسیح دو یونانی زبان کے الفاظ "خرستوس بمعنی مسیح (Christos)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" سے مل کر بنا ہے۔ یہ مسیحی علم الہٰی کی ایک شاخ ہے جس میں مسیح کی ذات، صفات اور کاموں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یسوع مسیح کی ذاتی زندگی کا مطالعہ، تعلیم اور جو کچھ اس نے زمین پر یا اور جو کچھ وہ دوسری آمد پر کرنے کے لیے آرہاہے، اس باتوں کا مطالعہ شامل ہے۔ مسیح خدا کا اعلیٰ ترین مکاشفہء ہے۔ وہ خدا کا مسیح اور نجات دہندہ ہے۔ سردار کاہن اور بادشاہ بھی ہے۔ تمام تر برکات کامنبع ہے۔ علم المسیح میں تاریخ سے پہلے، تاریخ میں اور بعد از تاریخ مسیح، اس کی ذات، الوہیت، عہد عتیق اور جدید، متفقہ انجیلی بیانات اور حوارین مسیح، مسیح کی انسانیت، بے گناہی، مسیح کے ناموں، اختیار اور دعٰووں، عہدوں، کاموں بشمول خدا کی بادشاہی، خدمت، عدالت، زندگی عطا کرنا، نجات، قیامت، کفارہ، صلح، شفاعت، بادشاہی کرنے اور ابلیس، موت اور عالم ارواح کے خاتمے کا مطالعہ شامل ہے[3]۔

علم الروح القدس (Pneumatology)[ترمیم]

علم الروح القدس دو یونانی زبان کے الفاظ"نیوما بمعنی روح القدس (Pneuma)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" کا مجموعہ ہے۔ معانی سے ظاہر ہے کہ اس میں روح القدس کا مطالعہ کیا جاتا ہے کہ وہ کون ہے، اس کی ماہیت، عہد عتیق و جدید، یسوع مسیح کے مطابق، اس کی علامات بطورپانی، آگ، ہوا یا دم، شبنم یا اوس، تیل، کبوتر، مہر، آواز، ہاتھ، پہلے پھل، بیعانہ اور لباس، اسرائیل ، مسیح یسوع اور ایمان دار کی زندگی میں کاموں ، عہد عتیق اور جدید میں تخلیق، سنبھالنے کے کام، مخلصی، الہام، قوت اور زور، مافوق الفطرت کنٹرول اور خاص مہارت کے کام، روح القدس اور کلیسیا ء اور دنیا میں کا مطالعہ شامل ہیں[3]۔

علم الگناہ (Hamartiology)[ترمیم]

علم الگناہ دو یونانی زبان کے الفاظ "ہمارتیا بمعنی گناہ (Hamartia)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" کا مجموعہ ہے۔ علم الگناہ میں بائبل مقدس کے مطابق گناہ کے لیے مستعمل اصطلاحات، اسباب، نتائج، روحانی مخلوقات اور انسان میں گناہ کی ابتدا، ماہیت، حقیقت، عالمگیریت، خدا سے تعلق پر اثرات اور الہٰی حمایت سے محرومی، جسمانی، روحانی اور ابدی موت، گناہ گار پر گناہ کے اثرات، مکمل بگاڑ اور انسانی تعلقات پر گناہ کے اثرات کا مطالعہ شامل ہے [3] ۔

علم الانسان (Anthropology)[ترمیم]

علم الانسان دو یونانی زبان کے الفاظ "انتھروپوس بمعنی انسان (Anthropos)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" سے مل کر بنا ہے۔ مسیحی الہٰیات کے مطابق علم الانسان کے مطالعہ کے بغیرانسان اپنی حیثیت، مقام اور دیگر مسیحی عقائد یعنی مسیح ، گناہ اور نجات وغیرہ کو نہیں جان سکتا۔ علم الانسان ایک باقاعدہ سماجی سائنس ہے مگر مسیحیت میں اس کا تعلق سائنس کے ساتھ نہیں بلکہ بائبل مقدس کے ساتھ کہ یہ اس کے متعلق کیا تعلیم دیتی ہے؟ اس میں انسان کی ابتدا، تشبیہات، انسان کا خدا کی شبیہ پر خلق ہونا، حیثیت، فطری ترتیب اور اس کے نظریات، انسان کی روح کی ابتدا کے تاریخی، پیشتراز تخلیق اور بذریعہ تولید کے نظریات، اختراعیت، سرشت/فطرت، تخلیق اور مقصد اور ذمہ داری شامل ہیں[4]۔

