بون (مذہب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بون کی علامت، نیلا خانہ

تبتیوں کا مقامی مذہب ۔ یہ روحیت مظاہر پر مشتل تھا ۔ جس کے مطابق ہر مظاہر قدرت کو جاندار تصور کیا جاتا ہے ۔ ان کے اس عقیدے کو ملکی خدو و خال موسموں کی شدت اور قدرتی آفاتی سے آنے والی اچانک تباہی اور بربادی نے مزید تقویت بخشی ۔ تبتی بے شمار دیوتاؤں اور ان کی اولادوں کی پرستش کرتے تھے ۔ وہ اپنے تحفظ اور خوشحالی کے لیے دریاؤں ، پہاڑوں چشموں اور ہواؤں کی اروح کو خوش کرنے کے لیے ان کی عبادت کرتے اور جانوں کی بھینٹ چڑھاتے تھے ۔ بعد میں اسی مذہب میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ’ بون ‘ مذہب حکومتی مذہب قرار پایا ۔ اس کی تقاریب اور رسوم کی ادائیگی کے لیے بہت سے افراد نے پرہتوں اور کاہنوں کی صورت میں عوام پر اپنی برتری اور اقتدار کے جال ڈال رکھے تھے ۔ جب ساتویں صدی میں ایک تبتی بادشاہ نے دو بدھ عورتوں سے شادی کی اور خود بھی بدھ مت اختیار کرلیا تو بدھ مت نے یہاں جڑیں پکڑنا شروع کیں ۔ بدھ مت کے لیے خانقاہیں تعمیر ہوئیں اور انہیں زمینیں عطا کی گیئں اور ٹیکسوں کی چھوٹ سے نوازا گیا ۔ اس طرح مستقبل میں ان کے لیے دولت اور اقتدار کی بنیادیں رکھ دیں ۔ اس کے باوجود قدیم مقامی مذہب بون کو ختم نہیں کیا جاسکا ۔ بدھ ازم کو ان پرانے مذہب کی بہت سی رسوم و عقائد کو اپنے اندر شامل کرنا پڑا ۔ آج بھی بدھ مت بون مت کے شانہ بہ شانہ قائم ہے ۔ بدھ خانقاہوں کے پہلو میں زمین ، ہوا اور ذرخیزی کے دیوتاؤں کی پوجا ہورہی ہے ۔ بدھ پرہتوں ، علماؤں کے ساتھ آج بھی غیب دان ، جوتشی ، جادوگر ، آسیب اتارنے والے اور مذہبی رقاص اپنی رسوم ادا کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایک مغربی سیاح کے مطابق بون مت مذہبی عقائد اور رسوم الہیات ، صوفی ازم ، اخلاخیات ، جوتش ، شعبدے بازی اور بت پرستی کا عجیب ملغوبہ ہے ۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جین فیر لی, شیر دریا