علم النجات (Soteriology)[ترمیم]

علم النجات دو یونانی زبان کے الفاظ "سوتیریا بمعنی نجات (Soteria)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" سے مل کر بناہے۔ نجات کے معنی رہائی، چھٹکارہ، آزادی یا بچ جانے کے ہیں[5]۔ علم النجات میں رہائی، آزادی پانے والوں اور نجات دینے والا کا مطالعہ شامل ہے۔ نجات خدا کا ایک ایسا کام ہے جووہ انسانوں کے درمیان شروع کر چکا ہے، کررہا ہے اور اس کے مکمل ہونے تک کرتا رہے گا[6]۔ علم النجات، نجات کی اہمیت وضرورت، خدا کی پاکیزگی، الہٰی شریعت، گناہ کی فطرت، خدا کے غضب، عہد عتیق وجدید کے مطابق نجات، 1۔ نجات کے مراحل تصدیق، ماہیت، برکات، حقائق (فضل، توبہ، ایمان، تبدیلی اور نئی پیدایش، راستبازی، پُراسرار اتحاد، لے پالک فرزندیت) ،2۔ تقدیس کے بائبلی نمونے، تفصیل، ذرائع، پاک نوشتوں کے علم، خدا اور مخلوقات سے متعلق کاملیت کے مقاصد، مقدسین کی طرح کامل ہونااور کاملیت کے وسائل 3۔ تجلی، مسیح یسوع اور ایمانداروں کی تجلی کے مطالعہ پر مشتمل ہے[3]۔

علم الفرشتگان (Angelology)[ترمیم]

علم الفرشتگان دو یونانی زبان کے الفاظ "اینجلوس/اینگوس بمعنی فرشتے (Angelos)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" سے مل کر بنا ہے۔ بائبل مقدس کے مصنفین فرشتوں کے وجود کی تصدیق کرتے اور یہ کہ فرشتے پیامبر ہیں۔ اسٹرانگ[7] کے مطابق جب مسیح میں آسمان اور زمین کی تمام چیزیں مجموعہ ہوں گی تو فرشتے بھی ان میں شامل ہوں گے۔ پال ٹالک[7] کے مطابق فرشتے واضح اور مضبوط قوتوں کی علامات ہیں۔ جان کالون زوردیتا ہے کہ فرشتگان کا مطالعہ ہمیشہ کلام مقدس کی رو سے ہی کرنا چاہیے۔ علم الفرشتگان میں فرشتوں کے لیے مستعمل بائبلی القابات، ان کی اقسام، خاص و مقرب فرشتے، لوسیفر، میکائیل، جبرائیل، فرشتوں کی آسمانی مجلس یا عدالت، کروبیم، سرافیم، لشکر، شریر اور باغی فرشتے، فرشتوں کا وجود اور ان کی فطرت، خوبیاں، عہد عتیق وجدید میں ذکر، مسیح یسوع، ابتدائی کلیسیاء اور انجیلی بیانات اور مکاشفہء کی کتاب میں فرشتوں کی خدمت کا مطالعہ شامل ہے۔

علم الشیاطین (Demonology)[ترمیم]

علم الفرشتگان دو یونانی زبان کے الفاظ "ڈائمونین بمعنی بدارواح یا شیاطین (Diamonion)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" سے مل کر بنا ہے۔ بائبل مقدس تعلیم دیتی ہے کہ شیطان وجود رکھتا ہے اور گناہ کا بانی ہے۔ وہ گرے ہوئے باغی فرشتوں اور روحوں پر حکمرانی کرتا ہے۔ یسوع مسیح نے شیطان کی تاریکی کی بادشاہت کو کلوری پر اپنی صلیبی موت کے وسیلہء سے فتح کیا اور کلیسیاء کو یہ اختیار دیا کہ انسانوں کو تاریکی کی حکومت سے چھڑائے اور انہیں نور کی بادشاہی میں داخل کرے۔ شیطان اور اس کی قوتوں کی حتمی عدالت ہو گی اور وہ ہمیشہ کے لیے آگ اور گندھک کی جھیل میں ڈالے جائیں گے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی، فرشتگان، شیطان اور بدارواح کا انکار کرتے ہیں مگر کتاب مقدس شیاطین کی حقیقت کی توثیق کرتی ہے۔ علم الشیاطین میں شیطان، اس کی بادشاہت، ابتدا اور گراوٹ، بائبل مقدس میں مستعمل القابات، خصوصیات، کام (گناہ، آزمائش، دھوکا دہی اور فریب، الزام، دکھ، مصیبت، بیماری، مخالفت اور موت)، شیطان اور اس کے اتحادیوں کے انجام، شیاطین کے نام اور القابات، ابتدا، فطرت، کام اور ان کی عدالت، انسانوں کے درمیانی مخفی افعال اور جدید مخفی اور پُر اسرار افعال کے مطالعہ پر مبنی ہے[3]۔

علم الکلیسیاء (Ecclesiology)[ترمیم]

علم الکلیسیاء دو یونانی زبان کے الفاظ"ایکلیسیاء بمعنی بلائے ہوئے لوگ/ کلیسیاء (Ekklesia)" اور "لوگوس بمعنی کلام (Logos)" کا مجموعہ ہے۔کلیسیاء یا چرچ پتھر، لکڑی اور مٹی کا بنا ہوا گرجاگھر نہیں بلکہ یہ پاک لوگوں کی جماعت ہے جو مسیح یسوع میں بلائے گئے ہیں اور مسیح کی راستبازی ان میں بسی ہوئی ہے۔ مقدس بزرگ لوقا اسے ایمانداروں کی جماعت قراردیتاہے[8]۔یہ اسرائیل کی جماعت کو بھی ظاہرکرتی ہے[9]۔ یہ اُن سب لوگوں کی جماعت ہے جو زندہ ہیں، مرچکے ہیں اور مسیح یسوع پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ اُن کی بھی جو ابھی پیدا ہوں گے۔ کلیسیاء کی ابتدا عید خمسین یعنی پنتکست کے وقت پر ہوئی۔ مسیح کی آمدِ ثانی تک لوگ مسیح پر ایمان لاکر کلیسیاء میں شامل ہوتے رہیں گے۔ کلیسیاء سے مراد ایک مقامی جماعت بھی ہے جو مسیح یسوع پر ایمان رکھتی ہے جیسے کرنتھس، افسس اور فلپی، مکاشفہء میں متذکرہ یا سولہویں صدی کی کلیسیائیں۔ لفظ کلیسیاء لوگوں کی مجلس کے لیے بھی استعمال ہوا ہے [10]۔ کلیسیاء کو خدا کے عہد کے لوگ بھی کہا گیا ہے۔ اگرچہ یہ تعریفیں مختلف ہیں مگر ان سب کی روشنی میں یہ تعریف کرنا بجا ہے کہ کلیسیاء مسیح پر ایمان رکھنے والوں اور مسیح کی بدولت خدا کی طرف سے بلائے جانے والوں کی جماعت ہے جو مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسیح کے نام میں یکجا اور متحد ہے یعنی یہ کاتھولک /کلیہ/عالم گی رہے اور مختلف فرقوں میں موجود ہے۔ یہ خدا کی بادشاہی کے قیام، مسیح یسوع کی گواہی کی علم بردار اور خدائے واحد کی پرستش اور عبادت کرتی ہے۔ خدا کی مرضی کو اس کے فضل سے بجا لاتی اور خدا کی بادشاہی کو وسعت دینے کو کوشش کرتی ہے۔ علم الکلیسیاء میں بائبل مقدس میں کلیسیاء کے لیے مستعمل اصطلاحات (مسیح کا بدن، عمارت، مقدس، ہیکل ، نیا مخلوق، روحانی شخص، مسیح کی دلہن، گلہ، خدا کی کھیتی، خدا کاگھر، حق کا ستون، خدا کے لوگ، مقدس قوم) ، کلیسیاء کے سہ پہلو راز (محارب اور فاتح کلیسیاء ، دیدنی اور نادیدنی کلیسیاء ، نامیاتی/بدنی/اداراتی یا رابطی کلیسیاء) ، کلیسیائی سہ پہلو ہیت، کلیسیائی نظام (اسقفی /بشپی، پاپائیت /پاپائی، پریسبیٹرین /بزرگانی اور گانگریگیشنل ) ، کلیسیائی عہدیدران، غیر معمولی عہدیدران (رسول، نبی، مبشر، چرواہے اور استاد) اور عام عہدیدران (بزرگ، ایلڈرز، ڈیکن، اسقف/بشپ یا پاسبان) کلیسیاء کے خواص، کلیسیائی عہدیدران کا انحصار(اندرونی و بیرونی بلاوا/بلاہٹ، تقرر، تخصیص/مخصوصیت اور ہاتھ رکھنا اور دعا کرنا ) ، کلیسیائی خود مختاری اور حکومت ، اختیار اور اس کی ماہیت، کلیسیاء کے مالی وسائل اور کلیسیاء کا پاک اختیار(پاک بپتسمہ، پاک شراکت ، نکاح اور جنازہ وتدفین) شامل ہیں[3]۔

علم الآخرت (Eschatology)[ترمیم]

علم الآخرت یونانی زبان کے دو الفاظ"ایسخاطون بمعنی آخری وقت (Eschaton)" اور "لوگوس بمعنی کلام یا بات چیت (Logos)" کا مجموعہ ہے۔علم الآخرت (Eschatology) بنیادی طور پر یونانی زبان کی اصطلاح ہے۔ روایتی طور پر علم الآخرت آخری زمانہ میں ہونے والی باتوں کا علم ہے۔ یہ زمانہ مسیح یسوع کی پہلی آمد سے شروع ہوا اور دوسری آمد پر ختم ہوگا۔ اس کے بعد ابدیت کا آغاز ہوگا۔ بائبل مقدس کی کتاب پیدایش کے پہلے دو ابواب تمام مخلوقات اور کائنات کی ابتدا کا بیان کرتے ہیں اور بائبل مقدس کی آخری کتاب مکاشفہء کے آخری دو ابواب خاتمے اور انجام کا ذکر کرتے ہیں اور تمام مخلوقات اورکائنات کے نیا ہونے کا بیان پایا جاتا ہے۔ خدا کی بادشاہت تخلیق سے شروع ہوتی ہے جو اس کی تیاری ہے اور قبل از مسیح کا وقت اسی سے عبارت ہے۔ مسیح درمیان میں ہے جو اس بادشاہت کے قیام کا آغاز کرنے کے لیے پہلی بار بطور انسان آیا۔ وہ پھر دنیا کو انجام تک پہنچانے کے لیے آئے گا۔ علم الآخرت میں مسیح کی آمدِ ثانی کا اشتقاق، مسیح کی آمدِثانی کے نشانات، پوری دنیا میں انجیل کی منادی، خدا کی بادشاہت کی وسعت، غیر اقوام اور اسرائیل کی بھرپوری، بدی، گناہ اور بے دینی کے بڑھ جانے، مخالف مسیح، گناہ کا شخص، سمندر اور زمین کے حیوان، اجاڑنے والی مکروہ چیز کے ظہور، بڑی مصیبت، نشانات و عجائبات، عمومی و انفرادی آخرت، مسیح کی آمدِ ثانی کا وقت، طریق اور مقاصد، ابدیت کی حالت کا بیان، جنت مخلصی یافتہ کی سکونت گاہ اور دوزخ گناہ گاروں اور شریروں، شیطان اور اس کے ساتھیوں کی سکونت گاہ اور آخرت سے متعلق مزید حقائق، آخرت اور مسیحی رویہ کے مطالعہ پر مشتمل ہے [4]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسیحی علم الہٰی کے بنیادی لزوم از پادری ڈاکٹر آرتھر جیمس ناشر: گوجرانوالہ تھیالوجیکل سیمنری گوجرانوالہ
  2. Systematic Theology, Louis Berkhof (Grand Rapids: Wm. B Eerdman, 1946)
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث علم الہٰی کیا ہے؟ از لوئیس برک ہاف، ناشر: گوجرانوالہ تھیالوجیکل سیمنری گوجرانوالہ
  4. ^ ا ب Christian Theology, Milard J. Erickson (Grand Rapids: Baker Book, 1998)
  5. فیروزاللغات اردو ڈکشنری
  6. مسیحی علم الہٰی کے بنیادی لزوم از پادری ڈاکٹر آرتھر جیمس ناشر: گوجرانوالہ تھیالوجیکل سیمنری گوجرانوالہ
  7. ^ ا ب ایک مسیحی مفسر
  8. اعمال 34:4
  9. اعمال 38:7
  10. اعمال 19